پارلیمنٹ کیسی ہونی چاہیے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۳ جولائی ۲۰۱۸ء

گزشتہ روز پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی راہنماؤں مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مفتی محمد نعمان پسروری، قاری عبید اللہ عامر، مولانا عبد المالک فاروقی اور قاری محمد عثمان رمضان کے ساتھ فیصل آباد کے دورے پر تھا کہ دوران سفر مفتی محمد نعمان نے ایک پرانا کالم یاد دلایا جس میں عام انتخابات کے کسی موقع پر میں نے لکھا تھا کہ میں پارلیمنٹ میں کن حضرات کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ ان کا تقاضہ تھا کہ وہ کالم دوبارہ شائع ہونا چاہیے مگر حالات میں تغیرات کی وجہ سے میں اپنے جذبات و احساسات کے دائرے میں اس حوالہ سے ازسرنو کچھ عرض کرنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں۔

پارلیمنٹ کے موجودہ کردار اور طرز عمل سے ایک نظریاتی سیاسی ورکر اور نفاذ شریعت کی جدوجہد کے شعوری کارکن کے طور پر مجھے اطمینان نہیں ہے اور میری خواہش ہے کہ پارلیمنٹ کو اپنے کچھ امور کا ازسرنو سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔

  • دستور میں منتخب جمہوری حکومت اور قرآن و سنت کی راہنمائی میں چلنے والی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے جس ڈھانچے کی بات کی گئی ہے یہ ادارے ابھی تک ان میں سے کسی ایک معیار کو بھی پورا نہیں کر پا رہے۔ اور اسی وجہ سے پارلیمنٹ اسلام اور جمہوریت دونوں حوالوں سے آزادانہ فیصلے کرنے اور اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کی پوزیشن حاصل نہیں کر سکی۔ خصوصاً غیر ملکی مداخلت کی اکاس بیل کے ساتھ ساتھ ملکی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات و خواہشات کی دھند نے پارلیمنٹ کے اس خودمختارانہ کردار کا منظر گہنا کر رکھ دیا ہے جس سے پارلیمنٹ کو بہرحال باہر نکلنا ہوگا ورنہ اسلام اور جمہوریت گزشتہ ستر سال کی طرح آئندہ بھی طاقتور اداروں کے درمیان فٹ بال بنے رہیں گے۔
  • جس نظریہ، عقیدہ اور تہذیب کے تحفظ و فروغ کے نام پر پاکستان وجود میں آیا تھا اسے ختم کرنے اور ملک کو مغربی نظام و فلسفہ کے سانچے میں بہرحال فٹ کر دینے کی کوششیں عالمی سطح پر اس الیکشن کے بعد مجھے فیصلہ کن مرحلہ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ جس میں عقیدہ و ثقافت کی حفاظت کی بات کرنے والے تو ابھی تک اسی مورچے پر کھڑے ہیں جہاں وہ اکبر بادشاہ کے دور میں کھڑے تھے، ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی استعمار کے دور میں ان کا مورچہ وہی تھا اور قیام پاکستان کے بعد بھی وہ اسی مورچے پر چلے آرہے ہیں۔ البتہ ملک و قوم کو اس کی تہذیب و ثقافت اور نظریہ و عقیدہ سے ہر قیمت پر محروم کر دینے کے خواہشمند سیکولر عناصر کے مورچے ہر دور میں بدلتے رہے ہیں۔ ایک دور میں وہ اکبر بادشاہ کے ساتھ کھڑے تھے، پھر انہیں ایسٹ انڈیا کمپنی اور تاج برطانیہ کا سہارا مل گیا، اس کے بعد وہ کچھ عرصہ سوویت یونین کے کیمپ میں رہے، پھر امریکی بالادستی کا پرچم ان کے ہاتھ میں آگیا اور اب وہ ایک بار پھر اپنا فکری و تہذیبی مورچہ تبدیل کرنے کے چکر میں ہیں جو ’’سی پیک‘‘ کی تکمیل سے رونما ہونے والی علاقائی اور تہذیبی تبدیلیوں کے ماحول میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہو ہی جائے گا۔ اس لیے پارلیمنٹ کے ماحول کو زیادہ سے زیادہ نظریاتی بنانے کی ضرورت ہے جو پاکستان کی تہذیبی شناخت اور دستور پاکستان کی نظریاتی اساس کا ناگزیر تقاضہ ہے اور اس کے لیے دینی قوتوں کو ہی آگے آنا ہوگا۔
  • پاکستان کی نظریاتی اساس اور تہذیبی شناخت کے ساتھ شعوری طور پر اب تک وہی طبقہ کمٹڈ دکھائی دے رہا ہے جس نے آزادی کی جنگ لڑی تھی، تحریک خلافت کا ماحول گرم کیا تھا، تحریک پاکستان کے دوران پورے برصغیر کے گلی کوچوں میں ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ‘‘ کی گونج پیدا کر دی تھی، پھر پاکستان میں تحفظ ناموس رسالتؐ، تحفظ عقیدہ ختم نبوتؐ، نظام مصطفٰیؐ کے نفاذ، اور نفاذ شریعت کی مسلسل تحریکات کے ذریعے اس ملی جذبہ و عزم کو برقرار رکھنے کی جدوجہد جاری رکھی۔ چنانچہ اب بھی یہ جنگ اسی نے لڑنی ہے جس کے لیے مکمل شعور و ادراک کے ساتھ یہ طبقہ اگر فرقہ وارانہ ماحول کے دائروں سے بالاتر ہو کر اجتماعیت و اتفاق کے ساتھ نئی صف بندی کر سکا تو تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر مجھے یقین ہے کہ ماضی کی طرح آنے والے حالات میں بھی فکری و تہذیبی یلغار کا مقابلہ کر سکے گا۔ مگر اس کے لیے قومی سیاست میں متحرک دینی جماعتوں کے متحدہ محاذ کا تسلسل انتہائی ضروری ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے فیصلوں، حکمت عملی کی تشکیل اور ان پر عملدرآمد میں ’’غیر مرئی‘‘ اشاروں سے آنکھیں بند رکھے اور داخلی صفوں میں کسی بھی حوالے سے دراڑیں ڈالنے والی کوششوں سے پورے شعور کے ساتھ محتاط رہے۔

چنانچہ معروضی حالات میں مجھے ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی بحالی اس مقصد کے لیے غنیمت نظر آتی ہے جو اپنے سابقہ دور کے تلخ تجربات سے سبق حاصل کر کے اگر خود کو الیکشن کے بعد بھی فعال رکھ سکے اور مد مقابل ’’ملٹی نیشنل سیکولر ٹیم‘‘ کے سامنے ٹیم ورک کے جذبہ اور ماحول کے ساتھ کھڑی رہے تو وہ قیادت کے اس خلا کو پر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ البتہ اس کے دائرے میں مزید وسعت پیدا کرنے اور گروہی ترجیحات سے ہٹ کر وسیع تر قومی و دینی مفاد میں ساتھ چل سکنے والی قوتوں کے لیے اپنی صفوں میں گنجائش پیدا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے، اور جب تک وہ ماحول قائم نہیں ہو جاتا متحدہ مجلس عمل کو اپنے دائرہ سے باہر کی دینی جماعتوں اور حلقوں کے ساتھ محاذ آرائی سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔ اس پس منظر میں متحدہ مجلس عمل کے مرکزی جلسوں میں مولانا فضل الرحمان اور لالہ سراج الحق کے ساتھ مولانا شاہ اویس نورانی، پروفیسر ساجد میر اور علامہ ساجد نقوی کی مسلسل شرکت اور خطاب حوصلہ افزا ہے جبکہ بعض حلقوں کے چند جزوی واقعات بھی اطمینان میں اضافے کا باعث بنے ہیں جن کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

چنیوٹ میں مولانا محمد الیاس چنیوٹی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے لیے الیکشن لڑ رہے ہیں، ان کے مقابلہ پر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مہر تنویر الحق کھڑے تھے جو علمائے چنیوٹ کی کوششوں سے دستبردار ہوگئے ہیں اور اب سب مل کر مولانا چنیوٹی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اس پر مہر تنویر الحق اور علمائے چنیوٹ شکریہ اور تبریک کے مستحق ہیں۔ اس حوالہ سے میرا موقف یہ ہے کہ مضبوط دینی موقف اور کردار رکھنے والی شخصیات کسی بھی کیمپ سے اسمبلیوں میں آرہی ہوں انہیں سپورٹ کرنا چاہیے اور ان کے راستہ میں کسی بھی سطح پر رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ میں اچھرہ لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے امیدوار میاں حافظ محمد نعمان کو بھی اسی دائرے میں سمجھتا ہوں جو جامعہ فتحیہ لاہور کے مہتمم ہیں اور ایک ایسے علمی و دینی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو کئی پشتوں سے دینی تحریکات بالخصوص تحریک ختم نبوت کے لیے سرگرم عمل چلا آرہا ہے اور میاں صاحب موصوف پہلے بھی صوبائی اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں۔ میں لاہور کے احباب بالخصوص اس حلقہ کے علماء کرام سے عرض کرنا چاہوں گا کہ وہ انہیں بھی مولانا محمد الیاس چنیوٹی کی طرح سپورٹ کریں۔ جھنگ میں مولانا محمد احمد لدھیانوی اور مولانا معاویہ اعظم طارق کی حمایت اور سپورٹ کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کا فیصلہ بہت خوش آئند ہے جس پر میں جھنگ کے علماء کرام اور جماعتی احباب کا ذاتی طور پر شکر گزار ہوں۔ اسی طرح کراچی میں علامہ اورنگزیب فاروقی اور جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا قاری محمد عثمان کو اکٹھے دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے جبکہ اس قسم کا ماحول بنانے کے لیے ملک میں جہاں بھی کوشش ہو رہی ہے اس کی ہم سب کو تحسین کرنی چاہیے۔

۲۰۱۸ء کے انتخابات میں ذاتی طور پر میری اولین ترجیح متحدہ مجلس عمل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان شریعت کونسل کے اس موقف کی بھی ایک بار پھر دوستوں کو یاددہانی کرانا چاہتا ہوں کہ:

  • جس حلقہ میں دینی جماعتوں کا کوئی مشترکہ امیدوار کھڑا ہے اسے سپورٹ کیا جائے۔
  • جہاں دینی جماعتوں کے ایک سے زیادہ امیدوار باہم مدمقابل ہیں ان میں مصالحت و اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔
  • باقی حلقوں میں علماء کرام اور دینی کارکن جس امیدوار کی بھی حمایت کریں اس سے تحریری وعدہ لیں کہ وہ کامیاب ہونے کے بعد:
    1. دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ اور ان پر عملدرآمد
    2. تحفظ ختم نبوتؐ، تحفظ ناموس رسالتؐ اور تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کے قوانین کی پاسداری
    3. سودی نظام کے خاتمہ
    4. فحاشی و عریانی کے سدباب
    5. اور دیگر اجتماعی قومی مقاصد کے لیے مخلصانہ جدوجہد کرے گا۔