’’شہید کون‘‘ کی بحث

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۱۳ء

جس طرح امریکہ نے ڈرون حملہ کے ذریعہ حکیم اللہ محسود کو قتل کر کے یہ بات ایک بار پھر واضح کر دی ہے کہ وہ حکومت پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا، اسی طرح پاکستانی میڈیا کے بعض سرکردہ لوگوں نے بھی اپنی اس پوزیشن کا رہا سہا ابہام دور کر دیا ہے کہ ان کی ترجیحات میں سسپنس پیدا کرنے اور ذہنی و فکری خلفشار فروغ دینے کو سب باتوں پر فوقیت حاصل ہے۔ حتیٰ کہ ملک و قوم کے مجموعی مفاد کو بھی وہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد ہی دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ اس موقع پر شہید یا غیر شہید بحث چھیڑنے کا مقصد (یا کم از کم نتیجہ) اس کے سوا اور کیا ہے کہ اصل معاملات سے عوام کی توجہ ہٹا کر غیر ضروری بحثوں میں ان کو الجھا دیا جائے اور اس فضا میں مذاکرات کی جو موہوم سی امید باقی رہ گئی ہے، اسے اس بحث کے دھندلکوں میں غائب کر دیا جائے۔

جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے، وہ تو فریقین کی مجبوری بن چکے ہیں، اس لیے کہ نہ تو ریاستی اداروں کے لیے یہ ممکن نظر آتا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیں اور نہ ہی عسکریت پسندوں کے بس میں ہے کہ وہ ریاست اور فوج سے ٹکرا کر ملک پر قبضہ کر لیں یا ملک کا کوئی حصہ اپنی الگ ریاست قائم کرنے کے لیے خدانخواستہ اس سے جدا کر لیں۔ یہ جنگ جو گزشتہ ایک عشرے سے جاری ہے، خدا نہ کرے مزید ایک عشرہ جاری رہے، تب بھی بات بہرحال مذاکرات کی میز پر ہی طے ہوگی۔ یہ بات کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے اور پوری قوم اجتماعی فیصلہ دے چکی تھی کہ مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کو حل کر کے پاکستان کے داخلی امن کو بحال کیا جائے۔ حکومت بھی اس کے لیے تیار تھی اور طالبان نے بھی آمادگی کا اظہار کر دیا تھا، بلکہ مذاکرات کے لیے درمیان کے لوگوں کی فہرست پر بھی اتفاق ہوگیا تھا، اتنے میں ایک تیسرے فریق نے درمیان میں اپنا ’لُچ‘ تل دیا۔ سوال یہ ہے کہ حیلوں بہانوں سے بلا ضرورت سوالات کھڑے کر کے شہید غیر شہید کی بحث چھیڑنے والوں نے ان تینوں میں سے کس فریق کو سپورٹ کیا ہے اور کس کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے؟

حکیم اللہ محسود اگر پاک فوج سے لڑتے ہوئے مارا گیا ہوتا تو کسی بحث کی ضرورت اور گنجائش نہیں تھی، لیکن وہ پاک فوج (حکومت پاکستان) کے ساتھ مصالحت کی طرف بڑھتے ہوئے امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہوا ہے۔ اگر کچھ دوستوں کو امریکن ڈرون حملوں اور پاک فوج کے آپریشن میں کوئی فرق دکھائی نہیں دے رہا یا ان کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں تو ہم ان کے لیے دعا اور ان کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ حکیم اللہ محسود شہید ہے یا نہیں؟ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے، لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پاک فوج کے آپریشن میں نہیں بلکہ امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہوا ہے اور پاک فوج کے آپریشن کے ساتھ امریکی ڈرون حملے کو ایک درجہ میں رکھنا عقل و حکمت کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کے تقاضوں کے ساتھ بھی مناسبت نہیں رکھتا۔

البتہ اپنے ماضی سے اگر اس سلسلہ میں ہم راہ نمائی حاصل کرنا چاہیں تو ہمیں واضح راہ نمائی ملتی ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ کے دور میں آپس کی دو جنگیں ہوئی تھیں۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب خلافت راشدہ کا منصب سنبھالا تو ام المومنین حضرت عائشہؓ اور ان کے ساتھ بعض دیگر جلیل القدر صحابہ کرامؓ نے ان سے حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے فوری قصاص لینے کا مطالبہ کر دیا اور حالات نے ایسا رُخ اختیار کر لیا کہ دونوں بزرگ جنگ جمل میں ایک دوسرے کے مقابل آگئے، جنگ ہوئی اور دونوں طرف سے بہت سے افراد شہید ہوئے۔ اس کے بعد حضرت علیؓ نے شام کے گورنر حضرت معاویہؓ سے اطاعت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے بھی حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے قصاص کا مطالبہ کرتے ہوئے اس وقت تک حضرت علیؓ کی بیعت سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں ان دونوں بزرگوں کے درمیان صفین کا معرکہ بپا ہوا اور یہاں بھی دونوں طرف سے بہت سے لوگ شہید ہوئے۔

آج کی اصطلاحات کے حوالے سے دیکھا جائے تو حضرت عائشہؓ کی حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ چند مطالبات پر تھی اور حضرت معاویہؓ کے خلاف حضرت علیؓ کی جنگ اپنی رٹ قائم کرنے اور خلافت کو ان سے تسلیم کرانے کے لیے تھی۔ ان دو جنگوں کے اسباب اور نتائج ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہیں، ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں جنگوں کے خاتمہ پر دونوں طرف کے مقتولین کے جنازے حضرت علیؓ نے خود پڑھائے، دونوں کو آپس میں مسلمان بھائی بھائی قرار دیتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی، خود ان کی اپنی نگرانی میں تدفین کروائی اور مسلمانوں کی باہمی جنگ کے حوالہ سے ایک راہ نما اصول طے کر دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ طرز عمل آج کے دور اور حالات میں بھی ہمارے لیے راہ نمائی کا سر چشمہ ہے۔

اس لیے ہم انتہائی درد دل کے ساتھ سب دوستوں سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ خدا کے لیے ملک کے امن کے لیے سوچیں، قوم کو فکری ہم آہنگی کے دھارے کی طرف لانے کی کوشش کریں اور پیشہ وارانہ مسابقت کے جوش میں کسی بھی ایسی بات سے گریز کریں جو خلفشار کو بڑھانے اور بد اَمنی کے سایوں کو مزید پھیلانے کا باعث بن سکتی ہو۔