دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ہماری نسبت اور اس کے تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ مئی ۲۰۱۱ء
اصل عنوان: 
کام کرنے کے دو اہم دائرے

گزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند (وقف) کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی پاکستان تشریف لائے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ مولانا موصوف حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے فرزند و جانشین ہیں۔ ۱۹۸۰ء میں دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے بعد، جسے جشن صد سالہ سے بھی تعبیر کیا گیا تھا، دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں اختلافات پیدا ہوگئے جس کے بعد دارالعلوم دیوبند سے الگ ہونے والے علماء کرام نے دارالعلوم دیوبند (وقف) کے نام سے ایک نیا دینی تعلیمی ادارہ دیوبند میں ہی قائم کر لیا جو اَب بھارت کے بڑے دینی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور ہزاروں طلبہ وہاں دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ باہمی مخاصمت کی کیفیت رہی مگر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے جانشین حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ کی آخری عمر میں مولانا محمد سالم قاسمی سے ان کی ملاقات اور ایک دوسرے کی بیمار پرسی کے بعد اس میں خاصی تبدیلی آگئی اور وہاں دوست بتاتے ہیں کہ اب باہمی تعلقات نارمل سے ہیں۔

ویسے یہ بات اکثر مشاہدے میں آئی ہے کہ علماء کرام کے باہمی تنازعات میں بھی خیر کا کوئی نہ کوئی پہلو نکل ہی آتا ہے۔ جبکہ حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ترمذیؒ کا یہ ارشاد گرامی میں نے ان کے فرزند مولانا مفتی عبد القدوس ترمذی سے سنا ہے کہ جب کسی بڑے مدرسہ میں جھگڑا ہوتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ اب ایک مدرسہ اور بن جائے گا۔ مفتی صاحب نے تو یہ بات ازراہِ تفنن فرمائی ہوگی مگر ہمارے ملک میں اس کے بیسیوں شواہد موجود ہیں۔

مجھے مولانا محمد سالم قاسمی کے اس سفر کے دوران ان کی زیارت کا موقع جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں ملا جہاں انہوں نے ۸ مئی کو بعد نماز مغرب ایک بڑے اجتماع سے خطاب فرمایا اور جامعہ کے دورۂ حدیث کے طلبہ کو بخاری شریف کا ایک سبق پڑھایا۔ جامعہ امدادیہ کے بانی شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد میرے مشفق اور دعاگو بزرگوں میں سے تھے جبکہ ان کے بعد ان کے فرزندان گرامی مولانا مفتی محمد طیب اور مولانا مفتی محمد زاہد بھی محبت و احترام کا خصوصی معاملہ فرماتے ہیں۔ ان کے ایک شہید بھائی مولانا مفتی محمد مجاہدؒ میرے ہم ذوق نوجوان عالم دین تھے اور نواسۂ امیر شریعت سید ذوالکفل بخاری شہیدؒ کی طرح علمی اور فکری ذوق کی گہرائیوں اور بلندیوں دونوں سے یکساں طور پر آشنا تھے، ان دو نوجوانوں کے ساتھ چند نشستوں میں علمی و فکری مسائل پر مختصر گفتگو ہوئی جو زندگی بھر نہ صرف خود یاد رہے گی بلکہ ان کی یاد بھی تازہ کرتی رہے گی۔ مولانا مفتی محمد طیب نے اس موقع پر مجھے بھی یاد فرمایا اور کچھ گزارشات پیش کرنے کو کہا، ان گزارشات کا مختصر خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور ان کے خانوادہ کے ساتھ عقیدت و محبت ہر اس مسلمان کے دل میں موجود ہے جو دیوبندی کہلاتا ہے اور اپنی نسبت اس عظیم علمی و دینی مرکز کی طرف کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے۔ مجھے اس خاندان کے ساتھ صرف محبت و عقیدت ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ نیازمندی کے پرانے تعلق کی سعادت بھی حاصل ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ بچپن میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ساتھ لاہور کا جو پہلا سفر کیا تھا وہ انارکلی بازار میں منعقد ہونے والے عوامی جلسے میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کا خطاب سننے کے لیے ہوا تھا۔ حضرت قاری صاحبؒ کے ارشادات کا کوئی حصہ تو مجھے یاد نہیں ہے اور نہ ہی میں اس وقت عمر کے اس مرحلے میں تھا کہ ان کی باتوں کو سمجھ سکوں اور یاد رکھ سکوں، البتہ جلسے کا منظر اور اس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت قاری صاحبؒ کا چہرہ ابھی تک نگاہوں کے سامنے ہے۔ پھر حضرت قاری صاحبؒ کی متعدد بار زیارت ہوئی اور شیرانوالہ لاہور میں ہونے والی ایک تقریب کا منظر نہیں بھولتا جب حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اور نوابزادہ نصر اللہ خان کے درمیان بیٹھے ہوئے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ ماضی کی حسین یادوں کی نقاب کشائی کر رہے تھے۔

دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہم اللہ تعالٰی کے ساتھ مجھے بھی دیوبند جانے کی سعادت حاصل ہوئی اور یہ دونوں بزرگ اور ان کے ساتھ جانے والے گوجرانوالہ کے کچھ رفقاء کا قیام چند روز تک حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے گھر میں رہا۔ میں علماء کرام کے قافلے کے ساتھ دیوبند نہیں جا سکا تھا اور دو روز تاخیر سے وہاں اس وقت پہنچا تھا جب حضرت مولانا قاری محمد طیب صد سالہ اجلاس کی آخری نشست سے اختتامی خطاب فرما رہے تھے۔ مولانا محمد سالم قاسمی سے اس کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور بنگلہ دیش میں متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور ایک بار وہ پاکستان کے ایک سفر میں گوجرانوالہ میں میرے غریب خانے پر بھی تشریف لائے۔

میں آج کے اس اجتماع میں ان نسبتوں اور یادوں کو تازہ کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ یہ نسبتیں ہی ہمارا اصل سرمایہ ہیں۔ میں ان روحانی نسبتوں کو کنکشن سے تعبیر کیا کرتا ہوں کہ کنکشن سلامت ہو تو لوڈشیڈنگ میں بھی یہ توقع رہتی ہے کہ تھوڑے وقفے کے بعد روشنی کا ماحول بحال ہو جائے گا۔ ہمیں خوشی ہے کہ اپنے بزرگوں کے ساتھ ہماری یہ نسبتیں سلامت ہیں اور ان نسبتوں کی سلامتی ہماری نجات کے ساتھ بہتر مستقبل کی بھی امید دلاتی ہے۔

میں اس موقع پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دارالعلوم دیوبند کیا ہے؟ یہ صرف ایک دینی مرکز اور تعلیمی ادارہ نہیں ہے بلکہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد جب فرنگی استعمار نے ہمارا سب کچھ تباہ کر دیا تھا اور کوئی قومی ادارہ بھی باقی نہیں رہ گیا تھا، اس وقت چند نیک دل بزرگوں نے امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کے سفر کا ’’زیرو پوائنٹ‘‘ سے آغاز کیا تھا۔ اس زیرو پوائنٹ کا نام ’’دیوبند‘‘ ہے جہاں سے سفرِ نو کا آغاز ہوا اور آج ڈیڑھ سو برس کے بعد یہ دیوبند پوری دنیا میں ملتِ اسلامیہ کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا عنوان بن گیا ہے، چنانچہ دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں ہے جہاں دیوبند کا کوئی براہ راست یا بالواسطہ فیض یافتہ شخص اسلامی تعلیمات کی خدمت میں مصروف نہیں ہے اور آج ہم سب اسی کے نام پر اپنا تعارف دنیا کے سامنے پیش کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

دیوبند نے زیرو پوائنٹ کے اس ابتدائی دور میں بھی اپنی سرگرمیوں کو صرف ایک تعلیمی ادارے کے دائرے میں محدود نہیں رکھا، بلکہ جہاں اسلامی علوم کے تحفظ و تعلیم اور ترویج و اشاعت میں ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں وہاں سیاسی و فکری راہنمائی میں وہ سب سے آگے رہا۔ اس نے تحریکِ آزادی میں مسلمانوں کو علمی، فکری اور عملی قیادت فراہم کی اور اسلامی ثقافت کے تحفظ کا پرچم بھی اسی کے ہاتھ میں رہا، مگر مجھے دیوبند کے ابتدائی دور کے دو دائرے ایسے بھی یاد آرہے ہیں جو شاید اب ہماری محنت میں شامل نہیں رہے اور میں ان کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔

  1. ایک یہ کہ حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ کے بارے میں تاریخ میں مذکور ہے کہ وہ مسلمانوں کو درپیش مسائل پر فتوٰی دینے کے ساتھ ساتھ دارالعلوم کے احاطے میں قضا اور تحکیم کا حلقہ بھی لگاتے تھے اور مسلمانوں کو ان کے مسائل و تنازعات میں عدالتی طرز کے فیصلوں کی سہولت مہیا کرتے تھے جن میں تحکیم کے ذریعے فیصلہ کرانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ جبکہ ہمارے آج کے دارالافتاء صرف دارالافتاء بن کر رہ گئے ہیں اور تحکیم و قضا کی سہولت سے عام مسلمانوں کو بہرہ ور کر کے انہیں عدالتوں کے دھکے کھانے سے بچانا ہمارے پروگرام میں شامل نہیں رہا، حالانکہ یہ ایک اہم دینی اور معاشرتی ضرورت ہے۔
  2. دوسرا یہ کہ تعلیمی و فکری میدان میں دیوبند کو علی گڑھ کا سامنا تھا اور تاریخ ان دونوں کو ایک دوسرے کے حریف کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود علی گڑھ میں سرسید احمد خان مرحوم کے بنائے ہوئے کالج میں شعبہ دینیات کے پہلے سربراہ مولانا محمد عبد اللہ انصاری تھے جو حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے داماد تھے اور انہیں وہاں حضرت نانوتویؒ نے ہی بھیجا تھا۔ اس خاندان کی ایک مستقل تاریخ ہے کہ مولانا عبد اللہ انصاریؒ علی گڑھ کے دینیات کے شعبے کے سربراہ تھے، ان کے فرزند مولانا محمد میاں انصاریؒ تحریکِ آزادی میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے دستِ راست تھے، ان کے فرزند مولانا حامد الانصاریؒ نے ’’اسلام کا نظامِ حکومت‘‘ نامی شہرت یافتہ تصنیف کے مصنف کے طور پر تعارف پایا ہے اور ان کے فرزند ڈاکٹر عابد اللہ غازی شکاگو میں امریکی مسلمانوں کے لیے ایک تعلیمی نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ مگر آج مجھے اس حوالے سے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ دیوبند نے اپنے حریف علی گڑھ کو بھی تعلیمی میدان میں تنہا نہیں چھوڑا اور وہاں اپنی نمائندگی کا بھرپور اہتمام کیا، جس کے مثبت ثمرات آج تک دیکھے جا رہے ہیں۔ جبکہ ہم نے اس کام کو اپنے ہاں شجرِ ممنوعہ قرار دے رکھا ہے اور اس طرف رخ کرنے والوں کو عام طور پر ہماری طرف سے حوصلہ شکنی کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خدا کرے کہ ہم اپنے ماضی کے ان دائروں کی طرف بھی واپس لوٹیں تاکہ دیوبند کی نمائندگی کے تمام ضروری دائروں کو مکمل کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: