اسلامی قوانین ۔ غیر انسانی؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۱۹۸۹ء

روزنامہ جنگ لاہور نے پی پی آئی کے حوالہ سے ۷ نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں یہ خبر شائع کی ہے کہ:

’’پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی نے حکومت سے زنا حدود آرڈیننس فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے غیر اسلامی، غیر جمہوری اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں کہا ہے کہ یہ آرڈیننس کسی بھی طرح خواتین کے ساتھ زنا اور اغوا جیسے جرائم کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوا بلکہ اس سے ملک میں خواتین کے احترام میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کمیٹی نے اس سلسلہ میں دس صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کر کے ججوں سمیت مختلف حکام کو بھجوا دی ہے اور اس کی ایک کاپی وفاقی وزیر قانون افتخار گیلانی اور وفاقی وزیر بیگم ریحانہ سرور کو بھی دی گئی ہے۔ انہوں نے ان سفارشات کی روشنی میں اس آرڈیننس کے خاتمہ کے لیے مثبت اقدام کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔‘‘

زنا اور دیگر جرائم کے بارے میں شرعی قوانین پر مشتمل حدود آرڈیننس گزشتہ حکومت نے نافذ کیا تھا جس پر عملدرآمد کے سلسلہ میں ہمیں مسلسل شکایت رہی ہے اور ’’پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی‘‘ کی مذکورہ بالا رپورٹ کے اس حصہ سے ہم متفق ہیں کہ یہ آرڈیننس زنا اور اغوا جیسے جرائم کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہوا۔ لیکن ہمارے نزدیک اس کی وجہ حدود آرڈیننس میں شامل شرعی قوانین نہیں بلکہ ملک میں رائج دوہرا قانونی نظام، عملدرآمد کے ذمہ دار اداروں کی منافقانہ روش، اور شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے مناسب عدالتی و انتظامی مشنری فراہم نہ کرنے کی پالیسی ہے۔ ورنہ حدود و قصاص کے یہی قوانین برادر ملک سعودی عرب میں بھی نافذ ہیں اور انہی احکام و قوانین کی برکت سے عالمی سطح پر مسلّمہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں جرائم کی شرح سب سے کم ہے۔

جہاں تک شرعی قوانین کو غیر انسانی، غیر جمہوری اور غیر اسلامی قرار دینے کا تعلق ہے، یہ اسلامی نظام و قوانین کے خلاف یہودی، ہندو، کمیونسٹ اور سیکولر لابیوں کی مشترکہ عالمی مہم کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے ہم پاکستان ویمن لیگل رائٹس کمیٹی کے ارکان سے گزارش کریں گے کہ وہ حدود آرڈیننس پر مؤثر عملدرآمد، اسے جرائم کے خاتمہ کا یقینی ذریعہ بنانے، اور اس کی خامیوں کو دور کرنے کی ضرور کوشش کریں، اس سلسلہ میں انہیں ہمارا تعاون بھی حاصل ہوگا۔ لیکن اسلامی نظام و قوانین کے خلاف اسلام دشمن لابیوں کی مہم میں ان کا آلۂ کار نہ بنیں کہ یہ اسلام دشمنی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کے ساتھ غداری کے بھی مترادف ہے۔