دعوتِ دین اور اس کے تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ نومبر ۲۰۱۱ء

ایک عرصہ سے عید الاضحٰی کی تعطیلات میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزہ لگانے کا معمول ہے، اس سال گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز کی طرف سے مسجد ابراہیم سول لائن شیخوپورہ میں تشکیل ہوگئی اور گوجرانوالہ کے ۲۵ کے لگ بھگ علماء کرام اور چار پانچ دیگر احباب کے ساتھ عید سے پہلا جمعہ، ہفتہ اور اتوار تبلیغی جماعت کے ساتھ گزارا۔ دیگر معمول کی سرگرمیوں کے علاوہ اتوار کو ضلع کے علماء کرام کا جوڑ رکھا گیا تھا جس میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا، ان گزارشات کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ تبلیغی جماعت کے دوستوں کا شکر گزار ہوں کہ ضلع شیخوپورہ کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد سے اجتماعی ملاقات کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالٰی ان حضرات کو جزائے خیر سے نوازیں اور ہماری اس ملاقات کو دارین کے لیے سعادت کا ذریعہ بنائیں، آمین۔ دعوت و تبلیغ کے اس ماحول میں علماء کرام کو تین چار اہم امور کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔

غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت

ایک یہ کہ اس وقت دنیا میں انسانی آبادی سات ارب کے لگ بھگ ہوگئی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک اخبار میں ایک نوزائیدہ بچے اور اس کی ماں کا فوٹو نظر سے گزرا جس کے نیچے لکھا تھا کہ سات اربواں بچہ اپنی ماں کے ساتھ ہسپتال میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں بسنے والے انسانوں کی تعداد سات ارب ہو گئی ہے ۔یہ سات ارب انسان جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امتِ دعوت ہیں اور ان سب تک اسلام کی دعوت اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف و پیغام پہنچانا ضروری ہے۔ جو ظاہر ہے کہ مسلمانوں نے ہی پہنچانا ہے، آسمان سے فرشتے تو اس کام کے لیے نہیں آئیں گے اور نہ ہی کسی اور مخلوق کو یہ کام کرنا ہے یہ بہرحال ہمارا ہی فریضہ ہے اور امت میں سب سے زیادہ یہ ذمہ داری علماء کرام پر عائد ہوتی ہے۔

میں اس حوالے سے دنیا کے موجودہ معروضی تناظر کے صرف ایک پہلو کی طرف آپ حضرات کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان سات ارب انسانوں کو اپنے اپنے مذہب میں شامل کرنے کے لیے عالمی سطح پر دو بڑے مذاہب میں مقابلہ ہے۔ ایک طرف ہمارا یہ عزم ہے کہ پوری دنیا کو اسلام کے دائرے میں لانا ہے اور اس کے لیے مختلف افراد، طبقات اور حلقے سرگرم عمل ہیں۔ جبکہ دوسری طرف مسیحی مشینریاں یہی عزم لے کر مختلف ممالک میں کام کر رہی ہیں کہ ساری نسل انسانی کو مسیحیت کے دائرے میں لانا ان کی ذمہ داری ہے۔ دونوں کا فوکس سات ارب انسانوں پر ہے اور پوری نسل انسانی ان کی دعوت کا دائرہ ہے۔ ان دو کے علاوہ کسی اور مذہب کے حضرات اس مقصد کے لیے اس درجے میں متحرک نہیں ہیں اس لیے سات ارب انسانوں کو اپنے اپنے مذہب میں شامل کرنے کے لیے اصل مقابلہ اسلام اور مسیحیت میں جاری ہے۔

اس مقابلہ کی ایک تازہ جھلک یہ ہے کہ سوڈان جو مسلم اکثریت کا ملک چلا آرہا ہے اسے تقسیم کرنے اور اس کے ایک حصے کو مسیحیت کے نام پر الگ ملک بنانے کا آج سے پون صدی قبل منصوبہ بنایا گیا تھا جہاں مسیحیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بستی ہے مگر ان کی اس خطے میں اکثریت نہیں تھی۔ یہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے مسیحی مشنریوں نے اس علاقے میں آباد بت پرست قبائل کو مسیحی بنانے کا فیصلہ کیا اور مسیحی مشنریوں اور پادریوں نے کم و بیش نصف صدی کی مسلسل اور سخت محنت کے ساتھ ان بت پرست قبائل کو مسیحیت کے دائرے میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور اس طرح اس خطے میں مسیحی آبادی اکثریت میں تبدیل ہوگئی۔ جس کے بعد وہاں اقوام متحدہ کو درمیان میں لا کر ریفرنڈم کرایا گیا اور سوڈان کو تقسیم کر کے ایک الگ مسیحی ریاست قائم کر دی گئی۔ اس سے قبل انڈونیشیا میں بھی یہی عمل ہوا ہے اور مشرقی تیمور کے نام سے ایک الگ مسیحی ریاست قائم ہو چکی ہے۔

یہ ساری محنت مشنریوں اور پادریوں کی ہے، اس لیے میں علماء کرام سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں بھی سوچنا چاہیے اور اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے کہ کیا اس طرح کی کوئی محنت ہمارے دینی حلقوں اور علماء کرام کے طبقے میں بھی پائی جاتی ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو ہمیں اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری اور اس کے بارے میں مسئولیت کے پہلو پر ضرور سوچنا چاہیے۔

مسلمانوں کو دین کی دعوت

دوسری گزارش یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا دوسرا دائرہ امت مسلمہ کی اصلاح اور مسلمانوں کو دین کے ماحول کی طرف واپس لانے کا ہے۔ عام مسلمان کا دین کے ساتھ تعلق قائم ہو، مسجد کے ساتھ اس کی وابستگی ہو اور مسجد کی آبادی اور معاشرتی کردار ماضی کی طرح ہمارے اجتماعی ماحول کا حصہ بنے، یہ بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کہ عام مسلمان کا جب تک دین کے ساتھ عملی تعلق قائم نہیں ہوگا اور مسجد کی رونق اور آبادی کے ساتھ ساتھ اس کا حقیقی معاشرتی کردار بحال نہیں ہوگا اس وقت تک امت مسلمہ، مسلم ممالک اور ان کی سوسائیٹیوں کو موجودہ بحران سے نجات نہیں ملے گی۔ یہ صرف ہمارے ایمان اور جذبات کی بات نہیں ہے بلکہ دورزوال کے تلخ تجربات و مشاہدات بھی اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص زبان سے تو کہہ رہا ہے کہ دین کی طرف واپسی کے بغیر مسلمانوں کی مشکلات دور نہیں ہوں گی اور ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے لیکن اسی سوچ کو دائرہ عمل میں لانے کے لیے عملی طور پر ہم کیا کر رہے ہیں؟

تبلیغی جماعت کے دعوت و تبلیغ کے اس عمل کو میں امتِ مسلمہ کی اصلاح، عام مسلمانوں کو دین کی طرف واپس لانے اور مسجد کی رونق و کردار کو بحال کرنے کی جدوجہد سے تعبیر کرتا ہوں، جو بہرحال اپنے دائرے میں دنیا بھر میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہے اور اس کے اثرات و ثمرات بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ میری نظر میں تبلیغی جماعت کا بنیادی دائرہ کار یہی ہے کہ وہ ایک عام مسلمان کو، جس کا مسجد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، گھیرگھار کر مسجد میں لے آتی ہے۔ وہ عام مسلمان جو ’’مولوی‘‘ کے بارے میں اکثر بدگمانیوں کا شکار رہتا ہے اسے بہلا پھسلا کر مولوی کے پیچھے نماز کے لیے کھڑا کر دیتی ہے۔ اور وہ عام مسلمان جو دین کے بنیادی عقائد اور اعمال سے واقفیت نہیں رکھتا اسے سہ روزہ، چلہ اور سال لگوا کر کلمہ، نماز، حلال و حرام، اخلاقیات اور دیگر ضروریاتِ دین کی کچھ نہ کچھ تعلیم دے دیتی ہے۔ اس سے زیادہ میں تبلیغی جماعت سے اور کسی کام کا تقاضہ نہیں رکھتا اور نہ ہی دین کے کسی اور شعبے کا کام نہ کرنے پر تبلیغی دوستوں سے مجھے کوئی شکوہ ہے۔

اس سے اگلا کام ہمارا یعنی علماء کرام کا ہے لیکن یہ کام ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ فاصلہ قائم رکھ کر نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ہمیں تبلیغی جماعت کی صفوں میں شامل ہونا ہوگا اور باہمی محبت و تعاون کے ساتھ اگلے اصلاحی و تعلیمی مراحل کی صورت گری کرنا ہوگی۔میری علماء کرام سے ہمیشہ گزارش ہوتی ہے کہ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ تعلق قائم رکھیں، کچھ نہ کچھ وقت دیا کریں، میں خود سال میں ایک سہ روزہ پابندی کے ساتھ صرف اس غرض سے لگایا کرتا ہوں کہ اس سے تبلیغی جماعت کے ساتھ تعلق قائم رہتا ہے، اس کی سرگرمیوں سے آگاہی رہتی ہے اور دینی کاموں میں باہمی تعاون کے راستے کھلتے ہیں۔ فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام کو میں تلقین کیا کرتا ہوں کہ وہ فراغت کے بعد تبلیغی جماعت کے ساتھ سال لگائیں اور یا کسی کامل شیخ کے ساتھ روحانی و اصلاحی تربیت کا عملی تعلق قائم کریں۔ اس کے بغیر وہ اس علم کی خدمت اور قدر نہیں کر سکیں گے جو انہوں نے آٹھ دس سال میں محنت کر کے حاصل کیا ہے۔ تبلیغی جماعت کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے فضلائے درسِ نظامی کو ایک سال لگانا ہوتا ہے۔ میں اسے ان کا ’’ہاؤس جاب‘‘ کہا کرتا ہوں، جس طرح ڈاکٹر صاحبان تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد خالصتاً ہسپتال کے ماحول میں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ایک سال ہاؤس جاب کرتے ہیں اور پڑھے ہوئے علم کو عمل کے دائرے میں لانے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح فارغ التحصیل علماء کرام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ تعلیمی اور اصلاحی ماحول میں کم از کم ایک سال تجربہ کار حضرات کی راہنمائی میں گزاریں۔ اور وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ سال لگانے کی صورت میں ہو تو بھی ٹھیک ہے اور اگر کسی کامل شیخ اور تجربہ کار استاذ کی نگرانی میں ہو تو بھی بات بن جائے گی ۔

تعلیمی اہداف پر توجہ کی ضرورت

علماء کرام سے تیسری گزارش میں یہ کرنا چاہوں گا کہ ہمیں اپنے تعلیمی کام کے اہداف اور دائرے پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔ فقہاء کرام نے دینی تعلیم کے دو درجے قائم کیے ہیں۔ ایک فرض دین اور دوسرا فرض کفایہ۔ معاشرے کو علماء کرام، حفاظ، قراء، مفتیان، ائمہ، خطباء اور مدرسین فراہم کرنا فرضِ کفایہ کے دائرے کی چیز ہے جسے ہمارے دینی مدارس انتہائی احسن طریقے سے پورا کر رہے ہیں۔ بلکہ ایک مقتدر شخصیت نے کچھ عرصہ قبل کہا کہ ہم مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور دینی مدارس اس میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے، تو میں نے ایک مضمون میں لکھا کہ محترم! اس کا شکوہ ہم سے نہ کیجئے بلکہ یونیورسٹیوں اور کالجوں سے کیجئے، اس لیے کہ ہم نے کبھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اسے انتہائی ضروری سمجھتے ہیں لیکن ہم نے سوسائٹی کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، وکیل، ٹیکنوکریٹ اور بیوروکریٹ فراہم کرنے کی ذمہ داری کبھی اپنے سر نہیں لی، یہ ذمہ داری جن اداروں نے سنبھالی اور اس کے لیے انہیں بھاری بجٹ ملتے رہے، اس کے بارے میں ان سے دریافت کیجئے۔

ہم نے یعنی دینی مدارس نے صرف یہ ذمہ داری اٹھائی تھی کہ سوسائٹی میں مسجد اور مدرسہ کا نظام قائم رہے گا اور ہم اس کے لیے رجال کار فراہم کرتے رہیں گے۔ چنانچہ سوسائٹی کو مولوی، امام، خطیب، قاری، حافظ، مدرس، مفتی اور مؤذن یہی مدارس فراہم کر رہے ہیں، اس میں اگر کسی جگہ کوتاہی ہے تو ہم سے پوچھیے اس کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔ اگر کسی جگہ مسجد بنی ہے اور خطیب و امام نہیں مل رہے، مدرسہ بنا ہے اور مدرس نہیں مل رہے، حافظ و قاری کی ضرورت ہے اور وہ میسر نہیں آرہے، دارالافتاء قائم ہوا اور مفتی نہیں مہیا ہو رہے تو اس کا شکوہ ہم سے کیجئے اور اس کا مورد الزام ہمیں ٹھہرائیے۔ اس حوالے سے تو ہم بحمد اللہ تعالٰی نہ صرف یہ کہ خودکفیل ہیں بلکہ بڑے ایکسپورٹر بھی ہیں کہ دنیا کے کسی حصے میں حافظ و قاری اور مدرس و مفتی کی ضرورت ہو ہم مہیا کرتے ہیں اور دنیا کے کم و بیش ہر علاقے میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے دینی مدارس کے پڑھے ہوئے افراد آپ کو دینی تعلیم کی خدمت سرانجام دیتے ہوئے ملیں گے۔ اس لیے اس حوالے سے تو بحمد اللہ تعالٰی دینی مدارس کا کردار بہت شاندار اور قابل فخر ہے لیکن میں اس کے دوسرے پہلو کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں۔

دینی تعلیم کا جو فرضِ عین کا درجہ ہے کہ ہر مسلمان ضروریاتِ دین سے واقف ہو اور اسے عقیدہ، عبادات، فرائض، معاملات، اخلاقیات اور حلال و حرام کی وہ ضروری تعلیم فراہم کی جائے جو اس کے لیے ہر صورت میں ضروری ہے، اس کے لیے ہمارا کردار کیا ہے اور ہم اس سلسلہ میں کیا کر رہے ہیں؟ ظاہر بات ہے کہ یہ ذمہ داری بھی علماء کرام ہی کی بنتی ہے کہ وہ عام مسلمانوں کے لیے ضروریات دین کی اس تعلیم کا، جو فرض عین کا درجہ رکھتی ہے، اہتمام کریں اور اس کا بھی اسی طرح کا کوئی مربوط نظم قائم کریں جیسا کہ ’’فرض کفایہ‘‘ کے دائرے کی تعلیم کے لیے قائم و موجود ہے۔ ہم نے دراصل اس بات کو کافی سمجھ رکھا ہے کہ جو لوگ مسجد میں ہمارے پاس آجاتے ہیں، جمعہ پڑھ لیتے ہیں، درس سن لیتے ہیں، مسئلہ پوچھ لیتے ہیں یا کسی دینی پروگرام میں شرکت کر لیتے ہیں، ان تک دینی بات اور تعلیم پہنچا کر ہم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ بات کافی نہیں ہے، وہ لوگ جو کسی بھی حوالے سے مسجد میں آجاتے ہیں، وہ ان لوگوں سے بہت کم ہیں جو مسجد میں کسی حوالے سے بھی نہیں آتے اور جن کا ہمارے ساتھ سرے سے کوئی جوڑ نہیں ہے۔ ان لوگوں کو اپنے دائرے سے باہر سمجھتے ہوئے ہم نے اپنی تمام تر سرگرمیوں کو مسجد میں خود آجانے والوں تک محدود کر رکھا ہے جو درست طرز عمل نہیں ہے اور میں اس کے بارے میں ایک حدیث نبوی کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں۔

امام بخاریؒ نے اپنے رسالہ ’’الوحدان‘‘ میں ان صحابہ کرامؓ کا تذکرہ کیا ہے جن سے صرف ایک روایت منقول ہے۔ ان میں حضرت ابزٰی خزرعیؓ کا یہ واقعہ مذکور ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار خطبۂ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اپنے پڑوسیوں سے دین کی سمجھ حاصل نہیں کرتے، علم نہیں سیکھتے اور دین کا فہم حاصل نہیں کرتے۔ اور ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اپنے پڑوسیوں کو دین کی تعلیم نہیں دیتے، مسائل و احکام نہیں سمجھاتے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کرتے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں طبقے اپنا رویہ درست کر لیں ورنہ میں اس دنیا میں انہیں سزا دوں گا۔ اس جملے سے بعض فقہاء کرام نے یہ استدلال کیا ہے کہ حکومت کو جبری تعلیم کا حق حاصل ہے۔ آنحضرتؐ کا یہ ارشاد سن کر مدینہ منورہ کے عوامی حلقوں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں کہ حضورؐ نے یہ بات عمومی طور پر کی ہے یا کسی خاص گروہ کو اس کا ہدف بنایا ہے۔ چنانچہ لوگوں نے محسوس کیا کہ اشعریوں کے محلے میں یہ کیفیت دکھائی دیتی ہے کہ حضرت ابو موسٰی اشعریؓ اور ان کا خاندان اپنا ایک الگ محلہ بسا کر اس میں قیام پذیر ہے جبکہ ان کے اردگرد کاشتکاروں اور باغبانوں کی آبادی ہے جن کا تعلیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اشعریوں کا خاندان قراء اور فقہاء کا خاندان کہلاتا تھا جبکہ اردگرد کے عام لوگ دینی تعلیمات سے بے خبر تھے اور ان کا آپس میں تعلیم و تعلم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ بات مدینہ منورہ میں عام ہونے لگی کہ جناب رسول اکرمؐ نے یہ بات اشعریوں کے بارے میں فرمائی ہے۔ یہ بات اشعریوں تک پہنچی تو انہیں تشویش ہوئی اور ان کا ایک وفد تصدیق کے لیے آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپؐ نے ان کی بات سن کر نہ صرف اس عوامی تاثر کی تصدیق فرمائی بلکہ اشعریوں کے وفد کے سامنے وہ جمعہ والی بات ایک بار پھر دہرا دی۔ اس پر اشعریوں نے پوچھا ’’انعاقب بتقصیر غیرنا؟‘‘ کیا دوسروں کے قصور پر ہمارا مواخذہ کیا جائے گا؟ جناب نبی اکرمؐ نے اس پر ’’نعم‘‘ ہاں فرما کر اس کی توثیق کر دی۔ جس سے فقہاء کرام نے یہ اصول اخذ کیا کہ پڑھنا اور پڑھانا مشترک ذمہ داری ہے، جس طرح اَن پڑھ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پڑھے لکھے لوگوں کو تلاش کر کے ان سے تعلیم حاصل کریں، اسی طرح پڑھے لکھے لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اَن پڑھوں سے رابطہ کر کے انہیں دینی تعلیم سے آراستہ کریں اور علمِ دین کو عام کرنے میں کردار ادا کریں۔ اس پر اشعریوں نے عرض کیا کہ ’’فامھلنا سنۃ‘‘ جس پر آنحضرتؐ نے انہیں ایک سال کی مہلت دی اور اشعریوں نے پورا سال لگا کر اس کوتاہی کی تلافی کر دی۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

اس کے ساتھ ہی ایک اور واقعہ بھی اس سلسلہ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ غالباً ۱۹۸۸ء میں امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں بیپٹسٹ فرقہ کے ایک پادری صاحب سے میری گفتگو ہوئی، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کے معاشرے میں زنا، سود، شراب، عریانی اور ہم جنس پرستی کا جو ماحول بنا ہوا ہے، آپ اسے کیا سمجھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ گناہ ہے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ اس سلسلہ میں کیا کر رہے ہیں؟ کہنے لگے کہ اتوار کو چرچ میں بائبل کا درس دیتا ہوں اور لوگوں کو سمجھاتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ درس میں کتنے لوگ آتے ہیں؟ کہا کہ ڈیڑھ دو سو افراد ہوتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اٹلانٹا کی ایک ملین آبادی میں ہفتے میں ایک بار سو دو سو افراد کے سامنے درس دے کر کیا آپ اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں اور کیا آپ قیامت کے روز حضرت عیسٰی علیہ السلام کے سامنے پیش ہونے پر اپنی اس کارکردگی سے انہیں مطمئن کر سکیں گے؟ پادری صاحب نے فرمایا کہ نہیں لیکن میں اس سے زیادہ کر بھی کیا سکتا ہوں؟

یہ واقعہ آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پادری صاحب سے تو میں نے سوال کر دیا لیکن بعد میں مجھے خیال آیا کہ یہی سوال اگر مجھ سے کیا جائے تو اس کا میرے پاس کیا جواب ہوگا؟ اس لیے یہ سوال اب آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں کہ ہم سب کو مل جل کر اس نازک سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیے۔

پادری صاحب کی بات چلی ہے تو ایک اور پادری صاحب سے ملاقات کا قصہ بھی عرض کر دیتا ہوں ۔چودہ پندرہ سال قبل کی بات ہے کہ برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں مولانا محمد عیسٰی منصوری، مولانا رضاء الحق اور حاجی عبد الرحمان (آئرش نو مسلم) کے ساتھ پروگرام بن گیا اور ہم نے نوٹنگھم کے ایک پادری صاحب سے ملاقات کی۔ میرا سوال ان سے بھی یہی تھا کہ مغربی معاشرے میں زنا، شراب، سود، فحاشی اور عریانی کی جو یلغار ہے اس کو کہیں بریک لگنے کا کوئی امکان ہے؟ ان کا جواب نفی میں تھا۔ میں نے عرض کیا کہ آپ لوگ اس سلسلہ میں کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو اس سلسلہ میں کچھ نہیں کر سکتے بلکہ ہم آپ لوگوں کی طرف دیکھ رہے ہیں اس لیے کہ اس کو روکنے کے لیے جس روشنی کی ضرورت ہے اس کی چمک ہمیں آپ لوگوں کی آنکھوں میں نظر آرہی ہے۔ تب سے میں اس سوچ میں ہوں کہ لوگوں کی ہم سے کیا توقعات ہیں اور ہم کن کاموں میں پڑے ہوئے ہیں۔

زندگی کا ایک اور تجربہ اور مشاہدہ عرض کرنے میں بھی شاید کوئی حرج نہ ہو کہ ایک دفعہ لندن میں مولانا محمد عیسٰی منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ اور راقم الحروف کا یہ پروگرام بن گیا کہ مختلف مسلم ممالک کی اسلامی تحریکات کے جو نمائندے لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں ان سے ایک اجتماعی ملاقات کر لی جائے۔ ان دنوں میں ورلڈ اسلامک فورم کا چیئرمین تھا، چنانچہ ہم نے مسلسل ورک کر کے کم و بیش تیرہ ممالک کی اسلامی تحریکات کے نمائندوں کو جمع کر لیا جن کا اجلاس راقم الحروف کی صدارت میں ہوا۔ میں نے ان دوستوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ قیامِ خلافت اور نفاذِ شریعت کے لیے الگ الگ کام کرنے اور متفرق طور پر اپنی توانائیاں خرچ کرنے کی بجائے کسی ایک ملک کو فوکس کر لیا جائے اور سب مل کر اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں وہاں خرچ کریں۔ اگر کسی ایک جگہ ہم اسلامی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو باقی ممالک میں کام کو آگے بڑھانا آسان ہو جائے گا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب ابھی افغانستان کی امارت اسلامی اور طالبان کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔ میری اس رائے سے سب نے اتفاق کیا اور کم و بیش ہر تحریک کے نمائندے نے رائے دی کہ اس کے لیے پاکستان ہی سب سے زیادہ موزوں ہے اور پاکستان کے دینی حلقے اور علماء کرام ہی اس سلسلہ میں سب سے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ان کی باتیں سن کر میں خوش تو ہو رہا تھا لیکن اس سے کہیں زیادہ اندر ہی اندر میں پریشان بھی ہو رہا تھا کہ ’’اندر کی بات‘‘ تو میں ہی جانتا تھا۔

میں علماء کرام سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھ رہی ہے اور ہم سے کیا توقعات وابستہ کیا ہوئے ہے، مگر ہم کس دنیا اور ماحول میں مگن ہیں کہ ہمیں سرے سے ان مسائل اور ان کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی ہمارے حال پر رحم فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

دعوت و تبلیغ کے ساتھ وابستہ رہنے کے فوائد

حضرات علماء کرام! میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اور جن معاملات کی طرف آپ حضرات کی توجہ دلانے کی کوشش کی ہے ان کا ایک اہم دائرہ اور شعبہ تبلیغی جماعت کا یہ دعوت و تبلیغ کا دائرہ بھی ہے اور میں علماء کرام سے اس کام کے ساتھ وابستہ رہنے کی درخواست کرتا رہتا ہوں۔ میں نے اس کام کے ساتھ تعلق کے جو فوائد محسوس کیے ہیں ان میں سے چند ایک کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:

  • نیکی اور خیر کے ایک عمومی کام میں کسی درجے میں شرکت ہو جاتی ہے جو باعثِ خیر و ثواب ہے۔
  • اعمالِ خیر کی پابندی کی عادت بنتی ہے مثلاً ذکر و اذکار، نوافل، تلاوت اور بعض دیگر اعمالِ خیر کا معمول بن جاتا ہے اور عادت بن جاتی ہے۔ حکیم الامت حضرت تھانویؒ کا ایک ملفوظ کسی جگہ پڑھا تھا کہ خیر کے کاموں کی عادت تم بنا لو، اسے عبادت کی شکل اللہ تعالٰی خود ہی دے دیں گے۔ میرے خیال میں یہ عادت کسی کامل شیخ کی عملی صحبت یا تبلیغی جماعت کے بغیر نہیں بنتی۔
  • ڈسپلن پیدا ہوتا ہے اور اوقات کی قدر ذہن میں جگہ بناتی ہے۔ ڈرتے ڈرتے عرض کرتا ہوں کہ سب سے زیادہ مصروف طبقہ ہم علماء کرام کا ہوتا ہے اور سب سے زیادہ فارغ بھی ہم ہی ہوتے ہیں۔ ہماری فراغت عام طور پر ہماری سب سے بڑی مصروفیت ہوتی ہے اور کچھ شخصیات و افراد کے استثنا کے ساتھ وقت کی قدر و قیمت کا ہمیں کوئی احساس نہیں ہوتا۔ ہر کام وقت پر کرنا اور ہر وقت کو کسی نہ کسی طرح استعمال میں لانا ہو تو اس کے لیے تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانا بہت مفید ہے۔
  • پروٹوکول میں کمی آتی ہے جو ہمارے بہت سے کاموں میں رکاوٹ بنا رہتا ہے۔ اپنی اپنی جگہ تو ہم خود ہی امیر ہوتے ہیں اور خود ہی فیصلے کرتے ہیں، یہاں ہم مامور ہوتے ہیں، چٹائیوں پر سونا ہوتا ہے، سب دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اعمال میں شریک ہوتے ہیں اور امیر کے فیصلے کے پابند ہوتے ہیں۔ مجھے تو سچی بات ہے کہ مامور بن کر بے حد خوشی ہوتی ہے۔ جب کوئی دوست اس دوران کسی کام کے لیے کہتا ہے اور میں خود فیصلہ کرنے کی بجائے یہ کہتا ہوں کہ ’’امیر صاحب سے پوچھ لیں‘‘ تو بے حد روحانی سکون ملتا ہے۔
  • تعلقاتِ عامہ اور پبلک ڈیلنگ کا فن کچھ نہ کچھ سیکھ لیتے ہیں۔ کس ماحول میں اور کس سطح کے آدمی سے کس طرح بات کرنی ہے اور غیر متعلقہ افراد کو کس طرح بہلا پھسلا کر اپنی راہ پر لانا ہے اس کا طریقہ معلوم ہوتا ہے بلکہ اس کا عملی تجربہ بھی ہوتا ہے۔ ہم علماء کرام عام طور پر اس فن سے نابلد ہوتے ہیں۔ ہماری گفتگو کی ایک ہی سطح ہوتی ہے اور ہم ہمیشہ ایک متعین فریکوئنسی سے بات کرتے ہیں جو ایسے لوگوں کے سروں کے اوپر سے گزر جاتی ہے جن کی فریکوئنسی ہمارے ساتھ سیٹ نہیں ہوتی۔ میں اس سلسلہ میں اپنا ایک ذاتی تجربہ اور واقعہ آپ حضرات کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے دورۂ حدیث ۱۹۶۹ء میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے کیا تھا، سالانہ امتحان اس زمانے میں ہمارے ہاں تقریری ہوا کرتا تھا۔ مخدوم العلماء حضرت مولانا مفتی بشیر احمد پسروریؒ بخاری شریف کے امتحان میں ممتحن تھے اور بلوچستان اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر مولوی شمس الدین شہیدؒ دورۂ حدیث میں ہمارے ساتھی تھے۔ ہم تیرہ چودہ ساتھی تھے اور اکٹھے ہی امتحان دے رہے تھے۔ حضرت پسروریؒ نے مولوی شمس الدین شہیدؒ سے بخاری شریف کی ایک حدیث کی عبارت پڑھوائی اور پھر ہم سب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تم سے اس حدیث کے حوالے سے فقہی مذاہب اور ان کے دلائل نہیں پوچھوں گا اس لیے کہ یہ سب کچھ تم لوگوں نے رٹا ہوا ہوگا، میرا تم سے سوال یہ ہے کہ یہ حدیث اگر تمہیں کسی دور دراز گاؤں میں خالصتاً اَن پڑھ دیہاتی ماحول میں بیان کرنی پڑے تو کیسے بیان کرو گے؟ اس پر میں نے ٹھیٹھ دیہاتی لہجے میں اس حدیث پر پانچ سات منٹ تقریر کی تو حضرت پسروریؒ بہت خوش ہوئے اور امتیازی نمبروں سے نوازا۔ میری آج کی گزارش یہ ہے کہ اس فن سے عام طور پر ہم ناواقف ہوتے ہیں حالانکہ یہ ہماری بہت اہم دینی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانے، قریہ قریہ پھرنے اور طرح طرح کے لوگوں سے بات چیت کرنے سے اس فن میں بھی کچھ نہ کچھ شدبد ہو جاتی ہے اور تعلقاتِ عامہ کا ہنر تھوڑا بہت آجاتا ہے۔
  • ایک دوسرے کے ساتھ میل جول سے بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوتا ہے۔ ہمارے درمیان بہت سے معاملات میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، تبلیغی حلقوں میں علماء کرام کے بارے میں بدگمانیاں موجود ہیں اور علماء کرام کے حلقوں میں تبلیغی جماعت کے بارے میں بدگمانیاں دیکھنے اور سننے میں آتی رہتی ہیں۔ اس کا حل بھی یہ ہے کہ میل جول بڑھایا جائے، ایک دوسرے کی کمزوریوں اور مجبوریوں کو سمجھا جائے اور افہام و تفہیم کے ساتھ باہمی بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے کہ نہ علماء کرام فرشتوں میں سے ہیں اور نہ ہی تبلیغی جماعت فرشتوں کی جماعت ہے، کمزوریوں دونوں طرف موجود ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ کوئی کام جوں جوں پھیلتا ہے اور اس کے دائرے میں وسعت پیدا ہوتی ہے، اسی حساب سے غلطیوں کا امکان بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ غلطیاں وہی کرے گا جو کام کرے گا اور جتنا زیادہ کام کرے گا غلطیاں بھی اسی حساب سے زیادہ ہی کرے گا۔ اس کا علاج غلطیوں کو بلاضرورت اجاگر کرنا اور محاذ آرائی کرنا نہیں بلکہ افہام و تفہیم کے ساتھ ان کی طرف توجہ دلانا ہے اور وہ باہمی میل جول کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔

حضراتِ علماء کرام! میں نے آپ حضرات کی خدمت میں جو معروضات پیش کی ہیں ان پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ فرمائیں، خدا کرے کہ ہم موجودہ حالات میں اپنی دینی جدوجہد کو زیادہ سے زیادہ مفید اور بامقصد بنانے کی طرف توجہ دے سکیں، آمین یا رب العالمین۔

آخر میں قارئین کی اطلاع کے لیے عرض کر رہا ہوں کہ دارالعلوم نیویارک کے احباب کے اصرار پر میں عید الاضحٰی کے بعد آٹھ دس روز کے لیے نیویارک آگیا ہوں اور یہ کالم میں نے دارالعلوم میں بیٹھ کر ہی قلمبند کیا ہے۔ دارالعلوم میں اساتذہ اور طلبہ کے لیے ’’دینی تعلیم کے تقاضے‘‘ کے عنوان سے سات دن کے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ہے اور اسی کے لیے میری حاضری ہوئی ہے، کوشش کروں گا کہ اس کالم کے ذریعے اپنے قارئین کو بھی اس ورکشاپ میں کسی حد تک شریک رکھ سکوں، ان شاء اللہ تعالٰی ۔

درجہ بندی: