حدیث کا دین میں مقام و مرتبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳۰ اپریل ۲۰۱۴ء

ان دنوں دینی مدارس میں تعلیمی سال کا اختتامی مہینہ چل رہا ہے اور اگلے ماہ سالانہ امتحانات کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ کچھ عرصہ سے بخاری شریف کی آخری حدیث کا سبق ایک تقریب کی صورت میں پڑھائے جانے کا رجحان بڑھ گیا ہے اور اس حوالہ سے باقاعدہ اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جن میں بخاری شریف کے آخری سبق کے ساتھ ساتھ مدارس کی کارکردگی اور دیگر دینی ضروریات کی طرف بھی لوگوں کو توجہ دلائی جاتی ہے۔ ۲۷ اپریل کوصبح ۱۱ بجے رائے ونڈ کے جامعہ بناء العلم اور بعد نماز عشاء مکی مسجد گوجرانوالہ کے جامعہ فاطمۃ الزہراء میں طالبات کو بخاری شریف کا آخری سبق پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی اور اس موقع پر جو گفتگو ہوئی اس کے کچھ حصے قارئین کی نذر کیے جا رہے ہیں۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ چونکہ طالبات کو حدیث نبویؐ کا ایک سبق پڑھانے کی تقریب ہے اس لیے دو باتوں پر بطور خاص گفتگو کرنا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ حدیث کیا ہے اور دین میں اس کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ اور دوسری بات یہ کہ علم دین بالخصوص قرآن کریم، حدیث نبویہؐ اور فقہ اسلامی کے ساتھ خواتین کا تعلق کیا ہے اور اس سلسلہ میں ہماری روایات کیا ہیں؟

حدیث نبویؐ کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا کہنا ہے کہ یہ علوم دینیہ میں داخلہ کا صدر دروازہ ہے۔ ہم دینی علوم میں سے کوئی علم بھی حاصل کرنا چاہیں تو اس کےلیے ہمارے پاس سب سے بڑا ذریعہ حدیث نبویؐ ہے، حتیٰ کہ قرآن کریم تک رسائی کا ذریعہ بھی حدیث نبویؐ ہے۔ اس کی ایک مثال عرض کرنا چاہوں گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی پہلی وحی سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات ہیں جو ’’اقراء‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔ لیکن یہ بات معلوم کرنے کے لیے کہ یہ پہلی پانچ آیات ہیں جن سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا تھا، ہمارے پاس ذریعہ صرف غار حرا کا واقعہ ہے جو حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ غار حرا کے واقعہ کے ذریعے ہمیں ان آیات کا علم ہوا ہے اور ہم ان پر ایمان لائے ہیں، اگر غار حرا کا یہ واقعہ نہ ہو تو ان آیات تک رسائی کا ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

یہ بات میں نے اس لیے عرض کی ہے کہ بعض حضرات کو مغالطہ ہو جاتا ہے کہ کیا قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد حدیث پر ایمان لانا بھی ضروری ہے؟ تو میں ایسے دوستوں سے عرض کیا کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس لیے کہ اگر حدیث کو مانیں گے تو قرآن کریم تک رسائی ہوگی اور اگر خدانخواستہ حدیث پر ایمان نہیں ہے تو قرآن کریم کی کسی آیت یا جملے پر ایمان لانا ممکن ہی نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم حاصل کرنے اور اسے امت تک پہنچانے میں جس طرح مردوں نے محنت کی ہے اسی طرح عورتوں نے بھی محنت کی ہے ۔ہزاروں صحابہ کرامؓ کی طرح سینکڑوں صحابیاتؓ بھی روایتِ حدیث کا حصہ ہیں۔ اور کہیں بھی یہ فرق نہیں کیا گیا کہ یہ روایت مرد سے ہے اس کا درجہ زیادہ ہے اور یہ روایت عورت سے ہے اس کا درجہ کم ہے۔ جس طرح مرد صحابہ کرامؓ کی روایات کو حجت سمجھا گیا ہے اسی طرح عورتوں کی روایات کو بھی اسی درجہ کی حجت کا مقام حاصل ہے۔ حدیث کی روایت میں یہ فرق تو محدثین اور فقہاء کرام کے ہاں پایا جاتا ہے کہ گھر کے اندر کے ماحول سے تعلق رکھنے والی روایات میں خواتین کی روایات کو ترجیح حاصل ہے۔ حضرات صحابہ کرامؓ خود جناب نبی اکرمؐ کے گھریلو ماحول کے بارے میں ازواج مطہراتؓ کی روایات کو فوقیت دیا کرتے تھے مگر یہ فرق کہیں بھی نہیں ہے کہ مردوں کی روایات کو مرد ہونے کی وجہ سے عورتوں کی روایات پر ترجیح دی جاتی ہو۔

قرآن کریم کی تفسیر کے حوالہ سے بھی یہی صورتحال ہے اور بخاری شریف کی کتاب التفسیر میں بیسیوں روایات موجود ہیں کہ قرآن کریم کی تفسیر و تشریح جس طرح مرد صحابہ کرامؓ کرتے تھے اسی طرح خواتین صحابیاتؓ نے بھی قرآن کریم کی آیات، جملوں اور الفاظ کی تفسیر و تشریح فرمائی ہے۔ کسی جگہ بھی یہ فرق دیکھنے میں نہیں آیا کہ قرآن کریم کی تفسیر و تشریح کے باب میں مردوں اور عورتوں کے درمیان امتیاز روا رکھا گیا ہو۔

فقہ و استنباط کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ مرد صحابہ کرامؓ اجتہاد کرتے تھے، قرآن کریم کی آیات اور احادیث نبویہؐ سے استنباط و استدلال کر کے مسائل بیان کرتے تھے اور فتویٰ دیا کرتے تھے اور عورتیں بھی اس کام میں پیچھے نہیں تھیں۔ حافظ ابن القیمؒ نے صحابہ کرامؓ کے دور میں تئیس (۲۳) خواتین کا تذکرہ کیا ہے جو باقاعدہ فتویٰ دیا کرتی تھیں اور ان کا فتویٰ تسلیم کیا جاتا تھا۔ ان میں سب سے بڑی مفتیہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ تھیں جو اپنے معاصر مفتیوں کے فتاویٰ پر نقد بھی کرتی تھیں اور ان کے جواب میں اپنا فتویٰ صادر کرتی تھیں۔

اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے عرض کرنا چاہتا ہوں جو تفسیر ابن کثیرؒ میں موجود ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں ایک موقع پر خطبۂ جمعہ کے دوران مہر کی رقم پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا، فرمایا کہ چونکہ شادی میں مہر کی بڑی رقم طے کر لی جاتی ہے اور بعد میں ادائیگی کے موقع پر جھگڑے ہوتے ہیں اس لیے میں اعلان کرتا ہوں کہ کسی شادی میں چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر نہ کیا جائے، اگر کسی شادی میں چار سو درہم سے زیادہ مہر دیا گیا تو زائد رقم بحق سرکار ضبط کر کے بیت المال میں جمع کردوں گا۔ یہ اعلان فرمانے کے بعد جمعہ پڑھا کر باہر نکلے تو ایک خاتون نے روک لیا کہ امیر المؤمنین! آپ نے یہ اعلان کیسے کر دیا ہے، کیا آپ نے قرآن کریم نہیں پڑھا؟ حضرت عمرؓ کے اوصاف میں ایک خاص وصف امام بخاریؒ نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ قرآن کریم کا حوالہ سامنے آتے ہی رک جایا کرتے تھے۔ انہوں نے خاتون سے حوالہ پوچھا تو اس نے کہا کہ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ اگر تم نے اپنی بیویوں کو ’’قنطار‘‘ برابر دولت بھی دے دی ہے تو جو دے دی ہے وہ ان سے واپس نہ مانگو۔ قنطار ڈھیر کو کہتے ہیں، اس خاتون کا استدلال یہ تھا کہ جب قرآن کریم ہمیں خاوندوں سے ڈھیروں کے حساب سے دلواتا ہے تو آپ چار سو درہم سے زیادہ مہر پر پابندی کیسے لگا رہے ہیں؟ یہ سن کر حضرت عمرؓ اسی وقت واپس مسجد میں گئے اور دوبارہ اعلان فرمایا کہ مجھ سے اعلان میں غلطی ہوگئی تھی، ایک عورت نے مجھے قرآن کریم کی آیت کی طرف توجہ دلائی ہے اور وہ ٹھیک کہتی ہے، اس لیے میں اپنا اعلان واپس لیتا ہوں۔

آج کہا جاتا ہے کہ اسلام عورت کو رائے کا حق نہیں دیتا اور علم کا حق نہیں دیتا۔ میں عرض کرتا ہوں کہ اسلام میں عورت کا رائے کا حق یہ ہے کہ وہ حضرت عمرؓ کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کر رہی ہے اور اس کے علم کا مقام یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے سامنے قرآن کریم سے استدلال کر رہی ہے اور حضرت عمرؓ اس کے استدلال کو قبول فرما رہے ہیں۔

درجہ بندی: