کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲ ستمبر ۲۰۰۱ء

جگہ اور دوست کا نام تو نہیں بتا سکوں گا مگر یہ زیادہ دیر کی بات نہیں ہے کہ دوران سفر کسی جگہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے سلام و جواب اور پرسش احوال کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ سنائیے مولانا! پاکستان کب ٹوٹ رہا ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ آپ کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اس لیے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں نے عرض کیا کہ میرے حضور اس ملک کی خیر منائیے اور اس کا بھلا سوچیے کہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے، خدانخواستہ اس کو کچھ ہوگیا تو اس خطہ کے مسلمانوں کو سمندر بھی پناہ نہیں دے گا۔

اس وقت تو میں نے جنوبی ایشیا کے حوالہ سے بات کی مگر بعد میں جب سوچا تو معروضی حقائق کا ایک نیا نقشہ سامنے آیا کہ بات صرف جنوبی ایشیا کی نہیں ہے بلکہ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور مشرق بعید کے سنگم میں واقع یہ اسلامی ریاست ان تمام خطوں کے مسلمانوں کی امیدوں کا آخری مرکز بن گئی ہے جو روس، بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور اس تکونی استعمار کے مذموم عزائم کی تکمیل کی راہ میں ایک مضبوط رکاوٹ کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ جبکہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں امریکی عزائم اور پروگرام کی راہ میں حائل ہونے کی وجہ سے بھی پاکستان کی نظریاتی اور عسکری قوت ناقابل برداشت ہوتی چلی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کے وجود اور جغرافیائی وحدت یا کم از کم اس کی نظریاتی و عسکری قوت کو توڑنے پر ان سب قوتوں کا درپردہ اتفاق محسوس ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی راہ ہموار کرنے کے لیے جہاں پاکستان میں علاقائی، نسلی اور لسانی عصبیتوں کو ایک کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے وہاں مذہبی حلقوں کو بے وقوف بنانے کے لیے یہ نفسیاتی وار بے کار ثابت نہیں ہوگا کہ چونکہ ان کے بڑے بزرگوں نے پاکستان کے قیام اور برصغیر کی تقسیم کی مخالفت کی تھی اس لیے پاکستان کے منتشر ہوجانے سے ان بزرگوں کی سیاسی بصیرت کا اظہار ہوگا اور ان کا موقف تاریخ کے میزان پر درست ثابت ہو جائے گا۔

میں نہیں سمجھتا کہ کوئی باشعور شخص یا حلقہ صرف اتنی سی ’’نفسیاتی تسکین‘‘ کے لیے پاکستان کی جغرافیائی سالمیت اور قومی وحدت کو داؤ پر لگانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جائے گا لیکن کسی بھی طبقہ میں ایسے جذباتی اور ظاہر بین لوگوں کی کمی نہیں ہوتی جو بزرگوں کے نام اور ان کے ساتھ عقیدت کے حوالہ سے بے وقوف بننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اس لیے اس موقع پر اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جن بڑی دینی شخصیات اور بزرگوں نے برصغیر کی تقسیم اور قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی انہوں نے پاکستان بننے کے ساتھ ہی اپنا اختلاف ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور پاکستان کے وجود اور استحکام کو ملت اسلامیہ کے مفاد میں ضروری قرار دیتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو اس کی بقا و استحکام کے لیے محنت کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی تھی۔

قیام پاکستان کی مخالفت میں جن علمی و دینی شخصیات کے نام لیے جاتے ہیں ان میں تین بزرگ سب سے زیادہ نمایاں اور سرفہرست ہیں۔ امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ۔ یہ تین بزرگ وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کے قیام کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اسے مسلمانوں کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کے قیام کو روکنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر دیا لیکن پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان کے بارے میں ان بزرگوں کا طرز عمل کیا تھا؟ اس کے لیے چند تاریخی حوالوں کو سامنے لانا مناسب نظر آتا ہے۔

مولانا ابوالکلام آزادؒ کے بارے میں پاکستان کی پولیس اور انٹیلی جنس کے ایک اہم سابق عہدیدار راؤ عبد الرشید کی مطبوعہ یادداشتوں کے حوالہ سے یہ بات قومی پریس کے ریکارڈ میں آچکی ہے کہ پاکستان اور بھارت کی تقسیم کا فیصلہ ہوجانے کے بعد جب ریاستوں کو ان میں سے کسی کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار ملا تو بلوچستان کی ریاست قلات کے نواب احمد یار خان مرحوم نے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور اپنے وزیر دربار میر غوث بخش بزنجو مرحوم کو اس سلسلہ میں کانگریسی لیڈروں سے بات چیت کے لیے دہلی بھیجا۔ وہاں حسن اتفاق سے ان کی پہلی ملاقات مولانا ابوالکلام آزادؒ سے ہوئی جنہوں نے اس فیصلہ کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے میر غوث بخش بزنجو کو دوسرے کانگریسی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کرنے سے روک دیا اور قلات واپس جا کر پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے اور اسے مستحکم بنانے کی تلقین کی۔

اس سلسلہ میں ایک اور تاریخی شہادت کا تذکرہ ممتاز مسلم لیگی راہنما سید احمد سعید کرمانی نے اپنے حالیہ تفصیلی انٹرویو میں کیا ہے جو روزنامہ جنگ نے ۲۲ جولائی ۲۰۰۱ء کے سنڈے میگزین میں شائع کیا ہے، اس میں کرمانی صاحب فرماتے ہیں کہ:

’’میں ابوالکلام آزادؒ کی قبر پر جانا چاہتا ہوں وہ اس لیے کہ نو اگست (۱۹۴۷ء) کو لیاقت علی خان نے مولانا آزاد کو فون کیا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ ۱۴ اگست کو پاکستان بننا تھا، انہوں نے کہا کہ آجاؤ، وہ نشتر اور غضنفر کو ساتھ لے گئے۔ جب بیٹھے تو لیاقت علی خان نے کہا کہ میں کل جا رہا ہوں کیونکہ ۱۳ تاریخ کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کراچی پہنچنا ہے اور ملک آزاد ہونا ہے، آپ نے یہاں رہنا ہے اس لیے ماضی میں کوئی غلطی یا کوتاہی ہوگئی ہو تو معاف کر دیں۔ ابوالکلام آزاد نے کہا کہ جن حالات سے ہم گزرے ہیں ان میں ایسی باتیں ہو ہی جاتی ہیں۔ جب وہ واپس آنے لگے تو ابوالکلام آزاد نے ایک بات اور کہہ دی۔ ان کا تکیہ کلام تھا میرے بھائی۔ انہوں نے کہا کہ میرے بھائی ذرا بات سننا۔ وہ واپس آگئے تو کہا کہ میرے بھائی لیاقت مجھے یہ ڈر ہے کہ تقسیم کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندوستان میں مسلمان نہ رہیں اور پاکستان میں اسلام نہ رہے۔ پاکستان بننے کے بعد ایک آدمی مولانا کے پاس گیا اور پوچھا کہ میں مولانا میں پاکستان چلا جاؤں؟ مولانا نے کہا کہ آپ ضرور جائیں، پاکستان کو آپ جیسے اچھے لوگوں کی ضرورت ہے، پاکستان بنانا غلطی تھی لیکن اب پاکستان کو غیر مستحکم بنانا اس سے بڑی غلطی ہوگی۔‘‘

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی سے قیام پاکستان کے بعد جب ان کے پاکستان میں رہ جانے والے عقیدت مندوں نے اپنے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے تحریری خط میں جواب دیا کہ انہیں اب پاکستان کے استحکام اور اسے ایک صحیح اسلامی ریاست بنانے کے لیے خلوص و محنت سے کام کرنا چاہیے۔ حضرت مدنی نے اس سلسلہ میں ایک بڑی خوبصورت مثال دی کہ کسی جگہ مسجد بنانے کے بارے میں یہ اختلاف تو ہو سکتا ہے کہ کتنی جگہ پر بنائی جائے، کہاں بنائی جائے اور اس کا نقشہ کیسا ہو؟ لیکن جب اختلاف میں ایک فریق غالب آجائے اور دوسرے فریق کی رائے کو نظر انداز کر کے مسجد تعمیر کر لے تو اب وہ سب کی مشترکہ مسجد ہے اور اس کا ادب و احترام اور اس کی حفاظت وہاں کے سب مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حضرت مدنی کا یہ مکتوب گرامی حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینیؒ آف اٹک نے حضرت مدنی کے حالات زندگی پر اپنی کتاب ’’چراغ محمدؐ‘‘ میں شائع کیا ہے۔

اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے تو قیام پاکستان کے بعد نہ صرف مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی اختلاف ختم کرنے کا اعلان کیا بلکہ ’’دفاع پاکستان کانفرنسیں‘‘ منعقد کر کے لوگوں کو استحکام پاکستان کی جنگ لڑنے کے لیے تیار کیا۔ اور ۱۲، ۱۳، ۱۴ جنوری ۱۹۴۹ء کو دہلی دروازہ لاہور میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام ’’دفاع پاکستان کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت نے اپنا موقف یوں پیش کیا کہ:

’’مسلم لیگ سے ہمارا اختلاف صرف یہ تھا کہ ملک کا نقشہ کس طرح بنے، یہ نہیں کہ ملک نہ بنے بلکہ یہ کہ اس کا نقشہ کیوں کر ہو۔ یہ کوئی بنیادی اختلاف نہیں تھا۔ نہ حلال و حرام کا، نہ گناہ و ثواب کا اور نہ مذہب کا۔ وہ تو ایک نظریے کا اختلاف تھا، ہم چاہتے تھے کہ پورے چھ صوبے ملیں اور مسلم لیگ بھی چاہتی تھی۔ ہمارا اختلاف صرف مرکز کی علیحدگی پر تھا۔ مسلم لیگ بھی فرقہ وارانہ جماعت تھی اور مجلس احرار بھی۔ مسلم لیگ میں بھی کوئی غیر مسلم شامل نہیں ہو سکتا تھا اور نہ احرار میں کوئی غیر مسلم شامل ہو سکتا ہے۔ بس اختلاف تھا تو اتنا کہ ہم کہتے تھے آزادی مل جائے، سنبھل لیں اور اس کے دس سال بعد مرکز سے بھی علیحدہ ہو جائیں گے مگر لیگ کہتی تھی کہ نہیں مرکز کے ساتھ ہمارا کوئی الحاق نہیں رہ سکتا۔ وگرنہ تقسیم ملک کے ہم بھی قائل تھے۔ کرپس فارمولا اب بھی موجود ہے، اس میں تقسیم ملک ہی کا قصہ درج ہے، ہم پورے چھ صوبوں پر مصر تھے لیکن کانگرنس نے تقسیم در تقسیم کو قبول کر لیا اور گائے کا قیمہ کر کے اس کے کوفتے بنا دیے۔

پس! اب ہمارا مسلم لیگ سے کوئی اختلاف نہیں، نہ پہلے ہمارے اور ان کے درمیان مذہبی اختلاف تھا، نہ خدا کا، نہ رسولؐ کا، نہ ہم ولی ہیں اور نہ لیگ والے قطب۔ اگر لیگ والے گنہگار ہیں تو ہم کون سا ولی اللہ ہیں؟ ہمارا اور ان کا اختلاف صرف مرکز سے علیحدگی پر تھا اور داغ کے الفاظ میں یوں کہنا چاہیے:
مدت سے میری ان کی قیامت کی ہے تکرار

بات اتنی ہے وہ کل کہتے ہیں میں آج

ہمارا اور لیگ کا اختلاف کوئی کفر اور ایمان کا اختلاف تو نہ تھا یہ تو بالکل سطحی اختلاف تھا۔ بھائی حسام الدین نے آپ کے سامنے جو قرارداد پیش کی ہے وہ مجلس احرار کی آئندہ پالیسی کی آئینہ دار ہے، ہم نے اپنی تیس سال کی کمائی حکومت اور مسلم لیگ کے حوالہ کر دی ہے۔

سپردم بنو مایہ خویش را

امیر شریعت کا یہ تفصیلی خطاب جانباز مرزا مرحوم نے ’’حیات امیر شریعت‘‘ میں نقل کیا ہے اور وہیں سے ہم نے یہ اقتباس حاصل کیا ہے۔ جبکہ جانباز مرزا مرحوم نے حضرت شاہ جیؒ کا ایک مکتوب بھی نقل کیا ہے جس میں امیر شریعت فرماتے ہیں:

’’میری آخری رائے اب بھی یہی ہے کہ ہر مسلمان کو پاکستان کی فلاح و بہبود کی راہیں سوچنی چاہئیں اور اس کے لیے عملی اقدام اٹھانا چاہیے۔ مجلس احرار کو ہر نیک کام میں حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور خلاف شرع کام سے اجتناب۔ اصلاح احوال کے لیے ایک دوسرے سے مل کر ’’الدین النصیحہ‘‘ پر عمل ہونا چاہیے، یہ ارشاد ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا۔‘‘

حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ان ارشادات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے فضا میں خطرے کی بو سونگھ رہا ہوں اور یوں محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اس استعماری منصوبہ بندی میں بعض حلقوں کی ’’نفسیاتی تسکین‘‘ کے لیے ان بزرگوں کا نام بھی استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان بزرگوں کا موقف پاکستان کو توڑنے اور اس کی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچانے کا نہیں بلکہ اس کے وجود کی حفاظت اور اسے مستحکم سے مستحکم تر کرنے کا ہے۔ کسی کا دل اس کے خلاف جانے کو چاہے تو سو دفعہ جائے یہ اس کے اپنے ضمیر کی بات ہے مگر اس کے لیے ان بزرگوں کا نام استعمال کرنا بد دیانتی ہوگی۔