فکری ارتداد اور تشکیک کی مہم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ جولائی ۲۰۰۶ء

عالمی میڈیا اور بین الاقوامی لابیاں پاکستان میں نہ صرف چند نافذ شدہ اسلامی قوانین و احکام کو ختم کرانے کی تگ و دو کر رہی ہیں بلکہ اسلامی تعلیمات اور احکام و قوانین کے حوالہ سے شکوک و شبہات کی فضا پیدا کرنے میں بھی مسلسل مصروف ہیں۔ نئی نسل ان کی اس مہم کا بطور خاص ہدف ہے اور بہت سے نوجوان طلبہ اور طالبات اسلامی تعلیمات کی حکمتوں اور پس منظر سے پوری طرح واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے شکوک و شبہات کا شکار ہو رہے ہیں۔ معاشرتی مسائل، جدید عالمی ماحول اور تعلیم و میڈیا کی موجودہ بین الاقوامی سرگرمیوں کے باعث جنم لینے والے شکوک و شبہات کو ہمارے شیخ محترم حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے ’’فکری ارتداد‘‘ سے تعبیر فرمایا تھا اور اس پر ایک مستقل مقالہ ’’ردۃ ولا ابا بکر لہا‘‘ (ارتداد پھیل رہا ہے اور اس کے لیے کوئی ابوبکرؓ موجود نہیں ہے) تحریر کیا تھا جس کا مطالعہ ہمارے خیال میں ہر عالم دین اور دینی کارکن کے لیے ضروری ہے۔

یہ فکری ارتداد اب منظم اور مربوط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور اسے بین الاقوامی لابیوں، عالمی میڈیا اور عالمی تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ بہت سی مسلم حکومتوں، این جی اوز اور مغربی فکر و فلسفہ سے متاثر و مرعوب مسلم دانشوروں کی پشت پناہی حاصل ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اس فکری یلغار کی خصوصی جولانگاہ ہے۔ ہم ایک عرصہ سے علمائے کرام، دانشوروں اور دینی مدارس و مراکز سے گزارش کر رہے ہیں کہ اس فکری ارتداد کی ماہیت، مقاصد اور طریق کار کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے اور نئی نسل کو اس سے بچانے کے لیے مربوط و منظم محنت کی ضرورت ہے۔ مگر کسی حد تک افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس ضرورت کا احساس بیدار کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے اور ملک میں مجموعی طور پر وہ ماحول پیدا نہیں ہو رہا کہ نئی نسل کے ایمان و عقیدہ کو بچانے کی فکر کی جائے اور اس کے لیے عملی و فکری سطح پر جن اقدامات کی ضرورت ہے ان کا اہتمام کیا جائے۔ مثلاً اس سلسلہ کی ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ جو نوجوان اس حوالہ سے کسی شبہ کا شکار ہو جائے اور اسے فی الواقع کسی اسلامی قانون یا حکم کے حوالے سے کوئی شک تنگ کرنے لگے تو اس کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے، ڈانٹ ڈپٹ کر اسے خاموش کرانے کی کوشش نہ کی جائے اور خود اسے شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے کی بجائے اس کے ذہن میں پیدا ہونے والے شک کو دلیل و منطق کے ساتھ افہام و تفہیم کے ماحول میں دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

قومی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اس قسم کے شکوک و شبہات پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسے شکوک و شبہات کو، جو دینی تعلیم اور ضروری معلومات سے بے بہرہ نوجوانوں کو جلدی متاثر کر سکتے ہیں، میڈیا کے ذرائع سے بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ لیکن اگر کوئی نوجوان ان میں سے کوئی سوال کسی عالم کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس کا جواب چاہتا ہے تو اسے تسلی بخش جواب کی بجائے عام طور پر یہ تنبیہ سننے کو ملتی ہے کہ یہ گمراہی کی باتیں ہیں ان میں مت پڑو۔ اس سے وقتی طور پر وہ خاموش ہو جاتا ہے اور دوبارہ کوئی سوال کرنے کی ہمت نہیں کرتا لیکن اس کے اپنے ذہن کا سارا نظام اتھل پتھل ہو کر رہ جاتا ہے، وہ یا تو شکوک و شبہات کی دلدل میں مزید دھنستا چلا جاتا ہے یا پھر دماغ کی کھڑکیاں بالکل بند کر کے اس قسم کے سوالات پر جلتا کڑھتا رہتا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ صورتحال تسلی بخش نہیں ہے اور دینی شخصیات اور اداروں کو اسے بہتر بنانے کی فکر کرنی چاہیے۔

چند روز سے بعض قومی اخبارات میں اس قسم کے سوالات آرہے ہیں۔ میں نے گزشتہ روز گوجرانوالہ شہر کی ایک مسجد میں مغرب کے بعد مختصر درس میں ان میں سے ایک سوال کو گفتگو کا موضوع بنایا اور اس کا عام فہم انداز میں جواب دیا تو میں نے دیکھا کہ درس میں شریک بہت سے دوستوں کے چہرے کھل اٹھے اور ایسے محسوس ہونے لگا کہ جیسے ان کی کوئی پرانی آرزو پوری ہو رہی ہو۔ بعض احباب نے درس کے اختتام پر مجھ سے مل کر اس پر شکریہ بھی ادا کیا، ایک نوجوان نے دمکتے چہرے کے ساتھ توجہ دلائی کہ اس سے متعلقہ ایک اور سوال بھی آج کے کسی قومی اخبار میں ایک این جی او کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ میں نے کہا کہ کسی موقع پر ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا جواب بھی عرض کر دوں گا۔

وہ سوال جس پر میں نے اس درس میں گفتگو کی یہ تھا کہ جب قرآن کریم نے مسلمانوں کو صرف چار شادیوں کی اجازت دی ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ شادیاں کیوں کیں اور وفات کے وقت آنحضرتؐ کی نو بیویاں کیوں تھیں؟ ظاہر بات ہے کہ جس شخص کی معلومات میں صرف یہ بات ہوگی کہ قرآن کریم نے چار سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت نہیں دی اور یہ بھی اس کو معلوم ہوگا کہ جناب نبی اکرمؐ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ کی ۹ بیویاں تھیں تو اس کے ذہن میں مذکورہ بالا سوال کا اٹھ کھڑا ہونا فطری بات ہے۔ اس بات کو میڈیا یا لابی کا کوئی شخص اس کے سامنے بنا سنوار کر پروپیگنڈا کی مخصوص تکنیک کے ساتھ پیش کرے گا تو شک کا کانٹا لازماً اس کے ذہن میں پیدا ہوگا اور وہ بے چین ہوگا کہ اس کا جواب معلوم کر کے اپنے ذہن کو مطمئن کرے۔ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے اور اس کا یہ حق ہے کہ اس کی بات سنی جائے اور دلیل و منطق کے ساتھ اس کے سوال کا تجزیہ کر کے اسے تسلی بخش جواب دیا جائے۔

میں نے عرض کیا کہ پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے چار شادیوں کا حکم نہیں دیا بلکہ جاہلیت کے دور میں غیر محدود شادیوں کا جو رواج تھا اسے محدود کرنے کے لیے چار کی آخری حد مقرر کی ہے۔ اور اس کے ساتھ بھی یہ شرط لگا دی ہے کہ چار تک شادیاں اس صورت میں روا ہیں جب عدل و انصاف کے معروف تقاضے پورے کیے جا سکیں اور اگر ایسا نہ ہو سکتا ہو تو قرآن کریم نے صرف ایک شادی پر اکتفا کی تلقین کی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کے اس حکم کے بعد جن حضرات کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں تھیں انہیں چار سے زیادہ بیویاں الگ کرنے کا حکم دے دیا گیا اور وہ الگ ہوگئیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار شادیوں کی حد بندی کے بعد ۹ شادیاں نہیں کیں بلکہ چار سے زائد بیویاں اس دور سے چلی آرہی تھیں جب چار کی حد بندی نہیں ہوئی تھی۔ البتہ چار کی حد بندی کے بعد یہ سوال پیدا ہوگیا کہ آنحضرتؐ بھی دوسرے بہت سے حضرات کی طرح چار سے زائد بیویوں سے دستبردار ہو جائیں اور انہیں علیحدہ کر دیں۔ لیکن اس صورت میں رکاوٹ یہ تھی کہ قرآن کریم نے جناب رسول اللہ کی ازواج مطہرات کو تمام مسلمانوں کی مائیں قرار دیا ہے جس کی وجہ سے وہ امہات المؤمنین کہلاتی ہیں۔ اور اسی کے ساتھ ہی قرآن کریم نے یہ ضابطہ بھی بیان فرما دیا ہے کہ چونکہ حضورؐ کی پاک بیویاں تمام مومنوں کی مائیں ہیں اس لیے آپؐ کے بعد کوئی مسلمان ان امہات المؤمنین میں سے کسی کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا۔ اب مسئلہ یہ پیدا ہوگیا کہ باقی مسلمان چار سے زائد بیویوں کو الگ کر دیں گے تو ان کا کہیں نہ کہیں نکاح ہو جائے گا مگر آنحضرتؐ جن ازواج کو فارغ کریں گے کدھر جائیں گی؟ کیونکہ ان کا تو کسی سے بھی نکاح نہیں ہو سکے گا جبکہ ان کا مقام یہ ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں لیکن عملی صورتحال یہ ہوگی کہ وہ سوسائٹی میں تنہا ہو کر رہ جائیں گی۔ اس لیے خود ان کے مقام اور احترام کا تقاضا تھا کہ وہ بدستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں رہیں اور انہیں الگ نہ کیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرمؐ کو اس شرط کے ساتھ اس وقت موجود ساری بیویاں اپنے نکاح میں رکھنے کی اجازت دے دی کہ آپؐ اس کے بعد کوئی نیا نکاح نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی موجودہ ازواج میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ اور نکاح کر سکیں گے۔

درجہ بندی: