ووٹ، نتائج اور نئی صورتحال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ فروری ۲۰۰۸ء

میں پیر کے دن سے کراچی میں ہوں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سہ ماہی امتحان کی تعطیلات میں تین چار روز کے لیے میں نے کراچی کا پروگرام بنا لیا تھا جہاں جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی) میں مولانا فداء الرحمان درخواستی نے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے تین روزہ تربیتی پروگرام تشکیل دے رکھا تھا جو منگل سے جاری ہے اور کل جمعرات کو صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے تک اس کی آخری نشست ہوگی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ حسب معمول میرا موضوعِ گفتگو انسانی حقوق ہے اور طلبہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے حوالہ سے ہمارا موقف کیا ہے اور اس کی کون کون سی شقوں سے قرآن و سنت کے کون کون سے احکام و قوانین متاثر ہوتے ہیں۔

میرا پروگرام تھا کہ ۱۸ فروری کو ووٹ سے فارغ ہو کر شام کو کراچی کے لیے سفر کروں گا جس کے لیے لاہور سے رات ساڑھے نو بجے کی شاہین ایئر کی پرواز سے میں نے سیٹ بک کرا لی تھی مگر شاہین ایئر والوں کا فون آگیا کہ وہ پرواز ہی منسوخ ہوگئی ہے، متبادل صورت تلاش کی تو پتہ چلا کہ ۱۸ فروری ہی کو صبح سات بجے پی آئی اے کی پرواز سے سیٹ مل سکتی ہے ورنہ اس دن اور کوئی صورت نہیں ہے۔ میرے لیے مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے محترم بزرگ مولانا قاضی حمید اللہ خان قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے تھے، میں ان کی حمایت کر رہا تھا اور انہیں ووٹ بھی دینا چاہتا تھا مگر معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ میرا ووٹ ان کے حلقہ میں نہیں ہے اور ان کا حلقہ ہمارے ساتھ والی دوسری گلی سے شروع ہوتا ہے، اس لیے میں نے صبح سات بجے سفر کا پروگرام بنا لیا اور تقریباً ساڑھے نو بجے کے لگ بھگ جامعہ انوار القرآن کراچی پہنچ گیا۔ ایئرپورٹ سے نارتھ کراچی آتے ہوئے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر نظر پڑی جو بالکل خالی تھے، اندازہ ہوا کہ کراچی والے دیر سے اٹھتے ہیں اس لیے دس گیارہ بجے کے بعد گہما گہمی ہوگی۔ عصر تک جامعہ میں ہی رہا، اس دوران یہ پتہ چلا کہ جامعہ انوار القرآن کے دو استاذ علاقہ کے پولنگ اسٹیشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے گئے تو ان سے کہا گیا کہ آپ حضرات کے ووٹ تو ڈالے جا چکے ہیں البتہ اگر آپ انگوٹھے پر نشان لگوانا چاہتے ہیں تو لگوا لیں جس پر وہ خاموشی کے ساتھ واپس آگئے۔ اور بعد میں معلوم ہوا کہ صرف ان کے نہیں بلکہ جامعہ کے دیگر جن حضرات کے ووٹ بنے ہوئے تھے وہ بھی انہیں پولنگ اسٹیشن تک آنے کی زحمت دیے بغیر بھگتائے جا چکے تھے۔

عصر کے بعد میں نے تھوڑی دیر کے لیے جامعۃ الرشید جانے کا پروگرام بنا لیا اور مولانا فداء الرحمان درخواستی کے فرزند مولانا قاری حسین احمد کے ہمراہ وہاں پہنچا تو اساتذہ کو والی بال کھیلتے ہوئے پایا۔ بتایا گیا کہ اساتذہ روزانہ عصر کے بعد والی بال کھیلتے ہیں، مجھے یہ منظر بہت اچھا لگا کہ اساتذہ ورزش کر رہے ہیں۔ ایک دوست نے پوچھا کہ آپ نے جامعۃ الرشید آنے سے قبل اطلاع کیوں نہیں دی، میں نے عرض کیا کہ اگر بتا کر آتا تو یہ منظر نہ دیکھ پاتا۔ بہرحال تھوڑی دیر جامعہ میں رہا، حضرت مفتی صاحب اور دیگر اساتذہ سے مختلف مسائل پر مختصر گفتگو ہوئی، نماز مغرب کے بعد کلیۃ الشریعۃ کے طلبہ کے سامنے کچھ گزارشات پیش کیں اور پھر واپس آگیا۔

یہاں ایک اور انتخابی لطیفہ سننے میں آیا کہ قریب کے دیہات اور گوٹھوں کا پولنگ اسٹیشن شہری علاقہ میں بنایا گیا تھا اور شہری آبادی کا پولنگ اسٹیشن کسی گوٹھ میں بنایا گیا تھا تاکہ ووٹروں کو آنے جانے میں کچھ ورزش کی سہولت بھی حاصل ہو جائے۔ میں نے اس پر ایک لطیفہ سنایا کہ ایک سردار جی نے قمیص پہن رکھی تھی جس میں محسوس ہوا کہ کوئی چیونٹی رینگ رہی ہے، سردار نے قمیص کو الٹا کر پہن لیا جس سے وہ چیونٹی باہر والے حصے میں آگئی۔ لیکن جب وہ رینگتے رینگتے دوبارہ اندر گئی تو سردار جی نے قمیص پھر سیدھی پہن کر کے اس جوں کو باہر والے حصے کی طرف کر دیا۔ انہوں نے دو تین بار ایسا کیا تو کسی نے پوچھا کہ سردار جی! آپ قمیص کو بار بار کیوں الٹا سیدھا کر رہے ہیں؟ سردار جی نے کہا کہ میں ’’ایہنوں ٹرا ٹرا کے مارنا اے‘‘۔ (یعنی اس چیونٹی کو اسی طرح چلا چلا کر ماروں گا)۔ میں نے گزارش کی کہ ان ووٹروں کو بھی ووٹر ہونے کی یہی سزا دی جا رہی ہے۔ ایک دوست نے ایک اور الیکشن تکنیک کا ذکر کیا کہ وہ جب ووٹ ڈالنے گئے تو پولنگ اسٹیشن کے باہر لمبی قطار لگی ہوئی تھی لیکن پولنگ کی رفتار اس قدر سست تھی کہ بہت سے لوگ کھڑے کھڑے تنگ پڑ گئے، صاحب کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک انتخابی حربہ ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر عملہ امیدوار کے مطلب کا ہو اور باہر قطار مخالف ووٹروں کی کھڑی ہو تو پولنگ کی رفتار اتنی سست کر دی جائے کہ کم سے کم ووٹ پول ہوں اور لوگ تنگ آکر چلے جائیں۔

منگل کو صبح جامعہ انوار القرآن میں سہ روزہ تربیتی کورس شروع ہوا اور میں نے سوا آٹھ بجے سے بارہ بجے تک انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کی تاریخ اور پس منظر پر گزارشات پیش کیں۔ عصر کے بعد کلفٹن میں مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام دینی مدارس کے طلبہ کے ایک اجتماع میں تدریس فقہ کے عصری تقاضے اور علم کلام قدیم و جدید کے تقابلی جائزہ پر معروضات پیش کیں۔ جبکہ اس سے قبل سبیل والی مسجد گرومندر چوک میں مولانا محمد طیب کشمیری کے پاس ان کے جوان سال فرزند کی وفات پر تعزیت کے لیے حاضری دی۔ مولانا محمد طیب کشمیری مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل ہیں اور کئی سال تک میرے ہم درس رہے ہیں، ان کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے ہے۔ زلزلہ میں ان کا ایک جوان سال فرزند شہید ہوگیا تھا جبکہ دوسرا جوان بیٹا ابھی چند روز قبل کینسر کے موذی مرض میں وفات پا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان سے تعزیت کی اور کچھ مسائل پر تبادلۂ خیال بھی ہوا۔ نماز مغرب کے بعد جامعہ اسلامیہ کلفٹن میں حاضری ہوئی اور مولانا مفتی ابوہریرہ کے ہاں شام کا کھانا کھایا جو مجلس صوت الاسلام کے صدر ہیں اور ان کے ساتھ ہمارے ایک عزیز ساتھی مولانا جمیل فاروقی مجلس کے لیے مفید خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ نارتھ کراچی واپس آتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں حاضری دی اور حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری اور ان کے رفقاء سے ملاقات کی۔

بدھ کو جامعہ انوار القرآن سے فارغ ہو کر حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ساتھ حیدر آباد جانے کا ارادہ ہے جہاں ہمارے ایک پرانے جماعتی ساتھی اور دوست مولانا عبد المتین قریشی کی وفات پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کے علاوہ علماء کرام کے ایک اجتماع میں گفتگو کا پروگرام بھی ہے۔ جبکہ جمعرات کو حسب معمول صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے تک جامعہ انوار القرآن میں اساتذہ اور طلبہ کے اجتماع میں انسانی حقوق کے چارٹر پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ اس کے بعد ملک کی موجودہ صورتحال اور انتخابات کے نتائج کے حوالے سے پیش آنے والے حالات پر باہمی مشاورت کے لیے حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی نے پاکستان شریعت کونسل کے سرکردہ احباب کا ایک اہم مشاورتی اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں موجودہ حالات کی روشنی میں پاکستان شریعت کونسل کے آئندہ پروگرام کی ترتیب طے پائے گی۔ پھر نماز مغرب کے بعد فیڈرل بی ایریا میں دارالعلوم والتحقیق کے زیر اہتمام سیمینار میں ’’حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تعلیمات اور عصر حاضر‘‘ کے موضوع پر کچھ گزارشات پیش کروں گا اور اس کے بعد واپسی ہوگی تاکہ جمعہ تک گوجرانوالہ پہنچ سکوں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

الیکشن کے نتائج کے حوالہ سے الیکشن سے دو روز قبل شائع ہونے والے ایک کالم میں عرض کر چکا ہوں کہ مجھے متحدہ مجلس عمل کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں ہے اس لیے نتائج بھی میرے لیے غیر متوقع نہیں ہیں۔ البتہ اس کے اسباب و عوامل پر تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے جو ان شاء اللہ اگلے کالموں میں ہوگی۔ مجموعی نتائج میری توقعات کے مطابق ہیں اور مجھے اس بات کا پہلے سے اندازہ تھا کہ پیپلز پارٹی اس الیکشن میں زیادہ سیٹیں لے گی بلکہ ملکی سالمیت سے دلچسپی اور واقفیت رکھنے والے کم و بیش ہر شخص کا اندازہ یہی تھا۔ اب پی پی پی کی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کو تذبذب، گومگو اور غیر یقینی صورتحال سے نکالنے کے لیے کیا صورت اختیار کرتی ہے؟ ملک کے حالات جو رخ اختیار کر چکے ہیں اور ملک کو آئین و دستور کی راہ پر واپس لانے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان کا تقاضا ہے کہ پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) باہمی مشاورت سے مستقبل کے خطوط کا تعین کریں اور سرحد اور بلوچستان کی نئی قیادت کو بھی اعتماد میں لیں۔ عام شخص ملک کی سیاسی قیادت میں بنیادی تبدیلی کا خواہاں ہے اور انتخابی نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے عوام موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں جوہری تبدیلی چاہتے ہیں، عوام کی ان خواہشات اور رجحانات کو سامنے رکھنا دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ اگر ملک کا موجودہ سیاسی سیٹ اپ اور بنیادی فریم ورک جوں کا توں رہنا ہے تو چہروں کی تبدیلی اور محض چند ترجیحات کو آگے پیچھے کرنے سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ یہ بات جناب آصف علی زرداری اور میاں محمد نواز شریف کی ترجیحات میں اولیت حاصل کر لیتی ہے تو انتخابات کے نتائج کو بہتر سیاسی مستقبل کی نوید قرار دیا جا سکتا ہے۔