طلاق، انتہائی ناپسندیدہ فعل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ نومبر ۲۰۱۱ء

روزنامہ پاکستان میں ۲۲ اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں طلاق کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے اور معاشرتی ناہمواری، غیر ملکی ثقافتی یلغار اور ذہنی ہم آہنگی کے فقدان کو اس کی اہم وجوہات شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس سال کے دوران پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں صرف طلاق کے ایک لاکھ سے زائد دعوے دائر ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر بیس ہزار سے زائد خواتین کو طلاق کی ڈگریاں جاری کی گئی ہیں۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سید فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی معاشرتی اقدار نے عائلی زندگی کو متاثر کیا ہے اور پہلے کی نسبت طلاق کو اس قدر معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری جی اے خان طارق کا تبصرہ یہ ہے کہ ماتحت عدالتوں میں طلاق کے کیسوں کے انبار لگے ہوئے ہیں، انٹرنیٹ، ٹی وی، کیبل اور بھارتی فلموں کی یلغار بھی طلاق کی شرح میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے عائلی قوانین خود بھی کسی حد تک طلاق کی شرح میں اضافے کا موجب ہیں۔ جبکہ ایڈووکیٹ عرفان صادق تارڑ کا یہ کہنا ہے کہ اسلام سے دوری طلاق کی شرح میں اضافے کا باعث ہے، اگر ہم اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو طلاق کی شرح کبھی اس قدر نہ بڑھے۔

طلاق کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ابغض المباحات‘‘ فرمایا ہے یعنی وہ کام جنہیں کرنے کی شرعاً اجازت دی گئی ہے ان میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے، جسے کسی انتہائی صورت میں آخری آپشن کے طور پر ہی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مغرب کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی طلاق ایک فیشن کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے اور ایسی چھوٹی چھوٹی وجوہات کی بنا پر بھی طلاقیں ہونے لگی ہیں جنہیں سن کر انسان کو حیرت ہوتی ہے کہ کیا یہ بات بھی کسی تنازع یا طلاق جیسی انتہائی صورت کی کوئی معقول وجہ ہو سکتی ہے؟ جناب رسالت مآبؐ نے میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت و اعتماد کا رشتہ رکھنے اور ایک دوسرے کی کمزوریاں برداشت کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ قرآن کریم نے دونوں کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے، ارشاد ربانی ہے کہ ’’ھن لباس لکم وانتم لباس لھن‘‘ وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ یعنی دونوں کا کام ایک دوسرے کے عیوب کو چھپانا اور ایک دوسرے کی کمزوریوں پر پردہ ڈالنا ہے۔ مگر ہمارے ہاں صورت اس سے الٹ ہو گئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی، عیب جوئی اور طعن و تشنیع کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر خلع کے مقدمات میں کیس کی بنیاد کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے درخواست میں عورت سے وہ کچھ کہلوایا جاتا ہے اور وہ کچھ عدالت میں کہہ دینے کی باقاعدہ تلقین اور تیاری کرائی جاتی ہے کہ الامان والحفیظ۔

ہمارے پاس بھی اس قسم کے کیس مشورہ کے لیے آتے رہتے ہیں اور سچی بات ہے کہ بعض درخواستوں پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ سب کچھ اکیلی عورت نہیں کرتی بلکہ اسے اس پر تیار کرنے کے لیے خاندان کے افراد اور وکلا بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے طلاق کا حق مرد کو دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ’’بیدہ عقدۃ النکاح‘‘ کہ نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے۔ جبکہ عورت کو ’’مطالبۂ حق‘‘ کا حق دیا ہے جسے خلع کہا جاتا ہے۔ اس مطالبۂ طلاق میں خاوند واحد مختار نہیں ہے بلکہ اگر شکایات جائز ہونے کے باوجود مرد طلاق نہیں دیتا تو خاندان کی پنچایت اور عدالت کی صورت میں خاوند کے علاوہ بھی اتھارٹی موجود ہے جو عورت کی داد رسی کر سکتی ہے اور ان دونوں کے درمیان تفریق کے فیصلے کی مجاز ہے۔

اسلام نے نکاح و طلاق اور خاندانی زندگی کے حوالے سے خاوند اور عورت کے لیے واضح قوانین و احکام دیے ہیں اور ان کے حقوق و اختیارات اور ذمہ داریوں کے درمیان ایسا توازن قائم کر دیا ہے کہ بلاوجہ طلاق کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ لیکن ہماری اصل الجھن یہ ہے کہ ہم نے اسلام کے احکام و قوانین کو مغرب کے فلسفہ و ثقافت اور اپنے علاقائی کلچر اور قبائلی روایات کے ساتھ گڈمڈ کر کے ایک ایسا کلچرل ملغوبہ بنا لیا ہے، جس کے پیدا کردہ مسائل کا حل نہ اسلام کے پاس ہے، نہ مغرب کی ثقافت ان کا سامنا کر سکتی ہے اور نہ ہی علاقائی کلچر ان مسائل کی حل کی ہمت رکھتا ہے۔ اسلام کا نام تو ہمیں صرف وہاں یاد آتا ہے جہاں مشکلات و مسائل کو ہماری مرضی کے مطابق حل کرنے کے لیے اسلام کے کسی قانون سے ہمیں فائدہ ہوتا ہو۔ حالانکہ اسلام کی رہنمائی ہمیں صرف اس صورت میں حقیقی فائدہ دے سکتی ہے جب ہم ’’ادخلوا فی السلم کافۃ‘‘ کے ارشاد ربانی کے مطابق پورے کے پورے اسلامی سسٹم کو اختیار کریں اور اس کے مکمل نیٹ ورک کے ساتھ اپنی مشکلات کے حل کا راستہ تلاش کریں۔ مگر ہم اسلام کی خوبیوں کو دوسری ثقافتوں اور نظاموں کے فریم ورک میں فٹ کر کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے معاملات سلجھنے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں اور ہم بہتری کی بجائے ابتری کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔

برسوں قبل ایک صاحب کی بیان کردہ مثال میرے ذہن سے ابھی تک چپکی ہوئی ہے کہ کسی ملکۂ حسن کی ناک یقیناً خوبصورت ناک کہلاتی ہے لیکن صرف اس وقت تک جب تک وہ اسی چہرے کا حصہ ہو۔ اگر اسے الگ کر کے کسی دوسرے چہرے پر فٹ کر دیا جائے تو وہ اس چہرے کو خوبصورتی بخشنے کی بجائے اپنی خوبصورتی سے بھی محروم ہو جائے گی۔ اس لیے ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم اسلام کی خوبصورت ناک کو دوسرے چہروں پر فٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے تہذیبی افراتفری اور ثقافتی خلفشار کے سوا ہمیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا۔

جہاں تک طلاق کی شرح میں تشویشناک اضافے کے ان اسباب کا تعلق ہے جو ہمارے قانون دان دوستوں کے حوالے سے سطورِ بالا میں مذکور ہوئے ہیں، ہمیں ان سے مکمل اتفاق ہے مگر ہم ان میں ایک بات کا اضافہ کرنا چاہیں گے کہ اس میں ہمارے گھریلو ماحول کا سب سے بڑا حصہ ہے جو روز بروز بگڑتا جا رہا ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ گھر میں اگر قرآن کریم کی تلاوت ہوگی اور نماز کا ماحول ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے فرشتے اتریں گے، برکتوں کا نزول ہوگا اور باہمی محبت و اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ یہ بات ہمارے گھروں میں ناپید ہوتی جا رہی ہے اور اسی رفتار سے گھروں میں رحمتوں اور برکتوں کا نزول بھی کم ہوتا جا رہا ہے اور باہمی محبت و اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ شیطان لعین یعنی بڑا شیطان پانی پر تخت بچھائے بیٹھا ہے اور اس کے کارندے دنیا بھر میں گھوم پھر کر ڈیوٹی دیتے رہتے ہیں۔ یہ کارندے واپس آکر بڑے شیطان کو اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہیں اور داد و انعام کے حقدار قرار پاتے ہیں۔ شیطان اپنے کارندوں میں سے سب سے زیادہ اس شیطان کی رپورٹ پر خوش ہوتا ہے جو یہ رپورٹ دیتا ہے کہ میں فلاں گھر میں گیا تھا اور میں نے ان کے درمیان اتنا جھگڑا ڈالا کہ بالآخر میاں بیوی میں طلاق ہوگئی۔ یہ رپورٹ سن کر بڑا شیطان تخت پر کھڑا ہو جاتا ہے اور رپورٹ دینے والے کو بلا کر سینے سے لگاتا ہے اور یہ کہہ کر شاباش دیتا ہے کہ اصل کام تو نے کیا اور میرا اصل کارندہ تو ہے۔

طلاق کی شرح میں اس تشویشناک اضافے کے دیگر اسباب کا جائزہ لے کر انہیں دور کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھروں کے ماحول کو بہتر بنانے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ اس لیے کہ جب گھروں میں قرآن کریم کی تلاوت ہوگی، نماز کا ماحول ہوگا، اللہ تعالیٰ کا ذکر اور نبی کریمؐ پر درود شریف ہماری گھریلو زندگی اور معاملات کا حصہ ہوگا تو رحمت کے فرشتے آئیں گے، برکتوں کا نزول ہوگا اور سکون و محبت کی فضا بنے گی۔ جبکہ ہمارے گھروں کا ماحول جو رخ اختیار کرتا جا رہا ہے اور جس مخلوق کی دلچسپی کے اسباب میں ہمارے ہاں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس پر تو جھگڑے ہی ہوں گے اور طلاق کی شرح میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: