ضلع دیامر کے زلزلے اور شمالی علاقہ جات کی سیاسی و مذہبی حیثیت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء
اصل عنوان: 
وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی سے خصوصی اپیل

اوصاف نے گیارہ مارچ کو اے پی پی کے حوالہ سے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر میں زلزلے کے نئے جھٹکوں اور ان سے درجنوں مکانات کے مسمار ہونے کی جو خبر دی ہے اس سے ماہرین ارضی کے ان خدشات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اس خطہ میں زلزلوں کا جو سلسلہ گزشتہ سال نومبر میں شروع ہوا تھا وہ ابھی ختم نہیں ہوا اور زیر زمین آتش فشاں لاوے کی مسلسل حرکت کی وجہ سے مزید زلزلوں کا خطرہ موجود ہے جو بہت زیادہ تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

دیامر شمالی علاقہ جات کا ضلع ہے اور اس میں سے شاہراہ ریشم گزرتی ہے نیز اس میں دنیا کا وہ بلند ترین وسیع میدان بھی موجود ہے جو عالمی طاقتوں کی مسلسل نظر میں ہے کیونکہ سمندر سے اتنی بلندی پر اتنا بڑا میدان اس پورے خطے کی فضائی نگرانی کے لیے بہترین اڈا بن سکتا ہے اور یہاں فوجی مرکز قائم کر کے کوئی بھی طاقت چین، پاکستان، وسطی ایشیا اور بھارت سمیت اردگرد کے پورے علاقے میں فضائی بالادستی اور ان علاقوں کی نگرانی اور کنٹرول کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی علاقہ جات میں بین الاقوامی این جی اوز کا جال بچھا ہوا ہے اور عالمی ادارے اس خطہ کے عوام کی غربت اور بنیادی ضروریات کی آڑ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور اپنے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے راہ ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔

سیاسی طور پر یہ خطہ جموں و کشمیر کے اس نقشہ میں شامل ہے جو بین الاقوامی دستاویزات کی رو سے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی علاقہ جات کو جب بھی پاکستان کا مستقل صوبہ قرار دینے کی بات ہوئی اور اس کے لیے مختلف اطراف سے آواز اٹھی تو کشمیری رہنماؤں کی مخالفت کی وجہ سے اسے پذیرائی نہ مل سکی۔ کشمیری لیڈروں کا موقف یہ ہے کہ جب تک جموں و کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک شمالی علاقہ جات کی موجودہ حیثیت میں تبدیلی اور اسے پاکستان میں باضابطہ شامل کرنے سے کشمیری عوام کے موقف اور جدوجہد کو نقصان پہنچے گا۔ چنانچہ متعدد بار ایسا ہوا کہ شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنانے کی بات چلی مگر کشمیری رہنماؤں کے احتجاج اور مخالفت کی وجہ سے ایسی کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔

مذہبی طور پر اس خطہ کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں چار الگ الگ مذہبی فرقوں کے لوگ آباد ہیں۔ شیعہ، نور بخشی اور آغا خانی اس علاقے میں کثرت سے رہتے ہیں جبکہ ضلع دیامر میں اہل سنت کی اکثریت ہے۔ اگر اول الذکر تین گروہ خود کو ایک مذہب کے پیروکار شمار کریں تو شمالی علاقہ جات میں مجموعی طور پر ان کی اکثریت بنتی ہے اور مستقل صوبہ قائم ہونے کی صورت میں یہ صوبہ پاکستان میں شیعہ اکثریت کا صوبہ قرار پاتا ہے۔ اس پس منظر میں ضلع دیامر اور شمالی علاقہ جات کے دوسرے اضلاع مثلاً گلگت اور سکردو وغیرہ کے باشندوں کے ذہنی و سیاسی رجحانات میں فرق کبھی کبھی اس انداز میں ظاہر ہوتا ہے کہ ضلع دیامر کے اکثر باشندے شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا الگ صوبہ قرار دینے کی بجائے اس کے آزادکشمیر کے ساتھ الحاق کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔

مگر اس سے قطع نظر اس وقت بات ضلع دیامر میں نومبر ۲۰۰۲ء کے دوران آنے والے زلزلوں اور ان کے نقصانات کی ہو رہی ہے جس کے بارے میں روزنامہ اوصاف ۲۸ جنوری ۲۰۰۳ء کو ایک خصوصی ایڈیشن کی صورت میں تفصیلی رپورٹ شائع کر چکا ہے۔ ان زلزلوں کا آغاز دو نومبر کو ہوا جس میں متعدد گاؤں تباہ ہوئے۔ شمالی علاقہ جات کے فورس کمانڈر جنرل ندیم احمد خان نے فوری طور پر متاثرہ لوگوں کی امداد اور بحالی کے کام کا آغاز کیا اور ان کے علاقہ متعدد این جی اوز، جن میں کراچی کا الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ بھی شامل ہے، میدان عمل میں آئیں اور تباہی سے دوچار ہونے والے باشندوں کی امداد اور بحالی کی سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ مقامی باشندوں کے مطابق زلزلے کے جھٹکے مسلسل جاری تھے اور ماہرین ارضی کہہ رہے تھے کہ ابھی مزید زلزلوں کا امکان اور خطرہ موجود ہے اس لیے متاثرین کی امداد اور بحالی کے کام کے ساتھ ساتھ ان علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات کی طرف منتقلی بھی ضروری ہے جن کے بارے میں یہ ماہرین مستقبل قریب میں مزید زلزلوں کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ مگر عوام کے اس مطالبہ کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی اور ماہرین ارضیات کی پیشین گوئیوں کو محض قیاس آرائی قرار دیا جاتا رہا۔ لیکن اس کے بعد ۲۱ اور ۲۲ نومبر کو پہلے سے زیادہ شدید زلزلہ آیا جس میں درجنوں آبادیوں کو نقصان پہنچا، سینکڑوں مکانات تباہ ہوئے، ہزاروں افراد بے گھر ہوئے اور زیر کاشت اراضی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اس خطہ کے متاثرہ عوام کی اس آواز پر کسی نے کان نہ دھرے کہ انہیں خطرہ کے علاقہ سے محفوظ علاقوں کی طرف منتقل کیا جائے حالانکہ ماہرین ارضیات مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ اس پوری پٹی میں زیر زمین آتش فشاں لاوا موجود ہے جو حرکت کر رہا ہے اور مستقبل قریب میں شدید زلزلوں کا امکان موجود ہے جو پہلے زلزلوں سے کہیں زیادہ نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ پٹی میں کم و بیش بارہ مقامات پر گرم لاوا زمین سے ابل رہا ہے اور وقفہ وقفہ سے جھٹکے اور خوفناک آوازیں کم و بیش معمول بن گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور لطیفہ یا ستم ظریفی بھی سننے میں آئی ہے کہ فقیر شاہ نامی ایک ماہر ارضیات جس نے پورے علاقے کا سروے کر کے مستقبل میں شدید زلزلے آنے کی پیش گوئی کی تھی اور اس کی رپورٹ بعض قومی اخبارات میں بھی شائع ہوئی ہے، کہا جاتا ہے کہ اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں دیامر بالخصوص استور کے متاثرہ عوام شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ سے بجا طور پر شاکی ہیں کہ وہ انہیں خطرے کے علاقوں سے محفوظ علاقوں کی طرف منتقل کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہی۔ بعض حضرات غلط یا صحیح طور پر اس کے ڈانڈے مذہبی اور سیاسی اختلاف سے بھی ملاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ناردرن کونسل ایڈمنسٹریشن مذہبی تعصب کی وجہ سے ضلع دیامر کے لوگوں کی مشکلات سے نہ صرف خود آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں بلکہ ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹیں دے کر حکومت پاکستان کو بھی اس طرف متوجہ ہونے سے روک رہی ہیں۔

جہاں تک ماہرین ارضیات کی پیشین گوئی کا تعلق ہے چند روز قبل سنکیانگ میں آنے والے زلزلہ نے بھی اس کی تصدیق کر دی تھی کیونکہ سنکیانگ ملحقہ علاقہ ہے اور زیر زمین پٹی اس کے ساتھ لگتی ہے۔ جبکہ دس مارچ کو استور میں آنے والے زلزلہ نے اس کی مزید تصدیق کر دی ہے اور اس بات میں اب کوئی شبہ نہیں رہا کہ ماہرین ارضیات اس علاقہ میں مزید زلزلوں کی جو پیشین گوئیاں کر رہے ہیں وہ بلاوجہ نہیں ہیں۔ اگر حفاظتی انتظامات نہ کیے گئے اور لوگوں کو محفوظ علاقوں کی طرف بروقت منتقل نہ کیا گیا تو خدانخواستہ انسانی جانوں کے حوالہ سے زیادہ تباہ کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی سے بطور خاص گزارش ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملہ پر توجہ دیں اور ضلع دیامر کے عوام کو اس آفت اور اس کے اثرات سے نجات دلانے کے لیے مؤثر قدم اٹھائیں۔