پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کا خاتمہ ۔ خطرات و خدشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ دسمبر ۲۰۰۴ء
اصل عنوان: 
پاسپورٹ مسئلہ پر جمعیۃ علماء اسلام کی آل پارٹیز کانفرنس

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ۱۸ دسمبر ہفتہ کو اسلام آباد میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس طلب کر لی ہے جس کا مقصد پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے کے بارے میں حکومتی کارروائی کا جائزہ لینا ہے اور دینی حلقوں کے اس مطالبہ کی حمایت کرنا ہے کہ حسب سابق پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کیا جائے۔ مولانا موصوف نے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کو اس سلسلہ میں جو دعوت نامہ جاری کیا ہے اس کا متن یہ ہے:

’’مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے منکرین ختم نبوت (قادیانیوں) کو آئین پاکستان میں متفقہ طور پر پارلیمنٹ نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا، اس کے قانونی تقاضہ کی تکمیل اور حرمین شریفین میں قادیانیوں کا داخلہ روکنے کے لیے پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کیا گیا۔ ۲۵ سال سے یہ خانہ پاسپورٹ میں موجود تھا، اب حکومت نے نئے کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ سے اسے حذف کر دیا ہے جو اسلامیان پاکستان کے لیے سخت پریشانی کا باعث ہے۔ اس پر ملک بھر میں شدید احتجاج جاری ہے لیکن تاحال حکومت نے اصلاح احوال کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ اس حساس دینی و قومی مسئلہ پر سوچ بچار اور لائحہ عمل طے کرنے کے لیے جمعیۃ علماء اسلام نے تمام مکاتب فکر کی آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس ۱۸ دسمبر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے حوالہ سے کافی دنوں سے دینی و قومی حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور اس بات پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاسپورٹ میں مذہب کا یہ خانہ جو تحریک ختم نبوت کے ایک طویل دور کے بعد دینی حلقوں کے مسلسل مطالبہ اور عوامی دباؤ پر پارلیمنٹ کے متعلقہ فیصلہ کے منطقی تقاضوں کی تکمیل کے لیے آج سے پچیس برس قبل پاسپورٹ میں شامل کیا گیا تھا اسے ختم کرنے میں اس قدر خاموشی سے کارروائی کی گئی ہے کہ نہ تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے اور نہ ہی ان حلقوں کو اس سلسلہ میں کچھ بتانے کی زحمت گوارا کی گئی ہے جن کی جدوجہد کے نتیجے میں یہ خانہ پاسپورٹ کے اندراجات کا حصہ بنا تھا۔ اس لیے ملک کے دینی حلقے یہ اندازہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کوئی مخصوص لابی اندر ہی اندر ملک کی اسٹیبلشمنٹ میں اس مقصد کے لیے متحرک ہے جو قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کے فیصلے کو غیر مؤثر بنانے کے لیے جب بھی کوئی موقع ملتا ہے خاموشی کے ساتھ ہاتھ دکھا جاتی ہے۔

اس سے قبل جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور حکومت میں ایسا ہوا تھا کہ مسلم ووٹروں کے فارم میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ اچانک ختم کر دیا گیا جس کا فائدہ صرف قادیانیوں کو تھا کہ وہ اپنے نام مسلم ووٹروں کی فہرست میں درج کرا کے اپنے بارے میں پارلیمنٹ کے فیصلے کو غیر مؤثر بنا سکتے تھے۔ صورتحال معلوم ہونے پر جب دینی حلقوں نے احتجاج کیا تو کہا گیا کہ اب تو لاکھوں فارم شائع ہو چکے ہیں اور دوبارہ فارم چھپوانے میں وقت اور رقم دونوں کا ضیاع ہوگا۔ اس وقت پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے اس مسئلہ کو ہاتھ میں لیا اور جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم سے دوٹوک طور پر کہہ دیا کہ ہم الیکشن کے التوا سمیت ہر بات قبول کرنے کو تیار ہیں مگر عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ کے بغیر ووٹر فارم کسی صورت میں قبول نہیں ہوں گے، جس پر حکومت کو دوبارہ یہ حلف نامہ ووٹر فارم میں شامل کرنا پڑا۔

چند سال قبل ایک بار پھر یہ ڈرامہ دہرایا گیا اور ووٹر فارم سے عقیدۂ ختم نبوت کا حلف نامہ خاموشی کے ساتھ غائب کر دیا گیا جس پر دینی حلقے ایک بار پھر سراپا احتجاج ہوئے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس طلب کی جس پر حکومت کو اپنا یہ اقدام واپس لینا پڑا۔

اب یہ کھیل پاسپورٹ کے ساتھ کھیلا گیا ہے اور انتہائی خاموشی کے ساتھ اسلام آباد سے جاری ہونے والے نئے مشین ریڈایبل کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ نکال دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اس قدر منظم انداز میں کی گئی کہ اس کا پتہ اس وقت چلا جب ہزاروں پاسپورٹ جاری ہو چکے تھے اور پاسپورٹ کی لاکھوں کاپیاں طبع ہو چکی تھیں۔ چنانچہ جب اس سلسلہ میں رابطہ کیا گیا تو وہی عذر دہرایا گیا کہ اب تو کچھ نہیں ہو سکتا، لاکھوں کاپیاں چھپ چکی ہیں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ریڈایبل سسٹم مذہب کے خانہ کو قبول نہیں کرتا اس لیے کمپیوٹر کے اندراج میں مذہب کا خانہ شامل نہیں کیا جا سکتا، البتہ الگ سے پاسپورٹ پر یہ مہر لگائی جا سکتی ہے کہ ’’حامل ہٰذا مسلمان ہے‘‘۔ مگر یہ عذر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس حوالہ سے حکومت کا جو موقف سامنے آیا ہے اور وفاقی وزراء نے ایوان میں اس کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اس کی روشنی میں دو تین سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں۔

  1. ایک یہ کہ پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے خاتمہ کی خاموش کارروائی کس کے حکم سے کی گئی ہے؟ اگر یہ خود حکومت کا فیصلہ ہے تو اس نے اس سلسلہ میں قومی اسمبلی اور متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا؟ اور اگر افسر شاہی کی کسی لابی نے از خود اتنی بڑی کارروائی کر دی ہے تو اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہے؟
  2. دوسرا سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی سسٹم پاسپورٹ کے خانہ میں مذہب کے خانے کو قبول نہیں کر رہا اور اسے نارمل کارروائی کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے، تو کل اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ ’’اسلامی‘‘ کے لفظ کو قبول کرنے سے بین الاقوامی سسٹم نے ہچکچاہٹ سے کام لینا شروع کر دیا تو کیا ہماری حکومت کا اس پر بھی یہی ردعمل ہوگا؟
  3. تیسرا سوال یہ ہے کہ جب پاسپورٹ کے باقاعدہ اندراجات میں مذہب کا ذکر نہیں ہوگا اور صرف مہر لگائی جائے گی کہ ’’حامل ہٰذا مسلمان ہے‘‘ تو اگر کوئی شخص جعلی مہر لگا کر خود کو مسلمان ظاہر کرے تو اس کے اس فراڈ کو چیک کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ خصوصاً اس حوالہ سے کہ قادیانیوں کی ایک عرصہ سے یہ کوشش چلی آرہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی حیلے بہانے سے خود کو سرکاری دستاویزات میں مسلمان ظاہر کریں تو اس کی اس کوشش کا توڑ کیا ہوگا؟

ادھر سعودی عرب کے ممتاز رہنما اور مؤتمر عالم اسلامی کے صدر ڈاکٹر عبد اللہ عمر النصیف کے اس خط نے بھی پاکستان کے دینی حلقوں کے خدشہ کی تصدیق کر دی ہے جو انہوں نے اس سلسلہ میں سعودی حکومت کو لکھا ہے اور ’’آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پاکستان کے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ختم کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے حرمین شریفین میں قادیانیوں کے داخلہ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین میں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے مگر قادیانی گروہ کئی دفعہ چکمہ دے کر حرمین شریفین میں داخل ہونے کی کوشش کر چکا ہے، اس گروہ کے زیادہ تر لوگوں کا تعلق پاکستان سے ہے اور ان کو حرمین شریفین میں داخلے سے باز رکھنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پاسپورٹ پر مذہب کا اندراج کیا جائے۔ ڈاکٹر عبد اللہ عمر النصیف کے اس خط سے واضح ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں صرف پاکستان میں نہیں بلکہ سعودی عرب میں بھی تشویش پائی جاتی ہے اور اس کاروائی کے منفی اثرات و خطرات کو وہاں بھی پوری طرح محسوس کیا جا رہا ہے۔

اس پس منظر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان کی طلب کردہ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ تمام دینی جماعتیں اس میں پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ شریک ہوں گی اور حسب سابق تمام دینی جماعتوں کا یہ مشترکہ فورم سرکاری حلقوں میں چھپی ہوئی قادیانی نواز لابی کی اس سازش کا سدباب کرنے میں بھی کامیاب ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔