لال مسجد و جامعہ حفصہ کے حل طلب معاملات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ جون ۲۰۰۸ء

لال مسجد کے سانحہ کو ایک برس ہونے والا ہے مگر اس سے متعلقہ مسائل ابھی تک جوں کے توں ہیں اور بظاہر ان کے جلد طے ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف وحشیانہ آپریشن اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم بچیوں اور دیگر افراد کی مظلومانہ شہادت کے ذمہ داروں کی نشاندہی، جامعہ فریدیہ کی مسلسل بندش، جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر، مولانا عبد العزیز کی رہائی، اور اس سلسلہ میں درج کیے جانے والے مقدمات کے بارے میں حکومتی پالیسی جیسے اہم مسائل کے بارے میں آج بھی صورتحال وہی ہے جو اب سے گیارہ ماہ قبل تھی۔ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح حکم کے باوجود نہ صرف یہ کہ جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی بلکہ دیگر مسائل کے حوالہ سے بھی حکومتی پالیسی کا کوئی واضح رخ دکھائی نہیں دے رہا۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے اس سلسلہ میں عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا اور اس کی باقاعدہ رٹ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے مگر خود عدالت عظمٰی کے اپنے بحران کے باعث اس کی سماعت کی کارروائی معطل ہے۔ کچھ دنوں قبل جامعہ اسلامیہ راولپنڈی میں وفاق المدارس کے ذمہ دار حضرات کی ایک مشاورت میں تجویز دی گئی تھی کہ وفاق کے وکیل کو مزید پیشرفت کے لیے عدالت عظمیٰ میں تحریک کرنی چاہیے مگر وکیل صاحب (سید افتخار گیلانی آف کوہاٹ) نے، جو ملک کے نامور ماہرین قانون میں سے ہیں اور وفاقی وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں، مشورہ دیا کہ ابھی مزید پیشرفت کے لیے ماحول مناسب نہیں ہے اور اس کے لیے سپریم کورٹ کے اپنے بحران کے کسی طرف لگنے کا انتظار مناسب رہے گا۔ چنانچہ انتظار کے اس مشورہ کو قبول کر لیا گیا لیکن عدالت عظمیٰ کا بحران طوالت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے لال مسجد کے مسائل کے حوالہ سے بھی اضطراب اور بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے پی سی او (Provisional Constitutional Order) کے تحت معزول کیے جانے والے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر معزز ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی تحریک مدوجزر کا شکار ہوتی دکھائی دیتی ہے اور اسلام آباد کی طرف ملک بھر کے وکلاء کے لانگ مارچ کے باوجود معزول ججوں کی اس طرح کی بحالی کے امکانات مزید کم ہوتے جا رہے ہیں جس کے ذریعے پی سی او کو غیر مؤثر بنایا جا سکے اور عدالت عظمیٰ ملک بھر کی وکلاء برادری اور عوام کی خواہشات کے مطابق مکمل آزادی اور خودمختاری کی فضا میں اپنا کردار ادا کرنے کی وہ پوزیشن حاصل کر سکے جس سے عدلیہ کی بالادستی کی عملی صورت قائم ہو جائے۔

عدلیہ کی آزادی اور دستور کی بالادستی کے لیے وکلاء کی تحریک کا لال مسجد کے سانحہ سے متاثرین کے حلقوں نے بھی خیرمقدم کیا ہے اور اس کی حمایت کرتے ہوئے لانگ مارچ کے موقع پر وکلاء کا استقبال اور ان کے ساتھ عملی شرکت کا اظہار بھی کیا ہے۔ اور اس خیال سے کہ ملک کے دیگر اہم مسائل کی طرح لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں بھی حقیقی انصاف کی توقع اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے کہ عدالت عظمیٰ پوری آزادی کے ماحول میں اس وحشیانہ آپریشن کے اصل ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں بے نقاب کرے اور مظلوموں کی دادرسی کے تقاضے پورے کرے، لیکن اس کے بظاہر امکانات قریب نظر نہیں آرہے۔ معاملات چونکہ سپریم کورٹ میں زیربحث ہیں اس لیے نچلی عدالت میں کسی قانونی تحریک کا بھی کچھ فائدہ محسوس نہیں ہوتا اور نہ ہی موجودہ حالات میں نچلی عدالتوں کے ماحول اور ان سے دادرسی کی توقعات کو سپریم کورٹ کی موجودہ فضا سے الگ تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے لال مسجد، جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کے بارے میں قانونی جدوجہد کے راستے سردست بند ہیں اور کسی جانب سے بھی معاملات کو آگے بڑھانے کا راستہ نہیں نکل رہا۔

اس سلسلہ میں دوسرا راستہ رائے عامہ کو ہموار کرنے اور عوامی احتجاج کو منظم کرنے کا ہے مگر اس محاذ پر بھی کوئی منظم اور مربوط کام موجود نہیں ہے۔ محترمہ ام حسان صاحبہ ملک کے مختلف حصوں میں خواتین کے اجتماعات سے خطاب کر کے اس مسئلہ کو تازہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، لال مسجد کے قائم مقام خطیب مولانا عبد الغفار اور ان کے رفقاء کے بیانات بھی آرہے ہیں، کچھ این جی اوز عدالتوں اور اخبارات کے ذریعے عوام کو اس مسئلہ کی طرف متوجہ رکھنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سرکردہ علماء کرام بھی اپنے کردار کا تسلسل کسی حد تک قائم رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود عوامی احتجاج اور رائے عامہ کے محاذ پر وہ کچھ نہیں ہو رہا جو ہونا چاہیے اور جو اس مسئلہ پر مؤثر پیشرفت کے لیے ضروری ہے۔

ہمارے خیال میں یہ صورتحال پریشان کن ہے اور اس کے اسباب و عوامل پر کھلے دل سے بحث و تمحیص کے ساتھ ساتھ باہمی تحفظات کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک لال مسجد، جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کے لیے ملک گیر سطح پر منظم عوامی احتجاج نہیں ہوگا اور مؤثر تحریک کی صورت قائم نہیں ہوگی اس وقت تک مظلوموں کی دادرسی اور انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کی طرف حکمران طبقوں کو متوجہ نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص اس ماحول میں کہ لال مسجد کے خلاف وحشیانہ آپریشن کا حکم جاری کرنے والوں کی طرف سے آج بھی اس آپریشن کا اہتمام کرنے والوں کو کھلے بندوں سلام پیش کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس لیے اگر لال مسجد کے ہمدرد اپنے جذبات میں سنجیدہ ہیں اور فی الواقع کچھ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے اپنے مفروضات، تخیلات اور تحفظات کے دائروں سے نکل کر زمینی حقائق اور معروضی حالات کا سامنا کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔ ہمارے رائے میں معاملات کے صحیح رخ پر آگے نہ بڑھنے کے بڑے اسباب دو ہیں:

  1. ایک یہ کہ ملک میں دینی محاذ کی اصل تحریکی قوتیں (مثلاً جمعیۃ علماء اسلام، کالعدم سپاہ صحابہ وغیرہ) اس مسئلہ سے عملاً لاتعلق ہیں اور جماعتی سطح پر کوئی باقاعدہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
  2. اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے علماء کرام جو اس سلسلہ میں ’’بیس کیمپ‘‘ کے طور پر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں وہ مسلسل جدوجہد کرنے کے باوجود اپنی محنت کو کوئی واضح رخ دینے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ جس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو ’’خفیہ ہاتھ‘‘ لال مسجد کی تحریک کے دوران اس تحریک کی قیادت اور راولپنڈی و اسلام آباد کے علماء کرام کے درمیان فاصلے قائم کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے متحرک رہا ہے وہ اب بھی پس پردہ متحرک محسوس ہو رہا ہے۔

ہمارے نزدیک ماضی میں لال مسجد کی تحریک کے معاملات میں بگاڑ پیدا کرنے کے لیے ’’خفیہ ہاتھوں‘‘ نے یہ ضروری سمجھا تھا کہ لال مسجد کی تحریک کی قیادت اور اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء کرام کے درمیان اعتماد کی ایسی فضا قائم نہ ہونے پائے کہ وہ ایک دوسرے کے کام آسکیں۔ اسی طرح ملک گیر دینی جماعتوں کے قائدین اور لال مسجد تحریک کے راہنماؤں کے درمیان اس طرح کے روابط استوار نہ ہوں جو تحریک کو مؤثر طور پر آگے بڑھانے کا ذریعہ بن سکیں اور لال مسجد تحریک سے اپنے مقاصد حاصل کرنے والے مخصوص عناصر کے عزائم کی تکمیل میں رکاوٹ بن جائیں۔ صورتحال اب بھی اسی طرح ہے، ملک بھر کے دینی کارکن اور مدارس کے طلبہ و طالبات پریشان ہیں کہ:

  • جامعہ فریدیہ میں تعلیم کا آغاز کیوں نہیں ہو رہا؟
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود جامعہ حفصہ کے دوبارہ تعمیر شروع کیوں نہیں کی جا رہی؟
  • جب مالاکنڈ ڈویژن کے مولانا صوفی محمد اسی نوعیت کے مقدمات کے باوجود رہا ہوگئے ہیں تو مولانا عبد العزیز کی رہائی کے لیے اس طرح کی پیشرفت کیوں نہیں ہو رہی؟
  • اور جامعہ حفصہ اور لال مسجد میں طالبات اور طلبہ کے مقدس خون سے ہولی کھیلنے والے ابھی تک بے نقاب کیوں نہیں ہوئے، اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے جائز اور قانونی مطالبات پر توجہ کیوں نہیں دی جا رہی؟

یہ سوالات ملک کے ہر محب وطن شہری کے دل میں ہیں اور تمام دینی کارکنوں اور لاکھوں طلبہ و طالبات کے ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں جبکہ ان کا کہیں سے بھی جواب نہیں مل رہا۔ اس فضا اور پس منظر میں یہ خبر اور اطلاع کم از کم میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث بنی ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سرکردہ علماء کرام نے اس سلسلہ میں جدوجہد کو باقاعدہ طور پر منظم کرنے کے لیے بزرگ عالم دین شیخ الحدیث مولانا قاری سعید الرحمانؒ کی سرپرستی میں ’’لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی‘‘ کے نام سے ایک فورم قائم کیا ہے اور اس کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی جلسے منعقد کر کے جدوجہد کے آغاز کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فورم میں مولانا قاضی عبد الرشید، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا محمد نذیر فاروقی، مولانا مفتی عبد الرحمان اور مولانا محمد شریف ہزاروی کے ساتھ ساتھ لال مسجد کے قائم مقام خطیب مولانا عبد الغفار اور نائب خطیب مولانا عامر صدیقی اور دوسرے حضرات بھی شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ لال مسجد، جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کے معاملات میں عوامی احتجاجی تحریک کو منظم کرنے کا صحیح اور فطری راستہ یہی ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے علماء کرام کا قائم کردہ یہ فورم یعنی لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی اس تحریک کا بیس کیمپ بنے جبکہ ملک گیر دینی جماعتیں جمعیۃ علماء اسلام، کالعدم سپاہ صحابہ، مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر دینی تنظیمیں اس کی عملاً پشت پناہی کریں اور پھر دیگر مکاتب فکر کے علماء کرام، راہنماؤں اور ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بھی اعتماد میں لیتے ہوئے عوامی احتجاج کو اس انداز سے منظم اور مربوط طور پر آگے بڑھایا جائے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف وحشیانہ آپریشن کے اصل کردار اپنے کیفر کردار تک پہنچیں، جامعہ فریدیہ کی تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوں، جامعہ حفصہ جلد از جلد دوبارہ تعمیر کیا جائے، مولانا عبد العزیز رہا ہو کر لال مسجد کی خطابت کے فرائض دوبارہ سنبھالیں اور اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں نفاذ شریعت کی عوامی جدوجہد بھی اپنے ایک نئے دور کا آغاز کرے۔ لیکن اس کے لیے سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی اور مولانا عبد العزیز ان عناصر سے ہوشیار رہیں جو معاملات کو صحیح رخ پر آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے آج بھی مستعد ہیں۔