پاکستان شریعت کونسل کے عزائم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۰۰ء

پاکستان شریعت کونسل نے ملک میں این جی اوز اور مسیحی مشنریوں کو واچ کرنے اور اسلام اور پاکستان کے خلاف ان سرگرمیوں کے تعاقب کے لیے تمام دینی جماعتوں سے رابطہ قائم کرنے اور جدوجہد کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کیا گیا جو گزشتہ دنوں جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی) میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ انڈونیشیا میں این جی اوز اور مسیحی مشنریوں کی سرگرمیوں کے تلخ نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں این جی اوز اور مسیحی مشنریوں کی سرگرمیوں کا تعاقب وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں دیگر دینی جماعتوں سے رابطہ و مشاورت کے ساتھ جدوجہد کو منظم کیا جائے گا۔اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو کھلی تحقیقات کے ذریعے این جی اوز اور مسیحی مشنریوں کی سرگرمیوں اور مالیات کا جائزہ لے اور اس کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں اسلام اور پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں پر پابندی لگائی جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا میں مسیحی مشنریوں، قادیانی گروہ اور این جی اوز کے مشترکہ نیٹ ورک نے جو افراتفری اور انارکی کی صورتحال پیدا کر دی ہے ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور اسی طرز پر پاکستان کی نظریاتی اسلامی حیثیت کو ختم کرنے اور فکری و معاشرتی انتشار کو بڑھانے کے لیے جو منظم کام ہو رہا ہے اس کی روک تھام کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ قرارداد میں ملک کی تمام دینی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مسئلہ کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان شریعت کونسل کی ملک بھر میں تنظیم نو کی جائے گی اور اس سلسلہ میں مجلس شوریٰ نے امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمان درخواستی کو مکمل طور پر اختیار دے دیا ہے کہ وہ مرکزی اور صوبائی سطح پر نئے تنظیمی ڈھانچوں کا اعلان کریں اور ضرورت کے مطابق نئے عہدہ داروں کا تقرر کریں۔ اجلاس میں دیوبندی مکتب فکر کی جماعتوں اور مراکز کے درمیان رابطہ و مفاہمت کے لیے کام کرنے والے مشترکہ فورم ’’علماء کونسل‘‘ کی طرف سے تجویز کیے جانے والے ’’ضابطۂ اخلاق‘‘ کی توثیق کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ ہم مسلک جماعتوں اور مراکز میں مفاہمت و اشتراک کے فروغ کے لیے مجلس عمل، علماء اسلام پاکستان اور علماء کونسل کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قانونی شکل دینے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق مروجہ قوانین میں ضروری تبدیلیاں کر دے تو یہ اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالہ سے اس کا بہت بڑا کارنامہ ہوگا، اور اگر اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو مکمل طور پر قبول کر لیا جائے تو ملک میں نظام شریعت کے نفاذ کا مقصد حل ہو جائے گا اور پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست بن جائے گا۔

ایک اور قرارداد میں ضلعی حکومتوں کے منصوبہ کو عالمی استعمار کی سازش قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کر کے سے ایک سو سے زائد نیم خودمختار ریاستوں میں تبدیل کر دینا ہے تاکہ عالمی ادارے انہیں آسانی کے ساتھ کنٹرول کر سکیں اور ایک نظریاتی ریاست اور ایٹمی قوت کے طور پر پاکستان کو عالم اسلام میں قیادت کا جو مقام حاصل ہو رہا ہے اسے ختم کر کے مسلم ممالک پر عالمی قوتوں اور امریکی استعمار کے تسلط کو مستحکم کیا جائے اور مزاحمتی قوتوں کو مکمل طور پر کچل دیا جائے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے کو فوری طور پر ترک کرنے کا اعلان کیا جائے۔
ایک اور قرارداد میں ٹی وی، کیبل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کے ذریعے فحاشی اور عریانی کی بڑھتی ہوئی یلغار کو اسلامی ثقافت اور مشرقی معاشرت کے خلاف خوفناک سازش قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری اداروں کو فحاشی کی اس مذموم مہم کی سرپرستی سے باز رکھا جائے اور خاندانی نظام کے حوالہ سے اس تباہ کن منصوبے کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

ایک قرارداد میں دینی مدارس کو معاشرہ میں اسلامی علوم و روایات کے تحفظ و فروغ کے مراکز قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مغربی میڈیا اور اداروں کی منفی مہم کی مذمت کی گئی اور اعلان کیا گیا کہ دینی مدارس کی خودمختاری اور آزدانہ کردار کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ایک قرارداد میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں روز افزوں اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ مہنگائی بین الاقوامی معاشی اداروں کی سودی اور استحصالی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور اس سے صرف اس صورت میں چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے کہ سودی معیشت کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے چنگل سے گلوخلاصی حاصل کی جائے اور ٹیکس فری معیشت کے اسلامی اصولوں کو اپنا کر ملک کے معاشی ڈھانچے کو قرآن و سنت کے احکام کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دیا جائے۔

ایک قرارداد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں افغانستان کے معزول صدر پروفیسر برہان الدین ربانی کو نمائندگی دینے پر شدید احتجاج کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ مسلمہ اصولوں اور روایات کے منافی ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے تمام ممالک بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے پچانوے فیصد علاقہ اور دارالحکومت پر کنٹرول رکھنے والی طالبان حکومت کو بلاتاخیر تسلیم کیا جائے جس نے افغان عوام کو خانہ جنگی سے نجات دلا کر امن قائم کیا ہے اور جہاد افغانستان کے نظریاتی اہداف کی تکمیل کرتے ہوئے اسلامی نظام نافذ کر دیا ہے۔

مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے کہا کہ عرب ممالک کے بعد اب پاکستان میں بھی منظم طریقہ سے فحاشی کو پھیلایا جا رہا ہے جس کا مقصد نئی نسل کو بے راہ روی کا شکار بنا کر اسلامی روایات سے باغی کرنا ہے۔ اس لیے علماء کرام کو چاہیے کہ وہ جذباتی نعروں اور سطحی بیانات میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اسلام دشمن قوتوں کے عزائم کا ادراک حاصل کریں اور ان کو ناکام بنانے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ محنت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے عوام کی ذہن سازی کی ضرورت ہے اور یہ کام علماء کرام ہی کر سکتے ہیں۔

راقم الحروف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت مغرب کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں اور مغربی دانشوروں نے خود اسے ’’سولائزیشن وار‘‘ کا نام دے رکھا ہے جس کا مقصد پوری دنیا پر مغرب کے لا دین فلسفہ اور بے حیا ثقافت کو مسلط کرنا ہے۔ اور چونکہ اسلام اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس لیے مغربی اداروں اور میڈیا کی منفی مہم کا سب سے بڑا ہدف اسلام ہے۔ لیکن ہمارے ہاں علماء کرام اور دینی حلقوں میں ابھی اس تہذیبی کشمکش کا شعور پوری طرح بیدار نہیں ہے اور ہم منظم انداز میں جنگ نہیں لڑ رہے۔ راقم الحروف نے دینی جماعتوں اور علمی مراکز سے اپیل کی کہ وہ اپنے کارکنوں کو ذہنی اور فکری طور پر اس جنگ کے لیے تیار کریں اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو اس آخری حملہ سے بچانے کے لیے اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو جائیں۔

اجلاس میں مفتی عطاء الرحمان قریشی، مولانا غلام مصطفٰی، مولانا خادم حسین، مولانا محمد صدیق، مولانا محمد اقبال آصف، قاری فاروق احمد صدیقی، مولانا عبد الغفور شاکر، مولانا عبد المتین قریشی، مولانا سیف الرحمان ارائیں، مولانا حافظ اقبال اللہ، مولانا احسان اللہ ہزاروی، مولانا محمد حنیف، مولانا عبد العزیز محمدی، مولانا فیض محمد نقشبندی، مولانا قاری اللہ داد، مولانا محمد عمر قریشی، مولانا مطیع الرحمان درخواستی، مولانا جلیل الرحمان درخواستی، مولانا صوفی عبد الحنان، مولانا منظور احمد اور دیگر علماء کرام نے شرکت کی۔