دینی مدارس کا مقصد قیام اور معاشرتی کردار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳ نومبر ۱۹۹۹ء

ان دنوں دینی مدارس میں تعلیمی سال کا اختتام ہے، اس مناسبت سے ملک کے مختلف حصوں میں سالانہ امتحانات کے علاوہ ختم بخاری شریف کی تقریبات اور سالانہ جلسے منعقد ہو رہے ہیں۔ اور چونکہ کچھ عرصہ سے یہ دینی مدارس عالمی میڈیا کی طرف سے کردار کشی کی مہم کا ایک بڑا ہدف ہیں اس لیے ان مجالس میں دینی مدارس کے قیام کے اسباب اور معاشرہ میں ان کے کردار کے حوالہ سے بھی گفتگو ہوتی ہے۔ راقم الحروف کو گزشتہ دنوں جامعہ علوم اسلامیہ میر پور آزاد کشمیر، جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی صدر، جامعہ عربیہ اشاعت القرآن حضرو، جامعہ علوم شرعیہ بیکری چوک ویسٹرن راولپنڈی، اور جامعہ محمدیہ چائنہ چوک اسلام آباد میں اس نوعیت کی مجالس میں شرکت اور گفتگو کا موقع ملا اور دینی مدارس کے مقصدِ قیام اور ان کے کردار پر کچھ گزارشات پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ان میں سے دو تاریخی واقعات قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دینی مدارس کا یہ آزادانہ نظام قائم کرنے والے اکابر کے ذہنوں میں مقاصد اور ترجیحات کی ترتیب کیا تھی؟ اور یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ دینی مدارس ان پر کہاں تک پورا اترے ہیں؟

جس زمانے میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے فرزند اور حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کے والد محترم مولانا حافظ محمد احمدؒ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ صدر مدرس تھے، حافظ صاحبؒ کو اس وقت کی امیر ترین مسلم ریاست حیدرآباد کے نواب نے دعوت دی اور حیدر آباد کے دورے کے موقع پر ان سے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے چند فضلاء کو انہوں نے بعض ریاستی محکموں میں ملازم رکھا ہے اور وہ اہلیت و کارکردگی دونوں میں دوسرے سرکاری ملازمین سے بہتر ثابت ہوئے ہیں، اس لیے ان کی خواہش ہے کہ دارالعلوم دیوبند سے ہر سال جتنے علماء فارغ ہوں وہ ان کے پاس بھیج دیے جائیں، وہ اس کے عوض دارالعلوم کے سالانہ اخراجات ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، البتہ سرکاری ملازمت کی ضرورت کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے نصاب میں چند تبدیلیاں کر دی جائیں تاکہ جو تھوڑی بہت کمی نظر آتی ہے وہ دور ہو جائے۔ مولانا حافظ محمد احمدؒ نے نواب حیدر آباد سے کہا کہ وہ واپس جا کر حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ سے مشورہ کے بعد حتمی جواب دیں گے۔ چنانچہ دیوبند واپس پہنچ کر انہوں نے ساری بات حضرت شیخ الہندؒ کو بتا دی۔ بظاہر یہ پیشکش بہت معقول تھی کہ اس سے دارالعلوم سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کے روزگار کا مسئلہ بھی حل ہو رہا تھا اور دارالعلوم کے سالانہ اخراجات جمع کرنے کے جھنجھٹ سے بھی نجات مل رہی تھی مگر حضرت شیخ الہندؒ نے مہتمم صاحب سے کہا کہ ہمارے سرپرست حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ موجود ہیں، آپ ان کی خدمت میں جا کر ساری بات بتا دیں وہ جو ارشاد فرمائیں گے ہم اسی پر عمل کریں گے۔ مولانا حافظ محمد احمدؒ گنگوہ چلے گئے اور حضرت گنگوہیؒ کو نواب حیدر آباد کی پیشکش سے آگاہ کیا، اس کے جواب میں حضرت گنگوہی نے فرمایا کہ ’’بھائی ہم نے یہ مدرسہ حیدرآباد کی ریاست چلانے کے لیے نہیں بنایا بلکہ مسلمانوں کی مسجدیں اور مدرسے آباد رکھنے کے لیے بنایا ہے تاکہ عام مسلمانوں کو مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے امام اور قرآن کریم پڑھانے کے لیے حافظ ملتے رہیں، اس لیے نواب حیدر آباد کی ریاست جائے بھاڑ میں ہم اس کی خاطر اپنے کام کا رخ تبدیل نہیں کر سکتے۔ ‘‘

گزشتہ ڈیڑھ سو برس کی تاریخ گواہ ہے کہ پورے جنوبی ایشیا میں نماز باجماعت اور قرآن کریم کی تعلیم کا جو نظام کسی تعطل کے بغیر قائم ہے اسے امام اور حافظ مہیا کرنے کا کام انہی مدارس نے سر انجام دیا ہے۔ اور عالم اسباب میں اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو لاکھوں مساجد و مدارس کا یہ وسیع نیٹ ورک کسی طور بھی کام نہ کر پاتا اور جنوبی ایشیا کا یہ خطہ بھی دوسرا اسپین بن جاتا۔

دوسرا واقعہ بھی حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے دور کا ہے مگر یہ دور وہ ہے جب مولانا محمود حسنؒ انگریزی اقتدار سے آزادی کے لیے ملک کے مختلف طبقات کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک بالخصوص جرمنی، جاپان، افغانستان اور ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ روابط استوار کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور تحریک ریشمی رومال کا تانا بانا بنا جا رہا تھا۔ دارالعلوم دیوبند میں اہتمام کے منصب پر حضرت مولانا حبیب الرحمانؒ عثمانی فائز تھے اور مجاہدینِ آزادی کے خلاف برطانوی حکومت کے ادارے جس تیزی کے ساتھ سرگرم عمل تھے اس کے پیش نظر دارالعلوم دیوبند کے منتظمین کو یہ خطرہ نظر آنے لگا تھا کہ کہیں اس کشمکش میں دارالعلوم دیوبند کا وجود اور اس کا تعلیمی نظام ہی خطرے میں نہ پڑ جائے۔ چنانچہ حضرت مولانا مناظر احسنؒ گیلانی لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا حبیب الرحمانؒ عثمانی نے انہیں اپنا نمائندہ بنا کر شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ کے پاس بھیجا کہ ان سے معلوم کریں کہ وہ قومی سیاسیات میں کس حد تک آگے جانا چاہتے ہیں؟ حضرت شیخ الہندؒ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ’’دیوبند کا مدرسہ ۱۸۵۷ء کی ناکامی کی تلافی کے لیے قائم کیا گیا تھا اس لیے تعلیم و تعلم اور درس و تدریس جن کا مقصد اور نصب العین ہے میں ان کی راہ میں مزاحم نہیں ہوں، لیکن خود اپنے لیے تو اسی راہ کا انتخاب کیا ہے جس کے لیے یہ نظام میرے نزدیک حضرت الاستاذ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے قائم کیا تھا۔ فرائضِ الٰہیہ جس حد تک بن پڑا ادا کرتا رہا، اب آخری کام رہ گیا ہے جسے آخری حد تک کر گزروں گا۔‘‘ (حیاتِ گیلانی)

مولانا مناظر احسنؒ گیلانی لکھتے ہیں کہ اس کے ڈیڑھ دو برس بعد حضرت شیخ الہندؒ اپنے مشن پر حج کے ارادے سے حجاز روانہ ہوگئے مگر وہاں سے گرفتار کر کے مالٹا پہنچا دیے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے نزدیک دینی مدارس کے قیام کا مقصد جہاں یہ تھا کہ مسلمانوں کی مسجدیں اور مدرسے آباد رہیں اور انہیں نماز پڑھانے کے لیے امام اور قرآن کریم پڑھانے کے لیے حافظ کسی رکاوٹ کے بغیر ملتے رہیں وہاں ان مدارس کا اصل ہدف قوم میں آزادی کی روح کو قائم رکھنا اور اسے عالمی استعمار کے خلاف آزادی اور استقلال کی تعلیم دے کر اس محاذ پر مسلمانوں کی راہنمائی اور قیادت کرنا بھی تھا۔ اس لیے دینی مدارس کے منتظمین سے گزارش ہے کہ وہ ان دونوں مقاصد کو ہمیشہ سامنے رکھیں اور اپنے تعلیمی و تربیتی نظام میں ایسے امور کا اہتمام کرتے رہیں جس سے ان مقاصد کی تکمیل کی راہ ہموار ہوتی ہو۔