دفاعِ پاکستان کے پانچ دائرے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ دسمبر ۲۰۱۱ء
اصل عنوان: 
دفاعِ پاکستان کونسل کی تشکیلِ نو

مولانا سمیع الحق کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں ’’دفاعِ پاکستان کونسل‘‘ کے احیا اور تشکیلِ نو کے اعلان کے بعد سے مختلف سطحوں پر اس کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ جنرل (ر) حمید گل اس کونسل کے کوآرڈینیٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، دیگر جماعتوں کے علاوہ جمعیۃ علماء اسلام (س) اور جماعت الدعوہ اس کی عملی سرگرمیوں میں پیش پیش دکھائی دیتی ہے۔ ۱۸ دسمبر اتوار کو مینارِ پاکستان کے وسیع گراؤنڈ میں دفاعِ پاکستان کونسل کی ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور جنرل (ر) حمید گل اس کے لیے ملک بھر کے دینی و سیاسی رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں۔ مجھے بھی جنرل صاحب نے فون کے ذریعے اس کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دی ہے اور میں نے حاضری اور کانفرنس کی کامیابی کے لیے حتی الوسع کوشش کا وعدہ کر لیا ہے۔ دعا ہے کہ یہ کانفرنس منتظمین کی امنگوں کے مطابق کامیابی سے ہمکنار ہو اور اس کے ذریعے دفاعِ پاکستان اور قومی وحدت و خودمختاری کے لیے عوامی جذبات کی بھرپور ترجمانی کا منظر ایک بار پھر دنیا کے سامنے آئے، آمین۔

پاکستان کے دفاع و سالمیت اور قومی وحدت و خودمختاری پر پوری قوم متفق ہے۔ جوں جوں اس سلسلہ میں عالمی قوتوں کی منفی خواہشات اور بین الاقوامی لابیوں کی سازشیں بے نقاب ہو رہی ہیں عوام کے جوش و جذبے بلکہ غیظ و غضب میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوامی جذبات کا لاوا پکتا جا رہا ہے جو کسی وقت بھی آتش فشاں کی شکل میں پھٹ سکتا ہے۔ اس لیے ہماری قومی قیادت خواہ اس کا تعلق حکمران طبقات سے ہو یا اپوزیشن سے اور خواہ اس کا دائرہ سیاسی ہو یا دینی، سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کی سنگینی اور نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے قوم کی متفقہ رہنمائی کا اہتمام کریں۔ اس سلسلہ میں ۲۶ نومبر کو قصور شہر میں جمعیۃ علماء اسلام نے ’’دفاع و استحکامِ پاکستان کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا جس میں مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا مفتی حبیب الرحمان درخواستی اور دیگر علماء کرام کے علاوہ راقم الحروف نے بھی معروضات پیش کیں۔ اپنی ان گزارشات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہمارا وطن عزیز ہے اور اس کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنا، اس کی سالمیت و وحدت اور استحکام و خودمختاری کا تحفظ کرنا ہم سب کی دینی و قومی ذمہ داری ہے۔ اس لیے آج کی محفل میں ان بعض دائروں کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں جن میں وطن عزیز کی سالمیت، خودمختاری، تشخص اور وحدت کو آج کے معروضی حالات میں چیلنجوں کا سامنا ہے، تاکہ ہم دفاعِ پاکستان کے محاذ پر کام کرتے ہوئے ان اہداف کو سامنے رکھ سکیں جن کے لیے ہم یہ جدوجہد کر رہے ہیں۔

  1. پہلا دائرہ جغرافیائی وحدت و سالمیت کا ہے جس میں ہم مسلسل خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جغرافیائی سالمیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ وطن عزیز کی زمین کے ایک ایک چپے کی حفاظت کی جائے اور اس کا ایک انچ بھی دشمن کے قبضے میں نہ جانے دیا جائے۔ جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ملک کی سرحدوں کے تقدس کی حفاظت کی جائے اور دشمن کو زمینی یا فضائی طور پر حملہ آور ہونے یا سرحدوں کے اندر دخل اندازی کا موقع نہ دیا جائے۔ لیکن ہماری عملی صورتحال یہ ہے کہ غیر ملکی فوجوں کے مختلف عناصر نہ صرف ہمارے ملک کے اندر ہمارے ہی خلاف خفیہ مورچہ لگائے بیٹھے ہیں بلکہ ڈرون حملوں کے ذریعے ہمارے ملک کی سرحدوں کا تقدس پامال کرنے کے ساتھ ساتھ بے گناہ شہریوں کا مسلسل قتل عام کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال سرحدوں کے تقدس اور قومی خودمختاری کے لیے کھلا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہو کر دوٹوک موقف اور عملی رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
  2. دوسرا دائرہ سیاسی ہے کہ ہماری سیاسی خودمختاری پر عالمی قوتوں اور بین الاقوامی حلقوں کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور ہم اپنے فیصلے خود کرنے کے مجاز دکھائی نہیں دے رہے۔ حتٰی کہ گزشتہ الیکشن میں عوام نے جن پالیسیوں کو ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا تھا وہی پالیسیاں اب بھی جاری ہیں۔ پارلیمنٹ نے قومی خودمختاری کے حوالے سے متفقہ قرارداد کے ذریعے جس قومی موقف کا اظہار کیا تھا وہ حکومتی اداروں کے عملی اقدامات کا منتظر ہے۔ اور وزیراعظم کی طلب کردہ آل پارٹیز قومی کانفرنس نے قومی خودمختاری کے لیے جس عزم کا اعلان کیا تھا وہ آگے بڑھنے کے لیے قومی قیادت کا ابھی تک منہ دیکھ رہا ہے۔ چنانچہ اس ملک کے عوام ووٹ کے ذریعے حکومتوں کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے حق سے عملاً محروم ہیں اور حکومت میں اپنی ہی پارلیمنٹ کے فیصلوں پر عمل کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ بھی ہمارا قومی مسئلہ ہے کہ ہم قومی پالیسیوں اور فیصلوں کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ، داخلی طبقاتی مفادات اور عالمی قوتوں کی دھاندلی سے نجات حاصل کرنے کے عملی راستے تلاش کریں۔
  3. دفاع پاکستان کی جدوجہد کا تیسرا دائرہ فکری و نظریاتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جس مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا اور اس کے دستور اور قراردادِ مقاصد میں اسلام کے جن اصولوں اور اسلامی قوانین و نظام کے ساتھ وفاداری کا دوٹوک اظہار کیا گیا تھا اور جو دستور کے صفحات پر ابھی تک موجود و قائم ہے، اس کی نفی کی جا رہی ہے، اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اسے دستور و قانون کے صفحات سے مٹانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی مہم جاری ہے۔ اس لیے دفاعِ پاکستان کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ملک کے اسلامی تشخص کی حفاظت کی جائے اور دستور میں نفاذ اسلام کے لیے دی جانے والی ضمانتوں کو عملی شکل دینے کی جدوجہد کی جائے۔
  4. دفاعِ پاکستان کی جدوجہد کا چوتھا دائرہ تہذیبی و ثقافتی ہے کہ میڈیا اور لابنگ کے ذرائع کو بے دردی کے ساتھ اسلامی ثقافت کی روایات کو کمزور کرنے بلکہ خدانخواستہ مٹانے کے لیے صرف کیا جا رہا ہے۔ دین کا نام لینے اور اس پر عمل کرنے والوں کی کردار کشی کی جا رہی ہے، اسلامی اور مشرقی روایات کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے اور ایسا کرنے والوں میں حکمران طبقات اور اپوزیشن کے درمیان کوئی فرق نظر نہیں آرہا۔ مغربی تہذیب و ثقافت کے علمبردار اورا سلامی و مشرقی تہذیب کے دشمن عناصر سیاست، میڈیا، تعلیم اور سرکاری اداروں میں ہر جگہ گھسے ہوئے ہیں اور تارپیڈو سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اسلامی تہذیب و ثقافت کا تحفظ اور مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار کو روکنا بھی دفاعِ پاکستان کا اہم مورچہ ہے جس کے لیے ہم سب کو مل جل کر بھرپور کردار ادا کرنا کرنا ہوگا۔
  5. دفاعِ پاکستان کا پانچواں دائرہ اور مورچہ معاشی ہے کہ ہمارے قومی وسائل اور دولت بین الاقوامی اداروں کے شکنجے میں ہیں اور ان کے گماشتوں نے نہ صرف ملک میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے بلکہ ملک کی دولت کو تیزی کے ساتھ بیرون ملک منتقل کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں سوئس بینکوں کے ایک افسر کا بیان اخبارات کی زینت بنا ہے کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی جو دولت پڑی ہے وہ اگر پاکستان واپس چلی جائے تو پاکستان کو ۳۰ سال تک اپنے بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، اور اگر حکومت ہر شہری کو ۲۰ ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دے تو یہ رقم ۶۰ سال کے لیے کافی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک میں دولت اور وسائل کی کوئی کمی نہیں لیکن مفاد پرست حکمران طبقات اور بین الاقوامی معاشی اداروں کی پالیسیوں نے یہ صورتحال پیدا کر رکھی ہے کہ غربت بڑھتی جا رہی ہے، مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے، لوڈشیڈنگ کا عذاب الگ ہے اور کرپشن نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے۔ میرے نزدیک یہ بھی دفاعِ پاکستان کا مورچہ ہے کہ پاکستان کی معاشی خودمختاری بحال کرائی جائے، ملک کی دولت ملک میں واپس لائی جائے اور خلافتِ راشدہ کے منصفانہ اصولوں کے مطابق عمومی معاشی ڈھانچے کی تشکیلِ نو کی جائے تاکہ غریب عوام سکھ کا سانس لیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلامی اصولوں پر کاربند ہو سکے۔