سنی شیعہ کشیدگی ۔ غزالہ یاسمین کا مکتوب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۴ء

گزشتہ محرم الحرام میں راولپنڈی میں رونما ہونے دردناک سانحہ کے تناظر میں ہم راولپنڈی کی ایک درد مند دل رکھنے والی خاتون غزالہ یاسمین کا ایک خط قارئین کی نذر کر رہے ہیں جس میں انہوں نے اس مسئلہ پر اپنا دردِ دل پیش کیا ہے اور اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے عام شہریوں کے جذبات اس معاملہ میں کیا ہیں اور وہ اپنی مذہبی قیادتوں سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ محترمہ غزالہ یاسمین صاحبہ اپنے اس خط کی اشاعت کی فرمائش کے ساتھ لکھتی ہیں کہ:

’’پاکستان کبھی امن و آشتی اور یگانگت کا مظہر تھا۔ اسی قوت کے باعث اس ملک کا قیام عمل میں آیا تھا۔ لیکن نہ جانے اس ملک کو کس کی نظر لگ گئی کہ اب یہ اختلافات خصوصًا فرقہ وارانہ نوعیت کے اختلافات کی زد میں ہے۔ ذرائع ابلاغ ان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور یوں پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کی سبکی کے سامان فراہم کرتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اختلافات کو کم کرنے کو اپنا مشن بنا لیا ہے۔ یہ لوگ خاموش انداز میں اپنے وسائل استعمال کرتے ہیں اور ان مؤثر شخصیات کو جو اختلافات کو کم کرنے میں کسی طرح بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں، مسلسل قائل کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ ان سے روابط رکھتے ہیں اور ان روابط کو اس کارِ خیر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

قارئین، ناظرین اور سامعین کو مژدہ ہو کہ آج کی اس تحریر میں ایسے ہی تین اشخاص کے ایک مجموعے کو متعارف کرایا جا رہا ہے جنہوں نے 10 محرم کو راجہ بازار راولپنڈی کے سانحے کے بعد یہ قسم کھائی کہ وہ اللہ کی رضا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی کے لیے ملک بھر کے علمائے کرام، دانشوروں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے روابط کو بڑھائیں گے اور جو کچھ نقصان راولپنڈی کے سانحے کی وجہ سے اسلام اور پاکستان کی ساکھ کو پہنچا ہے، اسے کم کرنے کی مقدور بھر کوشش کریں گے۔ بڑی مشکل سے ان حضرات نے اس بات کی اجازت دی کہ ان کے ناموں سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔ ان تینوں شخصیات کا تعلق کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ان میں قدر مشترک پاکستان سے ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی محبت ہے۔ وہ اس لیے بھی پاکستان کے دکھ کو برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کا اپنا وطن غلام ہے اور وہ آزادی کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ شخصیات محمد حنیف خان آف راولا کوٹ آزاد کشمیر، سردار محمد ایوب خان آف باغ آزا دکشمیر اور راجہ محمد امجد خان آف اسکردو گلگت بلتستان حال مقیم راولپنڈی ہیں۔

مختلف مواقع پر ان تین حضرات سے جو ملاقاتیں ہوئیں، ان کی تلخیص کچھ یوں ہے:

محمد حنیف خان آف راولا کوٹ: میں نے سانحہ راولپنڈی کے فورًا بعد متعلقہ علمائے کرام کو فردًا فردًا خطوط لکھے اور ان کے معاملات کو صحیح نہج پر لانے کے ضمن میں ادا کیے گئے کردار کو سراہا۔ یہ خطوط ایک عقیدت مند کے خطوط تھے جو ہر طرح کے اختلافات سے بلند ہو کر لکھے گئے تھے۔ میری رائے میں علمائے کرام نے مثالی کردار ادا کیا تھا، اس لیے میں نے اپنے خطوط میں انہیں اولیائے کہتے ہوئے بھی باک محسوس نہیں کیا تھا۔ میں نے اپنے خطوط میں علمائے کرام سے یہ بھی کہا تھا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں کئی طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ ہندو، سکھ اور عیسائی بھی رہتے ہیں۔ شیعہ بھی رہتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ہزاروں بندے مار کر بھی آخر کار بات چیت کریں گے۔ مولانا صاحب! کچھ کیجیے۔ کسی دن کسی شیعہ لیڈر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کر لیں۔ یقیناًقتل و غارت بند ہو جائے گی۔ روزِ محشر اگر بلند مقام نہ پایا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجھے شرمندہ کر دینا۔

سردار محمد ایوب خان: اپنے ملک کے تمام علمائے کرام اور ان کے عقیدت مندوں سے التماس کرتا ہوں کہ مخالفین کو پیار و محبت سے سیدھی راہ پر لایا جائے۔ ہم تو انہیں اپنی ضد پر پکا کر رہے ہیں۔ کیا ہمارے اکابرین اسی طرح تبلیغ کیا کرتے تھے؟ ہمارے اکابرین کون ہیں؟ یقیناًحضرت شاہ ولی اللہ ہیں۔ یقیناًحضرت مہاجر مکی ہیں۔ یقیناًقاری محمد طیب ہیں۔ یقیناًمولانا اشرف علی تھانوی ہیں۔ یقیناًمولانا احمد علی لاہوری ہیں۔ قریب کے زمانے میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبد الحق، حضرت مفتی محمود اور حضرت قاضی حسین احمد آخر ہمارے ہی اکابرین میں سے ہیں۔ کیا وہ بھی یوں ہی کیا کرتے تھے جیسے آج کل ہو رہا ہے؟

راجہ محمد امجد خان: 24 دسمبر 2013کو پورا ملک راولپنڈی پر کان دھرے ہوئے تھا کہ 10 محرم کے المناک سانحے کے بعد راولپنڈی میں چہلم کا جلوس نکلنا تھا۔ ہر طرف خدشات تھے کہ نہ معلوم کیا ہوگا؟ ہر آدمی سوچ رہا تھا کہ کشت و خون ہوگا۔ لیکن 24 دسمبر کو صورت حال بالکل مختلف نظر آئی۔ ہر طرف امن و امان تھا۔ لوگ پر سکون تھے۔ لاکھوں افراد کا جلوس تھا جو راجہ بازار سے گزرا۔ کہیں گملا نہ ٹوٹا۔ راجہ بازار کے تاجر سب سے زیادہ مطمئن تھے کہ ان کا سکون بحال ہو رہا تھا۔ میں بھی سروے کرنے نکلا۔ نماز مغرب مرکزی جامع مسجد اہل حدیث میں ادا کی۔ وہاں یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جلوس میں شامل شیعہ حضرات کی بڑی تعداد نماز ادا کر رہی تھی۔ جامع مسجد اہل حدیث کے منتظمین انہیں ہر طرح سے خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ مسجد کے باہر شیعہ خواتین نماز ادا کر رہی تھیں۔ مسجد پر کوئی پہرہ نہ تھا۔ اندر آنے کی اجازت عام تھی، بالکل عام دنوں کی طرح۔ دیگر مساجد اور مختلف مقامات پر بھی ایسا ہی دیکھا، کوئی تفریق کہیں نظر نہ آئی۔ دل بہت خوش ہوا۔ گزشتہ 10 محرم کو ہونے والا سانحہ بھی نہ ہوتا اگر دونوں طرف کے علماء باہم روابط استوار رکھتے۔ کہیں نہ کہیں روابط کی کمی کے باعث افسوسناک سانحہ ہوا، لیکن بعد میں چہلم کے موقع پر راولپنڈی خصوصاً راجہ بازار کے لوگوں کے مثالی طرز عمل کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی ہمیشہ ایسی ہی یک جہتی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔‘‘