انسانی حقوق کے نام پر شریعت مخالف سیکولر مہم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ فروری ۲۰۱۱ء

لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے آسٹریلیا مسجد اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ اس کی تعمیر کے بعد خطابت کا آغاز خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے فرمایا تھا اور کچھ عرصہ جمعۃ المبارک کے خطبات ارشاد فرمانے کے بعد حضرت شاہ صاحبؒ نے اپنے خصوصی شاگرد حضرت مولانا عبدا لحنان ہزارویؒ کو خطیب مقرر کر دیا تھا جو طویل عرصے تک خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اب کم و بیش ربع صدی سے ہمارے محترم دوست مولانا عبد الرؤف ملک اس مسجد کے خطیب ہیں جو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاء میں سے ہیں اور حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے علاوہ حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے بھی خصوصی شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔ میرے بہت پرانے دوست ہیں اور ایک دور میں متحدہ علماء کونسل کی جدوجہد میں ہم دونوں شریک کار رہے ہیں۔ آسٹریلیا مسجد کی نئی اور خوبصورت مسجد کی تعمیر کے بعد سے وہاں جامعہ عثمانیہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ بھی قائم ہے جو مولانا حافظ محمد سلیم اور ان کی ٹیم کی جدوجہد سے مسلسل ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور اس طرح یہ تاریخی مسجد تعلیمی حوالہ سے بھی آباد ہوگئی ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔

مولانا عبد الرؤف ملک کی ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ میں اس مسجد میں وقتاً فوقتاً فکری موضوعات پر درس کا کوئی سلسلہ بناؤں مگر مصروفیات مسلسل حائل ہوتی رہیں لیکن ان کا اصرار بڑھتا گیا تو ابتدائی طور پر بطور تجربہ چند نشستوں کا پروگرام طے ہوا اور ’’انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات‘‘ کے عنوان پر آٹھ نشستیں ترتیب پائیں جن میں سے بالترتیب ۱۶ دسمبر، ۶ جنوری، ۲۰ جنوری، ۳ فروری اور ۱۷ فروری کو پانچ نشستیں ہو چکی ہیں جبکہ ۳ مارچ، ۱۷ مارچ اور ۲۴ مارچ کی تین نشستیں باقی ہیں۔ جمعرات کے روز شہر سے باہر سفر میں مجھے سہولت رہتی ہے اس لیے یہ طے پایا تھا کہ یہ نشستیں جمعرات کو ظہر کے بعد ہوں گی، اس میں جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ شہر کے علماء کرام اور تعلیمی اداروں کے متعلقین بھی شریک ہوتے ہیں۔

ابتدائی نشست میں انسانی حقوق کے موضوع کی اہمیت پر کچھ گزارشات پیش کیں جو اس حوالہ سے میرے خصوصی ذوق پر مشتمل تھیں، اور دوستوں کو اس سلسلہ میں ایک لطیفہ بھی سنایا کہ جس طرح بعض حضرات کچھ خصوصی موضوعات کے ساتھ مخصوص کر دیے جاتے ہیں اور سامعین ان سے اسی موضوع پر سننے کے خواہشمند ہوتے ہیں اسی طرح بہت سے دوستوں کے ہاں مجھے بھی انسانی حقوق کے موضوع کے ساتھ مخصوص سمجھا جاتا ہے اور اگر اس سے ہٹ کر کسی موضوع پر بات کرتا ہوں تو بعض دوست بسا اوقات شکوہ کرنے لگتے ہیں کہ آپ نے اپنے اصل موضوع پر تو کچھ کہا ہی نہیں۔ لطیفہ کی بات یہ ہے کہ ایک بار برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ کی ایک مسجد میں مجھے عصر کے بعد درس دینا تھا، نماز کے بعد مسجد کے امام صاحب میرے درس کا اعلان کرنے لگے تو انہیں میرا نام یاد نہ رہا، انہوں نے دو تین بار مولانا صاحب مولانا صاحب کہنے کے بعد یہ کہہ کر اعلان مکمل کیا کہ وہ مولانا صاحب جو انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں وہ آئے ہوئے ہیں اور دعا کے بعد درس دیں گے۔ مجھے اس پر ہنسی بھی آئی اور خوشی بھی ہوئی کہ تعارف بہرحال اچھا ہی تھا۔

انسانی حقوق آج کی دنیا کا اہم ترین موضوع ہے اور مغرب اور مسلمانوں کے درمیان صدیوں سے جاری ثقافتی کشمکش میں مغرب کا سب سے بڑا ہتھیار بھی ہے کہ اسلام کی ہر بات کو انسانی حقوق کے عنوان سے رد کیا جا رہا ہے اور اسلامی احکام و قوانین پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ انسانی حقوق کے منافی ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں قرآن و سنت کے احکام میں سے کسی حکم و قانون کے ریاستی سطح پر نفاذ کی بات ہوتی ہے تو مغربی لابیاں واویلا شروع کر دیتی ہیں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اسلامی قانون نافذ کرنے والے انسانی حقوق کے عالمی نظام کی پابندی نہیں کر رہے۔

  • چند سال قبل برطانیہ میں مسیحیوں کے پروٹسٹنٹ فرقہ کے سربراہ آرچ بشپ ڈاکٹر روون ولیمز نے ایک لیکچر میں یہ بات کہہ دی کہ برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ ان کے خاندانی نظام (نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ) کے تنازعات کا فیصلہ ان کے مذہبی احکام کے مطابق ہو، اور اس کے لیے برطانیہ کے عدالتی نظام کو اپنے سسٹم میں یہ گنجائش رکھنی چاہیے کہ مسلمانوں کے ایسے تنازعات کے فیصلے ان کے مذہب کے مطابق خود ان کے قاضی کریں۔ یہ بات اصولاً درست ہے اور ہم نے پاکستان میں شروع سے ہی علماء کرام کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات میں غیر مسلم اقلیتوں کا یہ حق تسلیم کر رکھا ہے کہ ان کے خاندانی معاملات کے تنازعات خود ان کے مذہبی احکام کے مطابق طے کیے جائیں۔ جبکہ امریکہ میں بھی دستوری طور پر یہ گنجائش موجود ہے جو اصلاً یہودیوں کے لیے تھی مگر مسلمان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور بعض جگہ وہ یہ فائدہ اٹھا بھی رہے ہیں کہ اگر وہ اپنی مذہبی عدالتیں امریکی عدالتی نظام کے مطابق رجسٹرڈ کرا لیں تو وہ مسلمانوں کے خاندانی معاملات اور حلال و حرام سے متعلق مالی تنازعات کے فیصلے ان منظور شدہ مذہبی عدالتوں کے ذریعے اپنے مذہبی قوانین کے مطابق کرا سکتے ہیں اور ایسے فیصلوں کا امریکی سپریم کورٹ بھی احترام کرتی ہے۔ چنانچہ شکاگو اور دوسرے شہروں میں ’’شریعہ بورڈ‘‘ کے عنوان سے یہ عدالتی ادارے کام کر رہے ہیں جس کے سربراہ بھارت سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالم دین مولانا مفتی نوال الرحمان فاضل دیوبند ہیں۔ اسی طرح جنوبی افریقہ میں ’’مسلم جوڈیشل کونسل‘‘ کے نام سے اسی طرز کا سسٹم کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر روون ولیمز نے برطانیہ کے مسلمانوں کے لیے اسی حق کی بات کی تھی مگر اس پر نہ صرف برطانیہ کے مسیحی حلقوں میں اچھا خاصا شور و غل بپا ہوا بلکہ اس وقت کے برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کے ترجمان نے سرکاری سطح پر یہ اعلان کرنا ضروری سمجھا کہ برطانیہ میں مسلمانوں کو ان کے خاندانی اور مالیاتی تنازعات کے فیصلے ان کی شریعت کے مطابق کرانے کا حق نہیں دیا جا سکتا اس لیے کہ اسلامی شریعت کے احکام و قوانین انسانی حقوق کے منافی ہیں۔
  • خود پاکستان میں اسلامی شریعت کے بہت سے احکام و قوانین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر ان میں تبدیلی اور ترامیم کے مطالبات مختلف لابیوں کی طرف سے مسلسل ہوتے رہتے ہیں۔ حدود شرعیہ کے نافذ شدہ قوانین کو سبوتاژ کرنے کے عمل میں سب سے بڑی دلیل یہی دی جاتی رہی ہے کہ یہ انسانی حقوق کے منافی ہیں۔ ناموس رسالت پر موت کی سزا کی مخالفت اسی عنوان سے کی جا رہی ہے، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے دستوری فیصلے کو بھی قادیانیوں نے اسی عنوان سے چیلنج کر رکھا ہے اور مغربی حکومتیں اور لابیاں انسانی حقوق کی پاسداری کے دعوے کے ساتھ پاکستان کی سیکولر لابیوں اور قادیانیوں کی مسلسل سپورٹ کر رہی ہیں حتٰی کہ یورپی پارلیمنٹ بھی اس مسئلہ میں واضح فریق بن گئی ہے۔
  • بھارت میں مسلمانوں کو خاندانی نظام کے تحفظ کا بہت بڑا محاذ درپیش ہے جس کے لیے تمام مسلم مکاتب فکر پر مشتمل ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کی زندگی میں ان کی سربراہی میں قائم ہوا تھا جو اب بھی حضرت مولانا محمد رابع ندوی مدظلہ کی صدارت میں متحرک ہے۔ اس بورڈ کو سب سے زیادہ اسی چیلنج کا سامنا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کے نام پر شریعت کے خاندانی احکام و قوانین کی مخالفت کی جا رہی ہے اور مسلمانوں سے شرعی قوانین سے دستبرداری کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔
  • افغانستان میں طالبان کی امارت اسلامیہ کے قیام کے بعد جب شریعت اسلامیہ کے احکام و قوانین کو عملاً نافذ کیا گیا تو عالمی سطح پر یہی شور بپا ہوا تھا کہ یہ احکام و قوانین دقیانوسی ہیں اور انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔

اس لیے میرے نزدیک یہ انتہائی ضروری ہے اور میں اس کے لیے ربع صدی سے واویلا کر رہا ہوں کہ ہمارے علماء کرام، خطباء عظام، دینی جماعتوں کے کارکنوں اور دینی مدارس کے مدرسین اور طلبہ کو اس بات سے واقف ہونا چاہیے کہ:

  1. انسانی حقوق کے نام سے اسلامی احکام و قوانین کی اس مسلسل مخالفت کا پس منظر کیا ہے؟
  2. انسانی حقوق سے مغربی ملکوں اور لابیوں کی مراد کیا ہے؟
  3. انسانی حقوق کے نام سے وہ دنیا بھر کی انسانی سوسائٹیوں کو کس قسم کے نظام اور کلچر کی پابند بنانا چاہتی ہیں؟
  4. اور اسلامی احکام و قوانین کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر وہ کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں؟

اپنے محدود حلقے میں ہم الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ اور اس کی ویب سائیٹ alsharia.org کے ذریعے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن کیا ہمارے بڑے تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کے وفاقوں کے ہاں بھی اس سلسلے میں غور و فکر اور عملی پیشرفت کا کوئی امکان موجود ہے؟

شاید کہ اتر جائے کسی دل میں مری بات
درجہ بندی: