شریعت بل اور شریعت کورٹ ۔ قومی اسمبلی کی نازک ترین ذمہ داری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۱۹۹۰ء

سینٹ آف پاکستان نے مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کا پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کم و بیش پانچ سال کی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ شریعت بل ۱۹۸۵ء میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے سامنے رکھا گیا تھا، اسے عوامی رائے کے لیے مشتہر کرنے کے علاوہ سینٹ کی مختلف کمیٹیوں نے اس پر طویل غور و خوض کیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھی اسے بھجوایا گیا۔ شریعت بل کی حمایت اور مخالفت میں عوامی حلقوں میں گرما گرم بحث ہوئی، متعدد حلقوں کی طرف سے اس میں ترامیم پیش کی گئیں اور بالآخر ترامیم کے ساتھ شریعت بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے حوالہ سے ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کی منظوری اور ۱۹۷۳ء میں اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دیے جانے کے بعد یہ تیسرا اہم ترین واقعہ ہے۔ اول الذکر دو اقدامات کے ذریعے ملک کی نظریاتی اور اسلامی حیثیت کے تعین کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات و احکامات کو قومی پالیسیوں کا سرچشمہ قرار دیا گیا تھا جبکہ شریعت بل ملک کے اجتماعی نظام میں اسلامی تعلیمات کے مطابق انقلابی عملی تبدیلیوں کا نقطۂ آغاز ہے۔

شریعت بل سینٹ سے منظور ہونے کے بعد اب قومی اسمبلی کے فلور پر آنے والا ہے اور اسے منظور کرنے کی ذمہ داری قومی اسمبلی کے ارکان کے لیے ایک کڑی آزمائش بن گئی ہے۔ ملک کے بعض حلقے اپنے گروہی مفادات اور مصلحتوں کی خاطر یقیناً شریعت بل کی منظوری میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے بلکہ ان کوششوں کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ لیکن قومی اسمبلی کے ارکان سے ہم یہ گزارش کریں گے کہ وہ گروہی، جماعتی اور طبقاتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر شریعت بل کے منظور شدہ مسودہ کا مطالعہ کریں اور ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے ضمیر کے مطابق اس کے بارے میں فیصلہ کریں کیونکہ شریعت اسلامیہ کی بالادستی ایک مسلمان کے ایمان و عقیدہ کا مسئلہ ہے اور اس کے لیے میدانِ حشر میں بارگاہِ ایزدی اور دربارِ مصطفویؐ میں جواب دہی کے مرحلہ سے بھی گزرنا ہوگا۔

نفاذ اسلام کے حوالہ سے شریعت بل کے علاوہ ایک اور اہم اور نازک مسئلہ بھی اس وقت قومی اسمبلی کے ارکان کے ضمیر کو دستک دے رہا ہے اور وہ ہے وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے مالیاتی امور کو مستثنٰی رکھنے کا مسئلہ جو اس وقت قومی حلقوں میں سنجیدگی کے ساتھ زیربحث ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کم و بیش دس سال قبل تشکیل دی گئی تھی اور اس کی ذمہ داریوں میں ملک میں رائج غیر اسلامی قوانین پر نظرثانی کا کام شامل تھا لیکن بعض دیگر قوانین کی طرح مالیاتی قوانین کو دس سال کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے مستثنٰی کر دیا گیا تھا۔ اور اس استثنا کی وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ اس دوران متبادل مالیاتی نظام ترتیب پا جائے تاکہ موجودہ غیر اسلامی سودی مالیاتی نظام کو یکلخت ختم کرنے کی صورت میں کوئی خلا پیدا نہ ہو اور مالیاتی نظام افراتفری اور ابتری کا شکار نہ ہو جائے۔ دس سال کی یہ میعاد جون ۱۹۹۰ء کے دوران ختم ہو رہی ہے جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل ملکی اور بیرونی علماء اور ماہرین معیشت کی مشاورت اور راہنمائی سے سود سے پاک معاشی نظام کا مکمل خاکہ مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر چکی ہے۔ لیکن حکومتی حلقوں کا یہ رجحان سامنے آرہا ہے کہ وہ وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے مالیاتی امور کو مستثنٰی رکھنے کی مدت میں مزید اضافہ کر کے موجودہ سودی نظام کو برقرار رکھنے کی فکر میں ہیں، اس مقصد کے لیے ارکانِ اسمبلی کو ہموار کرنے کی مہم جاری ہے اور یہ مسئلہ بھی قومی اسمبلی کے سامنے آنے والا ہے۔

قومی اسمبلی کے ارکان کے سامنے اس مسئلہ کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ سود کو قرآن کریم نے صراحتاً حرام قرار دیا ہے بلکہ سود کے لین دین کو خدا اور رسولؐ کے خلاف جنگ سے تعبیر کیا ہے۔ جبکہ موجودہ معاشی نظام کی بنیاد ہی سود پر ہے اور اسلام کے عملی نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے معاشی نظام کو سود اور اس جیسی خرابیوں سے یکسر پاک کر دیا جائے۔ اس لیے ہم قومی اسمبلی کے محترم ارکان سے گزارش کریں گے کہ وہ سود پر مبنی غیر اسلامی معیشت کو باقی رکھنے کی مہم کا ساتھ نہ دیں بلکہ اس بات پر زور دیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی بنیاد پر سود سے پاک معاشی نظام کو ملک میں بلا تاخیر رائج کیا جائے۔

بہرحال شریعت بل اور شریعت کورٹ کے اختیارات کا مسئلہ ارکانِ اسمبلی کے ضمیر اور ایمان کے لیے چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر انہوں نے ان دو مسائل کے سلسلہ میں دین و ایمان کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے کردار کا تعین کیا تو ان کا یہ عمل دنیا و آخرت میں ان کی نیک نامی اور سرخروئی کا باعث ہوگا، اور اگر وہ جماعتی مصلحتوں اور گروہی و طبقاتی مفادات کے حصار سے خود کو نہ نکال سکے تو سود پر اصرار اور شریعت کی بالادستی سے انحراف کے اس بدترین قومی جرم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیاوی اور اخروی عذاب (العیاذ باللہ) کا سب سے پہلا اور بڑا ہدف وہی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس رسوائی اور ذلت سے پوری قوم کو پناہ میں رکھیں، آمین یا الٰہ العالمین۔