نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۳ء

گزشتہ دنوں بعض عسکریت پسند گروہوں کی طرف سے اس مضمون کے بیانات اخبارات میں شائع ہوئے کہ حکومت پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے آئین کی بات کرتی ہے جبکہ ہم شریعت کی بات کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ بہت سے عسکریت پسند گروپوں کے نزدیک دستور پاکستان اور شریعت اسلامیہ ایک دوسرے کے مد مقابل اور حریف ہیں جبکہ یہ خیال درست نہیں ہے اور اس مغالطے کو فوری طور پر دور کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

دستور پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شریعت اسلامیہ سے متصادم ہے، دستور پاکستان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ دستور پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت اعلیٰ کے مغربی جمہوری تصور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اسلامی تصور پر ہے جس پر دستور کی بہت سی دفعات شاہد و ناطق ہیں۔ دستور پر عمل نہ ہونا یا اس بارے میں رولنگ کلاس کی دوغلی پالیسی ضرور ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس سے دستور کی اسلامی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اہل السنۃ والجماعۃ کا اصول ہے کہ کوئی شخص کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائے اور دینی مسلمات میں سے کسی بات سے انکار نہ کرے تو اس کی بے عملی یا بد عملی کی وجہ سے اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا اور وہ فاسق و فاجر کہلانے کے باوجود مسلمان ہی شمار ہوگا۔ اس لیے رولنگ کلاس کی بے عملی یا دوغلے پن کی وجہ سے دستور کو غیر اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس سلسلہ میں دوسری گزارش یہ ہے کہ یہ دستور اس وقت پاکستان کی وحدت کی اساس ہے، خدانخواستہ اس دستور کی نفی کر دی جائے تو ملک کو متحد رکھنے کی اور کوئی بنیاد باقی نہیں رہے گی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وحدت و سا لمیت کو خدانخواستہ داؤ پر لگانے کا کسی مسلمان کو رسک نہیں لینا چاہیے۔

جبکہ تیسری گزارش ہم یہ کرنا چاہیں گے کہ اس دستور کی تشکیل و تدوین میں ملک کی تمام دینی و سیاسی قوتیں شریک رہی ہیں اور اب بھی وہ اس پر متحد و متفق ہیں۔ یہ دستور جب 1973ء کے دوران ترتیب دیا جا رہا تھا اس وقت اسے مرتب و مدون کرنے میں دوسرے بہت سے قومی راہ نماؤں کے ساتھ دستور ساز اسمبلی کے ارکان کے طور پر حضرت مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک، حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، حضرت مولانا نعمت اللہؒ آف کوہاٹ، حضرت مولانا صدر الشہیدؒ آف بنوں، حضرت مولانا عبد الحکیم ہزارویؒ اور حضرت مولانا عبد الحقؒ آف کوئٹہ بھی شامل تھے اور ان سب بزرگوں کے اس پر دستخط ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس وقت عسکریت پسندوں کی بہت بڑی اکثریت ان میں سے کسی نہ کسی بزرگ کی بالواسطہ یا بلاواسطہ شاگرد ہے، اس لیے انہیں اپنے ان عظیم المرتبت اساتذہ کے موقف سے انحراف اور ان کی کاوشوں کی نفی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور البرکۃ مع اکابرکم کا خیال رکھتے ہوئے دستور پاکستان کی پاسداری کا واضح اعلان کرنا چاہیے۔

ہم متعدد بار یہ لکھ چکے ہیں کہ ایک مسلمان ریاست میں حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانا جسے فقہی اصطلاح میں ’’خروج‘‘ کہتے ہیں، حکمرانوں کی طرف سے ’’کفر بواح‘‘ یعنی کھلے کفر کے اعلان کے سوا شرعاً جائز نہیں ہے اور جب تک ہمارا کوئی حکمران گروہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی بنیادوں سے خدانخواستہ صراحتاً انکار نہیں کرتا، اس پر ’’کفر بواح‘‘ کا فتویٰ لگا دینا درست نہیں ہے بلکہ اگر ’’خروج‘‘ کے جواز کا کسی درجہ میں ماحول دکھائی دیتا ہو تو بھی اس کے قابل عمل ہونے کو فقہائے احناف نے جواز کی شرائط میں شامل کیا ہے، کیونکہ قابل عمل ہونے کے غالب امکان کے بغیر حنفی فقہاء کسی مسلم حکومت کے خلاف خروج کو بعض دوسری شرائط کے پائے جانے کے باوجود شرعاً درست قرار نہیں دیتے۔ جبکہ پاکستان کے معروضی حالات میں اس کا کسی درجہ میں کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی مسلح گروہ ملک کے کسی حصے پر قبضہ کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کر سکے اور اس میں اپنی مرضی کا نظام نافذ کر لے۔ اس لیے ہم نے نفاذِ شریعت کے خواہش مند اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے مسلح عناصر سے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ وہ مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کر کے پُر امن جدوجہد کا طریقِ کار اختیار کریں اور اس کے لیے جمہور علماء امت کو اعتماد میں لیں۔

ہمارے نزدیک نفاذِ اسلام کی جدوجہد کا اصل راستہ وہی ہے جو ہمارے بزرگوں نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی مالٹا کی قید سے واپسی پر ان کی راہ نمائی میں اختیار کیا تھا اور آزادی کی جدوجہد کے لیے پُر امن عوامی سیاسی تحریک کے ذریعہ برطانوی استعمار کے خلاف عدم تشدد پر مبنی مزاحمت کی صبر آزما محنت کر کے اسے یہاں سے رخصت ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ تحریک خلافت، جمعیۃ علماء ہند، مسلم لیگ اور مجلس احرار اسلام کی تحریکات اس کی زندۂ جاوید تاریخی شہادتیں ہیں اور ہمارے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لیے ہم نہ مسلح جدوجہد کے طریقِ کار کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی صرف الیکشن پر قناعت کرنے کو نفاذِ اسلام کی جدوجہد کا درست طریق کار سمجھتے ہیں۔ نفاذِ اسلام کے لیے بین الاقوامی اور ملکی اسٹیبلیشمنٹ کے منافقانہ کردار اور دوغلے رویے کے خلاف شدید عوامی مزاحمت درکار ہے کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے، البتہ یہ مزاحمت اسلحہ اور ہتھیار کی بجائے اسٹریٹ پاور، سول سوسائٹی، پر امن عوامی تحریک اور منظم احتجاجی قوت کے ذریعہ ہونی چاہیے۔

قبائلی علاقہ جات کی کالعدم تحریک طالبان سمیت بہت سے دیگر دینی حلقوں کو یہ شکوہ ہے کہ ملک کے جمہور علماء ان کی دینی جدوجہد میں ان کا ساتھ نہیں دے رہے، جبکہ ہمارا تجربہ اس سے مختلف ہے۔ راقم الحروف کو بھی تحریکی دنیا کا کارکن سمجھا جاتا ہے، درجنوں تحریکوں میں مختلف سطحوں پر متحرک کردار ادا کرنے کی سعادت بحمد اللہ تعالیٰ حاصل کر چکا ہوں اور اسے اپنے لیے باعث نجات سمجھتا ہوں۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ دینی جدوجہد کے جس مرحلہ میں بھی جمہور علماء کرام اور ان کی علمی و فکری قیادتوں کو اعتماد میں لے کر ان کی مشاورت سے کسی تحریک کا پروگرام طے کیا گیا ہے، جمہور علماء بلکہ عوام نے بھی کبھی مایوس نہیں کیا۔ تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفیؐ اور شریعت بل کی تحریکات اس پر شاہد ہیں، البتہ ملک کے کسی بھی دینی طبقہ اور جماعت نے کسی بھی دینی جدوجہد کا پروگرام اگر از خود طے کیا ہے، اس کے اہداف، ترجیحات اور طریق کار کے تعین میں جمہور علماء کی قیادتوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور سب کچھ از خود طے کر کے جمہور علماء کو اپنے پیچھے چلنے کی دعوت دی ہے تو اسے بہرحال مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور یہ ایک فطری بات ہے، اس لیے کہ اگر جمہور علماء دینی جدوجہد کے عنوان سے ہر آواز کی طرف لپکنا شروع کر دیں تو ملک کے عمومی دینی ماحول کی رہی سہی اجتماعیت بھی داؤ پر لگ جائے گی جو کسی طور بھی دین اور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔

ہمیں دین کے لیے کسی بھی حوالہ سے جدوجہد کرنے والوں کے خلوص، قربانیوں اور سعی و محنت سے انکار نہیں ہے، لیکن ملک کے عمومی دینی ماحول کا تعاون حاصل کرنے کے لیے جمہور علماء کرام بلکہ مختلف مکاتب فکر کی دینی، علمی اور فکری قیادتوں کو جدوجہد کے مقاصد، ترجیحات اور طریق کار کے بارے میں اگر اعتماد میں نہیں لیا جائے گا تو ان سے عدم تعاون کا شکوہ کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہوگا۔