ملک کی بربادی کا ایک سبب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۸ نومبر ۲۰۰۰ء
اصل عنوان: 
ملکوں کی بربادی کے اسباب

علامہ ابن خلدونؒ آٹھویں صدی ہجری کے وہ نامور مؤرخ ہیں جنہوں نے نہ صرف تاریخ پر قلم اٹھایا ہے اور انسانی معاشرہ کی تاریخ کے مختلف ادوار کے حالات و واقعات کو قلمبند کیا ہے بلکہ قوموں کی نفسیات، انسانی تاریخ کے مد و جزر اور اتار چڑھاؤ کے پس منظر اور اقوام کے عروج و زوال کے اسباب و عوامل پر فلسفیانہ گفتگو بھی کی ہے اور انہیں تاریخ کی فلسفہ نگاری کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی مرتب کردہ تاریخ اور اس کے مقدمہ میں قوموں کے عروج و زوال اور حکومتوں کی کامیابی و ناکامی کے معاشی اسباب پر بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ جب حکومتوں اور ان کے قوانین کے ہاتھوں ملک کے شہری معاشی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں اور روزگار کے مواقع کم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے آمدنی اور اخراجات میں تناسب کا رشتہ قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے تو پھر قوموں اور ملکوں پر کس طرح تباہی آتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے خوشحالی اور مستحکم معاشرے کتنی تیزی سے زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مرکز معارف اسلامی لاہور کی شائع کردہ کتاب ’’عربی نگارشات عالیہ‘‘ کے مصنف شیخ نذیر حسین نے عربی کے ادبی شہ پاروں کے انتخاب میں ’’ملک کی خرابی‘‘ کے عنوان سے ابن خلدونؒ کی مندرجہ ذیل تحریر کو شامل کیا ہے، ملاحظہ فرمائیے اور غور کیجئے کہ اس میں موجودہ حالات میں ہمارے لیے کیا سبق پوشیدہ ہے۔

’’جاننا چاہیے کہ لوگوں کے مال پر دست درازی آئندہ کے لیے ان کو اس کے حصول اور اکتساب سے روکتی ہے، اس لیے کہ اس صورت میں وہ دیکھتے ہیں کہ محنت و جانفشانی سے مال پیدا کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مال ان سے چھن جائے گا۔ اس لیے جب لوگوں کو اپنے مال و منال کے لٹ جانے کا خیال ہوتا ہے تو اس کے حصول اور اکتساب کا جذبہ دب جاتا ہے اور ان کے ہاتھ کوشش سے رک جاتے ہیں۔ جس قدر ظلم و تعدی کو جائز رکھا جاتا ہے اسی قدر رعایا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتی ہے اس لیے جب ظلم زیادہ اور عام ہوتا ہے تو تمام مکاسب سے لوگ ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور اٹھانا بھی چاہیے۔ جب انہیں کسی کام سے فائدہ ہی نہیں ہوتا توہ کس امید پر خون پسینہ ایک کریں؟

جس حالت میں ظلم کم ہوتا ہے تو رعایا بھی خوش دلی سے کاروبار کرتی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ آبادی اور اس کی زیادتی اور بازاروں کی چہل پہل محض کاروبار اور ضروری مصارف اور معاملات میں لوگوں کی سعی و کوشش سے ہے۔ کیونکہ بازار میں آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ جب لوگ کسب معاش سے ہاتھ کھینچ لیں گے اور اپنے اپنے کاروبار کو چھوڑ دیں گے تو شہروں کے بازار بھی بے رونق ہو جائیں گے، ملک کی حالت بگڑے گی اور لوگ متنفر ہو کر رزق کی تلاش میں، جو انہیں وہاں نہیں مل سکتا، دوسرے ملکوں کی راہ لیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کی آبادی گھٹ جائے گی اور شہر اور قصبات ویران ہو جائیں گے اور ملکی اضمحلال سے سلطنت اور سلطان پر بھی تباہی آئے گی۔ اس لیے کہ سلطنت کی رونق اور شان و شوکت وابستہ ہے آبادی سے جب وہی بگڑ گئی تو پھر سلطنت اپنے حال میں کیوں کر قائم رہ سکتی ہے۔

دیکھو کہ مسعودیؒ (مؤرخ) نے موبذا اور بہرام بن بہرام (شاہ فارس) کا کیا خوب قصہ لکھا ہے اور ظلم و غفلت کی برائی کس طرح کے ساتھ بوم (الو) کی زبانی بیان کی ہے۔ ایک دن بہرام (بادشاہ) نے الو کی آواز سنی تو موبذ (وزیر) سے پوچھا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ایک نر بوم مادہ بوم سے نکاح کرنا چاہتا ہے، مادہ بوم اپنے مہر میں بیس ویران گاؤں مانگتی ہے۔ نر نے اس شرط کو قبول کر لیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اسی بادشاہ کی سلطنت قائم رہی تو میں تجھ کو ہزار گاؤں دے دوں گا، رفتار زمانہ کو دیکھتے ہوئے یہ بات کچھ مشکل نہیں ہے۔ بہرام نے جب یہ بات سنی تو غفلت سے چونک پڑا، موبذ کو خلوت میں بلایا اور پوچھا کہ تم نےوہ کیا بات کہی تھی؟

اس نے عرض کیا کہ اے بادشاہ! بادشاہ کی عزت، شریعت اور اس کے امرونہی کو ماننے میں ہے۔ شریعت کا قیام ملک سے وابستہ ہے، ملک کی عزت مردانِ کار کے ساتھ ہے، مردانِ کار ملتے ہیں مال سے، مال حاصل ہوتا ہے عمارت و آبادی سے، آبادی ہے عدل کے ساتھ، اور عدل ترازو ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں نصب کیا ہے اور اس کی دیکھ بھال بادشاہ کو دی ہے۔ اے بادشاہ! تو نے زمین، زمین کے مالکوں اور ان کے آباد کاروں سے چھین لی ہے حالانکہ وہ لوگ خراج دیتے تھے اور تجھ کو ان سے مال حاصل ہوتا تھا۔ پھر وہ زمین تو نے اپنے حاشیہ نشینوں، خادموں اور بے کار لوگوں کو دے دی ہے جن کو نہ اس کی آبادی کی فکر ہے، نہ اس کے انجام پر نظر ہے اور نہ زمین کی اصلاح و درستی کی فکر کرتے ہیں۔ چونکہ وہ لوگ ہر وقت تیرے پاس رہتے ہیں اس لیے ان سے خراج لینے میں بھی درگزر کی جاتی ہے اور ظلم ان لوگوں پر کیا جاتا ہے جو خراج ادا کرنے اور زمین کو آباد رکھنے والے ہیں۔ ناچار انہوں نے اپنی زمینیں چھوڑ دیں، ان کی آبادیاں ان سے خالی ہوگئیں۔ ویرانوں میں جا پڑے اور وہیں رہنے لگے تاکہ تیرے ظلم سے بچیں۔ ان باتوں سے ملک کی آبادی کم ہوگئی، زمینیں ویران ہوگئیں، خراج کم ہوگیا ہے، لشکر اور رعیت تباہ حال ہے، آس پاس کے حکمران تیرے ملک کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہیں اس لیے کہ تیرے پاس ساز و سامان ہی نہیں جس سے تو حکمرانی کر سکے۔

جب بادشاہ نے سنا تو انتظام پر کمر باندھی اور اپنے خواص اور حاشیہ نشینوں سے زمینیں چھین کر اصلی مالکوں کو دے دیں۔ آبادی بڑھنے لگی اور جو لوگ خستہ حال ہوگئے تھے خوشحال ہوگئے۔ زمینیں معمور اور آباد ہوگئیں، ملک کی پیداوار میں اضافہ ہوا، دیوان خراج کے پاس مال پر مال آنے لگا، لشکر درست ہوا، دشمن نا امید ہو کر بیٹھ گیا، ملک کے اطراف و اکناف فوجوں سے معمور ہوگئے، بادشاہ بنفس نفیس مہمات میں مشغول ہوا، ملک میں ہر طرف بندوبست ہوگیا۔

غرض اس بیان سے یہ ہے کہ ظلم و عدوان سے آبادی میں نقصان واقع ہونا ضروری ہے۔ یہ بھی نہ سمجھنا چاہیے کہ ظلم فقط یہی ہے کہ کوئی مال یا ملک اس کے مالک سے بلاسبب اور بلامعاوضہ چھین لی جائے جب کہ عام طور پر لوگوں نے ظلم کا معنی یہی سمجھ رکھا ہے۔ حقیقت میں ظلم مذکورہ بالا تعریف سے زیادہ وسعت رکھتا ہے۔ ملک کا چھین لینا، عمل میں غصب کرنا، ناحق کسی بات کا طالب ہونا، غیر شرعی حق واجب کر دینا سب ظلم ہے۔ بغیر حق کے مال پر ٹیکس لگانا ظلم ہے اور ایسا کرنے والے بے شک ظالم ہیں۔ مال و دولت کو لوٹنے کھسوٹنے والے بھی ظالم ہیں اور جو شخص لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھے وہ بھی ظالم ہے۔

غرض یہ کہ علی العموم ملک کے غصب کرنے والے ظالم ہیں اور ان سب کا وبال سلطنت کی گردن پر پڑتا ہے کیونکہ ان باتوں سے لوگوں میں جوش اور ولولہ نہیں رہتا جس سے آبادی گھٹتی ہے اور آبادی گھٹنے سے ہی سلطنت کی دولت و ثروت اور شان و شوکت کا ذریعہ ہے، سلطنت کو نقصان پہنچتا ہے۔ جاننا چاہیے شارع علیہ السلام نے محض اسی مصلحت سے ظلم کو محرمات شرعیہ میں داخل کیا ہے کہ اس سے عمارت و بربادی کی تباہی و بربادی لازم آتی ہے اور انسانی آبادی کی بربادی، انقطاع نوعی (یعنی پوری نسل کا خاتمہ) کو مستلزم ہے اور یہی شرع کی وہ عامۃ المراعات حکمت ہے جو شریعت کے پانچوں ضروری مقاصد یعنی حفاظت دین، حفاظت نفس، حفاظت عقل اور حفاظت مال میں ملحوظ و مرعی ہے۔‘‘

علامہ ابن خلدونؒ کی تحریر کا یہ طویل اقتباس ہم نے اس لیے پیش کیا ہے کہ اس آئینے میں ہمارا قومی چہرہ صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے اور یہ ہمیں درپیش قومی بحران کے کم و بیش تمام پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن کیا ہمارے ’’بادشاہ سلامتوں‘‘ کی کلاس اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کی زحمت گوارا فرمائے گی؟

درجہ بندی: