حضرت عمرؓ کی گڈ گورننس کی بنیاد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ جولائی ۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
دینی مدارس کی اہمیت کا ایک پہلو

۲ جولائی کو ایک روز کے لیے کراچی جانے کا اتفاق ہوا، یہ سفر جامعہ اسلامیہ کلفٹن کی دعوت پر ختم بخاری شریف کی تقریب اور سالانہ جلسہ دستار بندی میں شرکت کے لیے ہوا مگر حسب معمول صبح نماز فجر کے بعد جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی) میں تخصص فی الفقہ کے شرکاء کے ساتھ اور نماز ظہر کے بعد جامعہ دارالعلوم کورنگی میں تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے شرکاء کے ساتھ بھی ایک ایک نشست ہوئی۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن کی سالانہ تقریب صبح ۹ بجے سے شروع ہو کر نماز ظہر تک جاری رہی اور اس میں جامعہ خیر المدارس ملتان کے شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق، مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا مفتی محی الدین اور دیگر علماء کرام کے خطابات ہوئے جبکہ مولانا مفتی حبیب اللہ شیخ نے دورۂ حدیث کے طلبہ کو بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا۔ راقم الحروف نے اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ ہم ایک دینی درسگاہ کی سالانہ تقریب میں شریک ہیں اور آج یہ دینی مدارس دنیا بھر میں گفتگو، مباحثہ اور طعن و اعتراضات کا ہدف ہیں بلکہ اب تو بموں اور ڈرون حملوں کا بھی نشانہ ہیں۔ ڈیڑھ سو برس سے جب سے دینی مدارس کا یہ آزادانہ نظام قائم ہے دنیا کی بہت سی قوتوں کی کوشش ہے کہ یہ مدرسہ ختم ہو جائے یا کم از کم اپنے آزادانہ تعلیمی و معاشرتی کردار سے محروم ہو جائے۔ لیکن یہ دینی تعلیم کا اعجاز ہے کہ جوں جوں ان مدارس کی مخالفت بڑھ رہی ہے، ان پر اعتراضات میں اضافہ ہو رہا ہے اور انہیں ختم کر دینے کے نت نئے پروگرام بن رہے ہیں، اس سے زیادہ رفتار کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، دائرہ کار میں وسعت پیدا ہو رہی ہے اور قوت کار میں ترقی ہو رہی ہے جو مستقبل میں بھی ان شاء اللہ تعالیٰ ہوتی رہے گی۔ اور اس حوالے سے میں ایک شعر پڑھتے ہوئے اپنے موضوع گفتگو کے اصل نکتہ کی طرف بڑھنا چاہوں گا کہ:

میری بنیاد ہلا دے مجھے پسپا کر دے
اتنی ہمت تو ابھی گرش دوراں میں نہیں ہے

میں آج دینی مدارس کے حوالے سے ایک نکتہ پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج کے دور میں ان مدارس کی کیا ضرورت ہے؟ اور آج کی ترقی یافتہ، گلوبل اور کلچرڈ انسانی سوسائٹی کے عملی مسائل و مشکلات کے ساتھ ان مدارس کا کیا تعلق ہے؟ آج ہی کے اخبارات میں ہمارے عزت مآب چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری کا ایک بیان شائع ہوا ہے کہ ملک کے حکمرانوں کو گڈ گورننس کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرنی چاہیے کیونکہ امیر المؤمنین حضرت عمرؓ مثالی حکمران اور گڈ گورننس کے لیے آئیڈیل اور مثالی شخصیت ہیں اور انہی کے نقش قدم پر چل کر ہم اپنے نظام و کردار کی اصلاح کر سکتے ہیں۔

میں جناب چیف جسٹس کے اس بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے ملک کے حکمرانوں کی صحیح سمت راہنمائی فرمائی ہے اور یہ صرف ان کا کہنا نہیں ہے بلکہ تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا میں عدل و انصاف اور رعایا پروری کے لیے جن چند شخصیات کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے ان میں حضرت عمرؓ نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن میں اس کے ساتھ چند اور باتوں کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔

  1. ایک یہ کہ کچھ عرصہ قبل ہمارے ایک محترم سیاستدان نے فرمایا تھا کہ ہمیں مولویوں والا اسلام نہیں چاہیے بلکہ حضرت عمرؓ والا اسلام چاہیے۔ میں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ میرے بھائی! اتنا اونچا ہاتھ مت مارو یہ ہمارے بس میں نہیں ہے، ہم سے تو اپنے پڑوس میں ایک چھوٹا سا ’’عمر‘‘ ہضم نہیں ہوا اتنے بڑے ’’عمر‘‘ کے ساتھ کیسے چل سکیں گے؟ اس لیے کہ حضرت عمرؓ ڈنڈے والے خلیفہ تھے، ان کے ہاتھ میں ہر وقت کوڑا ہوتا تھا اور وہ کسی کا لحاظ نہیں کیا کرتے تھے اور ان کے سامنے تو بڑے بڑے نیکوکاروں پر بھی کپکپی طاری ہو جایا کرتی تھی۔ اس لیے کسی صلاح الدین ایوبی، اورنگزیب عالمگیر اور شمس الدین التمش طرز کے حکمران کی بات کرو۔
  2. دوسری گزارش اس حوالے سے میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت عمر بلاشبہ گڈ گورننس میں آئیڈیل تھے اور اپنے پرائے سب ان کی اس تاریخی حیثیت و مقام کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس گڈ گورننس کی بنیاد کس بات پر تھی ہمیں اس کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ میرے سامنے تپائی پر بخاری شریف رکھی ہے، اس میں امام بخاریؒ نے حضرت عمرؓ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے دو اوصاف کا ذکر کیا ہے اور میرے نزدیک یہی حضرت عمرؓ کی گڈ گورننس کی بنیاد تھی۔
    • ایک یہ کہ وہ قرآن کریم کا حکم سامنے آنے پر رک جایا کرتے تھے۔ ’’کان وقافًا عند کتاب اللہ‘‘ کہ قرآن کریم کا ارشاد معلوم ہونے پر اس کے سامنے سرنڈر ہو جایا کرتے تھے، اسٹاپ ہو جاتے تھے اور ارشادِ خداوندی سامنے آنے کے بعد ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے قرآن کریم کے حکم اور ارشاد کے سامنے رک جانے، اسٹاپ ہو ہونے اور سپر انداز ہو جانے پر امام بخاریؒ نے بعض واقعات بھی بیان کیے ہیں مگر میں اس کی تفصیل میں جائے بغیر عرض کروں گا کہ حضرت عمرؓ کی حکمرانی کی بنیاد قرآن کریم پر تھی اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و تعلیمات کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کرتے تھے۔
    • حضرت عمرؓ کے طرز حکمرانی کا دوسرا امتیاز امام بخاریؒ نے یہ ذکر کیا ہے کہ اپنی مشاورت و معاونت کے لیے وہ افراد اور ٹیم کا انتخاب قرآن کریم کے علم کی بنیاد پر کرتے تھے۔ جس شخص کے پاس قرآن کریم کا علم زیادہ ہوتا تھا اسے حضرت عمرؓ کی مجلس میں زیادہ قرب حاصل ہوتا تھا، پروٹوکول زیادہ ملتا تھا اور اس کے مشوروں کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی تھی۔ امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ اس میں نوجوان اور بوڑھے کی تمیز نہیں ہوتی تھی اور بعض نوجوانوں کو صرف اس وجہ سے وہ بزرگ صحابہ کرامؓ کے ساتھ بٹھایا کرتے تھے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علم سے نوازا ہے۔ امام بخاریؒ نے اس سلسلہ میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور حضرت حر بن قیس فزاریؓ کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔

    اس لیے اگر حضرت عمرؓ کی گڈ گورننس سے ہم نے استفادہ کرنا ہے اور اسے اپنے لیے مثال بنانا ہے تو اس کے لیے قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور ان اصولوں کو عملی زندگی اور اجتماعی نظام میں لانا ہوگا جن کی وجہ سے حضرت عمرؓ کو انسانی تاریخ میں گڈ گورننس کی آئیڈیل شخصیت کا مقام حاصل ہوا۔

  3. جبکہ تیسری گزارش میں یہ کرنا چاہوں گا کہ حضرت عمرؓ کی گڈ گورننس اور ان کی تعلیمات اور ارشادات کی طرف راہنمائی ہمیں آکسفورڈ، کیمبرج اور ہاورڈ کی یونیورسٹیوں میں نہیں ملے گی، ان کی تعلیمات کے مراکز یہی غریب مدارس ہیں جو تمام تر مشکلات، بے سروسامانی اور طعن و تشنیع کے عالمی ماحول کے باوجود حضرت عمرؓ کی تعلیمات کو سنبھالے ہوئے ہیں، ان کا تحفظ کر رہے ہیں اور انہیں اگلی نسل کی طرف منتقل کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے عالمی استعمار کے غصہ اور انتقام کا سب سے بڑا ہدف بھی ہیں۔ ہمارے چیف جسٹس محترم نے پاکستان کے نظام حکمرانی کے حوالہ سے بات کی ہے مگر میں عرض کروں گا کہ اب تو پوری دنیا کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہا کہ وہ حضرت عمرؓ کی گڈ گورننس کی طرف رجوع کرے اور ان کی ویلفیئر اسٹیٹ کے نظام و تصور سے استفادہ کرے۔ دنیا کو جلد یا بدیر اسی طرف واپس آنا ہوگا۔ کیونکہ یہ دینی مدرسہ صرف ماضی کے علمی ورثہ کی حفاظت نہیں کر رہا بلکہ انسانی سوسائٹی کے مستقبل کی ناگزیر ضرورت کو بھی سنبھالے ہوئے ہے، اس لیے آج کے دانشوروں کو دینی مدرسہ کے اس کردار کا احترام و اعتراف کرتے ہوئے اس کی مخالفت کرنے کی بجائے اسے سپورٹ کرنا چاہیے۔
درجہ بندی: