پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کا ایک اہم پہلو

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ دسمبر ۲۰۰۸ء

عید الاضحٰی کی تعطیلات کے دوران مجھے ایک روز کے لیے صوابی جانے کا موقع ملا، صوابی کے علماء کرام ہر سال عید الاضحٰی کے بعد علاقائی سطح پر علماء کا اجتماع کرتے ہیں، اس سے قبل مجھے اس اجتماع میں ضلع صوابی کے مقام باجہ میں شرکت کا موقع حاصل ہوا تھا، جبکہ اس سال یہ اجتماع صوابی سے آگے ضلع بونیر کے مقام طوطالئی کے مدرسہ حقانیہ میں منعقد ہوا جس سے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ دامت برکاتہم نے بھی خطاب کیا۔

میں عید الاضحٰی کے بعد جمعہ کے روز رات ٹیکسلا پہنچا اور پاکستان شریعت کونسل کے راہنما جناب صلاح الدین فاروقی کے ہاں قیام کیا، وہ بھی اپنے بیٹوں کے ہمراہ ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوگئے اور ہم ہفتہ کے روز ان کی گاڑی میں بیٹھ کر صبح ناشتہ کے بعد روانہ ہوئے۔ راستہ میں حسن ابدال کے مقام پر ’’مرکز حضرت حافظ الحدیث درخواستی‘‘ میں رکے جو حسن ابدال سے آگے جی ٹی روڈ پر ایبٹ آباد موڑ کے ساتھ منوں نگر کی آبادی کے زیر تعمیر ہے۔ چار کنال رقبہ پر تعمیر ہونے والے اس مرکز میں مسجد، مدرسہ اور اسکول کے ساتھ پاکستان شریعت کونسل کا دفتر اور ہال بھی پروگرام میں شامل ہے۔ مسجد کی چھت ڈال دی گئی ہے اور پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اس مرکز کی تعمیر کی نگرانی کے لیے اسلام آباد میں قیام پذیر ہیں۔

ہم صوابی میں جلسے کے مقام پر پہنچے تو شیخ الحدیث مولانا شیر علی شاہ خطاب فرما رہے تھے اور علماء کرام کو ان کی دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے نفاذ شریعت کی جدوجہد میں سرگرم حصہ لینے کی ترغیب دے رہے تھے، انہوں نے نفاذ شریعت کی اہمیت اور اس کی برکات کا ذکر کیا اور اس مقصد کے لیے اس تحریک نفاذ شریعت کا بھی تعارف کرایا جو ان کی قیادت میں مصروف عمل ہے۔ طوطالئی پہنچنے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ یہ بستی مجاہدین آزادی کے تاریخی مرکز ’’پنج تار‘‘ کے دامن میں ہے جہاں انیسویں صدی عیسوی کے تیسرے عشرہ کے دوران امیر المجاہدین سید احمد شہیدؒ اور امام المجاہدین شاہ اسماعیل شہیدؒ کا قافلہ جہاد آزادی کے ایک مرحلہ میں کم و بیش چار سال تک قیام پذیر رہا ہے اور ان کی سکھ فوجوں سے معرکہ آرائی ہوتی رہی ہے۔ اجتماع میں میرے خطاب کا پروگرام ظہر کے بعد تھا اس لیے ہم نے اس سے قبل پنج تار حاضری دینے کا پروگرام بنا لیا۔ مولانا صلاح الدین فاروقی اور ان کے فرزندوں کے ہمراہ میں وہاں پہنچا، ہم نے ظہر کی نماز پنج تار کی مسجد میں ادا کی اور اس کے بعد دو بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی۔ ایک بزرگ حافظ عبد الرحیم دہلوی ہیں جو اس علاقہ میں جہاد کی سرگرمیوں کے لیے حضرت شاہ صاحبؒ سے بھی پہلے آئے اور یہیں ان کا انتقال ہوگیا، ان کی قبر پر ان کا سن وفات ۱۸۳۵ء درج ہے۔ جبکہ دوسرے بزرگ فتح خان پنج تاری ہیں جو اس علاقہ کے بڑے خان تھے اور جب علاقے کے دوسرے خوانین نے تحریک مجاہدین سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، فتح خان پنج تاری حضرت شاہ صاحبؒ کے ساتھ آخری وقت تک وفادار رہے تھے۔ ہم نے واپس پروگرام میں پہنچنا تھا اس لیے وہاں زیادہ وقت کے لیے رک نہ سکے لیکن جب ہم واپس روانہ ہو رہے تھے تو ایک بزرگ ہماری گاڑی کے پاس پہنچے اور تھوڑی دیر رکنے پر زور دیا، وہ اس طرح ہماری واپسی پر سخت ناراض ہو رہے تھے، ساتھ والے دوستوں نے بتایا کہ یہ بزرگ فتح خان پنج تاری کے نواسے ہیں، ان کا نام بہرہ مند خان ہے اور ان کا بیٹا جہاد افغانستان میں شہید ہو چکا ہے۔ پنج تار کی حاضری بالکل غیر متوقع تھی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے صوابی کے اس سفر کو مزید بامقصد اور بابرکت بنا دیا۔

علماء کرام کے اجتماع میں خطاب کے لیے مجھے ’’علماء دیوبند کی خدمات‘‘ کا موضوع دیا گیا تھا چنانچہ میں نے اکابر علماء دیوبند کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا اور آخر میں عرض کیا کہ علماء دیوبند کی دینی محنت کے دائرہ کو اللہ تعالیٰ نے کتنی وسعت دی ہے اس کی تازہ ترین جھلک یہ ہے کہ میں نے امریکہ میں پرائیویٹ شرعی عدالتوں کو کام کرتے دیکھا ہے جو مسلمانوں کے خاندانی اور مالیاتی تنازعات کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرتی ہیں اور شکاگو میں اس شریعہ بورڈ کے سربراہ مولانا مفتی نوال الرحمان دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں۔ جبکہ اسی سال میں نے جنوبی افریقہ کے مسلم جوڈیشیل کونسل کے رہنماؤں سے کیپ ٹاؤن میں ملاقاتیں کی ہیں، اس کونسل کے تحت بھی شرعی عدالت اسی نوعیت کی خدمات سرانجام دے رہی ہے اور اس کے سربراہ مولانا محمد یوسف بھی فاضل دیوبند ہیں۔ میرے نزدیک علماء دیوبند کی جدوجہد کا یہ پہلو سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے بالخصوص اس ماحول میں کہ پنج تار کے دامن میں علماء کرام سے گفتگو کر رہا ہوں جہاں امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ اور امام المجاہدین شاہ اسماعیل شہیدؒ کم و بیش چار سال تک شریعت اسلامیہ کے مطابق مسلمانوں کے مقدمات کے فیصلے کرتے رہے ہیں۔ اور ابھی مجھ سے پہلے مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب آپ حضرات سے نفاذ شریعت کی برکات پر گفتگو فرما رہے تھے، جہاں تک نفاذ شریعت کی برکات کا تعلق ہے اس کی صرف ایک جھلک عرض کرنا چاہتا ہوں، میں نے چند روز قبل ایک کتاب میں امام ابو عبید قاسم بن سلام کی ’’کتاب الاموال‘‘ کے حوالے سے یہ واقعہ پڑھا ہے کہ:

’’امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیزؒ کے دور خلافت میں عراق کے گورنر عبد الحمید نے انہیں یہ خط لکھا کہ عراق میں بیت المال کی سالانہ آمدنی (ریونیو) وصول ہونے اور متعلقہ مصارف پر انہیں خرچ کیے جانے کے بعد کچھ رقم بچی ہوئی اس کا کیا کیا جائے؟ امیر المؤمنین نے جواب دیا کہ اپنی رعایا کے ان مقروضوں کا قرضہ ادا کر دو جو قرض ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ گورنر نے رپورٹ دی کہ یہ کر چکا ہوں ۔امیر المؤمنین نے لکھا کہ جو نوجوان شادی کے قابل ہیں اور اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے شادی نہیں کر پا رہے ان کی شادیاں کرا دو۔ گورنر نے جواب دیا کہ یہ بھی کر چکا ہوں۔ امیر المؤمنین نے لکھا کہ جو خاوند اپنی بیویوں کا مہر ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ان کے مہر ادا کر دو۔ گورنر نے لکھا کہ یہ بھی کر چکا ہوں۔ امیر المؤمنین نے لکھا کہ جو مالکان اپنی زمینیں خرچہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں آباد نہیں کر پا رہے انہیں قرضہ دے دو۔‘‘

یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے اسلامی نظام کی برکات کی کہ جب شرعی قوانین نافذ ہوتے ہیں تو عام لوگوں کو اس سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ میں نے علماء کرام کو بتایا کہ تحکیم کے درجہ میں شرعی عدالتیں امریکہ میں کام کر رہی ہیں، جنوبی افریقہ میں کام کر رہی ہیں اور بھارت میں بھی کام کر رہی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں جمعیۃ علماء اسلام نے ۱۹۷۵ء کے دوران ملک میں اسی سطح کی پرائیویٹ شرعی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا مگر پیپر ورک مکمل ہونے کے باوجود اس پر عمل نہیں ہو سکا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ اگر امریکہ، جنوبی افریقہ اور بھارت میں یہ کام ہو سکتا ہے تو پاکستان میں بھی ہو سکتا ہے ۔

میرے خیال میں نفاذ شریعت کے تین مراحل ہیں۔ (۱) امارت (۲) قضا (۳) اور تحکیم۔ پہلے دو مرحلوں کے لیے تو ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور حکومت سے اس کا مطالبہ جاری رہنا چاہیے۔ لیکن تیسرے یعنی تحکیم کے درجہ میں ہم کسی کے محتاج نہیں ہیں اور دستور بھی ہمیں اجازت دیتا ہے، اس لیے اگر اس کے لیے ہم سنجیدگی کے ساتھ محنت کر سکیں تو یہ کام کچھ زیادہ مشکل نہیں اور ہمیں یہ کام ضرور کرنا چاہیے۔ میری رائے یہ ہے کہ اگر ہم اپنے دائرہ اختیار میں شرعی قوانین پر عملدرآمد کا اہتمام کر لیں اور اس کے لیے محنت کے ساتھ کوئی نیٹ ورک منظم کر سکیں تو اس کے ثمرات و برکات دیکھ کر رائے عامہ بھی اس طرف متوجہ ہوگی اور حکومت کے لیے دوسرے شعبوں یعنی امارت اور قضا میں بھی شرعی قوانین کی عملداری سے فرار کا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔

میری ان گزارشات کے بعد بہت سے دوستوں نے جمعیۃ علماء اسلام کی پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں اور میں آئندہ ایک دو کالموں میں احباب کو یہ معلومات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔