درخواستی خاندان کی اسلام کے لیے خدمات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ اکتوبر ۲۰۱۲ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ پاکستان کی دینی و سیاسی تاریخ کی ایک اہم شخصیت تھے جن کا اوڑھنا بچھونا تعلیم و تدریس اور ذکر و اذکار تھا۔ وہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان جیسی معروف دینی و سیاسی جماعت کے تین عشروں تک امیر رہے اور ان کی امارت میں کام کرنے والے سرکردہ رہنماؤں میں مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبید اللہ انورؒ، مولانا پیر محسن الدین احمدؒ، مولانا شمس الحق افغانیؒ اور مولانا سید محمد یوسف بنوری شامل رہے ہیں۔ ۱۹۷۶ء کی بات ہے کہ شیرانوالہ لاہور میں منعقد ہونے والے جمعیۃ علماء اسلام کی جنرل کونسل کے اجلاس میں کسی نے یہ تجویز پیش کر دی کہ مولانا عبد اللہ درخواستیؒ کو جمعیۃ علماء اسلام کا سرپرست بنا دیا جائے اور امیر کے منصب کے لیے مولانا مفتی محمودؒ کو منتخب کر لیا جائے جو اس وقت جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل تھے۔ اس پر مولانا مفتی محمودؒ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور جنرل کونسل میں اعلان کیا کہ جب تک حضرت درخواستیؒ زندہ ہیں ان کے علاوہ جمعیۃ کا کوئی اور امیر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ مولانا مفتی محمودؒ اس حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ وہ جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل تھے اور مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ امیر تھے۔ اسی طرح حضرت درخواستیؒ کی وفات کے وقت وہ جمعیۃ کے امیر اور مولانا فضل الرحمان سیکرٹری جنرل تھے۔

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کا خصوصی ذوق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو یاد کرنا اور موقع محل کی مناسبت سے ہر مجلس میں احادیث نبویہؐ ک سنانا تھا۔ ان کا حافظہ قوی اور یادداشت قابل رشک تھی۔ خلوت ہو یا جلوت جناب رسول اکرمؐ کے ارشادات تلاوت کرنا اور ان کے حوالے سے گفتگو کرنا ان کا صرف ذوق ہی نہیں بلکہ مزاج بن چکا تھا۔ مجھے کم و بیش ربع صدی تک ان کی مجالس سے مستفید ہونے کا موقع ملا ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے سالہا سال تک ان کی جماعتی کابینہ کا حصہ رہا ہوں اور بیسیوں مواقع پر سفر و حضر میں ان کے ساتھ رفاقت رہی ہے۔ مجھے یاد نہیں ہے کہ کوئی مسئلہ پیش ہوا ہو یا وہ کسی مجلس میں بیٹھے ہوں اور انہوں نے جناب نبی کریمؐ کی کوئی نہ کوئی حدیث تلاوت نہ کی ہو۔ حدیث کا عربی متن بھی پڑھتے تھے، ضرورت کے موقع پر سند بھی پڑھتے تھے، اس کا ترجمہ کرتے تھے اور اپنے ذوق کے مطابق اس کی تشریح بھی کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں جناب نبی اکرمؐ کی دس ہزار احادیث متن اور سند کے ساتھ یاد تھیں، اسی وجہ سے انہیں حافظ الحدیث کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔

حضرت درخواستیؐ کی وفات کے بعد ان کا خاندان چار دینی مراکز کی صورت میں ان کے تعلیمی و تدریسی شغل کو جاری رکھے ہوئے ہے: (۱) ان کے سب سے بڑے بیٹے مولانا فداء الرحمان درخواستی ہیں جن کا ادارہ آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں جامعہ انوار القرآن کے نام سے کراچی کے بڑے علمی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ (۲) حضرت درخواستیؐ کا اپنا قائم کردہ ادارہ جامعہ مخزن العلوم عیدگاہ خانپور ان کے بیٹے مولانا فضل الرحمان درخواستی اور مولانا حاجی مطیع الرحمان درخواستی چلا رہے ہیں۔ (۳) خانپور میں حضرت درخواستیؒ کے نواسوں نے جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ کے نام سے ایک بڑا دینی ادارہ قائم کر رکھا ہے جس کے مہتمم مولانا حبیب الرحمان درخواستی ہیں۔ (۴) جبکہ حضرت درخواستیؒ کے ایک نواسے مولانا سیف الرحمان درخواستی روجھان میں ایک دینی مرکز کے اہتمام کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔

مولانا فداء الرحمان درخواستیؒ نے جامعہ انوار القرآن کراچی کے علاوہ اندرون سندھ میں پتھورو کے مقام پر اور راولپنڈی سے آگے حسن ابدال میں بھی دینی مدارس اور مراکز قائم کر رکھے ہیں اور وہ اپنے بیٹوں کے ذریعے کم و بیش نصف درجن سے زائد دینی مدارس کا نظام چلا رہے ہیں۔ مولانا فداء الرحمان درخواستی کی عمر ۹۰ سال کے لگ بھگ ہوگی لیکن وہ ان اداروں کے نظم و نسق کے ساتھ پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی امیر کا منصب بھی سنبھالے ہوئے ہیں اور ہم پاکستان شریعت کونسل کے حوالے سے انہیں مختلف شہروں میں گھماتے پھراتے رہتے ہیں۔ اپنے مزاج کے اعتبار سے وہ بھی تعلیمی اور روحانی ذوق کے بزرگ ہیں اور عملی سیاست کے جھمیلوں سے انہیں کوئی واسطہ نہیں ہے البتہ دوستوں پر اعتماد کرنے والے بزرگ ہیں اور پاکستان شریعت کونسل کے کاموں کے بارے میں ہم چند ساتھی انہیں جو مشورہ دیتے ہیں اسے وہ کر گزرتے ہیں جو ظاہر ہے کہ ان کی بڑائی کی علامت ہے۔

مولانا فداء الرحمان درخواستیؐ بھی میری طرح ملک ملک گھومنے کے عادی ہیں اورا ن کے احباب اور عقیدت مندوں کا دائرہ مختلف ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ آج کل وہ برطانیہ میں ہیں اور مختلف عنوانات پر دینی اجتماعات میں شرکت کے علاوہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کی یاد میں نشستوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ۳۰ ستمبر اتوار کو رچڈیل کی مرکزی مسجد میں ’’حافظ الحدیث سیمینار‘‘ کے عنوان سے ایک علمی نشست کا اہتمام کیا جس سے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ اور دیگر علاقوں کے سرکردہ زعما نے خطاب کیا۔ ان میں مولانا ارشد مدنی، مولانا محمد یوسف متالا، علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا سید صدر الدین شاہ (بنگلہ دیش)، مولانا بشیر احمد شاد، مولانا قاری تصور الحق، مولانا امداد الحسن نعمانی، مولانا اکرام الحق خیری، مولانا حبیب الرحمان اور مولانا ریاض الحق شامل ہیں جبکہ برطانیہ کے مختلف شہروں سے علماء کرام کی بڑی تعداد اس میں شریک ہوئی۔ مقررین نے حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا اور خاص طور پر اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ قرآن کریم کی طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کو یاد کرنا بھی ماضی میں علماء کرام کے ذوق کا اہم حصہ رہا ہے اور قرونِ اولیٰ کے جن محدثین کا ہم تذکرہ کرتے ہیں ان میں سے اکثر وہ ہیں جنہیں ہزروں نہیں بلکہ لاکھوں احادیث نبویہؐ زبانی یاد تھیں اور ہر وقت ان کے وردِ زبان رہتی تھیں۔

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ہمارے دور میں ان محدثین کرامؒ کے اس ذوق کی علامت تھے مگر اب اس کا ذوق کم ہوتا جا رہا ہے جسے ازسرنو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے دینی مدارس میں ’’بزم حافظ الحدیث‘‘ کے نام سے مستقل حلقے کی تجویز اس سیمینار میں منظور کی گئی اور پہلی ’’بزم حافظ الحدیث‘‘ رچڈیل کی اسی مسجد میں قائم دینی مدرسہ میں شروع کرنے کا اعلان کیا گیا جس کا باقاعدہ آغاز مولانا فداء الرحمان درخواستی نے چند طلبا کو ایک حدیث پڑھا کر اسی موقع پر کر دیا ہے۔

درخواستی خاندان کی یہ دینی و علمی سرگرمیاں یقیناً حضرت درخواستیؒ کا صدقہ جاریہ ہیں اور ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں قبولیت اور ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔