عام انتخابات اور دینی حلقے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۸ء

ماہِ رواں پاکستان میں عام انتخابات کا مہینہ ہے، الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق ۲۵ جولائی کو ملک بھر میں عوام قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا انتخاب کریں گے اور اکثریت حاصل کرنے والی پارٹیاں اگلے پانچ سال کے لیے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیں گی۔ انتخابات کا انعقاد وقفہ وقفہ سے ہوتا رہتا ہے جس کی بنیاد قیام پاکستان کے بعد سے قرارداد مقاصد اور دستور پاکستان کے طے کردہ اس اصول پر ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور حکومت عوام کے منتخب نمائندے کریں گے جو قرآن و سنت کی راہنمائی کے پابند ہوں گے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کو جمہوری حکومت کہا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ذہن مغربی جمہوریت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جس میں عوام کے منتخب ارکان پارلیمنٹ نہ صرف اکثریت کی بنیاد پر مقررہ مدت کے لیے حکومت تشکیل دیتے ہیں بلکہ ملک کی پالیسیوں کے تعین اور قانون سازی میں بھی خود مختار ہوتے ہیں کہ جو چاہیں قانون بنائیں اور جس طرح چاہیں پالیسی طے کریں، جبکہ انہیں اس حوالہ سے کسی اور چیز کا پابند کرنے کو پارلیمنٹ کی خود مختاری کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے جمہوریت پسندوں کے نزدیک پاکستان میں منتخب حکومت اور پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کا پابند قرار دیے جانے کو پارلیمنٹ کی ساورنٹی کے منافی قرار دیا جاتا ہے۔ مگر دوسری طرف حکومت کے لیے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کی شرط کو بعض اسلامی حلقوں میں مغربی جمہوریت کی پیروی سمجھتے ہوئے اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی جا رہی ہے۔

جہاں تک حکومت کی تشکیل و قیام میں عوام کی مرضی اور رائے کا تعلق ہے اسے اگر جمہوریت کی معروف اصطلاح سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ایک اسلامی حکومت کے قیام کی اساس بھی عوام کی رائے ہی قرار پاتی ہے۔ اس لیے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی حکومت نہ تو طاقت کے ذریعے وجود میں آئی تھی اور نہ ہی کوئی نسبی تعلق اس کی بنیاد بنا تھا بلکہ صحابہ کرامؓ کی اجتماعی اور عمومی مشاورت اس حکومت کے قیام کا باعث بنی تھی، جس کی وجہ سے فقہاء کرامؒ نے اسلامی حکومت و خلافت کے انعقاد و قیام کی سب سے پہلی اور بہتر صورت رائے عامہ ہی کو قرار دیا ہے۔ البتہ اس پہلو سے فقہاء کرامؒ میں اختلاف موجود ہے کہ رائے عامہ کا یہ اظہار براہ راست عوامی رائے کے ذریعے ہو گا یا ارباب حل و عقد کی صورت میں حکومت کی تشکیل بالواسطہ سرانجام پائے گی۔بہرحال قرارداد پاکستان اور دستور پاکستان میں حکومت کے لیے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کی شرط اس اصول سے مطابقت رکھتی ہے جو فقہ اسلامی میں حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت کے قیام کی بنیاد بنا تھا، البتہ اس میں یہ بات طے شدہ ہے کہ حکومت و ریاست اور منتخب پارلیمنٹ قرآن و سنت کی پابند ہوں گی اور وہ اس کے خلاف کوئی قانون یا حکم جاری نہیں کر سکیں گی۔ اسی وجہ سے قیام پاکستان کے بعد ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے اکابر علماء کرام نے

(۱) اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ

(۲) عوام کی منتخب حکومت اور

(۳) قرآن و سنت کی بالادستی

کے تین اصولوں پر مشتمل نظام حکومت سے اتفاق کر لیا تھا اور یہ اتفاق و اجماع اب تک بدستور چلا آرہا ہے۔ مگر ملک کے مقتدر حلقوں اور اسٹیبلشمنٹ کا طرز عمل دونوں حوالوں سے تسلی بخش نہیں ہے کیونکہ نہ تو قرآن و سنت کی بالادستی اور اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کی طرف کوئی سنجیدہ پیشرفت اب تک سامنے آئی ہے اور نہ ہی جمہوری حکومت کے تسلسل اور استحکام میں کسی قسم کی سنجیدگی دکھائی دیتی ہے، مثلاً انتخابات اور جمہوریت کا ایک بڑا فائدہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ اگر مسلسل ہوتے رہیں تو کچھ عرصہ تک عوام کی صحیح نمائندگی کا ماحول قائم ہو جاتا ہے اور ان کی حقیقی نمائندگی کرنے والے لوگ بالآخر قیادت کی صف اول میں آجاتے ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ تسلسل سے ارتقا اور بہتری پیدا ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں بار بار انتخابات منعقد ہونے کے باوجود سیاسی شعور اور نمائندگی کے بہتر معیار میں ارتقا کی کوئی شکل ابھی تک وجود میں نہیں آئی اور ہر الیکشن سے پہلے اور بعد کا ماحول کم و بیش ایک جیسا ہی رہتا ہے ۔ جس کی وجہ ہمارے خیال میں یہ ہو سکتی ہے کہ ملک میں انتخابات کے تسلسل کا اہتمام تو کیا جا رہا ہے مگر ارتقا کو روکنے کا بھی اسی کے ساتھ پورا خیال رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے تسلسل اور ارتقا میں رشتہ قائم نہیں رہا اور انتخابات ملک میں استحکام پیدا کرنے کی بجائے خلفشار کا ماحول باقی رکھنے کا کردار ادا کر رہے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم آگے بڑھنے کی بجائے ہر الیکشن کے بعد پھر سے زیرو پوائنٹ پر کھڑے نظر آتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک محفل میں اسی صورت حال پر گفتگو ہوئی تو ہم نے عرض کیا کہ ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑنے والے دیسی معالجین کا طریقِ کار یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی ہڈی ان کے خیال میں غلط جڑ گئی ہے تو وہ اسے اپنی مرضی کے مطابق دوبارہ جوڑنے کے لیے پہلے زخم کو کچا کرتے ہیں اور پھر ازسرِنو اپنی مرضی کے مطابق جوڑتے ہیں۔ یہ نسخہ ہماری اصل مقتدر قوتوں کے ہاتھ لگ گیا ہے اور وہ ہر الیکشن سے پہلے زخم کو کچا کرنے کی محنت کرتے ہیں تاکہ نیا جوڑ اپنی مرضی سے لگا سکیں ۔ جس کی تازہ ترین مثال گزشتہ دو سال کے دوران ملک میں پیدا کیا جانے والا وہ سیاسی خلفشار ہے جس نے سیاسی اور انتخابی لحاظ سے ملک کو پھر سے زیرو پوائنٹ پر لا کھڑا کیا ہے اور اس ماحول میں عام انتخابات سے مرضی کے نتائج کشید کرنے کی منصوبہ بندی دکھائی دے رہی ہے ۔ یہ عمل اگر ایک آدھ بار ہو تو کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے مگر ہم گزشتہ نصف صدی کے دوران اس عمل سے اتنی بار گزر چکے ہیں کہ اب ایسے کسی تجربے کے تصور سے ہی خوف آنے لگتا ہے ۔ اللہ پاک وطن عزیز کی حفاظت فرمائیں ،آمین۔

مگر اس سب کچھ کے باوجود ہمارے پاس رائے عامہ اور عوامی قوت ہی صورت حال کو بہتری کی طرف لانے کا واحد ذریعہ ہے جس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ نظریاتی قوتیں جو پاکستان کی نظریاتی اساس اور اسلامی تشخص پر یقین رکھتی ہیں اور ملکی سالمیت، قومی خود مختاری اور نفاذ اسلام کے ایجنڈے پر متفق ہیں باہمی اتحاد و اتفاق میں اضافہ کرتے ہوئے عملی پیش قدمی کریں۔ اس پس منظر میں دینی جماعتوں کے اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کا دوبارہ میدان میں آنا اور تمام مذہبی مکاتبِ فکر کا انتخابات میں مشترکہ فورم پر جمع ہو کر حصہ لینا ہمارے نزدیک امید کی کرن ہے جس سے بہتر مستقبل کی کسی حد تک توقع کی جا سکتی ہے، اس لیے ہم عوام سے اس کا ساتھ دینے کی اپیل کے ساتھ اس کی کامیابی کے لیے بارگاہِ ایزدی میں دعا گو ہیں، اللّٰہم ربنا آمین۔