’’فک کل نظام‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲ مئی ۲۰۰۵ء
اصل عنوان: 
ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کیسے ممکن ہے؟

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اب سے تین صدیاں قبل ایک بات کہہ دی تھی کہ اب آئندہ عالم اسلام میں اسلامی نظام کے احیا اور خلافت کے قیام کی بنیاد ’’فک کل نظام‘‘ پر ہوگی اور اس کے لیے ان کے افکار و فلسفہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔ ’’فک کل نظام‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کے موجودہ معاشرتی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں اصلاح و ترمیم کی گنجائش نہیں ہے اور اس ڈھانچے سے مکمل نجات حاصل کر کے نئے نقشے پر ہی ملت اسلامیہ کی نئی اسلامی زندگی کا آغاز ہو سکے گا۔ موجودہ معاشرتی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے نے ایک ہزار سال سے زیادہ وقت گزار لیا ہے، اس نے آزادی اور عروج کا دور بھی دیکھا ہے اور غلامی اور زوال کے دور سے بھی ملت اسلامیہ اسی ڈھانچے کے ساتھ گزری ہے۔ اب اس بلڈنگ کی کیفیت یہ ہوگئی ہے کہ اس میں مرمت اور جزوی اصلاح و تعمیر کے ساتھ صورتحال میں اصلاح کا کوئی امکان باقی نہیں رہا اور جیسا کہ دنیا کا عمومی رواج اور روایت ہے کہ نئی بلڈنگ تعمیر کرنے کے لیے پرانی بلڈنگ کو گرانا پڑتا ہے۔ اب اس بات کا وقت آگیا ہے کہ اس بوسیدہ عمارت سے بھی جان چھڑا لی جائے اور ازسرنو نقشہ ترتیب دے کر اس پر ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کی عمارت کھڑی کی جائے۔

اس نئے نقشے کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے فکری بنیاد بھی فراہم کی ہے کہ ہمیں سب سے پہلے انسانی سوسائٹی اور عالمگیر معاشرت کے لیے اسلامی نظام و قوانین کی افادیت و ضرورت کو ثابت کرنا ہوگا اور دنیا کو عقل و منطق اور فہم و استدلال کے ساتھ بتانا ہوگا کہ انسانی سوسائٹی کو مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر جو مسائل درپیش ہیں ان کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے اور وہ حل سب سے بہتر ہے اس لیے دنیا کو اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا ارشاد ہے کہ قرآن کریم کے معجزہ ہونے کی جو مختلف عملی صورتیں (وجوہ اعجاز) ہیں اور جن کے حوالہ سے قرآن کریم نے دنیا بھر کو چیلنج کیا ہے کہ کوئی فرد یا قوم قرآن کریم کے مقابلہ کی کوئی کتاب لا سکتی ہو تو لا کر دکھائے۔ اس چیلنج کا ہر دور میں الگ الگ مفہوم رہا ہے۔ کسی زمانے میں جبکہ دنیا میں فصاحت و بلاغت کا عروج تھا اور قوموں کے لیے سب سے زیادہ باعث فخر ان کی زبان دانی اور فصاحت ہوا کرتی تھی، ان کے لیے قرآن کریم کا چیلنج اس پہلو سے تھا کہ کوئی فرد یا قوم فصاحت یا بلاغت میں قرآن کریم کا مقابلہ کر کے دکھائے اور اگر وہ پوری کتاب نہیں لا سکتے تو کم از کم ایک سورۃ کا مقابلہ ہر کر دکھائیں۔ مگر اب آنے والا دور چونکہ سماجیات، سسٹم، قانون اور عالمگیر معاشرت کا ہے اس لیے قرآن کریم کے اس چیلنج کا ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے کہ انسانی سوسائٹی کی تشکیل، معاشرہ کی فلاح و بہبود اور نسل انسانی کے مسائل کے حل کے لیے قرآن کریم نے جو قوانین و ضوابط پیش کیے ہیں، افادیت و ضرورت اور نتائج و ثمرات کے حوالہ سے ان کے مقابل کا کوئی ایک قانون دنیا والے پیش کر دیں۔ لیکن جیسے دوسرے میدانوں میں قرآن کریم کا مقابلہ کسی قوم سے آج تک نہیں ہو سکا اس میدان میں بھی نہیں ہو سکے گا۔

اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہمارے سامنے آچکی ہے اور ہم نے اس کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کیا ہے، وہ یہ کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم ہوئے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ابھی تک اس کو یاد کیا جا رہا ہے اور نہ صرف یہ افغانستان کے باشندے اس دور کے امن کا تذکرہ کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی دانشگاہوں میں یہ مسئلہ بحث اور مکالمہ کا موضوع بنا ہوا ہے کہ طالبان نے اپنے پانچ سالہ دور میں اپنے کنٹرول کی حدود میں وہ امن کیسے قائم کر لیا تھا جو اب فوجوں اور وسائل کی فراوانی کے باوجود قائم نہیں ہو رہا؟ اور یہ کیا بات تھی کہ طالبان کے امیر کے ایک رسمی حکم پر کسی لالچ اور تخویف کے بغیر ان کے زیر کنٹرول پورے علاقے میں پوست کی کاشت ختم ہوگئی تھی مگر اب لالچ اور ڈر کے تمام حربوں کے باوجود اس کی کاشت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ بعض اخباری رپورٹوں کے مطابق طالبان رہنماؤں سے اس سلسلہ میں رابطے بھی کیے گئے ہیں کہ وہ یہ بتائیں کہ انہوں نے امن کیسے قائم رکھا ہوا تھا لیکن اس میں کوئی راز کی بات نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی لمبے چوڑے فلسفے کا مسئلہ ہے بلکہ سادہ سی بات ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں اپنے زیر کنٹرول علاقے میں قرآن و سنت کے احکام کی عملداری کا اعلان کر رکھا تھا اور وہ اس پر اپنی استطاعت کی حد تک عملدرآمد میں بھی سنجیدہ تھے۔ یہ قانون افغان عوام کے عقیدہ اور معاشرت دونوں کے ساتھ ہم آہنگ تھا اس لیے انہیں اس پر عملدرآمد میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی، انہوں نے سمجھا کہ وہ کسی مسلط ہونے والے گروہ کے احکام پر عمل نہیں کر رہے بلکہ اپنے پیدا کرنے والے خدا کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں جس کے ہر فیصلے میں حکمت ہے اور کسی حکم میں اس کا اپنا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے، وہ ہمارے مسائل و مشکلات سے کماحقہ آگاہ ہے اور ان کو دور کرنے کی پوری قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ ہمارا خیر خواہ اور مہربان بھی ہے۔

ظاہر بات ہے کہ جس قانون کو کسی بھی معاشرہ میں عقیدہ و یقین کی یہ پشت پناہی میسر ہوگی اسے نفاذ کے لیے کسی لمبے چوڑے سسٹم اور ڈھانچے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور ہر شہری کا ذہن اور ضمیر خودبخود اسے قانون کی پابندی کے لیے تیار کر لے گا۔ جبکہ اس کے برعکس جس قانون اور ضابطے کے بارے میں عام لوگوں کا یہ تاثر ہو کہ یہ مسلط لوگوں نے اپنے مفادات کے لیے نافذ کیا ہے اور اس میں عوام سے زیادہ نافذ کرنے والوں کا مفاد وابستہ ہے، نیز نافذ کرنے والوں کو نہ ان کی حقیقی مشکلات کا علم ہے اور نہ ہی وہ لوگوں کے اس درجہ کے خیرخواہ ہیں کہ ان کے فائدہ کے لیے خود اپنے مفادات کی قربانی دے سکیں تو ایسے قوانین اور ضوابط کو کسی بھی معاشرہ میں نفاذ اور اثر انداز ہونے کے لیے مصنوعی سہاروں اور دباؤ کی ضرورت ہر وقت رہے گی۔ وہ قانون اور ضابطہ اسی وقت تک نافذ اور مؤثر رہے گا جب تک اسے دباؤ اور سہارے کی طاقت میسر ہوگی اور جونہی یہ دباؤ اور سہارا کمزور پڑے گا، قانون بھی فضا میں تحلیل ہو کر رہ جائے گا۔

اسلام کے قانون کا امتیاز یہی ہے کہ وہ سب سے پہلے ایمان اور یقین کا ماحول پیدا کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر معاشرتی نظام کا ڈھانچہ استوار کرتا ہے۔ یہ خصوصیت دنیا کے کسی اور نظام کو حاصل نہیں ہے بلکہ دنیا نے علاقائی قومیتوں کے جو بت انسانی عقیدت و محبت اور وفاداری و اطاعت کے جذبات کی تسکین کے لیے تراش رکھے ہیں اور جن مصنوعی سہاروں پر مختلف نظام اب تک چل رہے ہیں وہ بت بھی انٹرنیشنلزم اور بین الاقوامیت کے بڑھتے ہوئے طوفان کے سامنے خود کو کھڑا رکھنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ اس لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشاد کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو عقیدہ اور یقین کی قوت سے ایک بار پھر روشناس کرایا جائے اور نسل انسانی کو یہ پیغام دیا جائے کہ انسانی نسل میں کسی نظام اور فلسفہ و فکر کے فروغ اور نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد عقیدہ پر ہو۔ اور کائنات کو پیدا کرنے والی ذات پر یقین ہی وہ واحد عقیدہ ہے جو انسانوں کو کسی ایک سسٹم میں مربوط کر سکتا ہے۔ قرآن کریم اسی عقیدہ کا اعلان کرتا ہے، اسی کی طرف پوری نسل انسانی کو بلاتا ہے، اسی کو انسانی معاشرہ کی واحد فکری بنیاد قرار دیتا ہے اور اسی کو اپنا کر انسانی سوسائٹی ایک بہتر عالمی ماحول اور کامیاب گلوبل سسٹم کی طرف پیش رفت کر سکتی ہے۔