دینی مدارس کی جدوجہد کی تاریخ کا ایک باب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ جون ۲۰۰۸ء

ڈاکٹر ممتاز احمد ہمارے فاضل دوست ہیں، گوجر خان سے تعلق رکھتے ہیں، ایک عرصہ سے امریکہ میں مقیم ہیں، ہیمپسٹن یونیورسٹی ورجینیا میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور جنوبی ایشیا کے دینی مدارس ان کی تحقیق و تدریس کا خصوصی موضوع ہیں۔ اس سلسلہ میں ان کی تحقیقاتی رپورٹوں سے بین الاقوامی حلقوں میں استفادہ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے راقم الحروف کے ایک بہت پرانے مضمون کی فوٹو کاپی ارسال کی ہے جو ان کی فائل میں محفوظ تھا۔ یہ مضمون ’’دینی مدارس کا جرم؟‘‘ کے عنوان سے ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں ۳۱ جنوری ۱۹۷۵ء کو شائع ہوا تھا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا دور حکومت تھا اور حکومت کی طرف سے دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان ہوا تھا جس پر تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے جامعہ خیر المدارس ملتان میں جمع ہو کر دینی مدارس کی آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے ’’اتحاد المدارس العربیہ پاکستان‘‘ کے نام سے مشترکہ فورم تشکیل دیا تھا۔ حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کو اس اتحاد کا صدر اور علامہ سید محمود احمد رضویؒ (حزب الاحناف لاہور) کو سیکرٹری جنرل چنا گیا تھا۔ جبکہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ اس اتحاد اور جدوجہد کے محرک تھے۔ اس پس منظر میں ۳۳ سال قبل کا یہ مضمون ملاحظہ فرمائیں اور اس امر کا اندازہ کریں کہ دینی مدارس کس دور سے اپنی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔