اسکولوں میں عربی زبان کو لازم قرار دینے کا فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۴ء

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف خان نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں قرآن کریم کے حفاظ میں انعامات کی تقسیم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ خوش خبری دی ہے کہ اسرکاری سکولوں میں میٹرک تک عربی زبان کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے جس کے لیے اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کی تعلیم کی ضرورت ہے اور ہمارے ہاں اس سلسلہ میں مسلسل بے پروائی سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ مگر اب حکومت نے اس طرف توجہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور میٹرک تک عربی تعلیمی کو لازم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عربی زبان ہماری دینی زبان ہے اور صرف قرآن کریم سے واقفیت کے لیے نہیں بلکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ و سنت تک براہ راست رسائی اور امت مسلمہ کے ماضی کے علمی ذخیرہ سے آگاہی کے لیے بھی عربی زبان بنیادی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد سے ہی جب کہ اس کی ضرورت اسی وقت سے محسوس کی جا رہی ہے، اس سے بے اعتنائی کا رویہ جاری ہے اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود حکومتی حلقے اس کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔

عربی زبان کی اہمیت و ضرورت تو اپنے مقام پر مگر ہماری رولنگ کلاس کا حال یہ ہے کہ قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم کو بھی ابھی تک ہمارے سرکاری تعلیمی نصاب و نظام میں ضرورت کا درجہ نہیں دیا جا سکا۔ کچھ عرصہ قبل وفاقی محتسب اعلیٰ نے باقاعدہ آرڈر دیا تھا کہ سرکاری سکولوں میں مڈل تک قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔ مگر یہ آرڈر کم از کم دو عشرے گزر جانے کے باوجود عملدرآمد کے مرحلہ میں داخل نہیں ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ملک بھر میں پرائمری اور مڈل سکولوں کی تعداد کو سامنے رکھتے ہوئے ان میں سے ہر سکول کو کم از کم دو قاری مہیا کرنے کے لیے بھی قراء کرام موجود نہیں ہیں۔ اور اگر اتنی تعداد میں قاری حضرات میسر آبھی جائیں تو ان کی تنخواہوں کے لیے بجٹ میں رقم کا بندوبست نہیں ہے۔ یہ کہہ کر پرائمری اور مڈل سکولوں میں قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم کا اہتمام کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا اور اب بھی اس کے کوئی امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔ حالانکہ ایک مسلم ریاست میں دینی تعلیم کا یہ بالکل ابتدائی لیول ہے کہ ایک مسلمان بچہ یا بچی کم از کم قرآن کریم ناظرہ پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔

دوسری طرف جو دینی مدارس اتنی بڑی قومی ضرورت کو پورا کرنے میں اپنا کردار مؤثر طریقہ سے ادا کر رہے ہیں، وہ ہر دور میں حکومتوں کی منفی پالیسیوں کی زد میں رہتے ہیں اور ہر حکومت انہیں دباؤ میں رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ حالانکہ پرائمری اور مڈل سکولوں سے کہیں زیادہ تعداد میں موجود مساجد اور مدارس کو قرآن کریم پڑھانے والے حافظ اور قاری صاحبان مہیا کرنے کی خدمت یہی دینی مدارس سر انجام دے رہے ہیں اور وہ حکومت سے کسی بجٹ کا تقاضا بھی نہیں کر رہے۔ تھوڑی دیر کے لیے اس صورت حال پر ایک نظر ڈالنے کی زحمت کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دینی مدارس ہمارے معاشرے میں مسجد و مدرسہ کا نظام قائم رکھنے کے لیے حافظ، قاری، خطیب، امام، مدرس اور مفتی جتنی تعداد میں مہیا کر رہے ہیں، وہ پرائیویٹ سیکٹر میں فی الواقع حیرت انگیز بات ہے۔ مگر اس کا اعتراف اور تحسین کرنے کی بجائے مختلف حوالوں سے دینی مدارس کی کردار کشی اور ان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ ان کے کردار کو محدود بلکہ غیر مؤثر کرنے کی سرکاری پالیسیاں وقفے وقفے کے ساتھ سامنے آتی رہتی ہیں اور اب بھی قومی سلامتی پالیسی کے عنوان سے ان کا اعادہ کیا جا رہا ہے۔

یہ بات ہم نے اس لیے عرض کی ہے کہ سردار محمد یوسف خان محترم عربی زبان کو میٹرک تک لازم قرار دینے کی جو خوش خبری دے رہے ہیں وہ لائق تحسین ہے۔ لیکن اس سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ سرکاری اسکولوں میں کم از کم قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم کا تو اہتمام کیا جائے اور اس کے لیے کسی نئی پالیسی کی ضرورت نہیں بلکہ وفاقی محتسب اعلیٰ کے اس حکم پر عملدرآمد کی کوئی صورت نکال لی جائے جو برس ہا برس سے معطل پڑا ہے۔ عربی زبان صرف ہماری دینی زبان نہیں بلکہ آج کی زندہ اور مروجہ بین الاقوامی زبانوں میں بھی اہم مقام رکھتی ہے اور بیسیوں ممالک کی قومی زبان ہے جن کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں اور جن ممالک میں پاکستان کی افرادی قوت روزگار کے لیے لاکھوں کی تعداد میں ہر وقت موجود رہتی ہے۔ ہمیں سردار محمد یوسف خان کے اس ارشاد سے سو فی صد اتفاق ہے کہ اگر ہمارے ہاں عربی زبان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے آغاز سے ہی اس کی ضرورت تعلیم کا اہتمام ہو جاتا تو ہمیں بہت سے الجھے ہوئے مسائل سے نجات مل سکتی تھی اور اب بھی عربی زبان کو اس کا صحیح مقام دے کر ان الجھنوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ اور رولنگ کلاس ایسا ہونے دے گی؟ اگر قومی پالیسیوں کے فریزر کا دروازہ کھولا جائے تو اس میں سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت، وفاقی محتسب اعلیٰ، بلکہ حکومتوں کے بڑے بڑے اچھے فیصلے منجمد ملیں گے جو اصولی طور پر کر لیے گئے تھے اور ان پر عمل کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا مگر آج تک وہ حکومتوں کی توجہ کے طلب گار ہیں۔

ہماری حالت یہ ہے کہ ہم فیصلہ کرنے میں بخل نہیں کرتے اور دینی ضرورت اور قومی مفاد کے لیے بہتر سے بہتر فیصلہ کرنے میں ہم پوری مہارت رکھتے ہیں لیکن خود اپنے کیے ہوئے فیصلوں پر عملدرآمد ہمارے لیے مشکل ہو جاتا ہے اور اندرونی و بیرونی مشکلات ہر اچھے کام کی طرف پیش رفت میں ہمارے پاؤں کی زنجیریں بن جاتی ہیں۔ اس لیے فیصلوں سے زیادہ ان پر عمل درآمد کے نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سردار محمد یوسف خان ایک محترم، شریف النفس، عوامی خدمت گار اور نظریاتی شخصیت کا تعارف رکھتے ہیں۔ ہم ان کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ایک اچھے فیصلے پر حکومت کو مبارک باد دیتے ہوئے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اچھے فیصلے کرتے ہوئے ان پر عملدرآمد کے نظام کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دیں کہ اصل ضرورت اسی کی ہے۔