گوجرانوالہ، پہلوانوں اور خوش خوراکوں کا شہر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۳ مارچ ۲۰۰۱ء

گوجرانوالہ پہلوانوں اور خوش خوراکوں کا شہر مشہور ہے، اس شہر کے پہلوانوں نے کسی دور میں نہ صرف برصغیر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنے فن کا لوہا منوایا ہے لیکن اب یہ بات قصہ پارینہ بن کر رہ گئی ہے اور بڑے بڑے پہلوانوں کے روایتی اکھاڑے ماضی کا حصہ بن گئے ہیں۔ اکا دکا اکھاڑوں میں اب بھی پہلوانی زور ہوتا ہے اور گوجرانوالہ کے بعض پہلوان ملکی اور بین الاقوامی دنگلوں میں شریک ہوتے ہیں مگر اس کی حیثیت اب ماضی کی یاد کو تازہ رکھنے کی ہوگئی ہے۔ البتہ خوش خوراکی کی رسم ابھی باقی ہے اور اس حوالہ سے گوجرانوالہ کس قدر نیک نام ہے اس کا اندازہ ایک چھوٹے سے واقعہ سے کیا جا سکتا ہے۔

حیدر آباد (سندھ) ملک کے بڑے شہروں میں سے ہے اور میرا ایک عرصہ سے معمول ہے کہ سال میں ایک آدھ دفعہ حیدر آباد ضرور جاتا ہوں جہاں مختلف دینی محافل میں شریک ہونے کا موقع ملتا ہے۔ سات آٹھ برس پہلے کی بات ہے کہ میں حیدر آباد گیا ہوا تھا، وہاں ہمارے دوستوں میں مولانا سیف الرحمان ارائیں، ڈاکٹر عبد السلام قریشی اور مولانا عبد المتین قریشی نے عصر کے بعد دریا کے کنارے ایک ریسٹورنٹ میں چائے پینے کا پروگرام بنا لیا۔ ہم ایک میز پر چائے پی رہے تھے اور گپ شپ کر رہے تھے۔ مینیجر کا کاؤنٹر قریب ہی تھا جہاں چند اصحاب شادی کی تقریب کے لیے مینیجر سے مینیو طے کر رہے تھے، تھوڑی بہت آواز ہمارے کانوں میں بھی پڑ رہی تھی، اچانک مینیجر کی زبان سے گوجرانوالہ کا نام سن کر میں چونکا، کان کھڑے ہوئے، تھوڑی توجہ سے سنا تو وہ کہہ رہا تھا کہ اگر برات گوجرانوالہ کی ہوئی تو ریٹ فی کس پندرہ روپے زیادہ ہوگا۔ مجھ سے نہ رہا گیا، اٹھ کر کاؤنٹر پر گیا اور بات پوچھی تو مینیجر نے بتایا کہ اس پارٹی سے شادی کی تقریب کا مینیو طے ہو رہا ہے اور ہم فی کس ریٹ پر بات کر رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر بارات گوجرانوالہ کی ہوئی تو فی کس ریٹ طے شدہ ریٹ سے پندرہ روپے زیادہ کیوں ہوگا? میں نے حیران ہو کر وجہ پوچھی تو مینیجر نے جواب دیا کہ گوجرانوالہ کے لوگ کھاتے خوب ہیں۔

اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہیں ہے، میں خود گوجرانوالہ کا ’’جم پل‘‘ ہوں کہ ۱۹۴۸ء میں گکھڑ میں پیدا ہوا اور ۱۹۶۲ء میں گوجرانوالہ آگیا تب سے یہیں ہوں۔ اس دوران مختلف مواقع پر جو تجربات ہوئے ہیں وہ اس تاثر کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ ملک میں ایک بات مشہور ہے کہ بڑا گوشت پشاور میں اور چھوٹا گوشت گوجرانوالہ میں سب سے زیادہ کھایا جاتا ہے۔ آپ صبح کے وقت شہر میں چھوٹے گوشت کی چند معروف دکانوں میں سے کسی ایک پر چلے جائیں وہاں آپ کو خوشحال گاہکوں کی قطار نظر آئے گی اور ان میں سے کوئی بھی کلو دو کلو کا گاہک نہیں ہوگا۔ بلکہ کلو دو کلو والا گاہک تو انتظار میں رہتا ہے کہ کب یہ لوگ فارغ ہوں اور وہ قصاب کے پاس بچے کھچے گوشت میں سے خریداری کرے۔

بارہ چودہ برس پہلے کی بات ہے کہ بازار حاجی پورہ گوجرانوالہ میں ہمارے ایک دوست شیخ محمد ابراہیم طاہر کی سوت کی دکان تھی، میں کبھی کبھار فارغ ہوتا تو ان کی دکان پر چلا جاتا اور گھنٹہ دو گھنٹہ وہاں گزارتا۔ ایک روز میں ان کی دکان پر بیٹھا تھا، سامنے ایک قصاب کی دکان تھی، دن گیارہ بجے کے لگ بھگ وقت ہوگا کہ میں نے دیکھا وہ قصاب اپنی چھریاں وغیرہ دھو کر پھٹہ صاف کر کے دکان سمیٹنے میں مصروف ہے۔ مجھے تعجب ہوا کہ ابھی تو آدھا دن بھی نہیں گزرا اور یہ دکانداری سمیٹ رہا ہے۔ میں نے شیخ محمد ابراہیم طاہر سے اس تعجب کا اظہا رکیا تو انہوں نے قصاب کو آواز دے کر اپنے پاس بلا لیا اور پوچھا کہ صبح سے اب تک کتنے بھارو (جانور) بیچے ہیں؟ اس نے جواب میں غالباً اٹھارہ کی تعداد بتائی مجھے یقین نہ آیا۔ میرا خیال تھا کہ دو تین جانور ذبح کر کے صبح سے شام تک کہیں بیچ پاتا ہوگا مگر دوبارہ پوچھنے پر بھی اس نے یہی تعداد بتائی تو میں حیران اور ششدر رہ گیا کہ اٹھارہ جانور فروخت کر کے یہ دوپہر سے بھی قبل دس گیارہ بجے دکان سمیٹ کر جا رہا ہے۔

اسی طرح چند برس قبل کا قصہ ہے کہ میں نے ایک تقریب کے سلسلہ میں کھانا پکوانے کے لیے باورچی کو بلوایا اور اس سے حساب کتاب پوچھا تو اس نے مختلف ’’ایٹموں‘‘ کے لیے ایک کلو فی کس گوشت کا حساب بتایا۔ میں نے حیران ہو کر دریافت کیا کہ ایک کلو فی کس کیسے؟ کہنے لگا کہ مولوی صاحب آپ کے لیے میں یہ کہہ رہا ہوں ورنہ ہمارا عام حساب تو سوا کلو فی کس ہوتا ہے ۔پھر اس نے قدرے تفصیل سے بتایا کہ جب پاکستان بنا تو ہمارے ہاں شادیوں پر ایک پاؤ فی کس کے حساب سے بڑا گوشت پکایا جاتا تھا، پھر چھوٹا گوشت اور اس کے بعد مرغ آگیا اور مقدار بڑھتے بڑھتے اب سوا کلو فی کس تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بھی دس سال پہلے کی بات بتا رہا ہوں خدا جانے اس کے بعد مزید ترقی کیا ہوئی ہوگی؟

بہرحال گوجرانوالہ پہلوانی کے ساتھ ساتھ اب تک خوش خوراکی میں بھی ملک گیر شہرت کا حامل رہا ہے اور اس شہر کے زندہ دل باسیوں کے بارے میں عام طور پر مشہور ہے کہ وہ اچھا اور ستھرا کھاتے ہیں اور خوب کھاتے ہیں۔ لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ گوجرانوالہ کی شہرت کا کانٹا بدل رہا ہے اور پہلوانی اور خوش خوراکی کے بعد اب اس شہر کے لوگوں نے ہنر مندی اور کاریگری میں بھی اپنے شہر کا نام روشن کرنے کا عزم کر لیا ہے جس کا شاندار مظاہرہ گزشتہ دنوں شہر کی مصروف سیر گاہ ’’گلشن اقبال پارک‘‘ میں گوجرانوالہ کی مصنوعات کی نمائش کے حوالہ سے منعقد ہونے والی ’’میڈ اِن گوجرانوالہ صنعتی نمائش‘‘ میں ہوا۔ اس نمائش کی چند جھلکیاں اگلے کالم میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں گی۔