معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق کے جواب میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۱ء

محترم جاوید احمد غامدی کے بعض ارشادات کے حوالے سے جو گفتگو کچھ عرصے سے چل رہی ہے اس کے ضمن میں ان کے دو شاگردوں جناب معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق خان نے ماہنامہ اشراق لاہور کے مئی ۲۰۰۱ء کے شمارے میں کچھ مزید خیالات کا اظہار کیا ہے جن کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

معز امجد صاحب نے حسب سابق (۱) کسی مسلم ریاست پر کافروں کے تسلط کے خلاف علماء کے اعلان جہاد کے استحقاق (۲) زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی ممانعت (۳) اور علماء کے فتویٰ کے آزادانہ حق کے بارے میں اپنے موقف کی مزید وضاحت کی ہے۔ جبکہ ڈاکٹر محمد فاروق خان نے (۱) شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے فتوائے جہاد (۲) الجزائر کی جنگ آزادی (۳) اور جہاد افغانستان کے تاریخی تناظر کو اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ اور اسی ترتیب سے ہم ان کے خیالات و ارشادات پر تبصرہ کریں گے۔

جناب غامدی صاحب نے ارشاد فرمایا تھا کہ جہاد کے اعلان کا حق اسلامی ریاست کے سوا کسی کو نہیں ہے جس کے جواب میں ہم نے عرض کیا کہ اگر کسی مسلم علاقہ پر کافروں کا تسلط قائم ہو جائے اور اسلامی ریاست کا وجود ہی ختم ہو جائے تو علماء کرام اور دینی قیادت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کافرانہ تسلط کے خلاف جہاد کا اعلان کر کے مزاحمت کریں اور اسلامی اقتدار بحال کرنے کی کوشش کریں۔ جیسا کہ یمن پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اسود عنسی نے قبضہ کر لیا تھا اور حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء نے گوریلا طرز پر شب خون مار کر اسود عنسی کو قتل کر دیا تھا جس سے اس کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور مسلمانوں کا اقتدار بحال ہوگیا۔ اس لیے اب بھی ایسی صورت میں کافروں کے تسلط کا شکار ہونے والے مسلمانوں کے لیے شرعی مسئلہ یہی ہے کہ وہ اس تسلط کو قبول نہ کریں، اس کے خاتمہ کے لیے جو ان کے بس میں ہو کر گزریں اور اس سلسلے میں ان کی جدوجہد کو شرعی جہاد کا درجہ حاصل ہوگا۔

معز امجد صاحب نے ہمارے استدلال کو درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ’’یہ واقعہ اس طرح رونما ہوا ہی نہیں جیسا کہ مولانا نے بیان فرمایا ہے‘‘۔ لیکن خود انہوں نے واقعہ کی جو تفصیلات بیان کی ہیں ان میں اس بات کو من و عن تسلیم کیا گیا ہے کہ اسود عنسی کو حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء نے قتل کیا تھا جس سے اس کی حکومت ختم ہو کر مسلمانوں کا اقتدار بحال ہوگئی تھا البتہ اتنے واقعہ کو بعینہ تسلیم کرتے ہوئے معز امجد صاحب نے اس میں دو اضافے فرمائے ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء کو اس کارروائی کا حکم خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ اور دوسرا یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بعد اس مسئلہ پر یمن کے مسلمانوں کا اجتماع ہوا جس میں اسود عنسی کے خلاف کاروائی کے لیے اجتماعی مشاورت ہوئی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تفصیل سے ہمارے بیان کردہ واقعہ کی تردید کس طرح ہوگئی جسے موصوف اس طرح بیان کر رہے ہیں کہ واقعہ اس طرح رونما ہوا ہی نہیں جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ کیونکہ واقعہ تو وہ بھی وہی بیان کر رہے ہیں جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ یہ کارروائی حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء نے از خود نہیں کی تھی بلکہ جناب نبی اکرمؐ کی ہدایت اور دوسرے مسلمانوں کے مشورہ سے کی تھی تو اس سے ہمارے موقف کی مزید تائید ہوتی ہے۔ مگر اس کی وضاحت سے قبل اس امر کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فیروز دیلمیؒ کے لیے جناب نبی اکرمؐ کی اس ہدایت کا ہمیں بھی علم تھا لیکن چونکہ وہ روایت جناب غامدی صاحب کے اصولوں کے مطابق ’’خبریت‘‘ کے قابل قبول معیار پر پوری نہیں اترتی تھی اس لیے ہم نے اس کا حوالہ نہیں دیا اور نفس واقعہ کا ذکر کر دیا۔ البتہ مسلمانوں کی مشاورت کا واقعہ ہماری نظر سے نہیں گزرا تھا جس کا معز امجد صاحب نے ذکر کیا ہے، معلومات میں اس اضافے پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

ویسے استنباط و استدلال، تعبیر و تشریح اور اصول سازی کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کا یہ فائدہ تو ہوتا ہی ہے کہ جس بات پر جی چاہا اسے قبول کر لیا اور جسے ذہن نے قبول نہ کیا اس سے انکار کر دیا۔ جی نہ چاہا تو رجم کے بارے میں بخاری اور مسلم کی روایات قابل قبول قرار نہ پائیں اور کہیں ’’گیئر‘‘ پھنس گیا تو ’’اصابہ‘‘ کی روایت کا سہارا لینے میں بھی کوئی تامل نہ ہوا۔

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

واقعات کی ان تفصیلات کو تسلیم کرتے ہوئے جو جناب معز امجد صاحب نے بیان کی ہیں ہماری گزارش ہے کہ اس سے ہمارا یہ موقف مزید پختہ ہوگیا ہے کہ کسی مسلم علاقہ پر کافروں کے تسلط کی صورت میں وہاں کے مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اس تسلط کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کریں اور اس سلسلہ میں جناب نبی اکرمؐ کی ہدایت یہی ہے جو حافظ ابن حجرؒ کی اصابہ کے حوالہ سے معز امجد صاحب نے نقل کی ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء کو اسود عنسی کے خلاف کاروائی کا حکم دیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ معز امجد صاحب کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بحیثیت حاکم دیا تھا اور ہمارے نزدیک اس میں ان کی پیغمبرانہ حیثیت بھی شامل ہے۔ اس لیے اب بھی اگر دنیا کے کسی حصے میں کسی مسلم علاقہ پر کافروں کا تسلط ہو جائے تو وہاں کے مسلمانوں کے لیے جناب نبی اکرمؐ کی ہدایت اور حکم وہی ہے جو یمن کو اسود عنسی کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے حضرت فیروز دیلمیؒ اور ان کے رفقاء کو دیا گیا تھا۔

پھر یہ نکتہ بھی یہاں قابل غور ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر صوبہ میں بغاوت کو کچلنے کے لیے صرف ریاستی کاروائی کرنا ہوتی تو اس کے لیے فوج کشی مدینہ منورہ سے ہوتی مگر نبی اکرمؐ ریاست کی طرف سے یہ فوج کشی کرنے کی بجائے یمن کی مقامی آبادی کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اسود عنسی کے تسلط کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ چنانچہ ’’اصابہ‘‘ کی جس روایت کا معز امجد صاحب نے حوالہ دیا ہے اس کے مطابق نبی اکرمؐ نے حضرت فیروز دیلیؒ اور ان کے رفقاء کو اسود عنسیؒ کے خلاف ’’محاربہ‘‘ کا حکم دیا ہے۔ اب محاربہ کے معنی و مفہوم کے بارے میں اور کسی کو تردد ہو تو ہو مگر غامدی صاحب کے شاگردوں سے یہ توقع نہیں کی ہو سکتی کہ وہ اس کے مفہوم سے آگاہ نہیں ہوں گے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ معز امجد صاحب اس واقعہ کو تسلیم کر رہے ہیں اور اس کے پیچھے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد و ہدایت کا تذکرہ بھی کرتے ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود اس واقعہ کو جہاد کی حیثیت دینے میں تامل انہیں ہے جیسا کہ ان کا ارشاد گرامی ہے کہ:

’’یہ جابر و غاصب قوم کے خلاف گروہ بندی اور جتھابندی کر کے جہاد کرنے کا واقعہ نہیں بلکہ ایک غاصب حکمران کے قتل کا واقعہ ہے۔ گروہ بندی اور جتھا بندی کر کے جہاد کرنا اور کسی (اچھے یا برے) حکمران کے قتل کی سازش کرنا دو بالکل الگ معاملات ہیں۔‘‘

واقعہ کی ان تفصیلات کو ایک بار پھر ترتیب وار دیکھ لیں جو خود معز امجد صاحب نے بیان کی ہیں کہ یمن میں اسود عنسی کے تسلط کے بعد جناب نبی اکرمؐ نے یمن کے لوگوں کو اس کے خلاف محاربہ کا حکم دیا۔ اس حکم کے بعد یمن کے مسلمانوں کا مشاورتی اجتماع ہوا جس میں اسود عنسی کے خلاف کارروائی کے فریقوں کا جائزہ لیا گیا، اس کے بعد حضرت فیروز دیلمیؓ، حضرت قیس بن مکثوحؓ اور حضرت دادویہؓ نے گروپ بنایا اور اسود عنسی کے حرم میں زبردست شامل کی جانے والی خاتون آزادؓ کے ساتھ ساز باز کر کے اسود عنسی کو قتل کر دیا۔ اور پھر معز امجد صاحب کے حوصلہ کی داد دیجئے کہ اس سب کچھ کے باوجود ان کے نزدیک اس کاروائی کو شرعی جہاد کی حیثیت حاصل نہیں ہے اور وہ اسے ’’محض ایک غاصب حکمران کے قتل کی سازش‘‘ ہی تصور کر رہے ہیں۔ اور مزید لطف کی بات یہ ہے کہ واقعہ کی یہ ساری تفصیلات خود بیان کرنے کے بعد معز امجد صاحب اس سے نتیجہ یہ اخذ کر رہے ہیں کہ:

’’اس ساری کارروائی کا عملی ظہور اسود عنسی کے اپنے گروہ میں پھوٹ پڑنے اور اس کے اپنے ہی عمال کی طرف سے اس کے قتل کو کامیاب بنانے کی صورت میں ہوا۔‘‘

اس ’’ذہنی گورکھ دھندے‘‘ پر اس کے سوا کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ:

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

زکوٰۃ کے علاوہ ٹیکس کا جواز

جاوید احمد غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ اسلام میں زکوٰۃ کے سوا اور کوئی ٹیکس لگانے کا جواز نہیں ہے۔ ہم نے اس پر عرض کیا کہ زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی شرعی ممانعت پر کوئی صریح دلیل موجود نہیں ہے۔ اس پر معز امجد صاحب اور خورشید ندیم صاحب نے قرآن کریم اور سنت نبویؐ سے اپنے موقف کے حق میں کچھ دلائل پیش کیے ہیں اور اپنے استدلال و استنباط کو مستحکم کرنے کے لیے خاصی تگ و دو کی ہے جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔ ان دلائل سے ان کا موقف ثابت ہوا یا نہیں مگر اتنی بات ضرور واضح ہوگئی ہے کہ قرآن و سنت کی راہنمائی کے حوالے سے یہ مسئلہ صراحت او رقطعیت کے دائرہ کا نہیں بلکہ استدلال اور استنباط کی سطح کا ہے۔ ورنہ انہیں اتنی لمبی چوڑی محنت کی ضرورت نہ پڑتی۔ اب ظاہر ہے کہ جہاں بات استدلال و استنباط کی ہوگی وہاں سب اہل علم کے لیے گنجائش ہوگی کہ وہ استدلال و استنباط کا حق استعمال کریں۔ اور کسی شخص یا گروہ کا یہ حق تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ وہ اپنے استدلال و استنباط کے نتیجے کو حتمی اور قطعی قرار دے کر دوسرے کی سرے سے نفی کر دے۔

اس سلسلہ میں بات کو آگے بڑھانے سے پہلے معز امجد صاحب کی ایک ذہنی الجھن کو دور کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ہم نے اپنے گزشتہ مضمون میں عرض کیا تھا کہ فقہاء اسلام نے ’’نوائب‘‘ اور ’’ضرائب‘‘ کے عنوان سے ان ٹیکسوں کے احکام بیان فرمائے ہیں جو ایک اسلامی حکومت کی طرف سے زکوٰۃ کے علاوہ بھی مسلمان رعیت پر عائد کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے معز امجد صاحب نے لکھا ہے:

’’ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کے بعد کسی شخص کی بات یہ حیثیت نہیں رکھتی کہ اسے ان آیات و ارشادات سے نکلنے والے حکم پر ترجیح دی جائے۔‘‘

اسی طرح وہ یہ فرماتے ہیں کہ:

’’لوگوں کی آرا کا حوالہ دینے کی بجائے ہمارے استدلال کی غلطی واضح کریں۔‘‘

اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ فقہاء اسلام کی آرا کو قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر ترجیح دینے کا تاثر سراسر مغالطہ نوازی ہے کیونکہ یہ ترجیح آیات و ارشادات پر نہیں بلکہ ان سے بعض لوگوں کے استدلال پر ہے۔ اب ایک طرف انہی آیات و احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے علامہ ابن الہمامؒ اور دوسرے فقہاء کرام ’’نوائب و ضرائب‘‘ کے عنوان سے اسلامی حکومت کو زکوٰۃ کے علاوہ بھی ضرورت کے وقت ٹیکس لگانے کی اجازت دے رہے ہیں اور دوسری طرف ان آیات و احادیث سے جناب جاوید احمد غامدی ان ٹیکسوں کے عدم جواز کا استدلال کر رہے ہیں۔ اس بحث میں اگر میرے جیسا کوئی طالب علم یہ کہہ دے کہ علامہ ابن الہمامؒ اور دوسرے فقہاء کا استدلال غامدی صاحب کے استدلال پر فائق ہے تو اسے کسی شخص کی بات کو قرآن و سنت کے ارشاد پر ترجیح دینے سے تعبیر کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ اور جناب غامدی کے استدلال و استنباط کو قرآن و سنت کے ارشادات اور ان سے نکلے ہوئے احکام کا درجہ کب سے حاصل ہوگیا ہے؟ پھر ’’لوگوں کی آرا‘‘ کی پھبتی بھی خوب رہی۔ حالانکہ ہم نے ’’لوگوں کی آرا‘‘ کا حوالہ نہیں دیا بلکہ فقہاء اسلام کے فیصلوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ فقہاء اسلام جن کے فقہ و اجتہاد پر امت کے بڑے حصے کو اعتماد ہے اور جن کے فتاویٰ کی بنیاد پر صدیوں تک اسلامی عدالتوں میں فیصلے صادر ہوتے رہے ہیں۔

ہمارے ایک بزرگ تھے جن کا انتقال ہوگیا ہے، انہیں اپنے بعض تفردات کے حوالے سے حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کا یہ ارشاد دہرانے کا بڑا شوق تھا اور وہ عام جلسوں میں بڑے ترنم کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ھم رجال و نحن رجال‘‘ (وہ بھی مرد ہیں اور ہم بھی مرد ہیں)۔ اس سے ان کا مطلب و مقصد یہ ہوتا تھا کہ کسی مسئلہ میں امت کے اکابر اہل علم سے انہیں اختلاف ہے تو وہ اس کا حق رکھتے ہیں کیونکہ وہ بھی آدمی تھے اور ہم بھی آدمی ہیں۔ ایک مجلس میں اس کا تذکرہ ہوا تو میں نے عرض کیا کہ یہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے قول کا بہت غلط استعمال ہے اور امام صاحبؒ پر ظلم ہے کیونکہ امام صاحبؒ کا اس قول سے ہرگز یہ مطلب نہیں تھا جو یہ بزرگ بیان کر رہے ہیں۔ امام صاحبؒ کا پورا ارشاد اس طرح ہے کہ:

’’اگر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد سامنے آجائے تو سر آنکھوں پر۔ اگر وہ نہ ہو اور صحابہ کرامؓ کا کوئی اجماعی فیصلہ مل جائے تو ہم اس سے انحراف نہیں کرتے۔ اور اگر صحابہ کرامؓ کے اقوال کسی مسئلہ میں مختلف ہوں تو ہم انہی میں سے کوئی قول لے لیتے ہیں اور صحابہ کرامؓ کے اقوال کے دائرے سے باہر نہیں نکلتے۔ البتہ ان کے بعد کے کسی بزرگ کی رائے ہو تو ’’ھم رجال ونحن رجال‘‘ وہ بھی آدمی ہیں اور ہم بھی آدمی ہیں‘‘۔

امام ابوحنیفہؒ چونکہ تابعی تھے اور باقی تابعین ان کے معاصرین کی حیثیت رکھتے تھے اس لیے یہ بات انہوں نے اپنے معاصرین کے بارے میں فرمائی ہے کہ جس طرح انہیں استدلال و استنباط کا حق ہے اسی طرح ہمیں بھی اس کا حق حاصل ہے اور ہمارے درمیان دلائل کے علاوہ اور کسی بات کو ترجیح نہیں ہوگی۔ جبکہ اپنے متقدمین کے بارے میں وہ یہ حق تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کی بات صرف اس حوالے سے بھی قابل ترجیح ہے کہ وہ صحابہ کرامؓ یا کسی صحابیؓ کی رائے ہے خواہ اس کے ساتھ کوئی دلیل ہو یا نہ ہو۔ اس لیے کوئی شخص ’’ھم رجال ونحن رجال‘‘ کا نعرہ اپنے معاصرین کے حوالے سے لگاتا ہے تو ہم اس کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں مگر اس نعرہ کی آڑ میں کسی کو ائمہ کرامؒ، فقہاء عظامؒ او رمحدثین کرامؒ کی صف میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اس کے بعد استدلال کے حوالے سے بھی ایک بار پر غور کر لیا جائے تو مناسب ہوگا۔ معز امجد صاحب نے مسلم شریف کی روایت پیش کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:

’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ وہ یہ شرائط پوری کر دیں تو ان کی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے الا یہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔‘‘

ہم نے اس سلسلہ میں عرض کیا تھا کہ ’’الا بحقھا‘‘ کی جو استثنا ہے وہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد ہے۔ اس لیے زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد بھی مال میں ایسا حق باقی ہے جو ’’عصموا‘‘ کی ضمانت میں شامل نہیں ہے۔ اس پر معز امجد صاحب کو دو اشکال ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اس استثنا کو مان لیا جائے تو جناب نبی اکرمؐ نے جس امان کی ضمانت دی ہے وہ بالکل بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ اور دوسرا یہ کہ یہ استثنا صرف زکوٰۃ سے نہیں بلکہ جان کے حوالے سے بھی ہے۔ ہیں اس سے کوئی انکار نہیں کہ ’’الا بحقھا‘‘ کی استثنا جان اور مال دونوں کے حوالے سے ہے اور دونوں صورتوں میں یہ استثنا موجود ہے کہ کلمہ طیبہ پڑھنے، نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کے باوجود اگر کسی مسلمان کی جان و مال سے کسی حق کے عوض تعرض ضروری ہوا تو ’’عصموا منی‘‘ کی ضمانت کے تحت اسے تحفظ حاصل نہیں ہوگا اور اس کی جان و مال سے تعرض روا ہوگا۔ مثلاً جان کے حوالے سے یہ کہ کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کر دیا تو قصاص میں اس کا قتل جائز ہوگا۔ کوئی شادی شدہ مسلمان زنا کا مرتکب ہے تو کتاب اللہ کے حکم کے مطابق اسے سنگسار کیا جائے گا ۔ اور اگر کوئی مسلمان (نعوذ باللہ) مرتد ہوگیا ہے تو اسے بھی شرعی قانون کے مطابق توبہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کر دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر اس کے مال میں ریاست یا سوسائٹی کا کوئی حق متعلق ہوگیا ہے تو اس سے ضرورت کے مطابق مال لیا جا سکے گا۔

سوال یہ ہے کہ اگر جان کی ضمانت سے استثنا کی صورتیں موجود ہیں تو مال کی حفاظت کی ضمانت سے استثنا کا امکان کیوں تسلیم نہیں کیا جا رہا؟ اور اگر کسی بھی درجہ کی شرعی دلیل سے اس کی ضرورت اور جواز مل جاتا ہے تو اسے ’’عصموا منی‘‘ کی ضمانت کے منافی قرار دینے کا آخر کیا جواز ہے؟ اس لیے ان دونوں صورتوں میں تمام تر موجود اور ممکنہ استثناؤں کے باوجود ’’عصموا منی‘‘ کی ضمانت بدستور موجود و قائم ہے اور اسے (نعوذ باللہ) بے معنی سمجھنا محض خام خالی ہے۔

اگر معز امجد صاحب کو یاد ہو تو ہمارا پہلا اور اصولی سوال یہ تھا کہ اگر زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی ممانعت کی کوئی صریح دلیل موجود ہے تو ہماری راہنمائی کی جائے مگر ان کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس کوئی واضح اور صریح دلیل موجود نہیں ہے اور وہ بھی اپنا موقف استدلال و استنابط کے ذریعے ہی واضح کرنا چاہ رہے ہیں۔ تو ہمیں اس تکلف میں پڑنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے کہ امت کے اجماعی تعامل اور فقہاء امت کے استدلالات کو محض اس شوق پر دریا برد کر دیں کہ ہمارے ایک محترم دوست جاوید احمد غامدی صاحب نے نئے سرے سے قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد و استنباط کا پرچم بلند کر دیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی معز امجد صاحب سے گزارش ہے کہ ہمارے نزدیک ان کے استدلال کی دیگر کئی باتوں کے علاوہ ایک اصولی اور بنیادی غلطی یہ بھی ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد و استنباط میں امت کے اجماعی تعامل اور جمہور اہل علم کے موقف کو بہت سے معاملات میں نظر انداز کر رہے ہیں جس کی ہمارے ہاں کسی درجہ میں بھی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ اگر جمہور اہل علم اور امت کے اجماعی تعامل کو کراس کر کے قرآن و سنت سے براہ راست استنباط و استدلال کا دروازہ کھول دیا جائے تو موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں امت مسلمہ میں ہزاروں مکاتب فکر وجود میں آئیں گے جو فکر و استدلال کے محاذ پر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوں گے اور وہ دھماچوکڑی مچے گی کہ الامان والحفیظ۔

کچھ عرصہ قبل محترم ڈاکٹر جسٹس جاوید اقبال صاحب نے یہ مہم شروع کر دی تھی کہ قرآن و سنت کی ازسرنو تعبیر و تشریح کی جائے اور اجتہاد و استنباط کا حق علماء کی بجائے پارلیمنٹ کو دیا جائے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان فرمائی تھی کہ امت میں اس وقت جو فرقہ بندی ہے اس سے نجات کی صورت اس کے سوا ممکن نہیں ہے۔ ہم نے ایک مضمون میں ان سے گزارش کی تھی کہ ان کا یہ فارمولا تو ’’بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہوگیا‘‘ کے مترادف ہے۔ اس لیے کہ اس وقت امت کا بڑا حصہ اعتقادی طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہے: اہل سنت اور اہل تشیع۔ جبکہ اہل سنت فقہی طور پر پانچ حصوں میں بٹے ہوئے ہیں: حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور ظاہری۔ یہ سب مل کر زیادہ سے زیادہ آٹھ دس گروہ بنتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک میں عالمگیریت کا عنصر موجود ہے۔ جبکہ انہیں ختم کر کے مسلم ممالک کی اسمبلیوں کے ذریعے اجتہاد و استنباط کا دروازہ کھولا جائے گا تو دیگر کئی قباحتوں کے علاوہ ایک بڑی قباحت یہ ہوگی کہ مسلم ممالک اور ان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں کی تعداد کے حساب سے سینکڑوں نئے فقہی مذاہب وجود میں آجائیں گے جو سب کے سب علاقائی ہوں گے اور ملت اسلامیہ کی رہی سہی وحدت بھی پارہ پارہ ہو کر رہ جائے گی۔

فتویٰ اور قضا

جناب جاوید غامدی صاحب نے ارشاد فرمایا تھا کہ فتویٰ کے نظام کو ریاستی نظام کے تابع ہونا چاہیے اور علماء کو آزادانہ فتویٰ کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ فتویٰ کا معنی ہی کسی عالم دین کی آزادانہ رائے ہے، اسے اگر آزادی سے محروم کر دیا جائے تو وہ سرے سے فتویٰ ہی نہیں رہتا بلکہ قضا یا حکم کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے جواب میں معز امجد صاحب نے اپنے حالیہ مضمون میں ارشاد فرمایا ہے کہ انہیں صرف اس فتویٰ پر اعتراض ہے جس میں فتویٰ کو قضا کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس لیے میرے خیال میں اس سلسلہ میں بحث کو آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اتنی وضاحت ضروری ہے کہ جہاں اسلامی حکومت قائم ہو اور شرعی قوانین کی عملداری کا نظام موجود ہو وہاں قضا کا متوازی نظام قطعی طور پر غلط اور خروج کے حکم میں ہوگا، لیکن جہاں مسلمانوں پر کافروں کا اقتدار ہو وہاں مسلمانوں کو قابل عمل حدود میں قضا کا داخلی نظام قائم کرنے کا حق حاصل ہے جیسا کہ اندلس کے شہر قرطبہ پر کفار کے تسلط کے بعد علامہ ابن الہمامؒ نے فتویٰ دیا تھا کہ:

’’قرطبہ جیسے شہر جہاں کافر والی بن جائیں تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے میں سے کسی پر متفق ہو کر اسے والی بنائیں جو ان کے لیے قاضی متعین کرے یا خود فیصلے کرے۔‘‘ (فتح القدیر)

اس طرح کا فتویٰ ’’فتاویٰ عالمگیریہ‘‘ میں بھی موجود ہے اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے جب ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا تو اس کے ساتھ مسلمانوں کو یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ جمعہ و عیدین اور دیگر شرعی احکام کی بجا آوری کے لیے اپنے میں سے کسی کو امیر مقرر کریں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کا فتویٰ

ہم نے عرض کیا تھا کہ دمشق پر تاتاریوں کی یلغار کے موقع پر شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے جہاد کا فتویٰ دیا تھا جو کسی ریاستی نظام کے تحت نہیں بلکہ آزادانہ حیثیت سے تھا۔ اس لیے ہمارے ہاں یہ روایت موجود ہے کہ اگر حالات ایسی صورت اختیار کر لیں تو علماء کو حق حاصل ہے بلکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہاد کا اعلان کریں اور امت کی عملی قیادت کریں۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب نے اس واقعہ کی کچھ تفصیلات بیان کی ہیں اور بتایا ہے کہ ابن تیمیہؒ نے یہ فتویٰ دے کر ریاستی نظام کو سہارا دیا تھا۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے کہ اور نہ ہی اس سے ہمارے موقف میں کوئی فرق ہی پڑتا ہے۔ اصل بات اپنی جگہ قائم ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے یہ فتویٰ کسی ریاستی نظم کے تحت دیا تھا یا آزادانہ حیثیت سے اپنی دینی و علمی ذمہ داری سمجھتے ہوئے جہاد کا فتویٰ صادر کیا تھا؟ اس بات کی کوئی وضاحت ڈاکٹر صاحب نہیں کر سکے۔

الجزائر کی جنگ آزادی

ڈاکٹر محمد فاروق خان نے الجزائر کی جنگ آزادی کی تاریخ یوں بیان کی ہے کہ ۱۹۵۴ء میں محاذ حریت وطنی قائم ہوا۔ ۱۹۵۸ء میں قاہرہ میں فرحت عباس کی سربراہ میں الجزائر کی جلاوطن حکومت قائم ہوئی اور ۱۹۶۲ء میں الجزائر آزاد ہو گیا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ ۱۹۴۰ء میں پاکستان کی قرارداد منظور کی گئی اور ۱۹۴۷ء میں پاکستان وجود میں آگیا اور اس کی پشت پر علماء کے مسلسل جہاد آزادی، بالاکوٹ اور شاملی کے معرکوں، قبائلی عوام کی جنگ، حاجی شریعت اللہؒ، سردار احمد خان کھرلؒ، حاجی صاحب ترنگ زئیؒ اور تیتومیرؒ کے معرکہ ہائے حریت اور لاکھوں علماء کرام اور عوام کی جانوں کی قربانیوں کو یوں نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے ان واقعات کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہو۔ ڈاکٹر صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ الجزائر کی جنگ آزادی ۱۹۵۴ء میں شروع ہو کر صرف آٹھ سال میں منزل تک نہیں پہنچ گئی تھی بلکہ اس کے پیچھے لاکھوں مجاہدین آزای کا خون ہے اور ان میں وہ غریب مولوی بھی شامل ہیں جن کا نام لیتے ہوئے محترم غامدی صاحب کے شاگردوں کو نہ جانے کیوں حجاب محسوس ہوتا ہے۔ الشیخ عبد الحمید بن بادیسؒ اور الشیخ ابراہیمیؒ تو جہاد آزادی کے صف اول کے لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے باقاعدہ جہاد کا فتویٰ دے کر اور جمعیۃ العلماء الجزائر قائم کر کے جہاد میں حصہ لیا تھا۔ انہی علماء کی وجہ سے لاہور میں الجزائر کے جہاد آزادی کی حمایت میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی قیادت میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کی مہم چلائی گئی تھی۔ الجزائر کی آزادی کے بعد الشیخ ابراہیمیؒ لاہور تشریف لائے تھے جن کا شاندار استقبال کیا گیا تھا اور الشیخ بن بادیسؒ کی انہی خدمات کے اعتراف میں لاہور میونسپل کارپوریشن نے ایک سڑک کو بن بادیس روڈ کے نام سے موسوم کیا تھا۔

جہاد افغانستان

ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب نے جہاد افغانستان کے مختلف مراحل کا تذکرہ کیا ہے مگر کیا مجال کہ کسی غریب مولوی کا نام ان کی نوک قلم پر آنے پائے سوائے مولوی محمد یونس خالص کے کہ ان کا تذکرہ انجینئر گلبدین حکمت یار کی جماعت میں تفریق بیان کرنے کے لیے ضروری ہوگیا تھا۔ حالانکہ مولوی محمد نبی محمدی، مولوی جلال الدین حقانی، مولوی نصر اللہ منصور اور مولوی ارسلان رحمانی جہاد آزادی کے عملی قائدین میں سے ہیں ۔جبکہ مولوی جلال الدین حقانی نے خوست چھاؤنی کی فتح میں اور مولوی ارسلان رحمانی نے ارگون چھاؤنی کی فتح میں مجاہدین کی خود کمان کی تھی۔ لیکن چونکہ مولویوں کے تذکرے سے جہاد کی شرعی حیثیت کا تاثر ابھرتا ہے اور ڈاکٹر صاحب اسے صرف جنگ آزادی کی حد تک دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے انہوں نے مولویوں کا تذکرہ ہی سرے سے غائب کر دیا ہے۔

خاتمہ کلام

ہمارا خیال ہے کہ اس بحث کو یہیں سمیٹ لیا جائے، اسی لیے اب تک دونوں طرف سے شائع ہونے والے کم و بیش سبھی مضامین یکجا شائع کیے جا رہے ہیں تاکہ اہل علم کو مطالعہ اور تجزیہ میں آسانی رہے۔ دونوں طرف کے دلائل سامنے آچکے ہیں، مزید تکرار کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے ہم بحث کو ختم کرتے ہوئے آخر میں محترم جاوید احمد غامدی اور ان کے شاگردان گرامی کی خدمت میں برادرانہ طور پر چند معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں:

  1. ہمیں ان کے مطالعہ و تحقیق اور استنباط و استدلال کے حق سے کوئی انکار اور اختلاف نہیں ہے مگر اس بات سے ضرور اختلاف ہے کہ وہ اپنے استدلال و استنباط کو صرف اس لیے حرف آخر قرار دے رہے ہیں کہ ان کی سوئی اس نکتہ سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ ان کی جو بات جمہور اہل علم کے ہاں قبولیت کا درجہ حاصل کر لے گی ہمیں بھی اسے تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوگا، اور اگر کوئی بات جمہور اہل علم کے ہاں قابل قبول نہیں ہوگی تو بھی اسے قبول نہ کرنے کے باوجود دیگر اصحاب علم کے تفردات کی طرح ہم ان کا احترام کریں گے۔
  2. اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک سنت رسولؐ کے ساتھ ساتھ جماعت صحابہؓ قرآن و سنت کی تشریح و تعبیر کا معیار ہے، اسی طرح امت کا اجماعی تعامل بھی قرآن و سنت کی منشا و مصداق تک پہنچنے کا محفوظ راستہ ہے اور ان دائروں کو کراس کرنے کا مطلب اہل سنت کی مسلمہ حدود کو کراس کرنا ہے۔ اس لیے الدین النصیحہ کے ارشاد نبویؐ کی رو سے میری برادرانہ درخواست ہے کہ استدلال و استنباط میں ان دائروں کا بہرحال لحاظ رکھا جائے کیونکہ خیر بہرحال اسی میں ہے۔
  3. مولوی غریب پر رحم کھایا جائے، گھر کے کامے فرد کی طرح سب سے زیادہ کام بھی اسی کے ذمہ ہیں، سب سے زیادہ بے اعتنائی کا شکار بھی وہی ہے اور سب سے زیادہ گالیاں بھی وہی کھاتا ہے۔ امت کو جب بھی قربانی کی ضرورت پڑی ہے مولوی نے آگے بڑھ کر مار کھائی ہے اور خون دیا ہے اور آج امت میں دینداری کی جو بھی رونق قائم ہے عالم اسباب میں اسی کے دم قدم سے ہے۔ آپ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کو دین پڑھائیے یہ بھی دین کی بہت بڑی خدمت ہے لیکن اس کے لیے غریب مولوی کو طنز و تعریض کے تیروں کا نشانہ بناتے رہنا ضروری تو نہیں۔