شیعہ سنی کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہے!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ جنوری ۲۰۱۴ء

سنی شیعہ کشیدگی میں اضافے کے حوالے سے جناب محمد الطاف قمر نے اپنے حالیہ مضمون میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے ہمیں بھی اتفاق ہے اور یہ ملک کے ہر باشعور شہری کی سوچ ہے۔ مگر اس کے ساتھ اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اصولی اور نظریاتی باتوں سے تو کسی بھی مکتب فکر کے لوگوں کو اختلاف نہیں ہوتا، بات ان کے عملی اطلاق اور الگ تعبیر کی ہے کہ جھگڑے اس سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور کوئی متوازن قانون یا حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے یہ جھگڑے اپنی جائز حدود پھلانگ کر پورے معاشرے کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں۔ فتوے دونوں طرف سے یہی ملیں گے کہ بے گناہ شہریوں کا قتل حرام ہے اور معاشرے میں بداَمنی پیدا کرنا گناہ کبیرہ ہے، اس لیے ان فتوؤں کی تمام تر اہمیت و افادیت کے باوجود اصل سوال یہ ہے کہ حالیہ کشیدگی کا واقعاتی پس منظر کیا ہے اور اس کے پس پشت کارفرما اندرونی و بیرونی عوامل کیا ہیں؟ اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ اس میں جس قدر تاخیر ہوگی اس کشیدگی میں مسلسل اضافے کا باعث بنے گی۔ اگر حکومت پاکستان یا سپریم کورٹ آف پاکستان سنی شیعہ کشیدگی کی گزشتہ تین دہائیوں سے جاری لہر کے اسباب و محرکات کا جائزہ لینے اور ان کے سدباب کے لیے تجاویز پیش کرنے کی غرض سے ایک آزادانہ اور اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن کا قیام عمل میں لا سکیں تو معاملات کو صحیح رخ پر لانے کی کوئی مثبت راہ بہرحال نظر آنے لگے گی۔

ان گزارشات کے ساتھ محترم محمد الطاف قمر کے ارشادات کی تائید کرتے ہوئے ہم راولپنڈی کی ایک دردمند دل رکھنے والی خاتون غزالہ یاسمین کا ایک خط قارئین کی نذر کر رہے ہیں جس میں انہوں نے اسی مسئلہ پر اپنا دردِ دل پیش کیا ہے، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے عام شہریوں کے جذبات اس معاملے میں کیا ہیں اور وہ اپنی مذہبی قیادتوں سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ غزالہ یاسمین صاحبہ اپنے اس خط کی اشاعت کی فرمائش کے ساتھ لکھتی ہیں:

’’پاکستان کبھی امن و آشتی اور یگانگت کا مظہر تھا۔ اسی قوت کے باعث اس ملک کا قیام عمل میں آیا تھا۔ لیکن نہ جانے اس ملک کو کس کی نظر لگ گئی کہ اب یہ اختلافات خصوصًا فرقہ وارانہ نوعیت کے اختلافات کی زد میں ہے۔ ذرائع ابلاغ ان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور یوں پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کی سبکی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اختلافات کو کم کرنے کو اپنا مشن بنا لیا ہے۔ یہ لوگ خاموش انداز میں اپنے وسائل استعمال کرتے ہیں اور ان مؤثر شخصیات کو جو اختلافات کو کم کرنے میں کسی طرح بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں، مسلسل قائل کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ ان سے روابط رکھتے ہیں اور ان روابط کو اس کارِ خیر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

قارئین، ناظرین اور سامعین کو مژدہ ہو کہ آج کی اس تحریر میں ایسے ہی تین اشخاص کے ایک مجموعے کو متعارف کرایا جا رہا ہے جنہوں نے ۱۰ محرم کو راجہ بازار راولپنڈی کے سانحے کے بعد یہ قسم کھائی کہ وہ اللہ کی رضا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی کے لیے ملک بھر کے علمائے کرام، دانشوروں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے روابط کو بڑھائیں گے اور جو کچھ نقصان راولپنڈی کے سانحے کی وجہ سے اسلام اور پاکستان کی ساکھ کو پہنچا ہے، اسے کم کرنے کی مقدور بھر کوشش کریں گے۔ بڑی مشکل سے ان حضرات نے اس بات کی اجازت دی کہ ان کے ناموں سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔ ان تینوں شخصیات کا تعلق کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ان میں قدر مشترک پاکستان سے ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی محبت ہے۔ وہ اس لیے بھی پاکستان کے دکھ کو برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کا اپنا وطن غلام ہے اور وہ آزادی کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ شخصیات محمد حنیف خان آف راولا کوٹ آزاد کشمیر، سردار محمد ایوب خان آف باغ آزا دکشمیر اور راجہ محمد امجد خان آف اسکردو گلگت بلتستان حال مقیم راولپنڈی ہیں۔

مختلف مواقع پر ان تین حضرات سے جو ملاقاتیں ہوئیں، ان کی تلخیص کچھ یوں ہے:

محمد حنیف خان آف راولا کوٹ: میں نے سانحہ راولپنڈی کے فورًا بعد متعلقہ علمائے کرام کو فردًا فردًا خطوط لکھے اور ان کے معاملات کو صحیح نہج پر لانے کے ضمن میں ادا کیے گئے کردار کو سراہا۔ یہ خطوط ایک عقیدت مند کے خطوط تھے جو ہر طرح کے اختلافات سے بلند ہو کر لکھے گئے تھے۔ میری رائے میں علمائے کرام نے مثالی کردار ادا کیا تھا، اس لیے میں نے اپنے خطوط میں انہیں اولیائے کرام کہتے ہوئے بھی باک محسوس نہیں کیا تھا۔ میں نے اپنے خطوط میں علمائے کرام سے یہ بھی کہا تھا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں کئی طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ ہندو، سکھ اور عیسائی بھی رہتے ہیں۔ شیعہ بھی رہتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ہزاروں بندے مار کر بھی آخر کار بات چیت کریں گے۔ مولانا صاحب! کچھ کیجیے۔ کسی دن کسی شیعہ لیڈر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کر لیں۔ یقیناًقتل و غارت بند ہو جائے گی۔ روزِ محشر اگر بلند مقام نہ پایا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجھے شرمندہ کر دینا۔

سردار محمد ایوب خان: اپنے ملک کے تمام علمائے کرام اور ان کے عقیدت مندوں سے التماس کرتا ہوں کہ مخالفین کو پیار و محبت سے سیدھی راہ پر لایا جائے۔ ہم تو انہیں اپنی ضد پر پکا کر رہے ہیں۔ کیا ہمارے اکابرین اسی طرح تبلیغ کیا کرتے تھے؟ ہمارے اکابرین کون ہیں؟ یقیناًحضرت شاہ ولی اللہ ہیں۔ یقیناًحضرت مہاجر مکی ہیں۔ یقیناًقاری محمد طیب ہیں۔ یقیناًمولانا اشرف علی تھانوی ہیں۔ یقیناًمولانا احمد علی لاہوری ہیں۔ قریب کے زمانے میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبد الحق، حضرت مفتی محمود اور حضرت قاضی حسین احمد آخر ہمارے ہی اکابرین میں سے ہیں۔ کیا وہ بھی یوں ہی کیا کرتے تھے جیسے آج کل ہو رہا ہے؟

راجہ محمد امجد خان: ۲۴ دسمبر ۲۰۱۳کو پورا ملک راولپنڈی پر کان دھرے ہوئے تھا کہ ۱۰ محرم کے المناک سانحے کے بعد راولپنڈی میں چہلم کا جلوس نکلنا تھا۔ ہر طرف خدشات تھے کہ نہ معلوم کیا ہوگا؟ ہر آدمی سوچ رہا تھا کہ کشت و خون ہوگا۔ لیکن ۲۴ دسمبر کو صورت حال بالکل مختلف نظر آئی۔ ہر طرف امن و امان تھا۔ لوگ پر سکون تھے۔ لاکھوں افراد کا جلوس تھا جو راجہ بازار سے گزرا۔ کہیں گملا نہ ٹوٹا۔ راجہ بازار کے تاجر سب سے زیادہ مطمئن تھے کہ ان کا سکون بحال ہو رہا تھا۔ میں بھی سروے کرنے نکلا۔ نماز مغرب مرکزی جامع مسجد اہل حدیث میں ادا کی۔ وہاں یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جلوس میں شامل شیعہ حضرات کی بڑی تعداد نماز ادا کر رہی تھی۔ جامع مسجد اہل حدیث کے منتظمین انہیں ہر طرح سے خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ مسجد کے باہر شیعہ خواتین نماز ادا کر رہی تھیں۔ مسجد پر کوئی پہرہ نہ تھا۔ اندر آنے کی اجازت عام تھی، بالکل عام دنوں کی طرح۔ دیگر مساجد اور مختلف مقامات پر بھی ایسا ہی دیکھا، کوئی تفریق کہیں نظر نہ آئی۔ دل بہت خوش ہوا۔ گزشتہ ۱۰ محرم کو ہونے والا سانحہ بھی نہ ہوتا اگر دونوں طرف کے علماء باہم روابط استوار رکھتے۔ کہیں نہ کہیں روابط کی کمی کے باعث افسوسناک سانحہ ہوا، لیکن بعد میں چہلم کے موقع پر راولپنڈی خصوصاً راجہ بازار کے لوگوں کے مثالی طرز عمل کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی ہمیشہ ایسی ہی یک جہتی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

یہ ربیع الاول کا مقدس مہینہ ہے جس میں رب العالمین نے پوری کائنات کو رحمۃ للعالمین کی صورت میں ایک عظیم تحفہ عطا فرمایا، وہ ذات بابرکات جس نے انسانوں میں نفرت اور تفرقے کو دفن کر دیا، جس نے انہیں عہدِ جہالت کے اندھیروں سے نکالا، جس نے بادشاہی میں فقیری کی، جس نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے بدترین دشمنوں کو امان دی۔ یہ مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ کل جہاں کے لیے رحمت کا مہینہ ہے، اس میں ہمیں اختلافات کو کم از کم سطح پر لانا ہوگا تاکہ ہم رسولِ رحمت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور روزِ قیامت سرخرو ہو سکیں۔

سردار محمد ایوب خان، راجہ محمد حنیف خان اور راجہ محمد امجد خان نے اپنے وسائل سے جو کام کیا اس نے متحارب فریقوں میں محبت اور الفت کا جو پیغام عام کیا ہے اس کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ انہیں رسولِ رحمت نبی پاکؐ کی نظر کرم حاصل ہو گئی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا محمد احمد لدھیانوی ہوں کہ مولانا صاحبزادہ حامد رضا، مولانا اشرف علی ہوں کہ مولانا امین شہیدی، تاجروں کے رہنما شرجیل میر ہوں کہ شاہد غفور پراچہ، ہر ایک نے ان تین حضرات کی اخلاص بھری کاوشوں پر بھرپور ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ راولپنڈی مختصر سے عرصے میں ایک بار پھر امن و یگانگت کا مظہر نظر آنے لگا ہے۔ اے کاش ملک کے دیگر لوگ بھی سردار محمد ایوب خان، راجہ محمد حنیف خان اور راجہ محمد امجد خان کے نقش قدم پر چلیں۔ یہی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میلاد النبیؐ کا حقیقی پیغام ہے۔‘‘