تحریک نفاذ شریعت اور نظام عدل ریگولیشن

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ جنوری ۲۰۰۸ء

بی بی سی کے نشریہ کے حوالے سے روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ جنوری ۲۰۰۸ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ سرحد کی نگران حکومت نے اس ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ۱۹۹۴ء میں مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تنظیم نفاذ شریعت محمدی‘‘ کی طرف سے چلائی جانے والی پرجوش عوامی تحریک کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ سرحد جناب آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی حکومت نے نافذ کیا تھا۔ اس تحریک میں کم و بیش تیس ہزار کے لگ بھگ عوام مسلح ہو کر سڑکوں پر آگئے تھے اور کھلی سڑکوں پر ان کا کئی روز تک دھرنا جاری رہا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں جو سابقہ ریاستوں سوات، دیر اور چترال پر مشتمل ہے، شرعی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے جو لوگوں کے مقدمات کے فیصلے شریعت محمدیہؐ کے مطابق کرنے کی پابند ہوں۔ اس تحریک کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ ملک کی مسلح افواج اور مالاکنڈ ڈویژن کے ہزاروں مسلح افراد آمنے سامنے محاذ آرائی کی کیفیت میں کھڑے تھے اور پورے ملک میں دردمند مسلمانوں کی دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھیں کہ خدا جانے کس لمحے کیا سے کیا ہو جائے لیکن وہاں پر متعین مسلح افواج کے کمانڈر اور مولانا صوفی محمد کے درمیان براہ راست مذاکرات کے نتیجے میں تصادم کا خطرہ ٹل گیا اور شیرپاؤ حکومت نے مذکورہ بالا ریگولیشن جاری کر کے تحریک نفاذ شریعت کے ذمہ دار حضرات کو مطمئن کر دیا کہ ان کے مطالبہ کے مطابق ان کے علاقے میں شریعت نافذ ہوگئی ہے۔

راقم الحروف نے اس ریگولیشن کے نفاذ کے بعد مینگورہ کا دورہ کر کے وہاں کی صورتحال براہ راست معلوم کی تھی اور تحریک کے رہنماؤں کے علاوہ سول انتظامیہ کے بعض ذمہ دار افسران اور سرکردہ وکلاء سے بھی ملاقات کی تھی اور ایک تفصیلی رپورٹ لکھی تھی جو دینی جرائد کے علاوہ بعض قومی اخبارات میں بھی شائع ہوئی۔ اس وقت تحریک نفاذ شریعت اور اس کے نتیجے میں نافذ ہونے والے ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ کے بارے میں میرے تاثرات مثبت نہیں تھے اور میں نے ان پر واضح تحفظات کا اظہار کیا تھا جن کا خلاصہ درج کر رہا ہوں۔

تحریک نفاذ شریعت محمدی کے قائدین نے اپنے ساتھ مروجہ قوانین کے ماہر وکلاء کو شامل کرنے سے جان بوجھ کر گریز کیا تھا جو مروجہ عدالتی نظام کو سمجھتے ہیں اور اس کے حوالے سے بیوروکریسی کی چالوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ہائیکورٹ کے ایک سینئر وکیل نے جو خود بھی نفاذ شریعت کے خواہاں تھے مجھے تقریباً روتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تحریک کے رہنماؤں کو اپنی خدمات پیش کیں تو انہیں جواب دیا گیا کہ یہ علماء کا کام ہے اس لیے وہ تحریک کی قیادت میں شریک نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ بنی کہ علماء کرام اس ریگولیشن کے ساتھ اتفاق کا اعلان کرتے ہوئے تکنیکی طور پر مار کھا گئے چنانچہ ریگولیشن کا ترجمہ پڑھنے کے بعد خود میرا تاثر بھی یہی تھا کہ اس میں مروجہ عدالتی نظام میں اس کے سوا کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ سیشن اور سول ججوں کو ضلع قاضی اور تحصیل قاضی کا نام دے دیا گیا ہے اور ان کے لیے عدالتی نظام میں رہنمائی کے خانے میں قرآن و سنت کے الفاظ بڑھا کر تحریک کے رہنماؤں کو خوش کر دیا گیا ہے کہ عدالتیں قرآن و سنت کی پابند ہوگئی ہیں۔

البتہ اس ریگولیشن کے نفاذ سے یہ تبدیلی ضرور آئی کہ شرعی طور پر متنازعہ عائلی قوانین جو اس سے قبل مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ نہیں تھے ان کا دائرہ نفاذ اس علاقے تک وسیع ہوگیا۔ تنظیم نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد سے اس وقت میری ملاقات نہیں ہو سکی تھی اور اس کے بعد بھی ان کی زیارت سے مسلسل محروم ہوں لیکن تنظیم کی مرکزی مجلس شورٰی کے متعدد ارکان سے میری ملاقات ہوئی اور مجھے یہ معلوم کر کے سخت حیرت اور افسوس ہوا کہ ان میں سے کسی نے بھی نفاذ سے پہلے بلکہ اس کے بعد بھی میری ملاقات تک اس ریگولیشن کے متن کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریگولیشن انگلش زبان میں ہے اور وہ انگلش نہیں جانتے۔ ان کی خدمت میں ریگولیشن کا اردو ترجمہ میں نے پیش کیا جو روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی نے شائع کیا تھا اور میں نے وہ اخبار مینگورہ جاتے ہوئے راستے میں بس میں خریدا تھا اور وہاں پہنچنے سے پہلے اس کا مطالعہ کر لیا تھا۔

اس پس منظر میں مالاکنڈ ڈویژن میں ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ کے ذریعے وہاں کی بعض عدالتوں کو شرعی عدالتوں کا نام دیا گیا لیکن بعد میں جب ان کا کوئی مثبت نتیجہ عملی طور پر سامنے نہ آسکا تو مولانا صوفی محمد نے اپنی تحریک دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان شرعی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا ہے، اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ چونکہ شرعی قوانین کی بجائے انگریزی قوانین کے دائرے میں کام کرتی ہیں اس لیے انہیں بالاتر حیثیت دے کر شرعی عدالتوں کو غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔ چنانچہ مولانا صوفی محمد کے مسلسل جیل میں رہنے کی وجہ سے اب اس علاقے میں نفاذ شریعت کی یہ تحریک مولانا فضل اللہ چلا رہے ہیں جو ان کے داماد بتائے جاتے ہیں اور سوات ایک بار پھر نفاذ شریعت کے عنوان سے مسلح افواج کے ساتھ تحریک کے مسلح کارکنوں کے افسوسناک تصادم کا میدان بنا ہوا ہے جبکہ حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کے عنوان سے سوات کے مختلف علاقوں میں مسلح آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے ۔

ہمیں مولانا صوفی محمد اور مولانا فضل اللہ کی تحریکوں کے طریق کار، ترجیحات اور خاص طور پر مسلح تحریک سے کبھی اتفاق نہیں رہا اور ہم نے ہمیشہ اس کے بارے میں واضح تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن ان کے اس موقف اور مطالبہ سے ہم پوری طرح متفق ہیں کہ مالاکنڈ ڈویژن بلکہ پورے پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے باقاعدہ شرعی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے اور انہیں اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے فیصلے شریعت محمدیؐ کے مطابق کریں۔ یہ سوات کا بطور خاص حق اس لیے بھی ہے کہ سوات، بہاولپور، قلات اور دیگر ریاستوں میں ان کے پاکستان کے ساتھ الحاق سے پہلے تک شرعی عدالتیں موجود تھیں جو قرآن و سنت کے مطابق مقدمات کے فیصلے کرتی تھیں۔ یہ ریاستیں جب داخلی طور پر نیم خودمختار حیثیت سے برطانوی نوآبادیات کا حصہ تھیں تب ان کی عدالتیں شرعی قوانین کے مطابق فیصلے کرتی تھیں۔ لیکن اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ الحاق اور اس میں ضم ہونے کے بعد وہ اپنے اس شرعی عدالتی نظام سے محروم ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ پورے ملک میں شرعی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جاتا الٹا ان ریاستوں میں پہلے سے قائم شرعی عدالتیں ختم کر دی گئیں اور برطانوی دور کا نوآبادیاتی عدالتی نظام ان ریاستوں بھی نافذ ہوگیا۔ اس لیے نفاذ شریعت کے لیے سوات کے عوام کا اضطراب اور بے چینی اگر ملک کے دوسرے علاقوں کے عوام سے دوچند دکھائی دیتی ہے تو اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے لیکن اس اضطراب، بے چینی اور احتجاج کے اظہار کے لیے جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے وہ بہرحال محل نظر ہے اور جب تک تمام معاملات کے اتار چڑھاؤ اور اسٹیبلشمنٹ کی چالوں کو سمجھ کر حوصلہ اور تدبر کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے والی کوئی ہوشمند قیادت سامنے نہیں آتی غیور عوام کے دینی جذبات اور بیوروکریسی کی مکروہ چالوں کے درمیان یہ خطرناک آنکھ مچولی اسی طرح جاری رہے گی۔

اس پس منظر میں صوبہ سرحد کی نگران حکومت کی طرف سے ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ میں کی جانے والی مجوزہ ترامیم پر ایک نظر ڈال لیں جو نگران صوبائی وزیر قانون میاں محمد اجمل کے حوالے سے بی بی سی کے نشریہ میں بیان کی گئی ہیں۔ ان کی بیان کردہ مجوزہ ترامیم کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن کی مذکورہ شرعی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا اختیار ہائیکورٹ کی بجائے وفاقی شرعی عدالت کو دیا جا رہا ہے اور ان عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی سماعت کا اختیار وفاقی شرعی عدالت کو منتقل کر کے ان عدالتوں کی شرعی حیثیت کو محفوظ کر دیا گیا ہے جبکہ عدالتوں کو مقررہ وقت کے اندر فیصلوں کا پابند کر کے جلد انصاف مہیا کرنے کا وعدہ بھی پورا کر دیا گیا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ اخباری رپورٹ پڑھ کر مجھے غالب کا یہ شعر یاد آرہا ہے کہ:

ترے وعدے پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

لیکن نگران صوبائی وزیر قانون میاں محمد اجمل صاحب نے بی بی سی کو دیے گئے اسی انٹرویو میں اس ہلکی سی خوش فہمی کا بھانڈا بھی یہ فرما کر بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے کہ:

’’مالاکنڈ ڈویژن میں ریگولر قانون ہی نافذ ہوگا تاہم جج صاحبان کوئی بھی فیصلہ سنانے میں قرآن و سنت کے احکامات کو زیادہ اہمیت دیں گے۔ جج صاحبان معاون قاضیوں اور شرعی وکلاء کی رہنمائی میں فیصلہ سنائیں گے تاہم وہ ان کی تجاویز ماننے کے پابند نہیں ہوں گے۔‘‘

ہمیں سوات اور دیگر علاقوں میں نفاذ شریعت کے لیے جدوجہد کرنے اور مسلسل قربانیاں دینے والے دینی کارکنوں سے ہمدردی ہے، ہم ان کے جذبات اور قربانیوں کی قدر کرتے ہیں، ان کی جدوجہد کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں اور ان کے موقف اور مطالبات کی حمایت کو اپنا دینی فریضہ اور اپنے لیے باعث سعادت و نجات سمجھتے ہیں۔ لیکن محض جذبات اور جوش و خروش کے سہارے چلائی جانے والی تحریکات کبھی اپنے منطقی نتیجے تک نہیں پہنچا کرتیں، اس لیے ہمارے نزدیک ان پرخلوص دینی کارکنوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کی حمایت و تائید کا سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ ان سے موجودہ طریق کار پر نظرثانی کی درخواست کی جائے اور معروضی صورتحال اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے تدبر و حکمت کی رہنمائی میں جوش و جذبہ کے عملی اظہار کے نئے راستے تلاش کرنے کی گزارش کی جائے کہ نہ صرف موجودہ وقت بلکہ شریعت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیمات) کا تقاضا بھی یہی ہے۔