شیخ الہند عالمی امن کانفرنس (دیوبند و دہلی) ۲۰۱۳ء

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۱۴ء

جمعیۃ علماء ہند کی دعوت پر مولانا فضل الرحمن امیرجمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی سربراہی میں بھارت جانے والے تیس رکنی وفد کے ساتھ راقم الحروف کو بھارت جانے اور کم وبیش ایک ہفتہ وہاں رہنے کا موقع ملا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کی زیر قیادت ایک صدی قبل منظم کی جانے والی ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کے حوالے سے جمعیۃ علماء ہند نے صد سالہ تقریبات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اسی پروگرام کے تحت ’’شیخ الہند ایجوکیشنل چیرٹی ٹرسٹ‘‘ کے زیر اہتمام ۱۳، ۱۴ دسمبر کو دیوبند میں اور ۱۵ دسمبر کو رام لیلا میدان دہلی میں مختلف نشستوں کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برما، نیپال، سری لنکا، مالدیپ، ماریشش اور خطے کے دیگر ممالک کے علماء کرام کے علاوہ برطانیہ سے بھی جمعیۃ علماء برطانیہ کے وفد نے شرکت کی۔ سیکڑوں علماء کرام سہ روزہ ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کی خصوصی نشستوں میں شریک ہوئے جبکہ ہزاروں افراد نے عیدگاہ گراؤنڈ دیوبند اور رام لیلا میدان دہلی میں پبلک جلسہ کی صورت میں منعقد ہونے والی عمومی نشستوں میں شرکت کی۔

دار العلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابو القاسم نعمانی، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن اور دیگر سرکردہ علماء کرام نے کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت کی جبکہ خطاب کرنے والے سرکردہ علماء کرام میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، جمعیۃ علماء ہند کے سیکرٹری جنرل مولانا سید محمود اسعد مدنی، اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری کے علاوہ مولانا مفتی عبد الرؤف (بنگلہ دیش)، مولانا مفتی نور محمد (برما)، مولانا مفتی محمد رضوی (سری لنکا) اور مولانا حافظ محمد اکرام (برطانیہ) بھی شامل ہیں۔ بھارت کے مختلف علاقوں کے ممتاز علماء کرام نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔

اس موقع پر ’’امن عالم کانفرنس‘‘ کی طرف سے ایک متفقہ اعلامیہ کی منظوری دی گئی جس کی ترتیب و تدوین میں دیگر حضرات کے ساتھ مجھے بھی شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ جمعیۃ علماء ہند کے سیکرٹری جنرل مولانا سید محمود اسعد مدنی نے یہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اعلامیہ درج ذیل ہے:

’’ہند و بیرون ہند کے ممتاز علمائے کرام، دانشوران اور رہنمایانِ ملک و ملت کا یہ عالمی اجلاس برصغیر ہند کی آزادی میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ ، ان کے رفقاء اور تمام مجاہدین آزادی کی سنہری خدمات و بے مثال قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے اور حضرت شیخ الہند کے عطا کردہ رہنما خطوط کی روشنی میں اپنے اس عہد کا اعلان کرتا ہے کہ:

  1. ہم انسانیت کی فلاح و بہبود اور عالمی امن کے قیام کے لیے ہر سطح پر دوستانہ تعلقات اور صلح و آشتی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔
  2. اپنے اپنے ملک کی سالمیت اور وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی خوشحالی اور خیر سگالی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
  3. ہر قسم کے تنازعات کا پر امن ذرائع سے حل تلاش کرنے کے لیے ذہن سازی اور کوشش کریں گے۔
  4. اسلام کی نظر میں ہر طرح کا فتنہ و فساد، بد اَمنی و خوں ریزی اور بے قصوروں کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنانا، بد ترین انسانیت سوز جرم ہے، اس لیے ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ اور اس بارے میں دارالعلوم دیوبند کے فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ اور تمام انصاف پسندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف دہشت گردی سے برأت کریں، بلکہ ان اسباب و محرکات کو بھی ختم کرنے کی فکر کریں، جن کی وجہ سے دنیا میں دہشت گردی پنپتی ہے۔
  5. اقلیتوں، ناداروں، کمزور طبقات اور خواتین کے حقوق کی پاسداری کے بغیر خوشحالی، ترقی اور امن کا تصور ناممکن ہے۔ اس لیے ہم انہیں ان کے حقوق دلانے اور سماجی انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔
  6. اخلاق سوز رسم و رواج، فضول خرچی اور جرائم سے پاک معاشرہ کی تشکیل; خاص کر شراب نوشی، منشیات، عیش پرستی، فحاشی، عریانیت اور جنین کشی کے خلاف تحریک چلانے کے لیے ہم تمام مذاہب کے رہنماؤں اور مصلحانہ تنظیموں کو اشتراک اور تعاون کی دعوت دیتے ہیں۔
  7. ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ مسلکی تنازعات میں تشدد اور خوں ریزی اسلامی تعلیمات کے قطعاً خلاف ہیں۔ ہم اس معاملے میں تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے عہد کرتے ہیں کہ مسلکی تشدد کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
  8. حضرت شیخ الہندؒ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کے موقع پر جو وقیع خطبہ ارشاد فرمایا تھا، اس کی روشنی میں ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ملت سے دینی و دنیوی جہالت دور کرنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے; خاص طور پر اسلامی ماحول میں عصری تعلیم کے ادارے قائم کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کریں گے، جیسا کہ جمعیۃ علماء ہند کے سابق صدر محترم امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی نور اللہ مرقدہ اس موضوع کو مشن بنا کر پورے عالم میں پھیلاتے رہے۔
  9. ہم یہ بھی عہد کرتے ہیں کہ اہل حق کے تمام دینی اداروں اور تحریکات میں ایک دوسرے کے معاون بن کر رہیں گے۔‘‘

کانفرنس میں اس پروگرام کے پس منظر کے طور پر شیخ الہندؒ کے ایک خطاب کا اہم اقتباس اوردہشت گردی کے بارے میں دار العلوم دیوبند کا ایک فتویٰ پیش کیا گیا جو درج ذیل ہے:

جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے تاسیسی اجلاس منعقدہ ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۰ء (علی گڑھ) کے خطبہ صدارت میں حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا کہ:

’’میں خیال کرتا ہوں کہ میری قوم اس وقت فصاحت و بلاغت کی بھوکی نہیں ہے۔ اور نہ اس قسم کی عارضی مسرتوں سے اس کے درد کا اصلی داماں ہو سکتا ہے؛ اس لیے ضرورت ہے ایک قائم و دائم جوش کی، نہایت صابرانہ ثبات قدمی کی، دلیرانہ مگر عاقلانہ طریق عمل کی، اپنے نفس پر قابو پانے کی غرض سے ایک پختہ کار بلند خیال اور ذی ہوش محمدی بننے کی۔

اے فرزندان توحید! میں چاہتا ہوں کہ آپ انبیاء و مرسلین اور ان کے وارثوں کے راستے پر چلیں اور جو لڑائی اس وقت شیطان کی ذریت اور خدائے قدوس کے لشکروں میں ہو رہی ہے اس میں ہمت نہ ہاریں اور یاد رکھیں کہ شیطان کے مضبوط سے مضبوط آہنی قلعے خداوند قدیر کی امداد کے سامنے تار عنکبوت سے زیادہ کمزور ہیں۔ کامیابی کا آفتاب ہمیشہ مصائب و آلام کی گھٹاؤں کو پھاڑ کر نکلا ہے۔

الم، أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ یُّتْرَکُوا أَنْ یَّقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ، وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِیْنَ o (عنکبوت : ۲۔۳)
ترجمہ: ’’کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے، اور ان کو جانچ نہ لیں گے۔ اور ہم نے جانچا ہے ان کو جو ان سے پہلے تھے، سو البتہ معلوم کرے گا اللہ جو لوگ سچے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جھوٹوں کو۔‘‘

خوف کھانے کے قابل اگر کوئی چیز ہے تو خدا کا غضب اور قاہرانہ انتقام ہے، اور دنیا کی متاع قلیل خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے انعامات کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔

قُلْ مَتَاعُ الدَّنْیَا قَلِیْلٌ وَالآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّمَنِ اتَّقَی وَلاَ تُظْلَمُونَ فَتِیْلاً (سورہ نساء : ۷۷)
ترجمہ: ’’کہہ دے کہ فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے پرہیزگار کو اور تمہارا حق نہ رہے گا ایک تاگے کے برابر۔‘‘

مطلق تعلیم کے فضائل بیان کرنے کی ضرورت اب میری قوم کو نہ رہی، کیوں کے زمانے نے خوب بتلا دیا ہے کہ تعلیم سے ہی بلند خیالی اور تدبر اور ہوش مندی کے پودے نشو و نما پاتے ہیں اور اسی کی روشنی میں آدمی نجات و فلاح کے راستے پر چل سکتا ہے، ہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور اغیار کے اثر سے بالکل آزاد ہو۔ کیا باعتبار عقائد و کیا خیالات کے اور کیا باعتبار اخلاق و اعمال کے اور کیا باعتبار اوضاع و اطوار کے اثرات سے پاک ہو۔ ہمارے کالج نمونے ہونے چاہئیں، بغداد اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں کے اور ان عظیم الشان مدارس کے جنہوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا اس سے پیشتر کہ ہم ان کو اپنا استاذ بناتے۔‘‘

دہشت گردی سے متعلق دار العلوم دیوبند سے کیا جانے والا ایک استفسار اور اس کا جواب حسب ذیل ہے:

استفتاء:

’’آج کل منصوبہ بند طریقہ پر مذہب اسلام، قرآن پاک اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو دہشت گردی سے جوڑ کر بدنام کیا جا رہا ہے اور قرآنی آیات اور احادیث شریف کو غلط معانی میں ڈھال کر عوام وخواص کو مذہب اسلام سے بدظن کرنے کی مہم پوری شدت سے جاری ہے۔ اس لیے وضاحت فرمائیں کہ امن عالم کے سلسلہ میں اسلام کا واضح موقف کیا ہے؟ اور قرآن وحدیث میں اس بارے میں انسانیت کو کیا ہدایتیں دی گئی ہیں؟

محمود اسعد مدنی

باسمہ سبحانہ وتعالیٰ

الجواب وباللہ التوفیق:

اسلام امن وسلامتی کا مذہب ہے، اس کی نظر میں روئے زمین کے کسی بھی خطہ پر فتنہ وفساد، بدامنی اور خوں ریزی اور بے قصوروں کے ساتھ قتل وغارت گری بد ترین انسانیت سوز جرم ہے۔ قرآن پاک میں کئی جگہ دنیا میں بدامنی پھیلانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا (الاعراف ۵۶) (اور روئے زمین میں بعد اس کے کہ اس کی درستی کر دی گئی، فساد مت پھیلاؤ) اور ایک جگہ فساد کی مذمت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا گیا: وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِیْ الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَ (البقرۃ ۲۰۵) (اور جب وہ (فسادی) پیٹھ پھیرتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں رہتا ہے کہ دنیا میں فساد مچائے اور کسی کے کھیت یا جانوروں کو تلف کر دے اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتے) اور ایک جگہ فرمایا: وَلاَ تَعْثَوْا فِی الأَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (البقرۃ ۶۰) (اور دنیا میں فساد نہ مچاتے پھرو)۔ قرآن اور اسلام کی نظر میں ایک قتل ناحق پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے، کیونکہ یہ دروازہ جب کھل جاتا ہے تو پھر کسی کے قابو میں نہیں رہتا، جبکہ ایک آدمی کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے قائم مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ أَنَّہُ مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاًَّ (المائدہ ۳۲) (اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی شخص کو بلامعاوضہ کسی دوسرے شخص کے یا بغیر فساد کے جو زمین میں اس سے پھیلا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جو شخص کسی شخص کو بچا لیوے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو بچا لیا)۔ اور ایک جگہ واضح طور پر یہ حکم دیا: وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلاَّ بِالحَقِّ (بنی اسرائیل ۳۳) (اور جس شخص کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق پر)۔

اسلام کی امن پسندی کی انتہا یہ ہے کہ وہ اگرچہ مظلوم کو اپنے دفاع کی اجازت دیتا ہے، لیکن ساتھ میں یہ ہدایت بھی کرتا ہے کہ مظلوم بدلہ لینے میں اپنے حدود سے تجاوز نہ کرے اور بے قصوروں کو نشانہ نہ بنائے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: وَقَاتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبِّ الْمُعْتَدِیْنَ (البقرۃ ۱۹۰) (اور جو لوگ تم سے لڑنے کو آئیں، تم بھی ان سے اللہ کے راستے میں لڑو اور حد سے تجاوز مت کرو، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے)۔

چنانچہ احادیث شریف میں جنگی حالات میں بھی انسانی حقوق کی پوری رعایت رکھنے کی تلقین کی گئی ہے جس کی تفصیلات احادیث میں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کی مخلوق بمنزلہ ایک کنبہ کے ہے۔ جو شخص اللہ کے کنبے پر احسان کرے گا، وہ خدا کے یہاں سب سے زیادہ محبوب ہوگا۔ (بیہقی) ہمارے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتا ہے۔ تم لوگ زمین پر بسنے والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ (ترمذی، ابوداود)

الغرض اسلام ہر طرح کے بے جا تشدد، بد امنی، خوں ریزی اور قتل وغارت گری کی قطعاً نفی کرتا ہے اور کسی بھی شکل میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کا یہ اصول ہے کہ اچھی اور نیک باتوں میں ایک دوسرے کا تعاون کیا جائے اور گناہ اور ظلم میں کسی کا ساتھ نہ دیا جائے۔ ارشاد خداوندی ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُوا عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ ۲) (آپس میں مدد کرو نیک کام پر اور پرہیزگاری پر اور مدد نہ کرو گناہ پر اور ظلم پر)۔

قرآن پاک کی ان واضح ہدایات سے یہ معلوم ہو گیا کہ اسلام جیسے امن عالم کے ضامن مذہب پر دہشت گردی کا الزام لگانا قطعاً جھوٹ ہے، بلکہ مذہب اسلام تو دنیا سے ہر قسم کی دہشت گردی کو مٹانے اور پورے عالم میں امن کو پھیلانے کے لیے آیا ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم‘‘

یہ فتویٰ پانچ سال قبل جاری ہوا تھا۔ اس پر دار العلوم دیوبند کی مہر کے ساتھ مولانا مفتی حبیب الرحمن، مولانا مفتی زین الاسلام قاسمی، مولانا مفتی وقار علی اور مولانا مفتی محمود حسن بلند شہری کے دستخط ثبت ہیں، جبکہ مولانا مفتی حبیب الرحمن کے دستخط کے ساتھ اس کے اجراء کی تاریخ ۲۳ جمادی الاولیٰ ۱۴۲۹ھ درج ہے۔

’’شیخ الہند عالمی امن کانفرنس‘‘ کی مختلف نشستوں میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے اظہار خیال کیا اور رام لیلا میدان کے کھلے جلسے میں خطبۂ صدارت بھی پیش فرمایا۔ راقم الحروف کے خیال میں ان کی گفتگو سب سے زیادہ فکر انگیز تھی۔ انہوں نے اپنے مختلف خطابات میں نہ صرف علماء کرام کو حضرت شیخ الہندؒ کے مشن اور پروگرام سے متعارف کرایا بلکہ عمل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ مولانا قاری محمد عثمان کے خطبۂ صدارت کے بعض اہم حصے یہاں افادۂ عام کے لیے نقل کیے جا رہے ہیں:

’’آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ علماء آگے بڑھ کر اپنے حصے کا کردار ادا کریں، تاکہ ملک و ملت کی صحیح رہ نمائی ہو سکے۔ ایک متحرک عالم دین کے لیے عوام تک رسائی، دوسروں کے مقابلے زیادہ آسان ہے۔ وہ مختلف حیثیتوں سے عوام کے رابطے میں رہتے ہیں۔ سماج میں عوام کو درپیش مسائل میں مثبت رہ نمائی، وقت کی بڑی ضرورت ہے۔

  • ان کی ایک بڑی اہم ذمہ داری اسلام کی بہتر و مثبت شبیہ کو پیش کرنا بھی ہے۔ دہشت گردی مٹانے کے نام پر؛ خصوصاً ۹/۱۱ کے بعد سے اسلام کی منفی، دہشت گردانہ اور جارحانہ تصویر پیش کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسلام کی موجودگی میں مختلف مذاہب اور فرقے کے لوگ پر امن زندگی نہیں گزار سکتے۔ اس کے ماننے والے عدم برداشت اور علاحدگی و نفرت کے جذبے کے ساتھ رہتے ہیں۔ رہی سہی کسر اس کے جہاد کے تصور و تعلیم نے پوری کر دی ہے۔ اس پروپیگنڈا سے وہ لوگ بھی متاثر ہو جاتے ہیں، جو بالکل خالی الذہن ہوتے ہیں۔ ٹوپی داڑھی والے آدمی کو ایک خاص نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بچے تک اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کا اس خاص گروہ سے تعلق ہے جو دہشت گردی کی کاروائیوں میں لگا ہوا ہے۔ ایسی صورت حال میں اسلام کے تصور امن اور دہشت گردی کی مذمت پر مبنی تعلیمات کو سامنے لانے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ اہل علم کو یہ بار بار بتانا ہوگا کہ اسلامی شریعت میں ایک بے قصور انسان کا قتل تمام انسانوں کے قتل کے ہم معنٰی ہے۔ اللہ رب العزت زمین پر فساد کو پسند نہیں کرتا ہے۔ فسادی کبھی جہادی نہیں ہو سکتے۔ اس کو دارالعلوم دیوبند اور دیگر تعلیمی و ثقافتی اداروں اور علمائے کرام کی بڑی تعداد نے موقع بہ موقع ظاہر بھی کیا ہے، لیکن اپنی باتوں کو تسلسل کے ساتھ کہنے کی ضرورت ہے۔
  • یہ آپ سے مخفی نہیں ہے کہ مخالفین اپنے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کے لیے، اقلیتوں کو درپیش مسائل و واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہیں کہ مسلم اکثریت والے ممالک میں غیر مسلم اقلیتوں کا جان و مال محفوظ نہیں ہے۔ اس تشہیری مہم کا صحیح توڑ اور مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر ملک کی اقلیتوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ مسائل اور مشکلات ہوتی ہیں اور اکثریت جو بذات خود طاقت ہوتی ہے، کی طرف سے نا انصافی و زیادتی ہوتی ہے؛ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ملک میں انصاف اور انسانی حقوق اور کمزوروں کی مدد کے سلسلے میں عمومی رجحان کیا ہے۔ گرچہ علماء کا طبقہ براہ راست اقتدار و حکومت میں عموماً دخیل نہیں ہے، تاہم وہ اقلیتوں اور دیگر امور سے متعلق اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے کی پوزیشن میں یقیناًہے۔ غیر مذاہب اور اقلیتوں کے حقوق کی رعایت کے سلسلے میں اسلام کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں؛ بلکہ یہ کہا جائے کہ غلط فہمیاں عملاً پیدا کی گئی ہیں۔ بہت سے ممالک جیسے ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ اقلیت کا مسئلہ کسی ایک مذہبی اکائی کا نہیں ہے؛ بلکہ یہ عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے، کوئی کہیں اقلیت میں ہے، کوئی کہیں، ہندوستانی مسلمان آئین ہند کے تحت، بحیثیت اقلیت کے اپنے حقوق و اختیارات کے حصول کے لیے برابر جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ اگر عالمی طور پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ و رعایت کے سلسلے میں ماحول تیار ہو جاتا ہے تو سب جگہوں کی اقلیتوں کے لیے جدوجہد اور اپنے حقوق حاصل کرنے کی راہ آسان ہو جائے گی۔
  • سماج میں امن کے قیام اور ایک اچھے معاشرے کی تشکیل میں پڑوسی؛ خصوصاً غیر مسلم پڑوسی کے حقوق کی پاسداری و رعایت بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسلامی شریعت میں ہر قسم کے پڑوسی کا خیال رکھنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا لگتا تھا کہ پڑوسی کو وراثت میں شامل کر دیا جائے گا۔ پڑوسی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ جس طرح پڑوسی، گھر، محلہ اور سفر کا ہوتا ہے، اسی طرح ہر شہر، ضلع، ریاست اور ملک کے لحاظ سے بھی پڑوسی ہوتا ہے۔ اگر شریعت کے مطابق تمام قسم کے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات بنا کر اور حقوق کی رعایت کرتے ہوئے زندگی گزاری جائے تو سماج سے فساد، تخریبی کاری اور بد امنی ختم ہو سکتی ہے۔ آج ایک دوسرے کے پڑوسی ممالک میں بہتر تعلقات نہ ہونے کے سبب فوج اور اسلحہ جات کی خریداری پر حد سے زیادہ مالی صرفہ آرہا ہے اور نتیجے میں بہت سے اقتصادی، تعلیمی و تعمیری کام مطلوبہ سطح پر نہیں ہو پاتے۔ پڑوسیوں کے معاملے میں مسلم، غیر مسلم کے درمیان شرعی و اخلاقی لحاظ سے امتیاز کرنا صحیح نہیں ہے۔ بلکہ پڑوسی ہونے اور انسانیت کے ناتے بہتر تعلقات اور حسن سلوک ضروری ہے۔ فرقہ وارانہ فساد اور فرقہ پرستی، باہمی تعلقات کی خرابی اور نفرت و تعصب سے پیداوار فروغ پاتی ہے۔ فرقہ وارانہ فساد اور فرقہ پرستی پر کانفرنس کے عنوان کے مد نظر زیادہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے ہماری کوشش ان اسباب کو دور کرنے کی ہونی چاہیے، جو فرقہ وارانہ نفرت و تشدد، فساد اور فرقہ پرستی کو جنم اور بڑھاوا دیتے ہیں۔
  • اس سلسلے میں مسلکی تشدد کو بھی ان اسباب سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ فسادات جہاں مذہب و فرقہ کے نام پر کیے جاتے ہیں، وہیں ایک ہی مذہب کے افراد کی طرف سے مسلکی اختلافات کو حد سے باہر لے جانے کے سبب بھی فسادات ہوتے ہیں۔ بے شک مختلف مکاتب فکر والے اپنا موقف دلائل کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں، لیکن سماج کے امن میں خلل ڈالنے والے پر تشدد مسلکی اختلافات کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مزید یہ کہ مشترک مسائل میں مسلکی اختلافات کے باوجود متحدہ جدوجہد کی پوری گنجائش ہے۔ اس لیے مل جل کر مشترک امور کے لیے اتحاد و اتفاق کے نکات نکالنے کی ضرورت ہے۔
  • ہم اس اہم کانفرنس کے موقع پر ایک دو اور ایسی ضروری باتوں پر بھی شرکاء کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جو بہتر معاشرہ کی تشکیل میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں ایسے بین مذاہبی مکالمات و مذاکرات بہت ہو رہے ہیں جن میں ایسے امور بھی زیر بحث آتے ہیں جو اختلافات کے کئی پہلو رکھتے ہیں؛ لیکن کچھ مشترک مسائل ایسے بھی ہیں جن پر اتفاق پایا جاتا ہے، صالح معاشرہ کی تشکیل میں تعاون و اشتراک اور عورتوں، بچوں کے حقوق کی حفاظت و رعایت بھی انہیں متفق علیہ اور مشترک باتوں میں سے ہیں۔ مغربی تہذیب و تمدن کے غلبے، جنسی آزادی اور بے راہ روی کی وجہ سے عورتوں، بچوں کی زندگی اور عزت بھیانک طریقے سے پامال ہو رہی ہے۔ سماج میں فحاشی کے سیلاب نے ان کو آزادی دینے کے بجائے غیر محفوظ بنا دیا ہے اور مختلف طریقوں سے جنسی اور جسمانی استحصال ہو رہا ہے۔ شراب سے اس میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔ پوری دنیا میں یوم اطفال اور یوم خواتین منائے جاتے ہیں اور ان کو سماج میں طاقت ور بنانے کے لیے مختلف عنوانات سے تحریکات بھی چلتی رہتی ہیں، تاہم ان کی توقیر و تحفظ یقینی ہونے کے بجائے معرض خطر میں ہے۔ یہ ایک حد تک صحیح ہے کہ قانون، جنسی جرائم کو روکنے اور صالح معاشرہ کی تشکیل میں معاون ہوتا ہے، لیکن وہ پوری طرح آدمی کو جرم کے ارتکاب سے روکنے اور صالح معاشرہ کے قیام کے لیے ذہن و دل سے تیار نہیں کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی ایسی ہستی کا خوف و تصور ضروری ہے جس سے آدمی کا باطنی رشتہ اور جواب دہی کا احساس وابستہ ہوتا ہے۔ اور یہ کام مذہب کے تصور اور احساس کا ہے۔ مذہب اسلام نے خالق کائنات کے سامنے جزا و سزا کے حوالے سے جواب دہی کے تصور سے اسی طرف توجہ دلائی ہے۔ دیگر مذاہب اور اصلاحی تحریکات سے وابستہ افراد بھی جنسی استحصال، شراب نوشی، تعیش پرستی اور فحاشی کے مضر اثرات کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے ان کے خاتمہ اور انسداد میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ کچھ تحریکیں نشہ سے پاک سماج بنانے کے لیے بھی چل رہی ہیں۔
    ہم اس کانفرنس کے توسط سے جملہ مذاہب اور مصلحانہ تحریکات سے وابستگان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ سماجی و جنسی جرائم کے خلاف ہمارے ساتھ آئیں۔ ہم اس سلسلے کی چلائی جانے والی تمام تحریکات کی حمایت کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون دینے کا یقین دلاتے ہیں، ہم نے چند امور کی طرف، بلا امتیاز مذہب و فرقہ تمام لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔ وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے دیگر ضروری مشترک مسائل میں بھی تعاون لینے دینے کا عمل جاری رہے گا۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہماری کوششوں کے بہتر نتائج مرتب کرے اور عزم و خلوص سے کام کی توفیق مرحمت فرمائے۔‘‘

ہم سمجھتے ہیں کہ دار العلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حوالے سے ان تقریبات کا انعقاد اور مذکورہ بالا اعلامیہ کی منظوری وقت کی اہم ضرورت تھی جس کے اہتمام پر جمعیۃ اور دار العلوم دونوں مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ ’’شیخ الہند عالمی امن فورم‘‘ مذکورہ بالا اعلامیہ کے عزائم کی تکمیل کے لیے موثر اور مثبت پیش رفت کرے گا جس سے اہم مسائل پر عالم اسلام بالخصوص جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی علمی وفکری راہ نمائی کا مناسب اہتمام ہو سکے گا۔