ائمہ مساجد کی مشکلات اور ان کا حل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ اگست ۲۰۱۱ء

۱۶ رمضان المبارک کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں چالیس روزہ دورۂ تفسیر قرآن کریم کا اختتام تھا، ہم نے روایتی طرز کی کوئی تقریب رکھنے کی بجائے اس روز علماء کرام اور خطباء و ائمہ کے لیے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا جو ’’ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کو درپیش مشکلات‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کی صدارت میں منعقد ہوئی اور اس میں علاقے کے ائمہ مساجد اور خطباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر راقم الحروف نے عرض کیا کہ ہم آج اپنی طرف سے کچھ عرض نہیں کریں گے بلکہ ان ائمہ و خطباء کی بات ان کی زبانی سننا چاہیں گے جو مختلف جامعات کے فضلاء ہیں اور کسی نہ کسی مسجد میں امامت یا خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں کہ انہیں دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے کیا مشکلات پیش آتی ہیں اور ان کے ذہن میں ان مسائل کا حل کیا ہے؟ چنانچہ مختلف حضرات نے اس سلسلہ میں جو کچھ کہا اس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

ہمارے نزدیک اس بحث کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اس لیے ہم نے اگلے سال تعلیمی سال کے آغاز پر بھی اسی عنوان پر ۱۸ ستمبر کو ایک باضابطہ سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو پورا دن جاری رہے گا اور اس کی دو نشستوں میں مہمان خصوصی کے طور پر جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد طیب اور بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا سید عبد الخبیر آزاد کو تشریف آوری کی زحمت دینے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالٰی۔

اس فکری نشست میں گفتگو کرنے والے سب حضرات کی باتوں کا احاطہ اس مختصر کالم میں مشکل ہے اس لیے تکرار اور غیر متعلقہ باتوں کو حذف کرتے ہوئے چند دوستوں کی گفتگو کے منتخب اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل مولانا محمد اویس نے کہا کہ مدارس کے فضلاء کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ مسجد یا مدرسے میں دی جانے والی تنخواہ میں گزرا نہیں ہوتا۔ مثلاً چھ سات ہزار روپے میں اپنا خرچہ، گھر کا خرچہ، مکان کا کرایہ، بجلی و گیس کا بل اور دیگر ضروری اخراجات کسی طرح بھی پورے نہیں ہوتے جس کے لیے انہیں متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑتے ہیں اور وہ بطور خطیب و امام یا مدرس اپنے فرائض دلجمعی کے ساتھ سرانجام نہیں دے سکتے۔ جبکہ ان کے لیے دوسری بڑی الجھن یہ ہوتی ہے کہ انہیں مدرسہ و مسجد میں اپنی ملازمت کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوتا اور وہ مہتمم صاحب یا کمیٹی کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت ان کی چھٹی کرا سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ دینی مدارس میں طلبہ کو عصری تعلیم دی جائے یا کوئی ہنر ضرور سکھایا جائے تاکہ وہ معاشی مشکلات پر کسی حد تک قابو پا سکیں۔

جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے فاضل مولانا عبد الوحید نے کہا کہ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اربابِ مدارس فضلاء کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، مدارس کی بلڈنگیں تو شایانِ شان بن جاتی ہیں مگر مدرسین کی تنخواہوں اور دیگر سہولیات کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔

جامعہ فاروقیہ کراچی کے فاضل مولانا ابوبکر نے کہا کہ دینی مدارس میں ہمیں جو تربیت ہوتی ہے وہ بہت عمدہ اور بہترین ہوتی ہے جس کا احساس اور دیگر اداروں میں جا کر ہوتا ہے۔ ہمیں صبر، برداشت توکل اور قناعت کی تعلیم ملتی ہے اور شرافت اور دینداری کا ذوق پیدا ہوتا ہے۔ البتہ معاشرے میں جا کر اپنے مسائل سے نمٹنے کے لیے دینی مدارس میں طلبہ کو کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سکھایا جائے تاکہ ان کا انحصار صرف مسجد کی تنخواہ اور کمیٹی کے رویے پر نہ ہو اور وہ متبادل ذریعہ معاش رکھنے کی وجہ سے آزادی اور وقار کے ساتھ دینی خدمات سرانجام دے سکیں۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کے فاضل مولانا صوفی محمد عامر نے کہا کہ ہمارے مدارس میں ابتدا ہی سے طلبہ کی ذہن سازی ہونی چاہیے اور ان کے ذہن میں یہ بات ڈالنی چاہیے کہ انہیں معاشرے کی راہنمائی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اس کے مطابق پڑھیں اور اس کے تقاضوں کے مطابق ان کا ذہن ترقی کرتا چلا جائے۔ اسی طرح اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہمارے پاس معاشرے کا شاید صرف دو فیصد طبقہ آتا ہے جبکہ باقی اٹھانوے فیصد کے لیے دینی تعلیم کا ہمارے ہاں کوئی منظم اور مربوط نظام موجود نہیں ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اگر کوئی فاضل کسی اور شعبے میں چلا جاتا ہے تو اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ دینی تقاضوں سے ہٹ گیا ہے۔ حالانکہ ہمیں خود طلبہ کی ایک تعداد کو دوسرے شعبوں کے لیے تیار کرنا چاہیے اور پالیسی کے تحت انہیں وہاں بھیجنا چاہیے۔

مولانا منیر احمد نے کہا کہ مدارس کے فضلاء میں ذی استعداد حضرات ہی مدارس میں تدریس کا منصب حاصل کر پاتے ہیں اور ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ جبکہ دوسرے درجے کے فضلاء جو کثیر تعداد میں ہوتے ہیں انہیں دوسرے شعبوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں ان کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہاں کام کرنے کے لیے نہ ان کے پاس وہاں کی بنیادی تعلیم ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی تربیت ہوتی ہے۔ پھر ماحول مختلف ہونے اور وہاں کی تعلیم ضروری حد تک نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سکولوں اور کالجوں میں دوسرے درجے کا استاذ سمجھا جاتا ہے اور وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اس کی منصوبہ بندی دینی مدارس کی تعلیم کے دوران ہی ہونی چاہیے کہ طلبہ کی جس اکثریت کو دوسرے شعبوں میں ہی جانا ہے انہیں وہاں کی بنیادی تعلیم اور وہاں کے ماحول سے آگاہی فراہم کی جائے اور انہیں اس کے لیے تیار کیا جائے۔

مولانا عاطف نے کہا کہ ہماری دینی جماعتوں کا شدت پسندانہ رویہ اور ایک دوسرے کی تحقیر و تنقیص بھی مساجد کے ماحول میں ہمارے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ مسجد کے نمازی اور کمیٹی کے ارکان اکثر بے علم ہوتے ہیں اور ان کے ردعمل کا شکار امام و خطیب کو بننا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ائمہ و خطباء کا آپس میں کوئی ایسا رابطہ نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی ایسا فورم موجود ہے کہ وہ جائز معاملات میں ایک دوسرے کی سپورٹ کر سکیں، جس کی وجہ سے ہر مسجد کا امام و خطیب تنہائی کا شکار رہتا ہے اور اسے اپنے نمازیوں اور کمیٹی کے جائز و ناجائز مطالبات سے خود ہی نمٹنا پڑتا ہے۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کے فاضل مولانا حافظ محمد رشید نے کہا کہ مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے فضلاء میں سے ہر ایک کا جذبہ یہی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے میں جا کر دین کی خدمت کرے گا لیکن عملی میدان میں جا کر اسے جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہر شخص ان کا سامنا نہیں کر سکتا۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پیٹ پر پتھر باندھ کر دین کی خدمت کر سکیں اور مسائل و مشکلات کا سامنا نہ کر پانے والے حضرات جب دوسرے ذرائع اختیار کرتے ہیں تو انہیں بے دینی کے طعنوں کا شکار بنایا جاتا ہے، اس طرز عمل کی بھی اصلاح ہونی چاہیے۔

جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل مولانا وقار احمد نے کہا کہ ہمارے اکابر بالخصوص حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے تعلیمی میدان میں جس وسعت اور ہمہ گیری کا تصور دیا تھا ہم اس کو بھول گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں پورے معاشرے کو سمیٹنے کے حوالے سے ان بزرگوں کا جو وژن تھا اسے دوبارہ واپس لایا جائے جس سے یہ مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے۔

جامعہ غوثیہ بھیرہ کے فاضل اور الشریعہ اکادمی کے رفیق پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک نے کہا کہ دینی مدارس کے فضلاء کو دوسرے قومی شعبوں میں بطور پالیسی بھجوانے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے نصاب تعلیم میں دینی تعلیم کو بنیادی حیثیت دیتے ہوئے عصری تقاضوں کو ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے۔

مولانا حکیم عبد الرحمان نے کہا کہ علماء کرام کو اپنے پاس کوئی ایسا ہنر ضرور رکھنا چاہیے تاکہ وہ کمیٹیوں کے رحم و کرم پر نہ رہیں اور آزادی کے ساتھ مسجد و مدرسہ کی خدمت کر سکیں۔