ملی مجلس شرعی پاکستان کی چند اہم تجاویز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ اکتوبر ۲۰۱۸ء

کافی عرصہ کے بعد ملی مجلس شرعی پاکستان کا اجلاس گزشتہ اتوار کو لاہور میں منعقد ہوا جس میں مختلف تعلیمی و فقہی مسائل پر باہمی مشاورت کے ساتھ مشترکہ موقف طے پایا۔ مجلس کے دفتر کی طرف سے اجلاس کی جاری کردہ رپورٹ قارئین کی نذر کی جا رہی ہے۔

’’ملی مجلس شرعی پاکستان تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک مشترکہ علمی فورم ہے جو وقتاً فوقتاً اپنے اجلاس منعقد کر کے معاشرے کو درپیش مسائل کو زیربحث لاتا اور ان کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ موقف سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سلسلہ کا ایک اجلاس اتوار ۷/اکتوبر ۲۰۱۸ء کو مجلس کے صدر مولانا مفتی محمد خان قادری کے جامعہ اسلامیہ جوہر ٹاؤن لاہور میں ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے جید علماء شریک ہوئے جن میں سے نمایاں یہ ہیں: مولانا زاہد الراشدی (جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)، مولانا ملک عبد الرؤف (متحدہ علما ءکونسل)، حافظ مفتی شاہد عبید و مفتی ضیاء الدین (جامعہ اشرفیہ)، مفتی مقصود احمد کیانی (جامعہ عبد اللہ بن عمر)، مولانا جمیل الرحمان اختر (پاکستان شریعت کونسل)، حافظ محمد نعمان (جامعہ دارالخیر)، قاری محمد عثمان رمضان (جامعہ تحفیظ القرآن)، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (جماعت اسلامی)، حافظ ڈاکٹر محمد زبیر (تنظیم اسلامی)، مولانا رمضان منظور (جماعۃ الدعوۃ)، مولانا مفتی محمد خان قادری (جامعہ اسلامیہ)، علامہ ڈاکٹر مہدی حسن (جامعہ المنتظر)، علامہ فخر عباس ساجدی (جامعہ العروہ الوثقی)، جبکہ مجلس کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امین نے نظامت کے فرائض سرانجام دیے۔

دینی مدارس اور جدید سکولوں میں یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے علماء کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ میڈیکل اور انجینئرنگ کے کالجوں کی طرح دینی مدارس بھی دینی تعلیم کے تخصص کے ادارے ہیں۔ لہٰذا ان کا سارا نصاب جدید سکولوں کالجوں جیسا نہیں ہو سکتا اور نہ ہونا چاہیے۔ البتہ مدارس چونکہ مڈل پاس طلبہ کو لیتے ہیں اور انہیں ثانویہ عامہ اور ثانویہ خاصہ (مساوی میٹرک و ایف اے) خود کراتے ہیں، اس لیے مناسب ہوگا کہ مڈل تک نصاب یکساں ہو۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ مڈل تک موجودہ نصاب میں ضروری دینی مواد کا اضافہ کر دیا جائے جیسے قرآن ناظرہ، ترجمہ قرآن، دعائیں یاد کرانا، کچھ احادیث وغیرہ۔ اور میٹرک و ایف اے میں جس طرح آرٹس، سائنس اور کمپیوٹر کے گروپ یا تخصص موجود ہیں اسی طرح ایک علوم اسلامیہ گروپ(تخصص) کا اجرا کر دیا جائے۔ دینی مدارس جنرل سائنس، جنرل ریاضی اور انگریزی وغیرہ کے ساتھ علوم اسلامیہ گروپ میں وہ مواد شامل کر لیں جو وہ اس وقت ثانویہ عامہ اور خاصہ میں پڑھاتے ہیں۔ اور حکومت ان کی عامہ و خاصہ کی ڈگریوں کو میٹرک اور ایف اے کے مساوی قرار دے دے تاکہ دینی مدارس کے طلبہ دوسرے طلبہ کی طرح ہر طرح کی اعلٰی تعلیم حاصل کر سکیں اور پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر میں ملازمتوں کا دروازہ ان پر کھل سکے۔ اور اگر کوئی مدرسہ ثانویہ عامہ و خاصہ میں، یا کوئی جدید سکول میٹرک و ایف اے میں علوم اسلامیہ گروپ کے طلبہ کو پری میڈیکل یا پری انجینئرنگ کروا دے تو وزیراعظم صاحب کی یہ خواہش بھی پوری ہو سکتی ہے کہ مدارس کے طلبہ ڈاکٹر اور انجینئر بن سکتے ہیں۔

تاہم بعض احباب کی رائے ہے کہ یکساں نصاب مڈل کی بجائے میٹرک بلکہ ایف اے تک ہونا چاہیے تاکہ سکول کی ساری تعلیم یکساں ہو جائے جیسا کہ پوری دنیا میں مروج ہے اور پھر اس کے بعد تخصص کی تعلیم ہو۔ اس پر ایک اشکال سامنے آیا کہ پھر دینی تعلیم کا تخصص یعنی درس نظامی محض چار سال کا رہ جائے گا۔ اس پر مجلس نے چار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے جو مڈل یا میٹرک تک یکساں نصاب کا خاکہ تیار کر کے اگلی نشست میں مجلس کو پیش کرے گی۔

طلاق ثلاثہ پر تعزیر کا مسئلہ بھی زیربحث آیا اور شرکاء کی اکثریت کی یہ رائے ہے کہ طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے تعزیری سزا میں کوئی حرج نہیں، تاہم یہ نقطہ نظر بھی سامنے آیا کہ طلاقوں کی کثرت کی ایک بڑی وجہ مغربی تہذیب کے اثرات اور خصوصاً میڈیا و ٹی وی کے فحاشی و عریانی پر مبنی پروگرام ہیں جن سے نوخیز جوان متاثر ہوتے ہیں اور لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر تنہا اپنی مرضی سے شادی کر لیتی ہیں جس کے نتیجے میں والدین کے تجربہ، فراست اور حمایت سے محروم ہو جاتی ہیں۔ اس طرح خاندان ٹوٹتے ہیں، معاشرے میں کشمکش بڑھتی ہے اورطلاقوں کی کثرت ہوتی ہے۔ لہٰذا طلاق کی شرح کو کم کرنے کے لیے ان عوامل کا تدارک بھی ضروری ہے۔

خلع کا مسئلہ کافی عرصہ سے مجلس کے زیرغور ہے اور طویل غور و بحث کے بعد بعض معروف وکلاء کے ذمے لگایا گیا تھا کہ وہ علماء کی سفارشات کے مطابق قانونی نکات تیار کر کے دیں تاکہ معاملہ وفاقی شرعی عدالت یا سپریم کورٹ میں اٹھایا جا سکے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے ذمہ داری قبول کی کہ وہ اس معاملے کو آخری شکل دینے کے کام کو دیکھیں گے تاکہ یہ معاملہ جلد حتمی شکل اختیار کر سکے اور اس حوالے سے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ خلع کی مروجہ صورتحال یہ ہے کہ فیملی کورٹس خلع کی درخواستوں پر یکطرفہ طلاق کی ڈگری جاری کر دیتی ہیں اور اکثر اوقات خاوند کو بلا کر اس کا موقف معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی جو شرعاً محل نظر ہے۔‘‘