توہین رسالت کا قانون اور امریکی موقف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ ستمبر ۲۰۱۲ء
اصل عنوان: 
توہینِ مذاہب اور توہینِ انبیاء جرم ہے

امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بدنام زمانہ امریکی فلم کی مذمت کی ہے جس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں کی جانے والی توہین پر پورا عالمِ اسلام سراپا احتجاج ہے اور بہت سے مقامات پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں تشدد کے باعث خاصا جانی و مالی نقصان بھی سامنے آیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے پرتشدد مظاہروں میں لیبیا میں امریکی سفیر اور دیگر امریکی شہریوں کے قتل کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ان پرتشدد مظاہروں کا کوئی جواز نہیں ہے اور ان سے بین الاقوامی قوانین کی توہین ہوئی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے کے دوران جنیوا میں اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب ایلسن چیمبرلین نے کہا کہ ان کا ملک مذہب کی آزادی کو اظہار رائے کی آزادی سے الگ تھلگ نہیں سمجھتا بلکہ دونوں آزادیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لاہور سے شائع ہونے والے ایک مؤقر روزنامہ میں ۲۵ ستمبر کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق امریکی مندوب نے اس خطاب کے دوران اسلامی ممالک کی جانب سے توہینِ مذاہب اور توہینِ رسالت کو غیر قانونی قرار دینے کے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا نے مذاہب اور اظہار رائے کی آزادی کو ایک ساتھ فروغ دینے کی اجازت دی تو مذہبی یگانگت اور معاشی خوشحالی و ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور جب بھی دونوں آزادیوں کو محدود کیا گیا تو تشدد، غربت اور مایوسی کے جذبات پروان چڑھے۔

صدر اوباما اور جنیوا میں امریکی مندوب ایلسن چیمبرلین کے یہ خیالات ظاہر ہے کہ موجودہ عالمی تناظر میں امریکی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں جو توہینِ رسالتؐ پر مبنی امریکی فلم کے خلاف عالمی احتجاج کے دوران پورے عالم اسلام کی طرف سے کیے جانے والے اس مطالبے کا ردعمل ہے کہ بین الاقوامی قوانین میں توہینِ مذہب اور توہینِ رسالت کو جرم قرار دیا جائے اور اس کی صرف مذمت کرنے کی بجائے اس مذموم فعل کی حوصلہ شکنی کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے، جس کے لیے امریکی حکومت تیار نظر نہیں آتی۔

جہاں تک مظاہروں کا تعلق ہے ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ان کے عقیدہ و ایمان کو ٹھیس پہنچی ہے اس لیے ان کا حق ہے کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار کریں اور اپنا احتجاج معروف طریقے سے عالمی رائے عامہ کے سامنے لائیں۔ چنانچہ مظاہرے، ہڑتالیں، ریلیاں اور احتجاجی جلسے ان کا جمہوری حق ہے جس سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ تشدد کی آڑ میں مسلمانوں کے اس جمہوری اور جائز حق کی نفی کرے۔ دو روز قبل ایک پاکستانی دانشور نے فون پر پوچھا کہ جو کچھ اسلام آباد میں ہوا ہے کیا آپ اس کو درست سمجھتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ احتجاجی مظاہروں کو نہ صرف جائز سمجھتا ہوں بلکہ مسلمانوں کے ایمانی جذبات کا تقاضا اور ان کا حق تصور کرتا ہوں البتہ توڑ پھوڑ، تشدد، قتل و غارت اور لا قانونیت کو کہیں بھی ہو درست نہیں سمجھتا اور اسے انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتا ہوں۔ البتہ اس کی آڑ میں عوامی جذبات کے اظہار اور سڑکوں پر آنے کے حق سے انکار اور اس کی نفی کرنا بھی صحیح طرز عمل نہیں ہے۔

صدر اوباما اگر مسلمانوں کے جذبات کے پر امن اظہار کا حق تسلیم کرتے ہوئے تشدد کی نفی اور مذمت کرتے تو ہم بھی اس معاملہ میں ان کے ہم زبان ہوتے لیکن انہوں نے تشدد کی مذمت تو کی ہے مگر پر امن مظاہروں اور مسلمانوں کے جذبات کا ذکر کرنے سے گریز کیا ہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے اس ہمہ گیر مطالبے کو امریکی پالیسی میں جگہ دینے کو تیار نہیں ہیں کہ مذاہب اور انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے اور اس کے لیے قانون سازی کی جائے۔ جبکہ جنیوا میں امریکی مندوب ایلس چیمبرلین کی اس بات نے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے کہ ان کی حکومت مذہبی رواداری اور اظہار رائے کی آزادی کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی حمایت نہیں کرتی۔

سوال یہ ہے کہ اس کا مطالبہ کیا کس نے ہے؟ سوال مذہبی آزادی کا نہیں بلکہ مذہب کی توہین کا ہے، اور سوال اظہار رائے کی آزادی کا نہیں بلکہ حضرات انبیاء کرامؑ کی حرمت و عزت کے تحفظ کا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا توہین اور تحقیر کے ساتھ آخر تعلق کیا ہے؟ کیا توہین اور استہزا آزادی رائے کے مترادف ہے اور کیا تمسخر اور طعن و تشنیع مذہبی آزادی کا لازمی تقاضا ہے؟ مسلمان مطالبہ کر رہے ہیں کہ توہین مذہب کو جرم قرار دیا جائے اور جواب میں کہا جا رہا ہے کہ ہم آزادیٔ رائے کو محدود نہیں کر سکتے۔ مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ حضرات انبیاء کرامؑ کی عزت و ناموس کا قانونی تحفظ کیا جائے اور جواب دیا جا رہا ہے کہ ہم مذہبی آزادی کو رائے کی آزادی سے الگ نہیں کر سکتے۔ آخر اس سارے گورکھ دھندے کا مطلب کیا ہے؟

امریکی قیادت کو یہ سادہ سی بات سمجھانا بھی اب ہمارے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ جس طرح دنیا کے ہر ملک میں کسی بھی شہری کو ہتک عزت پر قانونی دادرسی کا حق حاصل ہوتا ہے اور کوئی بھی معزز شہری ازالہ حیثیت عرفی پر قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا حق رکھتا ہے، اسی طرح بین الاقوامی سطح پر انبیاء کرامؑ کی ہتکِ عزت اور ازالہ حیثیت عرفی کو جرم قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو داد رسی کا قانونی حق دیا جائے۔ یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ صدر اوباما کی ہتک عزت اور ازالہ حیثیت عرفی تو جرم ہو مگر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتکِ عزت اور ازالہ حیثیت عرفی کو معاذ اللہ آزادیٔ رائے اور آزادیٔ مذہب کی بھول بھلیوں میں گم کر دیا جائے۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ مغربی حکمرانوں کے نزدیک ’’مذہبی آزادی‘‘ کا مطلب دراصل ’’مذہب سے آزادی‘‘ ہے اس لیے وہ بزعم خود انسانی سوسائٹی کو مذہب سے آزاد کرانے کی ناکام خواہش کی تکمیل کے لیے مذہب اور مذہبی شخصیات کی تحقیر و توہین کے کسی بھی عمل کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ لیکن کیا مذہب ان ہتھکنڈوں سے مرعوب ہو کر انسانی سوسائٹی میں اپنے اثر و رسوخ اور کردار سے دستبردار ہو جائے گا؟

ایں خیال است و محال است و جنوں
درجہ بندی: