فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۲ اگست ۲۰۱۸ء

۹ اگست کو ستیانہ روڈ فیصل آباد کے سلیمی چوک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مرکزی نائب امیر مولانا خواجہ عزیز احمد آف کندیاں شریف نے کی اور خطاب کرنے والوں میں مولانا اللہ وسایا، پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی، مولانا ضیاء الدین آزاد اور دیگر سرکردہ حضرات شامل تھے جبکہ راقم الحروف نے بھی کچھ معروضات پیش کیں جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ملک میں سیاسی تبدیلیوں اور نئے پاکستان کی باتوں کے دوران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے یہ کانفرنس بروقت منعقد کی ہے اور عالمی مجلس بحمد اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر دور میں متحرک اور بیدار رہتی ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر اور ملک کے اندر بہت سی لابیاں اس مقصد کے لیے متحرک ہیں کہ قادیانیوں کو کسی نہ کسی طرح مسلم سوسائٹی میں شامل کرا دیا جائے۔ اور آنے والا ماحول اس حوالہ سے اپنے اندر زیادہ خدشات کا حامل دکھائی دے رہا ہے اس لیے اس موقع پر امت مسلمہ کے دوٹوک موقف کا اظہار ہر جگہ اور ہر سطح پر ضروری ہے اور اسی پہلو پر کچھ باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔

یہ سوال اس وقت مختلف دائروں میں گردش کر رہا ہے کہ کیا قادیانیوں کو مسلم سوسائٹی میں شامل کرنے کی کوئی صورت ممکن ہے؟ ایک محفل میں مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے عرض کیا کہ ایک ہی صورت ممکن ہے کہ قادیانی اس مقصد کے لیے ’’پراپر چینل‘‘ آئیں۔ اس لیے کہ ہر کام کا کوئی فطری پراسیس ہوتا ہے اور کوئی چینل ہوتا ہے، وہ کام اس ذریعہ سے کیا جائے تو ہو پاتا ہے ورنہ مطلوبہ پراسیس اور چینل کو کراس کرنے سے معاملات پہلے سے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں چار حضرات نے نبوت کا دعوٰی کیا تھا اور ان کے ساتھ ہزاروں افراد پیروکار کے طور پر شامل ہوگئے تھے۔ (۱) مسلیمہ کذاب (۲) اسود عنسی (۳) طلیحہ بن خویلد (۴) اور سجاح خاتون۔ ان کا مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ ہوا، جنگیں ہوئیں اور کافی دیر معرکہ آرائی رہی جس کا آخری نتیجہ یہ تھا کہ مسیلمہ اور اسود تو مارے گئے مگر طلیحہ اور سجاح نے نبوت کے دعوٰی سے رجوع کر کے عام مسلمانوں کے اجماعی عقائد کی طرف واپسی کر لی جبکہ ان کے ہزاروں ساتھیوں نے شکست کے بعد محاذ آرائی ترک کر دی، اپنا الگ تشخص ختم کر دیا اور اس طور پر خود کو مسلم سوسائٹی میں ضم کر دیا کہ اس کے بعد ان میں سے کسی شخص کی نبوت کا پرچار تاریخ کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس سلسلہ میں فطری راستہ اور طریقہ کار یہی ہے کہ قادیانی امت نئی نبوت کے دعوے سے دستبردار ہو جائے، مسلمانوں کے اجماعی عقائد کو قبول کرنے کا اعلان کرے اور نبوت کے نام پر اپنا الگ تشخص ختم کر دے تو طلیحہ اور سجاح کی طرح اور مسیلمہ کذاب کے ہزاروں پیروکاروں کی طرح قادیانیوں کو بھی مسلم سوسائٹی میں قبول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے ہٹ کر اس سلسلہ میں ان کی کوئی کوشش اور ان کے حمایتیوں اور پشت پناہوں کا کوئی دباؤ قبول کرنا امت مسلمہ کے لیے ممکن نہیں ہے۔

اس حوالہ سے ایک اور بات بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نبوت کے دعوے سے قبل ان کے عقائد وہی تھے جو عام مسلمانوں کے ہیں اور ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ قادیانی حضرات بیرونی دنیا میں مرزا صاحب کے اس دور کی بعض عبارات کو پیش کر کے یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ مرزا صاحب تو ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں مگر مولوی حضرات خواہ مخواہ انہیں ختم نبوت کا منکر قرار دے رہے ہیں۔ میں نے قادیانیوں سے کئی بار عرض کیا ہے کہ اگر وہ فی الواقع نبوت کے دعوٰی سے قبل کی مرزا صاحب کی ان عبارات اور عقائد کو صحیح مانتے ہیں تو پھر وہ مرزا صاحب کے نبوت کے دعوٰی اور اس کے بعد کے عقائد سے براءت کا اعلان کر دیں۔ یہ صورت بھی مسلم امہ میں ان کی واپسی کی ہو سکتی ہے، وہ اگر یہ کر سکتے ہیں تو ہم انہیں قبول بھی کریں گے اور خیرمقدم بھی کریں گے۔ مگر اس کے بغیر اگر وہ دجل و فریب کے ذریعے سے اور دنیا کو گمراہ کر کے خود کو مسلمانوں میں شامل کرانا چاہتے ہیں تو یہ ممکن نہیں ہے اور مسلمہ علم و دانش اور اخلاقی و مذہبی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ اس لیے وہ اور ان کے پشت پناہ گروہ اس فضول محنت میں اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کریں، اس کا کبھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

آج کی اس کانفرنس کے موقع پر میں تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کو بھی یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ متوقع وزیراعظم ہیں اور چند روز میں حلف اٹھانے والے ہیں، میری ان سے گزارش ہے کہ انہوں نے ’’ریاست مدینہ‘‘ کی کئی بار بات کی ہے، وہ اگر اس میں سنجیدہ ہیں اور ریاست مدینہ سے ان کی مراد وہ ریاست ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں قائم کی تھی، جس کے لیے ’’میثاق مدینہ‘‘ کو دستور بنایا تھا اور دس سال تک اس ریاست پر وحی الٰہی کے مطابق حکومت کی تھی، تو ہم کسی قسم کے تحفظات اور حجاب کے بغیر اس کے لیے ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ لیکن اگر یہ صرف ایک سیاسی نعرہ ہے یا ریاست مدینہ کے نام پر وہ کوئی اور فلسفہ ہم پر مسلط کرنا چاہیں گے تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسی کسی بھی کوشش کو دینی حلقوں کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس کے ساتھ ہی عمران خان صاحب کرپشن کے خاتمہ کی بات کر رہے ہیں جو بہت خوش آئند ہے اور ہر پاکستانی کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔ مگر کرپشن صرف چند سیاستدان نہیں کر رہے اور یہ صرف معاشی شعبہ تک محدود نہیں ہے بلکہ کرپشن سیاست میں بھی ہے، عدلیہ و انتظامیہ میں بھی ہے اور دیگر قومی ادارے بھی اس سے پاک نہیں ہیں۔ میں جناب عمران خان کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر کرپشن کے خلاف ان کے اقدامات وسیع تناظر میں اور بلا استثنا ہوں گے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے، ان کا ساتھ دیں گے اور ہر ممکن تعاون کریں گے مگر شرط یہ ہے کہ وہ بلا امتیاز ہو اور امانت و دیانت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق ہوں۔

ایک اور بات کی یاد دہانی بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا اسلامی تشخص، تہذیبی شناخت اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات بالخصوص (۱) قرارداد مقاصد (۲) تحفظ ختم نبوت اور (۳) تحفظ ناموس رسالتؐ کے قوانین ملت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ اور قوم کے متفقہ فیصلے ہیں، ان کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر اور ملک کے اندرونی سیکولر حلقوں کی طرف سے آپ کو گھیرا جائے گا اور مختلف حیلوں سے ملک و قوم کی ان مسلمہ بنیادوں کو آپ کے ذریعے کمزور کرانے کی مسلسل سازشیں کی جائیں گی، ان سے محتاط رہیں اور ایسی کسی بھی کوشش اور سازش کو بہر صورت مسترد کر دیں ورنہ ملک کے دینی حلقے اور عوام سے ایسی کوئی بات برداشت نہیں ہوگی اور ایک نئی محاذ آرائی کا بازار گرم ہو جائے گا جس کے باعث نہ آپ اطمینان سے حکومت کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے کسی ایجنڈے پر عمل کر پائیں گے۔