خلیفہ کے لیے قریشی ہونے کی شرط

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۶ اپریل ۲۰۰۰ء

راقم الحروف نے ایک کالم میں برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں گزشتہ عیسوی صدی کی تیسری دہائی میں ترکی کی خلافت عثمانیہ کی حمایت میں چلنے والی تحریکِ خلافت کے بارے میں یہ ذکر کیا تھا کہ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ نے اس تحریک کی مخالفت کی تھی اور ترکوں کے خلاف فتویٰ پر دستخط کیے تھے۔ اس پر مری کے محمد مسکین عباسی صاحب نے ایک مراسلہ میں سوال کیا ہے کہ میرے پاس اس کا حوالہ کیا ہے؟ کیونکہ ان کے خیال میں مولانا احمد رضا خانؒ ترکوں کی خلافت کے حامی تھے اور انہوں نے ترکوں کی امداد کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیموں کی سرپرستی بھی کی تھی۔ جناب محمد مسکین عباسی صاحب سے گزارش ہے کہ میں نے یہ بات کچھ عرصہ پہلے تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما چوہدری خلیق الزمان مرحوم کی کتاب ’’شاہراہِ پاکستان‘‘ میں پڑھی تھی جو ان کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔

عباسی صاحب کا خط شائع ہونے کے بعد میں نے مناسب سمجھا کہ اس کتاب کو دوبارہ ایک بار دیکھ لوں اور حوالہ چوہدری صاحب مرحوم کے الفاظ میں ہی نقل کر دوں مگر متعدد دوستوں سے رابطہ قائم کرنے کے باوجود ’’شاہراہِ پاکستان‘‘ دستیاب نہ ہوئی۔ البتہ گزشتہ روز اپنے بھانجے نبیل عدنان خان کی شادی میں شرکت کے لیے اچھڑیاں ضلع مانسہرہ گیا تو وہاں کی جامع مسجد کے خطیب مولانا غلام نبی صاحب کی ذاتی لائبریری میں مجھے قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت اسلام آباد کی شائع کردہ کتاب ’’برصغیر پاک و ہند کی سیاست میں علماء کا کردار‘‘ مل گئی جو جناب ایچ بی خان کی تصنیف ہے اور اس میں انہوں نے تحریک خلافت پر بحث کرتے ہوئے ’’شاہراہِ پاکستان‘‘ سے چوہدری خلیق الزمان مرحوم کے چند ریمارکس نقل کیے ہیں جو جناب محمد مسکین عباسی صاحب اور ان کی وساطت سے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں:

’’۱۹۱۴ء میں جنگ عظیم اول کی ابتدا کے بعد ترکی نے مغربی یورپ کی مسلسل بد عہدیوں اور نا انصافیوں سے عاجز آکر جرمنی کے ساتھ اتحاد کر لیا تھا۔ برطانیہ نے اس سلسلہ میں اہل ہند کے بعض علماء سے جن میں مولانا احمد رضا خان بریلویؒ خاص طور پر شامل ہیں ترکی کے خلاف فتاوٰی حاصل کر لیے تھے۔‘‘

’’مولانا احمد رضا خان بریلوی ترکی کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور ترکوں کی مالی امداد کے بھی خلاف تھے، یہی نہیں بلکہ انہوں نے کئی فتوے مولانا عبد الباری پر کفر کے بھی صادر کیے تھے۔‘‘

’’مولانا عبد الباری نے مولوی احمد رضا خان بریلوی کے فتوٰی پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا اس لیے مولوی احمد رضا خان نے مولوی عبد الباری پر کفر کا فتوٰی صادر کیا۔‘‘

چوہدری خلیق الزمان مرحوم کے تحریر کردہ ریمارکس ہم نے انہی کے الفاظ میں نقل کر دیے ہیں، اس کے باوجود عباسی صاحب موصوف اگر مناسب سمجھیں تو قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت اسلام آباد کی مذکورہ کتاب کا خود مطالعہ فرما لیں، اس میں تحریک آزادی میں علماء کے کردار کے حوالہ سے خاصا مستند مواد موجود ہے۔

دوسری بات جو میرے سابقہ کالم کے حوالہ سے جناب محمد مسکین عباسی نے اپنے مراسلہ میں ذکر کی ہے وہ خلیفہ کے لیے قریشی ہونے کی شرط کی بحث ہے اور انہوں نے اس پر اجماع امت کا دعوٰی کرتے ہوئے مجھے علم کلام کی کتاب ’’النبراس‘‘ کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ عباسی صاحب سے شکریہ کے ساتھ عرض ہے کہ النبراس اور علم کلام کی اسی درجہ کی بعض دیگر اہم کتب آج سے ۳۵ برس قبل طالب علمی کے دور میں بحمد اللہ تعالیٰ میرے زیر مطالعہ رہ چکی ہیں اور وہ ساری بحث کم و بیش میرے سامنے ہے جو فقہاء اور متکلمین نے اس شرط کے حوالہ سے کی ہے۔ اور یہ درست ہے کہ فقہاء اور متکلمین کی ایک بڑی تعداد نے خلیفۃ المسلمین کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ قریشی ہو اور ان کے نزدیک کوئی غیر قریشی خلیفہ نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے لیے جو دو دلیلیں پیش کی جاتی ہیں وہ محل نظر ہیں:

  1. ایک دلیل یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’الائمۃ من قریش‘‘ میرے بعد خلیفہ قریشی ہوں گے۔ لیکن خلافت عثمانیہ کا دفاع کرتے ہوئے مولانا سید حسین احمدؒ مدنی نے فرمایا تھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بطور حکم نہیں بلکہ بطور خبر کے ہے جس میں آپؐ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد خلفاء قریش میں سے ہوں گے، اور یہ پیش گوئی خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ اور خلافت بنو عباس کی صورت میں پوری ہو چکی ہے۔ آنحضرتؐ کے اس ارشاد کو حکم کی بجائے خبر اور پیش گوئی پر محمول کرنے کی بات مولانا سید حسین احمدؒ مدنی نے پہلی بار نہیں کی بلکہ ان سے قبل معروف مؤرخ علامہ ابن خلدونؒ بھی یہی بات کہہ چکے ہیں اور قرین قیاس بھی یہی بات ہے۔
  2. دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ خلیفہ کے قریشی ہونے پر امت کا اجماع ہوگیا تھا۔ یہ بات درست ہے لیکن خلافت بنو عباس کے خاتمہ کے بعد ترکوں کے آلِ عثمان کو ان کے قریشی نہ ہونے کے باوجود بطور خلیفۃ المسلمین قبول کر کے پوری امت نے خلیفہ کے لیے قریشی کی شرط ضروری نہ ہونے پر بھی اجماع کر لیا تھا جو صدیوں قائم رہا اور امت کا بہت بڑا حصہ جن میں محدثین، فقہاء، متکلمین اور ہر طبقہ کے علماء امت شامل ہیں، آلِ عثمان کے ترک خاندان کے خلفاء کو خلیفۃ المسلمین تسلیم کرتے رہے ہیں اور ان کے نام کا خطبہ پڑھتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس بھی ان کی خلافت کا حصہ رہے ہیں اور ان مقامات مقدسہ میں صدیوں تک ترکوں کی خلافت کو تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ اس لیے اگر ایک دور میں خلیفہ کے لیے قریشی ہونے کی شرط پر اجماع تھا بھی تو امت کے دوسرے اجماع کے بعد اس شرط کی وہ حیثیت قائم نہیں رہی۔

اس کے بعد محترم محمد مسکین عباسی سے بصد احترام عرض ہے کہ وہ اپنے اس مراسلہ میں دو متضاد باتیں کہہ رہے ہیں۔ ایک طرف یہ کہ خلیفہ کے لیے قریشی ہونا شرط ہے اور کوئی غیر قریشی خلیفہ نہیں ہو سکتا جبکہ دوسری طرف یہ کہ مولانا احمد رضا خانؒ ترکی کی خلافت کو تسلیم کرتے تھے اور اس کے مخالف نہیں تھے۔ کیونکہ اگر ترکوں کی خلافت درست تھی اور اسے تسلیم کیا جا رہا تھا تو خلافت کے لیے قریشی ہونے کی بحث بے مقصد ہے اس لیے کہ ترکوں کو خلیفہ کے طور پر قبول کرتے ہی وہ شرط ختم ہو جاتی ہے۔ اور اگر قریشی ہونے کی شرط بہرحال ضروری ہے اور اس کے بغیر خلافت کا انعقاد نہیں ہوتا تو ترکوں کی خلافت کو تسلیم کرنے اور ان کی امداد کرنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا، اس لیے عباسی صاحب محترم کسی ایک موقف کو اختیار کریں، یہ دونوں موقف ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔