سہ ماہی تعطیلات کا آغاز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۸ اکتوبر ۲۰۱۸ء

اسباق کے دوران میں نے خود پر ایسا سفر ممنوع قرار دے رکھا ہے جس کے لیے جامعہ نصرۃ العلوم میں سبق کی چھٹی کرنا پڑے اس لیے دور دراز کے دوستوں کے تقاضوں کا سارا بوجھ تعطیلات پر آجاتا ہے اور میری چھٹیاں عام طور پر سفر میں گزرتی ہیں۔ سہ ماہی امتحان اور تعطیلات کا دورانیہ ایک ہفتہ کا ہوتا ہے جبکہ دو روز قبل طلبہ کو امتحان کی تیاری کے لیے وقت دینے کا بہانہ بھی کام دے جاتا ہے۔ اس سال پہلے کے دو روز میں نے تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزہ میں صرف کیے اور ہفتہ کے روز سہ ماہی امتحان کے آغاز پر جامعہ نصرۃ العلوم میں رسمی حاضری دینے کے بعد سفر کا آغاز کیا۔

ایمن آباد گوجرانوالہ میں تبلیغی جماعت کے مدرسہ جامعہ مکیہ کا بھی اسی روز امتحان تھا وہاں حاضری دے کر مولانا عبد الواحد رسول نگری کے ہمراہ چنیوٹ روانہ ہوگیا جہاں علماء کرام کے ایک فعال گروپ ’’خدام فکر اسلاف‘‘ کا سالانہ پروگرام تھا۔ مولانا قاری یامین گوہر، مولانا قاری عبد الحمید حامد، مولانا محمد عمیر چنیوٹی اور دیگر علماء کرام کا یہ گروپ ایک عرصہ سے متحرک ہے اور مختلف مساجد میں اس کے زیر اہتمام دروس قرآن کا سلسلہ سالہا سال سے پابندی کے ساتھ چل رہا ہے۔ ان کی سالانہ تقریب میں شرکت کے علاوہ چنیوٹ کے قدیمی مدرسہ جامعہ عربیہ کے ساتھ ملحقہ عمارتوں کو گرائے جانے کا منظر بھی وہاں سے گزرتے ہوئے دیکھا۔

یہ مدرسہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ نے چنیوٹ کی شیخ برادری کے ساتھ مل کر قیام پاکستان سے قبل قائم کیا تھا اور پھر اس کے ساتھ ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد کے نام سے ایک اور تعلیمی ادارہ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ تجاوزات کو گرانے کا سلسلہ تو کئی دنوں سے مختلف شہروں میں جاری ہے اور ہمارے ہاں گوجرانوالہ میں بھی بہت سی عمارات اب تک گرائی جا چکی ہیں مگر جامعہ عربیہ چنیوٹ کے حوالہ سے دو باتیں معلوم کر کے خاصی تشویش ہوئی۔ ایک یہ کہ مبینہ ناجائز تجاوزات کے ساتھ ساتھ جامعہ عربیہ کی عمارت کا ایک بڑا حصہ بھی اس کاروائی کے ایجنڈے میں شامل بتایا گیا ہے جو کہ پریشان کن بات ہونے کے علاوہ اب تک کی معلومات کے مطابق شرعی اور اخلاقی جواز سے بھی محروم دکھائی دیتی تھی۔ اور دوسری بات یہ کہ اسے مولانا الیاس چنیوٹی ایم پی اے کے خلاف نفرت انگیز مہم کا ذریعہ بنایا گیا ہے اور بعض انتہائی گمراہ کن خبریں پھیلائی گئی ہیں مثلاً یہ کہ چار ارب روپے مالیت کی زمین ان کے قبضہ سے واگزار کرا لی گئی ہے۔ حالانکہ جس زمین کی بات کی جاتی ہے اس کا بیشتر حصہ حکومت کئی سال قبل تحویل میں لے چکی ہے اور اس میں ایک وسیع قبرستان شامل ہے جو صرف قبروں پر مشتمل ہے، اس میں زیادہ سے زیادہ تولیت اور نگرانی کا تنازعہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ اسے مولانا محمد الیاس چنیوٹیؒ کی مقبوضہ زمین قرار دے کر اور اس کی قیمت چار ارب روپے ظاہر کرنے کا منفی پروپیگنڈا اس علاقہ میں قادیانیوں کی طرف سے بتایا جا رہا ہے۔ بہرحال جامعہ عربیہ سے ملحقہ عمارتوں کو گرائے جانے کا منظر میں نے خود دیکھا اور اب دو دن کے بعد یہ معلوم کر کے کچھ اطمینان ہوا ہے کہ کمشنر ڈویژن کے ساتھ مذاکرات کے بعد جامعہ عربیہ کی عمارات کو گرائے جانے کا عمل روک دیا گیا ہے۔ اس بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کرانے کے بعد جو قانونی تقاضے ہیں وہ پورے ہونے چاہئیں اور اسے دینی مدارس کے خلاف کارروائی اور سیاسی انتقام کے تاثر سے پاک رکھنا ضروری ہے۔

اتوار کو چنیوٹ سے لاہور آگیا جہاں تنظیم اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام ایوانِ اقبال کے وسیع ہال میں ’’ریاست مدینہ کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے اجتماع میں شریک ہوا جو محترم حافظ عاکف سعید کی زیر صدارت انعقاد پذیر ہوا اور خطاب کرنے والوں میں مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈاکٹر محمد امین، جناب اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ، مرزا محمد ایوب بیگ اور دیگر سرکردہ حضرات کے علاوہ راقم الحروف بھی شامل تھا۔ میں نے اپنی گفتگو میں تنظیم اسلامی پاکستان کی طرف سے ریاست مدینہ کے حق میں اس وسیع مہم کے اہتمام پر خوشی کا اظہار کیا اور وزیر اعظم عمران خان سے مخاطب ہو کر عرض کیا کہ ہمیں ’’مدینہ کی طرز پر رفاہی ریاست‘‘ کے نعرے پر خوشی ہوئی ہے اور ہم آپ کے دور حکومت میں اس کی یاددہانی کراتے رہیں گے جبکہ اس کے ساتھ یہ بھی بتاتے رہیں گے کہ ریاست مدینہ کیا تھی اور آج کے دور میں پاکستان کو اس طرز کی ریاست بنانے کے لیے کون کون سے اقدامات ضروری ہیں، اور اگر کوئی سنجیدہ قدم اس طرف اٹھایا گیا تو ان شاء اللہ تعالٰی ہم تعاون بھی کریں گے۔

اسی روز ملتان روڈ پر اورنج ٹرین کے ایک نئے تعمیر شدہ اسٹیشن کو ’’ختم نبوت اسٹیشن‘‘ کا نام دینے کی افتتاحی تقریب تھی۔ یہ اسٹاپ پہلے پہلے ’’شاہ نور اسٹوڈیو‘‘ کے نام سے متعارف تھا مگر علاقہ کے بلدیاتی چیئرمین میاں نثار احمد اور کونسلر محمد یاسین فاروقی کی کوششوں سے ضلعی اسمبلی نے متفقہ طور پر اس کا نام ختم نبوت اسٹیشن رکھنا منظور کر لیا ہے جس میں لاہور کے لارڈ میئر کرنل (ر) مبشر اور ڈپٹی میئر مہر محمود کی سرپرستی کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں کی مساعی بھی شامل ہیں۔ مجھے اس موقع پر ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران لاہور کی سڑکوں پر عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء یاد آرہے ہیں اور میں بلدیہ لاہور کے اس اقدام کو شہدائے ختم نبوت کے لیے خراج عقیدت سے تعبیر کرتا ہوں۔

اس کے بعد جامعہ فتحیہ اچھرہ میں حاضری ہوئی جو معمول کے مطابق ہر اتوار کو ظہر تا عصر ہوتی ہے اور دورۂ حدیث کے طلبہ کو بخاری شریف اور حجۃ اللہ البالغۃ کا ہفتہ وار سبق پڑھانے کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔ مغرب کی نماز جامع مسجد مکی ملتان روڈ میں مولانا قاری محمد رمضان کے ہاں ادا کی اور مختصر درس کے بعد اپنے دوسرے نواسے حافظ محمد خزیمہ خان سواتی کے ہمراہ کراچی کی طرف روانہ ہوگیا۔ کراچی میں چار روزہ قیام کے دوران جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن، جامعۃ الرشید، جامعہ اسلامیہ کلفٹن، درس قرآن ڈاٹ کام، اور دعوہ اسلامک سنٹر کے مختلف پروگراموں میں حاضری ہوگی اور جمعرات کی شام تک ہم ان شاء اللہ العزیز واپس لاہور پہنچ جائیں گے۔