دینی مدارس میں تعلیم و تربیت ۔ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کا ایک اہم خطاب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
(روزنامہ اسلام، لاہور ۔ ۵ دسمبر ۲۰۱۱ء)
اصل عنوان: 
ہمارے اکابر اور ہم

جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی کے صدر اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ۲ دسمبر کو ایک روز کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے، جامعہ قاسمیہ قاسم ٹاؤن میں علماء کے ایک بھرپور اجتماع سے خطاب کیا اور جامعہ قاسمیہ کی نئی سبزی منڈی والی شاخ میں جمعۃ المبارک کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ جامعہ قاسمیہ کے مہتمم مولانا قاری گلزار احمد قاسمی نے صبح کے ناشتے میں علماء کرام کی بڑی تعداد کو جمع کر رکھا تھا جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ ہم نے حضرت مفتی صاحب کے ساتھ ناشتہ کیا اور ان کے فکر انگیز خطاب سے مستفید ہوئے۔ اس موقع پر مفتی صاحب نے راقم الحروف سے کہا کہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات پر انہوں نے ہم لوگوں سے تعزیت تو کر لی تھی لیکن گکھڑ نہیں جا سکے تھے، وہ چاہتے ہیں کہ اس سفر میں گکھڑ جائیں اور ہمارے چھوٹے بھائیوں سے بھی ملاقات و تعزیت کر لیں۔ چنانچہ مولانا قاری گلزار احمد قاسمی اور راقم الحروف کے ہمراہ وہ گکھڑ تشریف لے گئے اور حضرت والد صاحبؒ کے کمرے میں ہمارے چھوٹے بھائیوں مولانا قاری حماد الزہراوی اور مولانا قاری راشد خان کے ساتھ ملاقات و تعزیت کے علاوہ والد محترمؒ کی قبر پر بھی حاضری دی اور دعا کی۔

مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے جامعہ قاسمیہ قاسم ٹاؤن میں علماء کرام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بہت سی فکر انگیز باتیں کیں جن میں چند ایک کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی گفتگو کا آغاز اپنے والد محترم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس اللہ العزیز کے ایک واقعہ سے کرنا چاہوں گا۔ وہ قیام پاکستان سے قبل برسوں دارالعلوم دیوبند میں پڑھاتے رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے چند سال بعد جب وہ دیوبند تشریف لے گئے تو میں بھی ان کے ساتھ تھا، دارالحدیث میں ان کی آمد پر اجتماع کا اہتمام کیا گیا جس سے انہوں نے خطاب فرمایا۔ اس موقع پر انہوں نے فرمایا کہ علماء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انسان کا جی چاہتا ہے کہ وہ نئے نئے نکتے بیان کرے اور علمی مسائل پر بات کر کے اپنی دھاک بٹھائے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند کے دارالحدیث میں اسی مسند پر بیٹھ کر میں بھی برسوں یہ ’’گناہ‘‘ کرتا رہا ہوں مگر اب میں نے اس سے ’’توبہ‘‘ کر لی ہے۔ اس لیے اس قسم کی گفتگو آپ حضرات کے سامنے نہیں کروں گا اور صرف ایک بات پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ دیوبند کیا ہے اور دیوبندی مسلک کیا ہے؟

مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے فرمایا کہ دیوبند اعتدال و توازن کا نام ہے، اتباع سنتؐ کا نام ہے اور خلوص و للّٰہیت کا نام ہے اور دیوبند کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں پڑھانے کے ساتھ ساتھ سکھایا بھی جاتا تھا۔ مگر اب ہمارے مدارس کی حالت یہ ہے کہ ہم پڑھتے تو ہیں مگر سیکھتے نہیں، پڑھاتے تو ہیں مگر سکھاتے نہیں، اور ہم جو کچھ خود پڑھتے ہیں ہمارا عمل اس پر نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے لوگوں کا ہم پر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے اکابر کا معاملہ یہ تھا کہ وہ جو کچھ فرما دیتے تھے لوگ اسے قبول کرتے تھے اور اس کے پیچھے چلتے تھے اس لیے کہ لوگوں کو اعتماد ہوتا تھا کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ان کا اپنا عمل بھی اس پر ہے۔ مگر آج کے دور میں لوگ جب ہمیں دیکھتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھتے اور پڑھاتے ہیں ہمارا اپنا عمل اس پر کمزور ہوتا ہے تو وہ بے اعتمادی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سنت نبویؐ پر ہمارے اکابر کے عمل کا یہ حال تھا کہ شیخ الحدثین حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ سے ایک بار کسی نے سوال کیا کہ فلاں مسئلہ کے دو پہلوؤں میں ’’اقرب الی السنۃ‘‘ کون سا پہلو ہے تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا عمل معلوم کرو کہ وہ کس پہلو پر عمل کرتے تھے، جو اُن کا عمل تھا وہی اقرب الی السنۃ ہے۔ اب دیکھیے کہ حضرت گنگوہیؒ کے عمل کو اقرب الی السنۃ کی دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور پیش کرنے والے خود بھی بڑے محدث ہیں۔

مفتی صاحب نے فرمایا کہ آج کل ہر ایک کو یہ فکر ہے کہ وہ بڑا کہلائے اور بڑا بن جائے جبکہ ہمارے اکابر میں یہ رجحان نہیں تھا۔ ان میں بڑے بڑے القاب اور بھاری بھر کم خطابات کا معمول بھی نہیں تھا، کسی کی بہت زیادہ تعریف کی جاتی تو کہا جاتا کہ یہ بڑے مولوی صاحب ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک بار کوئی تانگے والا مدرسہ دیوبند میں آیا اور حضرت شیخ الہندؒ سے پوچھا کہ یہاں بڑے مولوی صاحب کون ہیں؟ اس وقت مدرسے میں بڑے مولوی صاحب وہی تھے لیکن انہوں نے ایک اور بزرگ کی طرف اشارہ کر دیا کہ بڑے مولوی صاحب وہ بیٹھے ہیں۔ ان سے پوچھا تو انہوں نے کسی اور بزرگ کی طرف اشارہ کر دیا حتٰی کہ بات چلتے چلتے پھر حضرت شیخ الہندؒ تک پہنچ گئی۔ وہ خود کو چھوٹا اور دوسروں کو بڑا سمجھتے تھے اس لیے سب بڑے تھے۔ لیکن آج دوسروں کو چھوٹا اور خود کو بڑا سمجھنے کا ذوق ہے، اس لیے سب چھوٹے ہیں اور بڑا پن کم کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ میں آپ حضرات سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج ہم دیوبند کا نام تو لیتے ہیں مگر دیوبندی مسلک ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ دیوبندیت پس منظر میں جا رہی ہے، آج ہم دیوبندیت کے نام پر جو کچھ کرتے ہیں اور ہمارے ہاں جو کچھ ہونے لگا ہے اس میں دیوبند کا اصل ذوق اور مسلک گم ہوتا جا رہا ہے۔

ہمارے بزرگوں میں ایک بڑی خوبی فنائیت کی تھی، وہ فنا فی اللہ تھے۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے جب حضرت تھانویؒ کی بیعت کی تو علامہ اقبال مرحوم نے انہیں خط لکھا کہ آپ تو خود بہت بڑے عالم ہیں، آپ نے یہ کیا کیا؟ سید سلیمان ندویؒ نے جواب دیا کہ میں نے تو اپنا قبلہ درست کر لیا ہے آپ بھی اپنا قبلہ درست کر لیں تو بہتر ہے۔ سید سلیمان ندویؒ فرماتے ہی ںکہ جب میں تھانہ بھون کچھ دن رہ کر رخصت ہونے لگا تو حکیم الامت تھانویؒ نے آخری نصیحت کے طور پر انگلی میرے سینے پر رکھ کر فرمایا کہ ہمارے پاس تو ایک ہی چیز ہے ’’فنائیت‘‘ خود کو اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے فنا کر دینا۔ مگر آج فنائیت کا یہ جذبہ ہم سے کم ہوتا جا رہا ہے اور بڑا بننے کے چکر میں اکابر کے مسلک اور مزاج سے ہم دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ آج ہمارے مدارس کا عمومی ماحول یہ ہے کہ اکثر طلبہ کا سلام تک کے آداب پر عمل نہیں ہے، نماز کے آداب کا لحاظ نہیں ہے، حالانکہ یہ سب کچھ انہوں نے پڑھ رکھا ہے، آداب و اخلاق کی اکثر باتوں کا ہمارے عمل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، جو کچھ پڑھتے پڑھاتے ہیں خود اس کے خلاف عمل کرتے ہیں اور اپنی عملی زندگی میں اس کا لحاظ نہیں رکھتے۔ علامہ شامیؒ نے سلام کے آداب تفصیل کے ساتھ لکھے ہیں کہ کس وقت سلام کرنا مکروہ ہے، کون سے اوقات میں سلام کا جواب دینا درست نہیں اور مصافحہ کے آداب کیا ہیں۔ مگر ہم ان کی پروا کیے بغیر کسی بزرگ کے ساتھ مصافحے کے کے لیے جو دھکم پیل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو دھکیل کر، کہنیاں مار کر اور گردنیں پھلانگ کر جس طرح مصافحہ کرتے ہیں اس سے ثواب کی بجائے الٹا گناہ سر چڑھتا ہے۔

مفتی صاحب نے فرمایا کہ آج ہمارے مدارس کی پڑھائی جو بحمد اللہ تعالٰی پڑھائی کی حد تک خوش آئند ہے مگر اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ کوئی شخص ڈرائیونگ کے بارے میں ضروری کتابیں پڑھ کر اچھی طرح سمجھ لے بلکہ انہیں زبانی طور پر رٹ بھی لے مگر ڈرائیونگ کی عملی ٹریننگ حاصل نہ کرے، اس شخص کو ڈرائیونگ کی سیٹ پر بیٹھا دیکھ کر اس کا کوئی واقف حال شخص اس کے ساتھ سفر کرنے کا حوصلہ نہیں کرے گا۔ ہمارا حال بھی اسی طرح کا ہوتا جا رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے مدارس میں پڑھنے پڑھانے کے ساتھ ساتھ سیکھنے سکھانے کا ماحول بھی پیدا کریں اور تعلیم کے ساتھ تربیت کا بھی اہتمام کریں۔