پنجاب حکومت کے جانبدارانہ اقدامات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ دسمبر ۲۰۱۱ء

۲۸ نومبر کو شام ساڑھے پانچ بجے وزیر اعلٰی ہاؤس لاہور میں صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی کا اجلاس تھا جس کی صدارت وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف نے کرنا تھی۔ میں سوا چھ بجے کے لگ بھگ اجلاس کے ہال میں داخل ہونے لگا تو اندر سے مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا محمد امجد خان، مولانا قاری احمد میاں تھانوی اور دوسرے علماء کرام باہر آرہے تھے، مجھے انہوں نے دروازے پر روک لیا اور کہا کہ ہم اجلاس کا بائیکاٹ کر کے باہر آئے ہیں آپ بھی ہمارا ساتھ دیں۔ میں وہیں رک گیا، یہ حضرات دوسرے کمرے میں باہمی مشورہ کے لیے جا رہے تھے میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا اور رفتہ رفتہ دوسرے کمرے میں وہ سب حضرات جمع ہوگئے جو اجلاس میں علماء دیوبند کی نمائندگی کر رہے تھے اور بائیکاٹ میں شریک تھے۔ ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ علماء کرام جب باہمی مشورہ کے لیے ایک ہال میں جمع ہوئے تو پتہ چلا کہ یہ بائیکاٹ وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کی علماء دیوبند کے ساتھ سرد مہری اور مبینہ طور پر جانبدارانہ رویہ کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے اور طے پایا کہ جب تک وزیر اعلٰی خود ہمارے تحفظات و شکایات کو دور نہیں کرتے ہم اجلاس میں واپس نہیں جائیں گے۔ وہاں محترم صاحبزادہ سید امین الحسنات شاہ آف بھیرہ اور سیکرٹری اوقاف پنجاب ان حضرات کو منا کر واپس لے جانے کے لیے آئے اور تھوڑی دیر بات چیت کرتے رہے مگر ہمارا موقف تھا کہ پیر صاحب موصوف اور سیکرٹری اوقاف پنجاب سے ہمیں کوئی گلہ نہیں، ہماری شکایات براہ راست وزیر اعلٰی سے متعلق ہیں اس لیے وہ خود بات کریں گے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے ورنہ ہم واپس جا رہے ہیں۔ اتنے میں میاں شہباز شریف صاحب کا فون آگیا اور انہوں نے مولانا حافظ فضل الرحیم سے کہا کہ آپ حضرات اجلاس میں شریک ہوں آپ کی شکایات پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا مگر مولانا فضل الرحیم نے کہا کہ ہم پہلے آپ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد اجلاس کے بارے میں غور کریں گے۔

اس پر علماء دیوبند کے وفد کو وزیر اعلٰی نے اگلے روز رائے ونڈ میں شام چار بجے الگ ملاقات کا وقت دے دیا اور ہم اجلاس میں شرکت کیے بغیر سب حضرات جامعہ اشرفیہ چلے گئے، وہاں ہمارا مختصر اجلاس ہوا جس میں طے پایا کہ اپنی شکایات و تجاویز وزیر اعلٰی پنجاب کو تحریری شکل میں پیش کی جائیں گی اور ان کی طرف سے تسلی بخش پیشرفت کے بغیر صوبائی حکومت کے مذہبی معاملات کے بارے میں طلب کردہ کسی اجلاس میں ہم شریک نہیں ہوں گے۔ اس اجلاس میں مولانا پیر سیف اللہ خالد، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا مفتی عبد القوی اور مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے بھی تشریف لے آئے اور مذکورہ حضرات سمیت سب شرکاء محفل نے اس فیصلے سے اتفاق کا اظہار کیا، اس کے ساتھ یہ بھی طے پایا کہ وزیر اعلٰی کے ساتھ ان شکایات اور احتجاج کے باوجود محرم الحرام کے امن و امان کے سلسلے میں ہمارا رول حسب سابق تعاون کا رہے گا اور امن کے قیام کے لیے ہم ہر سطح پر تعاون کریں گے، البتہ صوبائی حکومت کے مذہبی پروگراموں اور اس کی طرف سے طلب کردہ اجلاسوں میں ہم شریک نہیں ہوں گے۔

اس کے ساتھ ہی ایک قرارداد کے ذریعے مہمند ایجنسی پر نیٹو کے جارحانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد اور وزیر اعظم کی طلب کردہ قومی آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کے مطابق نیٹو جارحیت کے خلاف جرأت مندانہ موقف اختیار کیا جائے اور بیرونی حملوں کا پوری قوت کے ساتھ جواب دیا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ قومی خودمختاری اور ملکی سرحدوں کے تقدس کے لیے پوری قوم متحد ہے اور ہم سب اس قومی وحدت اور ہم آہنگی میں پوری طرح شریک ہیں۔

اجلاس میں وزیر اعلٰی کے ساتھ اگلے روز کی ملاقات میں پیش کرنے کے لیے شکایات و تجاویز طے کی گئیں جن میں اہم امور درج ذیل ہیں:

  • صوبائی سطح پر وزیر اعلٰی کے مذہبی معاملات میں خصوصی کوارڈینیٹر سمیت متحدہ علماء بورڈ اور پنجاب قرآن بورڈ کے چیئرمین ایک ہی مکتب فکر سے لیے گئے ہیں اور دیوبندی مکتب فکر کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا، اسی طرح متحدہ علماء بورڈ، پنجاب قرآن بورڈ اور مختلف مذہبی کمیٹیوں میں ارکان کا تناسب و توازن بھی امتیازی رویہ کا غماز ہے۔
  • پنجاب بھر میں دیوبندی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کے کوائف دریافت کرنے کے عنوان سے مداخلت کا سلسلہ جاری ہے۔ دیوبندی مسلک کے مدرسین، طلبہ اور طالبات کو بطور خاص ہراساں کیا جا رہا ہے اور بلاوجہ مدارس میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
  • بادشاہی مسجد لاہور کی مسلکی حیثیت کو متنازع بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔
  • اولیاء کرام علیہم السلام کے مزارات کے ساتھ ملحقہ مساجد کو ایک مکتب فکر کے ساتھ مخصوص کرنے کی بات کر کے صدیوں پہلے رحلت کر جانے والے متفقہ بزرگان دین اور اولیاء کرامؒ کو فرقہ وارانہ تناظر میں متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
  • مسلکی بنیاد پر دیوبندی علماء کرام کے خلاف فورشیڈول کا کثرت کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں عدالتی احکام کی بھی بعض جگہ پروا نہیں کی جا رہی۔
  • میاں شہباز شریف کے سابقہ دور حکومت میں مولانا عبد الستار خان نیازیؒ اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹیوں نے حضرات صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ کی توہین کو قابل سزا جرم قرار دینے کے بارے میں جو سفارشات مرتب کی تھیں ان پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا اور اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نظر نہیں آتی۔
  • صوبہ بھر میں مساجد کی تعمیر کے سلسلہ میں این او سی جاری کرنے کے بارے میں دوہرا طرز عمل جاری ہے اور ایک مسلک کے لوگوں کو نوازتے ہوئے دیوبندی مسلک کے لوگوں کی درخواستوں پر این او سی جاری کرنے میں ٹال مٹول کی جاتی ہے اور بعض سیاسی شخصیات اس طرز عمل کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔
  • نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں مساجد کے لیے مخصوص کردہ پلاٹوں پر ایک مسلک کے لوگ قبضہ کر کے مسجدیں بناتے جا رہے ہیں اور ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا جا رہا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ناجائز قبضوں کے پلاٹ مسلکی امتیاز کے بغیر سب سے خالی کرائے جائیں اور قانون کے مطابق الاٹمنٹ کی جائے۔
  • سرکاری محکموں کے کارندے جب عوامی حلقوں میں مسلک معلوم کرنے کے لیے سروے کرتے ہیں تو ان کا سوال عموماً یہ ہوتا ہے کہ ’’آپ اہل سنت ہیں یا دیوبندی؟‘‘۔ یہ سوال انتہائی گمراہ کن ہے کیونکہ یہ امر ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ علماء دیوبند اہل السنۃ والجماعۃ ہیں۔
  • بعض سرکاری افسران بالخصوص پنجاب کے ایڈمنسٹریٹر اوقاف متعصبانہ مسلکی جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ان کا رویہ انتہائی قابل اعتراض ہے۔
  • محرم الحرام کے دوران میڈیا کے پروگرام شدید عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں جن سے کشیدگی پیدا ہوتی ہے اور لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کے قانون پر عملدرآمد کا بھی غیر جانبدارانہ اہتمام عام طور پر نہیں ہوتا۔
  • گزشتہ آٹھ ماہ سے مسلسل کوششوں کے باوجود ان مسائل پر براہ راست گفتگو کے لیے وزیر اعلٰی وقت نہیں دے رہے اور ہماری گزارشات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

یہ اور ان جیسے دیگر مطالبات، شکایات اور تجاویز لے کر مولانا فضل الرحیم، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، راقم الحروف، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری احمد میاں تھانوی، مولانا پیر سیف اللہ خالد نقشبندی، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا حافظ اسعد عبید، مولانا محمد امجد خان، مولانا طاہر اشرفی، مولانا زاہد محمود قاسمی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا مجیب الرحمان انقلابی، مولانا عبد الجلیل نقشبندی اور دیگر علماء کرام پر مشتمل وفد ۲۹ نومبر کو شام رائیونڈ پہنچا، عصر کی نماز کے بعد وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کا آغاز ہوا جو مغرب کے وقفہ کے ساتھ عشاء تک جاری رہی۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور دیگر سرکردہ علماء کرام نے اپنے موقف اور مطالبات کی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی جس پر وزیر اعلٰی میاں شہباز شریف نے بھی کھلے دل کے ساتھ تفصیلی اظہار کیا اور طے پایا کہ ان شکایات و تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے سینئر وزیر جناب ذوالفقار علی کھوسہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں سرکردہ دیوبندی علماء کرام بھی شریک ہوں گے اور کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ان شکایات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے، ان شاء اللہ تعالٰی۔