مسٹر رابن کک! یہ ایجنڈا ادھورا ہے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۱۹۹۸ء

لاہور کے ایک اردو روزنامے میں برطانوی وزیرخارجہ مسٹر رابن کک کا یہ بیان نظر سے گزرا ہے کہ اسلام اور مغرب کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے یورپی یونین اور اسلامی تنظیم (او آئی سی) کے درمیان مذاکرات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک اسلامک سنٹر میں اپنی کسی تقریر کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں انہوں نے ’’اسلام اور مغرب کے اشتراک‘‘ پر اظہارِ خیال کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس حوالہ سے یورپی یونین اور او آئی سی میں بہت جلد مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یورپی یونین اور او آئی سی میں مذاکرات کے لیے جن عنوانات کی نشاندہی کی ہے ان میں مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن، افغانستان، دہشت گردی، منشیات، انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق جیسے مسائل شامل ہیں۔ جبکہ ایک اور اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں امریکہ کے نئے سفیر مسٹر میلام نے بھی امریکی عوام اور مسلمانوں کے مابین غلط فہمیوں کے ازالے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اس سلسلہ میں اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے پاکستانی دانشوروں سے اپیل کی ہے امریکہ اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کم ہونے چاہئیں۔

مغرب کے ان دو ذمہ دار نمائندوں کی اس گفتگو سے مغرب اور مسلمانوں کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتائج کے بارے میں مغربی رہنماؤں کی تشویش کا اندازہ ہوتا ہے جس نے انہیں بظاہر اس ضرورت کا احساس دلایا ہے کہ باہمی گفت و شنید اور مذاکرات کی کوئی ایسی صورت ضرور نکلنی چاہیے جس سے غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور دونوں فریق شکوک و شبہات کی فضا سے نکل کر ایک دوسرے کے موقف اور پوزیشن کو صحیح طور پر سمجھتے ہوئے باہمی تعاون و اشتراک کے امکانات کا جائزہ لیں۔

جہاں تک مسلمانوں اور اہل مغرب کے درمیان گفت و شنید، غلط فہمیوں کے ازالہ اور باہمی تعاون و اشتراک کی راہیں تلاش کرنے کا تعلق ہے ہمیں اس کی ضرورت کا احساس ہے اور ہم اس حوالہ سے مغربی دانشوروں کی اس سوچ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ بلکہ ہمارے نزدیک تو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات خود ہماری مذہبی ضروریات اور تقاضوں میں شامل ہے کہ آنے والے دور میں مسلمانوں اور مسیحی امت کے درمیان تعاون و اشتراک کی فضا ہموار ہو، کیونکہ جناب نبی اکرمؐ کے واضح ارشادات کی رو سے ان دونوں قوتوں نے مل کر اپنے مشترکہ دشمن کو شکست دینا ہے اور پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے نزول کے بعد ان کے پرچم تلے متحد ہو جانا ہے۔ اس لیے مسلم مسیحی ڈائیلاگ کی آواز جس سمت سے بھی بلند ہو ہم اسے اپنی آواز سمجھتے ہیں اور اس پر ہر وقت لبیک کہنے کو تیار ہیں، مگر اس سلسلہ میں دو باتیں بطور خاص توجہ طلب ہیں:

  1. ایک یہ کہ یہ مذاکرات اور گفتگو کن طبقات کے مابین ہوگی؟
  2. اور دوسری یہ کہ مسلم مسیحی ڈائیلاگ کا ایجنڈا کیا ہوگا؟

کیونکہ برطانوی وزیراعظم مسٹر رابن کک نے مذاکرات کے جن دو فریقوں اور گفتگو کے جس ایجنڈے کا تذکرہ کیا ہے وہ دونوں حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس لیے کہ اسلام اور مسیحیت کے مابین قرب کی فضا ہموار کرنے کی ہو رہی ہے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ نہ تو مغرب کی موجودہ حکومتیں ’’مسیحیت‘‘ کی نمائندگی کرتی ہیں اور نہ ہی او آئی سی میں شامل مسلمان حکومتیں ’’اسلام‘‘ کی نمائندگی کا حق رکھتی ہیں۔ بلکہ یہ دونوں قوتیں اپنی تشکیل اور کردار دونوں لحاظ سے خالصتاً سیکولر حیثیت کی حامل ہیں اور دونوں کا فکری، ثقافتی اور تربیتی سرچشمہ ایک ہے۔ اس لیے اسلام اور مسیحیت کے حوالہ سے ان دونوں کے درمیان مذاکرات اور گفت و شنید کا مطلب مکر و فریب اور جعل سازی کے اسٹیج پر ایک اور ڈرامہ پیش کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔ اور اسے زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہب گریز طبقات کی بات چیت ہے جو مذہب کے بڑھتے ہوئے رجحانات سے خوفزدہ ہو کر باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے اشتراک و تعاون کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ اس لیے اسے اسلام اور مغرب کے درمیان ڈائیلاگ قرار نہیں دیا جا سکتا اور یورپی یونین اور او آئی سی کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے باوجود اسلام اور مغرب کے درمیان گفتگو کی ضرورت بدستور باقی رہے گی۔

ہمارے نزدیک اسلام اور مغرب کے درمیان حقیقی ڈائیلاگ کے اصل فریق مسلمانوں اور مسیحی امت کے مذہبی قائدین ہیں جنہیں ان دونوں امتوں کے سیکولر عناصر نے اجتماعی زندگی سے بے دخل کر کے اقتدار کے سرچشموں پر قبضہ جما رکھا ہے اور انسانی سوسائٹی کو مذہبی اقدار سے باغی کر کے اقتصادی بدحالی، اخلاقی انارکی اور فکری انتشار کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ مسٹر رابن کک نے مذاکرات کے ایجنڈے کے طور پر جن مسائل کا ذکر کیا ہے ہمیں ان کے وجود سے انکار نہیں ہے اور ہم ان میں سے ہر مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ بحث و تمحیص کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ سب مسائل نتائج ہیں اور ان کا اصل وہ اسباب ہیں جنہوں نے ان مسائل کو جنم دیا ہے۔ اور ان سب اسباب کا اصل سرچشمہ آسمانی تعلیمات اور مذہبی اقدار سے انحراف ہے جس نے انسانی معاشرہ کو تمام حدود و قیود سے بیگانہ کر کے آزادی کے پر فریب نعرے کی آڑ میں انتشار اور انارکی سے ہمکنار کر دیا ہے۔

اس لیے اصل ضرورت مغرب کے اس کردار پر کھلے دل کے ساتھ گفت و شنید کی ہے کہ اس نے پہلے خود آسمانی تعلیمات سے بغاوت کی اور پھر مسلسل اور پیہم سازشیں کر کے مسلمانوں کو آسمانی تعلیمات اور مذہبی اقدار سے محروم کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے مغرب نے مسلمانوں کی سیاسی وحدت کی آخری علامت خلافت عثمانیہ کا تیاپانچہ کر دیا، اکثر مسلم علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں قومیتوں اور علاقوں کے حوالے سے الگ الگ ملک بنا دیا، ان سب کے داخلی نظام تبدیل کر کے سیکولر نظام مسلط کر دیا، مسلم ممالک کے معاشی اور معدنی وسائل پر تسلط قائم کر لیا، ان کی سائنسی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں، مسلم ممالک کو دفاعی لحاظ سے خودکفیل ہونے سے روکا، ان کی اقتصادی پالیسیوں کو عالمی اداروں کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لے لیا، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا ناسور پیدا کر کے مسلمانوں کے سینے میں خنجر گھونپ دیا، عرب ممالک کے تیل اور دولت کا وحشیانہ استحصال کیا جو اب بھی جاری ہے، اور اقوام متحدہ کی چھتری تلے مسلم ممالک اور اقوام کی آزادی اور خودمختاری کو مغربی مفادات کے شکنجے میں جکڑ کر رکھ دیا۔ اس لیے اگر اس سب کچھ کے نتیجے اور ردعمل میں کہیں کہیں پرجوش مسلمانوں نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں اور امن کے حوالے سے مغرب کا یکطرفہ پروگرام ڈسٹرب ہو رہا ہے تو مسٹر رابن کک اور مسٹر میلام کو اس پر بلاوجہ پریشانی کا اظہار کرنے کی بجائے خود اپنے کیے دھرے کے نتائج کا حوصلے کے ساتھ سامنا کرنا چاہیے۔

ہمارے نزدیک اسلام اور مغرب کے درمیان ڈائیلاگ کے اصل فریق دونوں امتوں کے مذہبی اور علمی مراکز ہیں اور ہم بڑی بے چینی کے ساتھ اس سمت پیش رفت کے منتظر ہیں۔ لیکن اگر مسٹر رابن کک اور مسٹر میلام ان مسائل اور ان کے اسباب پر گفتگو کے خواہش مند ہیں تو ہمیں کسی حد تک اس کی افادیت سے بھی انکار نہیں ہے مگر انہیں یہ گفتگو مسلم ممالک کے دارالحکومتوں میں خود اپنی بٹھائی ہوئی حکومتوں ے نہیں بلکہ اسلامی تحریکات اور مراکز سے کرنا ہوگی اور اس ایجنڈے پر کرنا ہوگی جس کا ہم نے اوپر ذکر کر دیا ہے۔ اس کے بغیر اسلام اور مغرب کے عنوان سے ہونے والی کوئی بھی گفتگو عالمی سیاست کی اسکرین پر ایک اور ڈرامہ اسٹیج کرنے کے سوا کوئی مقام حاصل نہیں کر سکے گی۔

درجہ بندی: