ناقدین کی خدمت میں!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ تا ۱۸ جون ۲۰۱۴ء

۶ دسمبر ۲۰۱۳ء کو جامعہ فاروقیہ کراچی کے رئیس مولانا سلیم اللہ خان زیدمجدہم کی طرف سے ملک بھر کے علماء کے نام ایک تحریر جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ:

’’مولانا ابوعمار زاہد الراشدی نے ’’آزاد فورم‘‘ کے نام سے ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ میں حساس، نازک اور اہم موضوعات پر ایسی تحریریں شائع کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو نہ صرف مذہب اہل سنت، مسلک احناف اور مشرب دیوبند سے مطابقت نہیں رکھتیں بلکہ وہ سراسر اسلام کے اجماعی موقف سے بھی متصادم ہوتی ہیں۔ اس قسم کی ہفوات کا اصل مرکز زاہد الراشدی صاحب کا بیٹا محمد عمار خان ناصر غامدی ہے۔ مولانا زاہد الراشدی کی بعض ترجیحات اور تحریرات پر بھی علمائے دیوبند کو شدید تحفظات ہیں، کئی اکابر و محققین کے مسلسل توجہ دلانے اور باحوالہ و مدلل گفتگو کے باوجود ان حضرات نے اپنی روش نہیں بدلی اور بدستور ان کی ایمان سوز تحریریں شائع ہو رہی ہیں۔ بلکہ مولانا زاہد الراشدی اپنے بیٹے کو ان بے اصولیوں سے روکنے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی بلکہ دفاع بھی کرتے ہیں۔ ’’الشریعہ‘‘ بھی انہی کی نگرانی اور سرپرستی میں شائع ہو رہا ہے لیکن انہوں نے تاحال نہ یہ سلسلہ ختم کیا اور نہ ہی بیٹے کو برطرف کیا۔ تنبیہ و تفہیم کا ہر طریقہ اب تک بے اثر ہی رہا۔ فیا لملاسف!! ۔ سردست انتہائی ضروری ہے کہ اس ضال و مضل ٹولے کا ہر محاذ پر بائیکاٹ کیا جائے، شاید یہ طریقہ ان کے رجوع الی الحق کا ذریعہ بن جائے۔‘‘

اس کے جواب میں ۱۰ جنوری ۲۰۱۴ء کو میں نے مولانا سلیم اللہ خان کے نام خط میں یہ عرض کیا کہ:

’’آنجناب اور دستخط کرنے والے دیگر بزرگوں کو اس سلسلہ میں پہلے مجھ سے رابطہ کر کے میرا موقف معلوم کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جبکہ مسلّمہ شرعی اصول ہے کہ جس پر الزامات عائد کیے جا رہے ہوں اس کا موقف معلوم کیے بغیر اور اسے وضاحت کا موقع دیے بغیر کوئی فیصلہ یکطرفہ کہلاتا ہے اور اس کی کوئی شرعی پوزیشن نہیں ہوتی۔ اس بنا پر میں آنجناب سے درخواست کر رہا ہوں کہ مجھے ان الزامات کی متعین فہرست فراہم کر کے مجھ سے ان کا جواب طلب کیا جائے اور میرے جوابی موقف اور وضاحت کو سامنے رکھ کر جو رائے بھی مناسب سمجھیں اس کا اظہار کیا جائے۔‘‘

حضرت مولانا نے میری اس گزارش کو قبول نہیں کیا البتہ میری مکرر درخواست پر اپنے ۱۸ مارچ ۲۰۱۴ء کو تحریر فرمودہ تفصیلی گرامی نامہ میں مجھ پر اور عمار خان پر الزامات کی ایک فہرست بیان فرما دی۔ یہ اعتراض کم و بیش وہی ہیں جو اس سے قبل متعدد بار بعض حضرات کی طرف سے سامنے آتے رہے ہیں اور ان کے تفصیلی جوابات ماہنامہ الشریعہ اور ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ مگر وہی سب باتیں جوابی موقف کا مطالعہ کیے بغیر پھر سے یکطرفہ طور پر اس گرامی نامہ میں شامل کر دی گئیں اور فرمایا گیا کہ ان مسائل پر مزید کسی گفتگو کی ضرورت نہیں ہے اور یہ کہ:

’’آپ صرف وقت گزارنے کے خواہشمند ہیں، اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، لہٰذا ہم اپنے بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے آپ سے گفتگو ختم کر رہے ہیں کیونکہ طول اور بحث برائے بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘

میں نے ۲۰ مارچ ۲۰۱۴ء کو حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کی خدمت میں دوبارہ ایک عریضہ ارسال کیا جس میں گزارش کی گئی کہ:

’’آپ کے ارشادات کا خلاصہ میں یہ سمجھا ہوں کہ آنجناب میرے مسئلے کے بارے میں کسی نئے بحث و مباحثہ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور اس سلسلے میں اب تک جو کچھ لکھا جا چکا ہے اسے ہی فیصلے کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ اگر آنجناب کی منشا یہی ہے تو میں اس کے لیے بھی حاضر ہوں، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ آنجناب چند غیر جانبدار اصحاب علم کی ایک کمیٹی کی تشکیل سے اتفاق فرما لیں جو:

  • اس بات کی وضاحت کرے کہ علمی، فکری اور فقہی اختلافات کی حدود کیا ہیں اور کون سے اختلاف پر کسی کو گمراہ اور اہل سنت یا دیوبندیت سے خارج قرار دیا جا سکتا ہے؟
  • اس کمیٹی کے سامنے ہمارے مسئلے کے بارے میں دونوں طرف سے اب تک شائع ہونے والا مواد پیش کر دیا جائے جو اس کا مطالعہ کرنے کے بعد وضاحت طلب امور کی وضاحت طلب کرے اور اس کے بعد جو فیصلہ مناسب سمجھے صادر کر دے۔‘‘

میرے اس خط کا جواب نہیں دیا گیا چنانچہ طویل انتظار کے بعد اب میں یہ سطور تحریر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اور چونکہ میری معروضات اور استدعا کا جواب دیے جانے کی بجائے اس سارے مواد کی ملک بھر میں اشاعت، تشہیر اور تقسیم کا وسیع پیمانے پر اہتمام کیا گیا ہے اس لیے میں بھی مجبورًا یہ گزارشات مطبوعہ صورت میں پیش کر رہا ہوں۔

ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ مزاج راسخ ہوتا جا رہا ہے کہ ہم نے جس کے خلاف کچھ کہنا ہوتا ہے اس کا موقف اس سے نہیں پوچھتے بلکہ اس کی چند عبارات کو سامنے رکھ کر خود طے کرتے ہیں، اور اگر وہ جواب میں اپنے موقف کی وضاحت کرے تو اسے یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہمارے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوا ہے کہ ہماری تحریروں سے اپنے مطلب کی عبارات چھانٹی گئی ہیں اور ان پر فتویٰ اور مہم بازی کی پوری عمارت کھڑی کر دی گئی ہے۔ ہمارا موقف ہم سے پوچھنے کی بجائے از خود طے کر لیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد ہم اپنے موقف کی وضاحت کا حق مانگ رہے ہیں تو اسے ’’بحث کو آگے بڑھانے اور مزید طول دے کر معاملے کو الجھانے‘‘ کا عنوان دے کر یہ حق دینے سے صاف انکار کر دیا گیا ہے۔

حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کے مکتوب گرامی میں جتنی باتیں تحریر فرمائی گئی ہیں وہ سب الزامات ہیں، کسی ایک کے ساتھ بھی کوئی دلیل، حوالہ یا ثبوت موجود نہیں ہے۔ بلکہ اس سے قبل جس فتوے کو ’’متفقہ فتویٰ‘‘ قرار دیا گیا ہے اس میں بھی صرف یکطرفہ دعویٰ اور الزامات کا ذکر ہے۔ جبکہ ملک بھر کے جن ذمہ دار مفتیان کرام نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے ان کی فہرست سامنے لائی جائے تو دستخط کرنے والے بزرگوں کی تعداد اس کے ’’متفقہ‘‘ ہونے کی حیثیت کو واضح کر دے گی۔ مکتوب گرامی میں وفاق المدارس کے معاملے کا حوالہ دیا گیا ہے اور دو شکوے کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ میں نے زبانی گفتگو کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی بجائے تحریری مکالمے کو ترجیح دی ہے اور دوسرا یہ کہ وفاق المدارس نے جو کمیٹی قائم کی تھی میں نے اس کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

اصل صورتحال یہ ہے کہ زبانی گفتگو کی بجائے تحریری مکالمے کا راستہ میں نے اختیار نہیں کیا بلکہ دونوں مرتبہ دوسری طرف سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ وفاق المدارس کے مجلہ نے ربیع الاول ۱۴۳۰ھ کے شمارے میں میرے خلاف تند و تیز مضمون شائع کیا تھا تو اس سے قبل مجھ سے زبانی بات چیت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تھی، اور جب اس مضمون کے جواب میں اپنا وضاحتی مضمون میں نے بھجوایا تو اسے شائع کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ دوسری بار بھی فتویٰ صادر کرنے سے پہلے مجھ سے گفتگو مناسب نہیں سمجھی گئی تھی اور فتویٰ صادر ہونے کے بعد میں نے جب غیر جانبدار مفتیان کرام کی کمیٹی گفتگو کے لیے قائم کرنے کی درخواست کی تو اس سے انکار کر دیا گیا۔ اس لیے میں نے اگر تحریری دفاع کا راستہ اختیار کیا ہے تو یہ جواباً ہے ، اس کی پہل میں نے نہیں کی۔

جہاں تک وفاق المدارس کی کمیٹی کی بات ہے، یہ درست ہے کہ میں نے اپنا جواب اور وضاحتی موقف ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ میں شائع نہ کرنے پر احتجاج کیا تھا اور میں اب بھی اس احتجاج میں خود کو حق بجانب سمجھتا ہوں، بالخصوص اس پس منظر میں کہ وفاق المدرس کی مجلس شوریٰ کے ۹ اپریل ۲۰۰۹ء کے اجلاس میں جہاں ماہنامہ الشریعہ پر ماہنامہ وفاق المدارس کے تبصرے اور میرے احتجاجی استعفے کے حوالے سے میرے ساتھ گفتگو کے لیے اکابر علمائے کرام کی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ ہوا، وہیں یہ بھی طے ہوا کہ ماہنامہ وفاق المدارس میں:

’’ایسے مضامین جو اکابر علماء دیوبند میں اختلاف یا انتشار کا ذریعہ بن سکتے ہوں ان سے اجتناب کیا جائے گا۔‘‘ (بحوالہ کارروائی مجلس شوریٰ)

اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاق المدارس کی مجلس شوریٰ نے بھی اختلافی مضمون کی اشاعت کو پسند نہیں کیا تھا۔ بہرحال اس کے بعد جب اپریل ۲۰۱۰ء کے دوران جامعہ اشرفیہ لاہور میں ہونے والے علمائے دیوبند کے ملک گیر اجتماع کے موقع پر اس کمیٹی کے بزرگ رکن حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے اس سلسلہ میں مجھ سے بات کی تو میں نے ان سے عرض کر دیا تھا کہ میں نے اس وقت احتجاج ریکارڈ کروایا تھا، اب میں حاضر ہوں، آپ بزرگ ہیں، جو فرمائیں گے اس کے مطابق کروں گا۔ لیکن اس کے بعد اس سلسلہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ صدر وفاق کی خدمت میں اس کے بعد تین مرتبہ میری حاضری ہو چکی ہے اور وہی اس کمیٹی کے سربراہ ہیں جو اس حوالے سے قائم کی گئی تھی۔ جامعہ اشرفیہ کے مذکورہ اجلاس کے موقع پر میں مسلسل دو روز ان کی خدمت میں حاضر رہا۔ جامعہ احسن المدارس کراچی کے معصوم طلبہ کی شہادت کے بعد چند سرکردہ حضرات کا جو اجلاس اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوا، اس اجلاس میں ان کی خدمت میں میری حاضری ہوئی۔ ۱۷ اپریل ۲۰۱۳ء کو وفاق المدارس کے مسئولین کا جو اجلاس ملتان میں حضرت مولانا سلیم اللہ خان کی صدارت میں ہوا جس کی ایک نشست میں مجھے خصوصی طور پر بلایا گیا۔ یہ نشست وفاق المدارس کے زیراہتمام مجوزہ عالمی اجتماع کی تیاریوں کے لیے تھی، اس میں سات رکنی ’’میڈیا کمیٹی‘‘ قائم کر کے مجھے اس کا مسئول بنایا گیا اور میں نے اس حوالے سے اسلام آباد میں باضابطہ اجلاس کر کے سرگرمیوں کا آغاز بھی کر دیا تھا۔

حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کو یاد ہوگا کہ ملتان کے مذکورہ اجلاس کے بعد میں ان کی مجلس میں بیٹھا تھا تو انہوں نے ایک بات بطور شکوہ فرمائی تھی کہ ’’تم نے وفاق المدارس کے تحت قدیم فضلاء کے امتحان میں فرضی نام سے شرکت کی تھی‘‘۔ میں نے عرض کیا تھا کہ نہیں! میں اپنے اصل نام کے ساتھ امتحان میں شریک ہوا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ’’کیا تم نے عبد القیوم کے نام سے امتحان نہیں دیا تھا؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ نہیں! میں نے عبد المتین کے نام سے امتحان دیا تھا اور وہ میرا اصل نام ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارا نام زاہد الراشدی نہیں ہے؟ میں نے اس کے جواب میں اپنا شناختی کارڈ ان کی خدمت میں پیش کیا تھا جس پر میرا نام ’’محمد عبد المتین خان زاہد‘‘ درج ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا ’’اچھا! میں تو اس حوالے سے تم سے بدگمان ہی رہا۔‘‘

میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس کے علاوہ کوئی اور ’’بدگمانی‘‘ ان کے ذہن میں ہوتی تو اس کا بھی اظہار فرماتے یا ان تینوں حاضریوں میں سے کسی موقع پر اس کا ذکر فرما دیتے۔ اس لیے اس ملاقات کے بعد میں مطمئن ہوگیا تھا کہ ماضی کے معاملات ماضی کا حصہ بن گئے ہیں اور نظرانداز کر دیے گئے ہیں۔ چنانچہ میں نے بھی سب معاملات بھلا دیے اور حضرت موصوف کے حکم پر ’’میڈیا کمیٹی‘‘ کے مسئول کے طور پر وفاق المدارس کے لیے پھر سے متحرک ہوگیا جس کی رپورٹ ماہنامہ وفاق المدارس کے جون ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہو چکی ہے۔ اس پس منظر میں میرا خیال تھا اور اب بھی ہے کہ جس ’’فتویٰ‘‘ پر حضرت مدظلہ سے دستخط لیے گئے ہیں اور پر ان کے نام سے دوسرے بزرگوں سے دستخط لینے کی مہم چلائی گئی ہے وہ خود ان کا تحریر کردہ نہیں ہے جس کی تائید اس تحریر کی زبان اور اسلوب سے بھی ہوتی ہے۔ میں ان کا پرانا نیازمند ہوں، ان کی بزرگانہ شفقت سے ہمیشہ فیضیاب ہوتا رہا ہوں اور ان کی دینی، علمی اور اخلاقی مرتبہ و مقام سے کچھ نہ کچھ ضرور آگاہ ہوں، اس لیے کسی طرح بھی اس تحریر کو ان کے قلم سے باور کرنے کو جی نہیں چاہتا۔

دراصل کچھ لوگوں کا مزاج اور شوق یہ ہوتا ہے کہ وہ بزرگوں سے اپنے مطلب کی بات کہلوانے یا ان کی بات میں اپنی بات شامل کر کے اس کا وزن بڑھانے کے لیے ان کے گرد ’’تلک الغرانیق العلی‘‘ جیسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور جتنا بڑا بزرگ ہوتا ہے اسی درجہ کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے۔ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس اور ماحول تک کو معاف نہیں کیا گیا تو دوسرا کون اس سے بچ سکتا ہے؟ البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ اس وقت وحی جاری ہونے کی وجہ سے ’’فینسخ اللہ ما یلقی الشیطان ثم یحکم اللہ آیاتہ‘‘ کا اہتمام ہوگیا تھا۔ اور اب وحی کا دروازہ بند ہونے کے بعد اس کا امکان نہیں رہا، اب صرف فراست و بصیرت کے ذریعے ہی اس قسم کے ماحول سے بچا جا سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہٗ جب کئی سال سے مسلسل بستر علالت پر تھے اور میں وقتاً فوقتاً ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، ایک بار حاضر ہوا تو کچھ نوجوان ان کے گرد بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت والد محترمؒ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا کہ اچھا ہوا تم آگئے۔ یہ لڑکے دو روز سے میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور کسی تحریر پر دستخط کرانا چاہتے ہیں، ذرا دیکھ لو یہ کیا کہتے ہیں؟ میں ان نوجوانوں کو دوسرے کمرے میں لے گیا اور وہ تحریر پڑھی جو میرے خیال میں حضرتؒ کے شایان شان نہیں تھی۔ میں نے ان نوجوانوں کو ڈانٹا اور کہا کہ دو چار باتیں سنا کر اس بزرگ سے دستخط لینا چاہتے ہو جس کی تحقیق کا معیار یہ رہا ہے کہ جب تک کسی کتاب میں مطلوبہ حوالہ خود نہیں دیکھ لیتے تھے اس کا ذکر نہیں کرتے تھے اور ایک ایک حوالے کی تلاش میں سینکڑوں میل سفر کر کے لائبریریوں تک رسائی حاصل کرتے تھے۔ یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے کہ دو چار باتیں سنا کر اپنی مرضی کی تحریر پر ان سے دستخط کرا لیے جائیں۔ یہ بات جب میں نے والد محترمؒ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا ہے۔

میرا دل اب بھی اس ’’فتویٰ‘‘ کو حضرت مولانا موصوف کی تحریر نہیں مانتا لیکن چونکہ انہوں نے اس پر دستخط فرما دیے ہیں اور اپنے دوسرے خطوط میں ان کی توثیق بھی فرما دی ہے اس لیے بادل نخواستہ اسے ان کا موقف سمجھ کر میں نے بار بار درخواست کی ہے کہ دوسری طرف کا موقف بھی معلوم کر لیا جائے اور دوسرے فریق کو بھی اپنی بات عرض کرنے کا موقع دیا جائے۔ مگر اخبارات و جرائد میں اس سے قبل دونوں طرف سے شائع ہونے والے مضامین کو ہی کافی سمجھ کر مزید تحقیق سے صاف انکار کر دیا گیا ہے۔ مجھے اپنے بزرگوں کی خدمت میں یہ گزارش کرنے کی ضرورت خدا جانے کیوں محسوس ہو رہی ہے کہ اخبارات و جرائد کی تحریریں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی اور مکالمے کا ذریعہ تو ضرور ہو سکتی ہیں لیکن قضا، فتویٰ یا تحکیم کے لیے کافی نہیں ہوتیں اور نہ ہی کبھی کسی عدالت نے محض اخباری مضامین کی بنیاد پر کوئی فیصلہ صادر کیا ہے۔ فیصلے اور فتویٰ کا اپنا دائرہ ہوتا ہے اور اس کا صحیح طریقہ کار وہی ہے جو میں کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ جس کے خلاف الزام ہے اس سے جواب طلب کیا جائے اور اس کے بعد کوئی فیصلہ صادر کیا جائے۔ اس کے بغیر جاری کیے جانے والا کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ ہوتا ہے اور اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوتی۔پھر حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے میرے خلاف یہ فتویٰ کسی استفتا کے جواب میں دیا ہوتا تو یہ بات سمجھی جا سکتی تھی کہ استفتا میں جو کچھ پوچھا گیا ہے یہ اس کا جواب ہے۔ لیکن یہ فتویٰ کسی استفتا کے جواب میں نہیں بلکہ خود حضرت مدظلہ کی طرف سے ہے۔ اس لیے میں یہ عرض کرنے میں حق بجانب ہوں کہ فتویٰ اور فیصلہ کے تقاضے پورے کیے بغیر ایک تحریر پر ان سے دستخط کرا لیے گئے ہیں۔

حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ نے اپنے تفصیلی مکتوب میں میرے بارے میں الزامات کی جو فہرست دہرائی ہے ان میں سے ایک بھی ایسا الزام نہیں ہے جس کا جواب نہ دیا جا چکا ہو۔ مثلاً مجھ پر یہ الزام ہے کہ میں عمار خان کا ناجائز دفاع کرتا ہوں۔ یہ بات درست نہیں ہے، میں دفاع ضرور کرتا ہوں لیکن ناجائز نہیں کرتا۔ ایک دوست میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم عمار خان کا دفاع کیوں کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں مزاج بن گیا ہے کہ ہر اختلاف کو کفر و اسلام کا معرکہ بنا لیا جاتا ہے، ہر جھگڑے کو دفعہ ۳۰۲ کا کیس بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور فرضی طور پر توہین رسالتؐ کا کیس قائم کرنے پر پورا زور صرف کر دیا جاتا ہے۔ ملک میں توہین رسالت کے بیسیوں کیس ایسے موجود ہیں جو مسلکی تعصب کی بنیاد پر درج کرائے گئے ہیں اور بے بنیاد ہیں۔ خود گوجرانوالہ میں متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں، ایک حافظ صاحب کو توہین قرآن کریم کا مجرم قرار دے کر سڑک پر گھسیٹ کا مار ڈالا گیا لیکن جب تحقیق ہوئی تو اس کے پیچھے مسلکی عصبیت کارفرما تھی۔ اس طرز عمل کا ایک شکار ہمارے بھانجے اور جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق سلّمہٗ بھی ہیں جنہوں نے گزشتہ سال اسی قسم کے ایک جھوٹے کیس سے بمشکل جان چھڑائی ہے۔ میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ اگر عمار خان کسی جھگڑے میں دفعہ ۱۵۱/۱۰۷ کے درجے کا ملزم بنتا ہو اور اس کے خلاف ۳۰۲ کی ایف آئی آر کٹوانے کی کوشش کی جائے تو مجھے کس کا ساتھ دینا چاہیے؟ اس پر وہ صاحب خاموش ہوگئے۔ میں نے ہمیشہ دوستوں سے کہا ہے کہ عمار خان کے خلاف جس درجے کی بات ہے اتنی کرو تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔ اگر ۱۵۱/۱۰۷ کے کیس پر ۳۰۲ کا پرچہ درج کرانے کی کوشش کی جائے گی تو میں اس کے ساتھ ہوں گا اور مجھے اس کے ساتھ ہی ہونا چاہیے۔ یہ صرف عمار خان کی بات نہیں ہے جس کے ساتھ بھی اس قسم کی زیادتی ہوتی ہے میں نے ماضی میں بحمد اللہ اسی کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی میرا طرزعمل ان شاء اللہ تعالیٰ یہی رہے گا۔

عمار خان کی بعض تحریروں سے میں نے بھی اختلاف کیا ہے جو ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہوا ہے۔ اپنے جد مکرم رحمہ اللہ تعالیٰ اور میرے توجہ دلانے پر اس نے بعض مسائل میں رجوع بھی کیا ہے اور وہ بھی ’’الشریعہ‘‘ کے ریکارڈ میں ہے اور اب بھی بعض مسائل پر ہمارے درمیان گفتگو جاری ہے جو ان شاء اللہ تعالیٰ حسب سابق مثبت نتیجے تک ہی پہنچے گی۔ البتہ اس حوالے سے میرا موقف سمجھنے کی ضرورت ہے جو کئی بار وضاحت کے ساتھ پیش کر چکا ہوں:

  • میں فکری طور پر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا پیروکار ہوں جنہوں نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں صراحت کی ہے کہ وہ عقائد میں فرق کی بنیاد پر تو کسی کو اہل سنت سے خارج قرار دیتے ہیں لیکن عقائد کی تعبیرات میں اختلاف کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ ’’لست استصح ترفع احدی الفرقتین علی صاحبتہا بانہا علی السنۃ‘‘ کہ میں اس بات کو صحیح نہیں سمجھتا کہ کوئی فریق دوسرے پر اس بات میں برتری جتائے کہ میں اہل سنت ہوں اور وہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظواہر تینوں عقائد کی تعبیرات میں بیسیوں اختلافات کے باوجود اہل سنت میں شامل ہیں اور ان میں سے کسی کو اہل سنت سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا۔
  • فقہی طور پر بحمد اللہ تعالیٰ متصلب اور شعوری حنفی ہوں لیکن اہل سنت کے دیگر فقہی مذاہب مالکیہ، شوافع، حنابلہ اور ظواہر کو گمراہ اور باطل قرار نہیں دیتا۔ حنفی مذہب کی پابندی کو ضروری سمجھتا ہوں اور اگر کوئی حنفی کسی مسئلے میں اپنے مذہب سے بلاجواز خروج کرتا ہے تو اسے خطاکار کہتا ہوں لیکن باطل پرست اور گمراہ قرار نہیں دیتا جیسا کہ فقہی معاملات میں ہمیشہ سے ہوتا چلا آرہا ہے۔
  • کسی بھی صاحب علم اور صاحب مطالعہ کا یہ حق سمجھتا ہوں کہ اگر مطالعہ و تحقیق کے دوران اس کی کوئی رائے قائم ہو تو اس کا اظہار کرے، بشرطیکہ صرف رائے کے درجہ میں ہو، اسے حکم یا فیصلے کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ اور اس رائے کا یہ حق ہے کہ اس پر غور کیا جائے اور بحث و مباحثے کے ذریعے اس کے صحیح یا غلط ہونے کے نتیجے تک پہنچا جائے۔
  • جمہور اہل سنت کے مسلّمات کے دائرے کو حق کا معیار سمجھتا ہوں اور اس سے خروج کو گمراہی قرار دیتا ہوں۔ مگر اہل سنت میں شوافع، حنابلہ، مالکیہ، اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظواہر کو بھی شامل سمجھتا ہوں۔

اس دائرے میں میرا فکر و نظر کا توسع صرف عمار خان نہیں بلکہ مطالعہ و تحقیق کا ذوق رکھنے والے تمام حضرات کے لیے ہے۔ بیسیوں حضرات ایسے موجود ہیں جن کی میں نے اس دائرے میں حوصلہ افزائی کی ہے اور اب بھی کرتا ہوں اور اس حق سے عمار خان کو صرف اس لیے محروم نہیں کر سکتا کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ یہ میرا اصولی موقف ہے، جہاں تک مسائل کا تعلق ہے، بعض مسائل میں مجھے بھی عمار خان سے اختلاف ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ حق و باطل کے درجے اور گمراہی کے دائرے کا نہیں ہے۔ احباب سے میری گزارش ہے کہ وہ اس کے موقف کو اس کے قلم سے ملاحظہ کریں اور پھر اس سے اختلاف کریں۔ کسی بھی جائز اختلاف میں وہ مجھے اپنے ساتھ پائیں گے۔ اگر کوئی دوست محاذ آرائی سے ہٹ کر عمار خان کے کسی موقف کے بارے میں افہام و تفہیم کے لہجے میں مجھے سمجھا دیں کہ وہ گمراہی کے درجے کا ہے اور حق و باطل کے فرق کے دائرے میں آتا ہے تو میں اس دوست کا شکر گزار ہوں گا، عما رخان کو اس سے رجوع کے لیے کہوں گے اور اگر وہ اس پر ضد کرے گا تو اس کے موقف سے لاتعلقی کا اعلان کرنے میں ذرہ بھر تامل نہیں کروں گا۔

میرے اس طرزعمل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں خود اس مرحلہ سے گزر چکا ہوں اور میرے بزرگوں نے میرے بارے میں وہی طرزعمل اختیار کیا تھا جو میں آج کیے ہوئے ہوں۔ جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد درخواستی گروپ اور فضل الرحمان گروپ کے دھڑوں میں تقسیم ہوئی اور باہمی بیان بازی اور محاذ آرائی کا بازار گرم ہوا تو اس محاذ آرائی اور بیان بازی میں درخواستی گروپ کی طرف سے میں پیش پیش تھا۔ یہ گرم بازاری جب بہت زیادہ بڑھ گئی تو دوسری طرف کے چند اکابر بزرگ جو سب کے سب میرے مخدوم و محترم ہیں اور جن میں حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ، حضرت مولانا سید محمد شاہ امروٹیؒ، مولانا سید امیر حسین گیلانیؒ اور مولانا محمد لقمان علی پوریؒ شامل تھے، میرے خلاف شکایت لے کر حضرت والد محترمؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کے پاس آئے اور فرمایا کہ مجھے اس حد تک آگے جانے سے روکا جائے۔ دونوں بزرگ اس گروپ بندی میں حضرت درخواستیؒ کے ساتھ تھے بلکہ حضرت والد محترمؒ تو اس وقت بھی جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی امیر تھے۔ دونوں بزرگوں نے ان محترم بزرگوں کی بات سنی اور معذرت کر دی۔ حضرت والد محترمؒ نے تو مجھے اس سلسلہ میں کچھ کہنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی البتہ حضرت صوفی صاحبؒ نے مجھے بعد میں بلایا اور بتایا کہ یہ بزرگ تشریف لائے تھے، میں نے ان سے عرض کیا ہے کہ اگر زاہد نے جماعتی معاملے میں کوئی مالی بددیانتی کی ہے یا کسی بزرگ کی شان میں گستاخی کی ہے یا کوئی اور بداخلاقی کی ہے تو میں اسے ابھی آپ بزرگوں کے سامنے بلا کر ڈانٹوں گا اور سختی کے ساتھ منع کر دوں گا۔ لیکن اگر مسئلہ صرف رائے کا ہے تو میں اسے کچھ نہیں کہوں گا۔ اس لیے کہ اپنی رائے اختیار کرنا اگر دوسرے لوگوں کا حق ہے تو اس کا بھی اتنا ہی حق ہے اور وہ اپنی رائے میں مکمل آزاد ہے۔ یہ فرما کر حضرت صوفی صاحبؒ نے مجھے کہا کہ کسی اور معاملے میں شکایت کا موقع نہ دینا تو رائے کے معاملے میں ہم کوئی دخل نہیں دیں گے۔

اسے میری کمزوری سمجھا جائے یا مجبوری کہ میں نے ان بزرگوں کے سائے میں تربیت پائی ہے جو جائز حدود میں اختلاف کا حق دیتے تھے، بات کو سنتے تھے، دلیل کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے اور اپنی رائے مسلط کرنے کا راستہ اختیار نہیں کرتے تھے۔ اب جو ماحول ہمیں فراہم کرنے کی تگ و دو کی جا رہی ہے وہ کم از کم میرے لیے اجنبی ہے۔ اس لیے کہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ میں سے کسی کا مزاج اور ذوق ایسا نہیں تھا۔ میں جو کچھ بھی ہوں ان بزرگوں کے فیض و برکت سے ہوں اور دنیا و آخرت میں انہی کے ماحول اور زمرے میں رہنا چاہتا ہوں، آمین یا رب العالمین۔

بعض حلقوں کی طرف سے میرے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے بلکہ اس پر ایک بڑی پروپیگنڈا مہم کی بنیاد رکھی جا رہی ہے کہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات کے بعد میں ان کے راستے سے ہٹ گیا ہوں اور میں نے ان سے متضاد طرزعمل اختیار کر لیا ہے۔ جبکہ اہل خاندان اور دیگر متعلقین و احباب سب جانتے ہیں کہ دینی، تعلیمی، سیاسی، تحریکی اور صحافتی حوالوں سے میرا طرزعمل آج بھی وہی ہے جو حضرت والد محترمؒ کی زندگی میں تھا اور انہیں یہ سب کچھ معلوم تھا بلکہ بہت سے معاملات میں مجھے ان کی رفاقت اور سرپرستی بھی حاصل تھی۔ میں اس وقت بھی وہی ہوں جو ان کی زندگی میں تھا اور میرے نظریات، افکار، طرزعمل اور کردار میں سرمو کوئی فرق نہیں آیا۔ اگر کسی ایک بات کی بھی نشاندہی کر دی جائے جو میں اب کہہ یا کر رہا ہوں اور ان کی زندگی میں نہیں کرتا تھا تو نشاندہی کرنے والے دوست کا ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات میں شکریہ ادا کروں گا۔ مثال کے طور پر سردست ان میں سے دو باتوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو بطور خاص بیان کی جا رہی ہیں۔

ایک یہ کہ ’’الشریعہ‘‘ کو علمی و فکری مسائل پر آزادانہ بحث و مباحثہ کا فورم بنایا گیا ہے جو ان ناقد دوستوں کے نزدیک درست نہیں ہے اور انہیں اس بارے میں اپنی رائے قائم کرنے کا حق ہے۔ لیکن یہ واقعہ ہے کہ ہم نے اکتوبر ۱۹۸۹ء میں شائع ہونے والے پہلے شمارے سے ہی اصولی طور پر یہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اگر ابتدائی قارئین کو یاد ہو تو ہم نے ’’الشریعہ‘‘ میں اس آزادانہ علمی بحث و مباحثے کا آغاز شیخ الازہر الشیخ جاد الحق علی جاد الحقؒ کے ایک تفصیلی مقالے سے کیا تھا جو انہوں نے راقم الحروف کے چند سوالات کے جواب میں تحریر فرمایا تھا اور اس میں چند ایسے مسائل پر اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کیا تھا جو فقہی دنیا میں اب بھی مختلف فیہ ہیں۔ ان کا تفصیلی مضمون ہمارے محترم دوست پروفیسر غلام رسول عدیم کے اردو ترجمے کے ساتھ ’’الشریعہ‘‘ کے پہلے شمارے کی زینت بنا تھا اور تب سے ہماری پالیسی یہ ہے کہ کسی بھی علمی، فقہی یا فکری مسئلے پر مختلف نقطہ ہائے نظر کو شائع کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ قارئین کے سامنے مسئلے کے ضروری پہلوؤں کے بارے میں سب کا موقف اور دلائل پیش کر دیے جائیں تاکہ انہیں کسی نتیجے پر پہنچنے میں آسانی رہے۔

یہ مکالمہ ہماری علمی روایت کا حصہ ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کی علمی مجلس اسی مکالمے اور آزادانہ بحث و مباحثے پر مشتمل ہوتی تھی اور حضرت امام جعفر طحاویؒ کی معرکۃ الآراء تصنیف ’’شرح معانی الآثار‘‘ اسی فقہی مکالمے اور مجادلے کی نمائندگی کرتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ہم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی ’’میلہ خدا شناسی‘‘ میں شرکت اور ان کے خطاب کا تو فخر سے ذکر کرتے ہیں جو پبلک جلسے میں ہندو، عیسائی اور دیگر مذاہب کے مذہبی پیشواؤں کے ساتھ براہ راست مکالمے کی صورت میں ہوتا تھا اور اس میں عامۃ الناس کے ہجوم میں غیر مسلم مذہبی رہنماؤں کے خطابات غور سے سنے جاتے تھے اور ان کے جوابات دیے جاتے تھے، لیکن مسلمانوں کے مختلف طبقات کے درمیان فکری اور علمی مکالمے سے ہمیں وحشت ہونے لگتی ہے۔

والد محترمؒ شروع سے ہی ’’الشریعہ‘‘ کے قاری تھے ، انہیں یہ شکایت رہتی تھی کہ الشریعہ کا کمپوزنگ پوائنٹ باریک ہے جو آسانی سے پڑھا نہیں جاتا اور اپنے مخصوص لہجے میں انہوں نے متعدد بار فرمایا کہ ’’زاہد! تمہاری شریعت پڑھی نہیں جاتی، اس کا پوائنٹ بڑا کرو‘‘۔ آخری عمر میں نظر کمزور ہوجانے کے باعث وہ ’’الشریعہ‘‘ کے مضامین دوسروں سے پڑھوا کر سنتے تھے اور ان پر اظہار خیال کرتے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے ایک مضمون کے بارے میں فرمایا کہ میں اس میں مخالف کے دلائل کا جو جواب دیا گیا ہے وہ کمزور ہے اس پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ایک بار بھی انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ اس مکالمے کی ضرورت نہیں ہے یا اسے بند کر دینا چاہیے۔ ہاں، عزیز عمار خان ناصر کی بعض انفرادی آرا پر انہوں نے ضرور تبصرہ کیا ہے بلکہ اسے بلا کر سمجھایا ہے۔ بعض امور میں اس نے وضاحت کی ہے اور حضرت شیخ کی رائے کے مطابق رجوع بھی کیا ہے لیکن علمی و فکری مکالمے کی پالیسی پر انہوں نے کبھی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا جبکہ یہ پالیسی ان کی زندگی میں اور ان کے علم میں سال ہا سال تک جاری رہی اور اسی تسلسل سے اب بھی جاری ہے۔ اس لیے اگر کسی بزرگ یا دوست کو اس طرزعمل پر اشکال ہے تو یہ ان کا حق ہے لیکن ہر دوست کے ہر اشکال کو دور کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ چنانچہ اب بھی ہماری پالیسی یہی ہے کہ کسی بھی مسئلے پر اگر ایک طرف کا نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے تو دوسری طرف کا موقف بھی پیش کر دیا جائے تاکہ توازن رہے۔

دوسری بات جس کا شدومد کے ساتھ تذکرہ کیا جاتا ہے وہ مشترکہ تحریکات میں میری شرکت اور مختلف مکاتب فکر کے مراکز اور محافل میں میرا آنا جانا ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے یہ میرے معمولات کا حصہ ہے کہ میں دوسرے مکاتب فکر کے ایسے جلسوں اور میٹنگوں میں جاتا ہوں جو کسی مشترکہ قومی اور دینی موضوع پر ہوتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ مشترکہ قومی اور دینی تحریکوں میں شریک ہوتا ہوں اور بھرپور کردار ادا کرتا ہوں۔ میرا یہ طرزعمل اور کردار والد محترمؒ کے علم میں تھا بلکہ اس میں مجھے ان کی رفاقت اور سرپرستی بھی حاصل تھی۔ میں نے جامعہ نصرۃ العلوم سے فراغت کے بعد جب مرکزی جامع مسجد (شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ) میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کے نائب خطیب کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا تو ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مجھے گوجرانوالہ شہر کی کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا سیکرٹری جنرل چنا گیا اور میں نے جلسوں اور جلوسوں میں بھرپور شرکت کی۔ حضرت والد محترمؒ نے نہ صرف سرپرستی فرمائی بلکہ بہت سے جلسوں سے خطاب بھی کیا۔ جبکہ مجلس عمل میں بریلوی، اہل حدیث، جماعت اسلامی اور شیعہ مکتب فکر کے رہنما شریک تھے بلکہ بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین مولانا ابوداؤد محمد صادق مجلس عمل کے صدر تھے۔ کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا میں اس کے بعد سے مسلسل حصہ چلا آرہا ہوں اور کافی عرصہ تک مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی ذمہ داریاں بھی میرے سپرد رہیں۔ ہر مرحلہ میں حضرت والد محترمؒ کی بھرپور رفاقت اور سرپرستی سے بہرہ ور رہا ہوں اور انہوں نے تحریک ختم نبوت کے ہر مرحلے میں عملی کردار ادا کیا ہے۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفٰیؐ کی قیادت میں ہر سطح پر نمایاں بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، جماعت اسلامی اور شیعہ رہنما شریک تھے۔ میں پاکستان قوی اتحاد صوبہ پنجاب کا سیکرٹری جنرل تھا اور صوبہ بھر میں مسلسل متحرک تھا۔ حضرت والد محترمؒ بھی جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے امیر کی حیثیت سے پاکستان قومی اتحاد کا حصہ تھے۔ اسی تحریک میں انہوں نے گرفتاری پیش کی تھی اور ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ باقی بہت سی ایسی تحریکوں کو نظرانداز کرتے ہوئے حضرت والد محترمؒ کے ایام علالت کے ایک مشترکہ فورم کا ذکر کرنا چاہوں گا جو ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی صورت میں سامنے آیا تھا، اس کی قیادت میں بھی اہل تشیع سمیت تمام مکاتب فکر کے اکابرین شامل تھے۔ گکھڑ کے قومی اسمبلی کے حلقے سے جماعت اسلامی کے ضلعی امیر جناب بلال قدرت بٹ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار تھے، حضرت والد محترمؒ نے علالت اور صاحب فراش ہونے کے باوجود نہ صرف متحدہ مجلس عمل کی کھلم کھلا حمایت کی بلکہ جناب بلال قدرت بٹ کی عملی سپورٹ بھی کی تھی۔

میں آج بھی اسی طرزعمل پر قائم ہوں اور زندگی بھر اسی پر قائم رہنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ حوصلہ اور استقامت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ میرے اس مسلسل طرزعمل اور پالیسی پر حضرت والد محترمؒ کو تو کوئی اشکال نہیں تھا، وہ مجھے ہر ہر مرحلہ میں سرپرستی بلکہ رفاقت سے نوازتے رہے اور اس سب کچھ کے باوجود انہوں نے بے حد شفقت اور اعتماد کے ساتھ اپنی علمی، تدریسی اور روحانی ذمہ داریاں وفات سے پہلے میرے سپرد فرمائیں، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔اس کے باوجود اگر کچھ حضرات اسے موضوع بحث بنا کر ملک میں منفی مہم چلا رہے ہیں تو وہ یہ مہم صرف میرے خلاف نہیں چلا رہے بلکہ حضرت والد محترمؒ کے خلاف بھی بے اعتمادی کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ یہ مہم دیکھ کر مجھے وہ تاریخی واقعہ یاد آرہا ہے جس کا تذکرہ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ نے ’’امام ابوحنیفہؒ کی سیاسی زندگی‘‘ میں تفصیل کے ساتھ کیا ہے کہ جب مشہور خارجی کمانڈر ضحاک نے کوفہ پر قبضہ کر لیا تو اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت کوفہ کی جامع مسجد میں تلواریں تان کر بیٹھ گیا اور اعلان کیا کہ کوفہ کے سب لوگ مرتد ہیں اس لیے میرے سامنے آکر توبہ کریں، اور جو توبہ نہیں کرے گا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس سے قبل انہی خارجیوں کا ایک گروہ بصرہ پر قابض ہو کر ہزاروں افراد کو شہید کر چکا تھا، اس لیے اس کے اس اعلان سے کوفہ میں سراسمیگی پھیل گئی۔ اس موقع پر حضرت امام ابوحنیفہؒ کا حوصلہ اور تدبر کام آیا، وہ ضحاک کے سامنے پیش ہوئے اور پوچھا کہ وہ کس بنیاد پر کوفہ کی آبادی کے قتل کا اعلان کر رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ وہ مرتد ہوگئے ہیں اس لیے اگر توبہ نہیں کریں گے تو میں انہیں قتل کر دوں گا۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ مرتد اسے کہتے ہیں جو اپنا دین ترک کر کے دوسرا دین اختیار کر لے، جبکہ کوفہ کی آبادی تو اسی دین پر ہے جس پر وہ پیدا ہوئے تھے، انہوں نے اپنا دین تبدیل نہیں کیا تو انہیں مرتد کیسے کہا جا سکتا ہے؟ ضحاک خارجی نے امام صاحبؒ سے کہا کہ وہ اپنی بات پھر دہرائیں۔ امام صاحبؒ نے دوبارہ اپنے موقف کی وضاحت کی تو ضحاک نے یہ کہہ کر اپنی تلوار کا رخ زمین کی طرف کر دیا کہ ’’اخطأنا‘‘ ہم سے غلطی ہوگئی ہے اور باقی لشکر کو بھی تلواریں جھکانے کا حکم دے دیا جس پر اہل کوفہ کی جان بخشی ہوگئی۔ ایک بزرگ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کوفہ کی ساری آبادی ابوحنیفہؒ کے آزاد کردہ غلام کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے کہ ان کی وجہ سے وہ قتل ہونے سے بچ گئے ہیں۔ اس وقت کے ضحاک کو تو یہ سادہ سی بات سمجھ آگئی تھی اور اس نے ’’اخطأنا‘‘ کہہ کر تلواریں جھکا لی تھیں، دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہمارے آج کے ’’مہربان‘‘ بھی اس بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہوجائیں گے؟