دینی مدارس کے بارے میں حکومتی پالیسیوں کا تسلسل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲ جنوری ۲۰۰۲ء
اصل عنوان: 
پرویز حکومت اور دینی مدارس

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں علماء کرام کے دو گروپوں سے ملاقات کے دوران اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت دینی مدارس میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی انہیں بند کیا جا رہا ہے البتہ ہم دینی مدارس کو جدید ترین نظام تعلیم کے دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے موجودہ نصاب میں تبدیلی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط فہمی ہے کہ حکومت دینی مدارس کے خلاف ایکشن لے رہی ہے، ایسی کوئی تجویز زیر غو رنہیں بلکہ حکومت کی کوشش اور خواہش ہے کہ لاکھوں طلبہ جو دینی مدارس میں زیر تعلیم ہیں ان کو دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے علوم سے بھی روشناس کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے فرقہ واریت ختم کرنے کے لیے مرکزی، صوبائی اور ضلعی سطح پر علماء کے بورڈز تشکیل دیے جائیں گے جن میں تمام مکاتب فکر کے نمائندوں کو شریک کیا جائے گا۔

صدر جنرل پرویز مشرف کی یہ یقین دہانی ملک کی اس عمومی فضا میں ایک اچھی خبر ہے کہ ایک طرف ملک بھر میں پولیس تھانوں کے ذریعے مساجد و مدارس کے کوائف جمع کرنے کے لیے فارم تقسیم کیے جا رہے ہیں اور بعض مقامات پر فارم فورًا پر کر کے واپس کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اور دوسری طرف دینی مدارس کے خلاف وفاقی وزیرداخلہ جناب معین الدین حیدر کے تند و تیز بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے اور وہ دینی جماعتوں اور دینی مدارس کے خلاف بات کہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے بعض علاقوں میں پولیس تھانوں کے ذریعے ایک ’’پرفارما‘‘ تقسیم کیا گیا جس میں مسجد کا سنِ تعمیر، ذرائع آمدنی، انتظامیہ، اخراجات، اس سے ملحقہ دینی مدرسہ کے کمروں کی تعداد، عملہ، مسلک اور دیگر امور کے بارے میں استفسار کیا گیا ہے۔ بعض مساجد کے منتظمین نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے عرض کیا کہ دینی مدارس کے تمام بڑے وفاقوں کا ۶ جنوری ۲۰۰۲ء کو جامعہ نعیمیہ لاہور میں مشترکہ کنونشن ہو رہا ہے اس کے فیصلوں کا انتظار کیا جائے اور پولیس اہل کاروں سے کہا جائے کہ وہ ۶ جنوری کے کنونشن کے فیصلوں کی روشنی میں پرفارما پر کریں گے۔ مگر ان دوستوں نے جب پولیس اہل کاروں سے یہ بات کہی تو انہیں کیا گیا کہ ہمیں فوری طور پر اس کا جواب چاہیے اس لیے ۲۴ گھنٹے کے اندر جوابات تھانے پہنچائے جائیں۔ ۲۷ دسمبر کو لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی یہی صورتحال ہے بلکہ ایک پولیس اہل کار کو اتنی جلدی تھی کہ اس نے مسجد و مدرسہ کے کسی ذمہ دار شخص تک پہنچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، مسجد میں جو صاحب موجود ملے انہی سے دو چار سوال کیے اور خود ہی پرفارما پر کر کے واپس چلتا بنا۔ جامعہ حنفیہ قادریہ (چوک یادگار شہیداں، لاہور) کے استاد مولانا حافظ ذکاء الرحمان اختر نے بتایا کہ ایک پولیس اہل کار کسی مدرسہ میں گیا اور وہاں موجود ایک صاحب سے مدرسہ و مسجد کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہیں تو ان صاحب نے کہا کہ باہر مین گیٹ پر جو بورڈ نصب ہے اس میں بہت کچھ لکھا ہے تو پولیس اہل کار نے بورڈ سے ہی معلومات پرفارما پر نقل کرنا شروع کر دیں۔

وزیر داخلہ کے مسلسل بیانات اور اس کے بعد پولیس تھانوں کی اس کارگزاری کے پس منظر میں اگر پاکستان کے دینی مدارس کے بارے میں بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں اور امریکہ بہادر کے مطالبات کو سامنے رکھا جائے جو ہماری قومی پالیسیوں میں امریکی مداخلت اور امریکی تقاضوں اور مطالبات کے سامنے ہمارے حکمرانوں کے مسلسل سرنڈر ہوتے چلے جانے کا عمل ہر شخص کو واضح طور پر دکھائی دینے لگا ہے تو دینی مدارس کی اس تشویش کو محض ’’غلط فہمی‘‘ قرار دینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ حکومت دینی مدارس کے نظام پر سرکاری کنٹرول کی کوئی صورت پیدا کرنا چاہتی ہے اور ان کے معاملات میں مداخلت کے راستے تلاش کر رہی ہے۔ پھر صدر پرویز مشرف نے علماء کرام کے دو گروپوں سے بات چیت کرتے ہوئے دینی مدارس میں مداخلت کے پروگرام کی نفی کرتے ہوئے دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی اور انہیں مبینہ اجتماعی دھارے میں لانے کی جس حکومتی خواہش اور کوشش کا ذکر کیا ہے وہ بجائے خود دینی مدارس کے نظام میں مداخلت کے ارادے کی غمازی کرتی ہے کیونکہ یہ دونوں باتیں دینی مدارس کے موجودہ نظام اور ان کے معاشرتی کردار کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

ہم ان سطور میں متعدد بار عرض کر چکے ہیں کہ جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرہ میں عام مسلمان کا دین سے اعتقادی و عملی تعلق قائم رکھنے، قرآن و سنت اور دیگر دینی علوم کی تعلیم و تدریس کے تسلسل کو باقی رکھنے اور مساجد و مکاتب کو آباد رکھنے میں دینی مدارس کے جس کردار کو بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت سے تسلیم کیا جا رہا ہے اور اسی کو مغربی قوتیں اور ادارے اپنی تہذیب و ثقافت اور فکر و نظر کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھ رہے ہیں، اس کردار کی بنیادی وجہ دینی مدارس کا آزادانہ نظام اور ان کا تعلیمی تشخص و امتیاز ہے۔ اگر یہ مدارس اس امتیازی کردار، تعلیمی تشخص اور انتظامی و مالیاتی خود مختاری سے بہرہ ور نہ ہوتے تو آج جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرہ میں دینداروں اور دینی عقائد و اعمال کے ساتھ عام مسلمان کی جذباتی وابستگی کی فضا موجود نہ ہوتی۔ بلکہ آج بھی خدانخواستہ اگر ان دینی مدارس کو امتیازی تشخص و کردار سے محروم کر کے مبینہ اجتماعی دھارے میں شامل کر دیا جائے تو دینی بیداری کے اس ماحول کو ختم کرنے کے لیے مزید کسی اقدام کی ضرورت باقی نہیں رہ جائے گی اور وہ بتدریج مغربی فلسفہ و ثقافت سے متاثر و مرعوب اجتماعی ماحول میں تحلیل ہوتا چلا جائے گا۔ اس لیے اگر دینی مدارس کو اپنا وہ کردار باقی رکھنا ہے جو گزشتہ ڈیڑھ صدی سے وہ ادا کرتے آرہے ہیں تو اس کے لیے ان کے جداگانہ تشخص کی بقا اور مروجہ اجتماعی دھارے سے ان کا فیصلہ قائم رکھنا ضروری ہے۔

جہاں تک دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کا تعلق ہے اس کے بھی دو مختلف پہلو ہیں۔ ایک پہلو تو وہی ہے جس کا تعلق ان کی اجتماعی دھارے میں شمولیت سے ہے کہ دینی مدارس کے کسی فاضل کو محض ایک مولوی، حافظ، قاری، مفتی یا معلم نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اس کے ساتھ انجینئر، ڈاکٹر، وکیل یا سائنسدان بھی ہونا چاہیے اور اس نقطۂ نظر کی بنیاد پر دینی مدارس کے نصاب میں ردو بدل کیا جانا چاہیے، مگر یہ بات قابل قبول نہیں ہے اور فطرت کے بھی خلاف ہے۔ دینی تعلیم و تربیت تحقیق و ریسرچ اور عام مسلمانوں کی دینی راہ نمائی ایک مستقل دینی کام اور معاشرتی ضرورت ہے جس کے لیے مستقل افراد کار ضروری ہیں جن کا کسی دوسرے فن میں ماہر ہونا قطعی ضروری نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے عام لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ایک مستقل معاشرتی ضرورت ہے اس کے لیے جج صاحبان کا ایک مستقل طبقہ ضروری ہے جو تعلیم و تربیت کے حوالہ سے جداگانہ تشخص رکھتا ہو، چنانچہ ایک جج کے صرف قانون اور انصاف سے متعلقہ علوم کا حاصل کرنا ہی ضروری سمجھا جاتا ہے اور کسی جج کے لیے ڈاکٹر، سائنسدان یا انجینئر ہونا ضروری قرار نہیں دیا جاتا۔ اسی طرح کسی مفتی، دینی معلم اور حافظ و قاری کے لیے بھی دیگر شعبوں کے علوم کا حاصل کرنا لازمی نہیں ہے۔ اس لیے جب کوئی صاحب یہ فرماتے ہیں کہ علماء کرام کو جدید سائنسی علوم سے بھی بہرہ ور ہونا چاہیے اور روزگار کا کوئی ذریعہ تلاش کر کے دینی کام رضاکارانہ طور پر ثانوی حیثیت سے رکنا چاہیے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے جج صاحبان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ انصاف اور قانون کے علم کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم بھی حاصل کریں اور انصاف پر تنخواہ وصول کرنے کی بجائے روزگار کا کوئی اور ذریعہ اختیار کریں اور لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کا کام رضاکارانہ طور پر ثانوی حیثیت سے سرانجام دیا کریں۔

اس لیے دینی مدارس کے نصاب میں اس قسم کی کسی تبدیلی کی حمایت تو ہرگز نہیں کی جا سکتی البتہ کمپیوٹر، عالمی زبانوں، تاریخ اور عالمی حالات سے واقفیت جیسے ضروری علوم کو خود ہم بھی دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کے حق میں ہیں اور اس کے لیے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف بھی اگر یہی چاہتے ہیں تو سر آنکھوں پر، ہم ان کے ارشادات کی حمایت کرتے ہیں، لیکن دینی مدارس کے جداگانہ تشخص اور آزادانہ کردار کی قیمت پر نہیں۔