’’مکاتیب رئیس الاحرار‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ مئی ۲۰۱۲ء
اصل عنوان: 
علماء لدھیانہ کی دینی و علمی خدمات

رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کی اپنے معاصرین کے ساتھ خط و کتابت کا مجموعہ ’’مکاتیب رئیس الاحرار‘‘ آج کل میرے مطالعہ میں ہے۔ یہ خط و کتابت ان کے پوتے مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی آف فیصل آباد نے خاصی تگ و دو کے بعد جمع کی ہے اور اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے اس کا مسودہ مجھے بھجوایا جو میں نے کراچی کے سفر میں ساتھ رکھ لیا۔ آج جامعہ اسلامیہ کلفٹن میں بیٹھا یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں اور رئیس الاحرار کے زریں خیالات سے فیضیاب ہو رہا ہوں۔ علماء لدھیانہ کے خاندان کے ساتھ میری عقیدت پرانی ہے اور تعلق بھی بچپن سے ہے۔ حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کا نام سب سے پہلے مفکر احرار چودھری افضل حق کی مرتب کردہ ’’تاریخ احرار‘‘ میں بچپن میں پڑھا تھا، اس کے بعد جب جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں درس نظامی کی تعلیم کے لیے ۱۹۶۲ء میں داخل ہوا تو اس خاندان کی گوجرانوالہ میں مقیم شاخ کے ساتھ تعلق قائم ہوا، جبکہ ایک سیاسی کارکن کے طور پر میں طالب علمی کے دور میں بھی متحرک تھا۔

علماء لدھیانہ میں سے ایک بزرگ حضرت مولانا ابو احمد عبد اللہ لدھیانویؒ ہجرت کر کے گوجرانوالہ میں آگئےتھے، ان سے ملاقات و نیازمندی کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانویؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگردوں میں سے تھے، انہوں نے گوجرانوالہ میں دارالعلوم نعمانیہ کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا جو متروکہ اوقاف کے حوالہ سے طویل عدالتی مقدمات کی نذر ہوگیا۔ میں نے ۱۹۷۰ء میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں خطبۂ جمعہ کا سلسلہ شروع کیا تو حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانویؒ جمعۃ المبارک کے حاضر باش نمازیوں میں سے تھے۔ وہ جمعہ کے روز ابتدا میں ہی تشریف لاتے، میری گفتگو غور سے سنتے، بعد میں ملاقات پر حوصلہ افزائی فرماتے اور غلط باتوں پر ٹوک بھی دیتے تھے جو میرے لیے راہنمائی کا باعث بنتی۔ مولانا عبد اللہ لدھیانویؒ کے فرزند مولانا عبد الواسع لدھیانویؒ مجلس احرار اسلام کے سرکردہ راہنماؤں میں سے تھے اور میری ان سے بھی نیازمندی تھی، جبکہ ان کے سب سے چھوٹے صاحبزادے علامہ محمد احمد لدھیانوی مرحوم کے ساتھ جمعیۃ علماء اسلام میں کم و بیش ربع صدی تک عملی رفاقت رہی۔ حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے دور امارت میں مولانا احمد سعید ہزاروی (اللہ تعالٰی انہیں سلامت رکھیں) علامہ محمد احمد لدھیانوی، ڈاکٹر غلام محمد، مولانا علی احمد جامی، مولانا حکیم نذیر احمد، مولانا محمد الطاف آف حافظ آباد رحمہم اللہ تعالٰی اور راقم الحروف ان کی کارکن ٹیم شمار ہوتے تھے۔

تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر متحدہ ہندوستان کی تحریک آزادی کا مطالعہ شروع کیا تو علماء لدھیانہ کی جدوجہد اور خدمات کے ورق ایک ایک کر کے نگاہوں کے سامنے الٹتے چلے گئے اور ذہن میں یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ اس خاندان نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی سے لے کر ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت تک ہر دینی و قومی تحریک میں ہراول دستہ کا کردار ادا کیا ہے اور عملی قربانیوں کے ساتھ ساتھ فکری و علمی راہنمائی میں بھی یہ خاندان صف اول میں رہا ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں فرنگی استعمار کے خلاف بغاوت اور جہاد کے فرض ہونے کا فتوٰی سب سے پہلے اسی خاندان کے قلم سے صادر ہوا اور اس خاندان کے علماء نے عملاً جہاد میں حصہ بھی لیا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد متحدہ ہندوستان کی نئی فکری و مذہبی صف بندی جب سرسید احمد خان مرحوم، علماء دیوبند، علماء اہل حدیث اور علماء بریلوی کی صورت میں سامنے آئی تو مرزا غلام احمد قادیانی نے نئی نبوت کے عنوان سے اس صف بندی میں گھسنے اور پانچواں سوار بننے کی کوشش کی۔ مگر امت مسلمہ کے اجتماعی مزاج نے اسے مسترد کر دیا جبکہ اس اجتماعی ذوق و مزاج کی نمائندگی کا اعزاز سب سے پہلے اسی خاندان نے حاصل کیا۔ اور پھر جب برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی سیاسی جدوجہد میں غیر مسلموں اور ہندو اکثریت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے سوال پر بحث و مباحثہ کا بازار گرم ہوا تو اسی خاندان نے غیر مسلموں کے ساتھ مل کر مشترکہ جدوجہد کے جواز کا فتوٰی دے کر کانگریس میں مسلمانوں کی شرکت کا جواز فراہم کیا۔

مجھے لدھیانہ میں رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کے گھر میں دو تین روز رہنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس (منعقدہ ۱۹۸۰ء) میں شرکت کے بعد میں نے واپسی واہگہ کے راستے سے بذریعہ سڑک کی تھی اور واپس آتے ہوئے لدھیانہ اور امرتسر میں رکنے کا موقع پا لیا تھا۔ میں کسی پروگرام اور اطلاع کے بغیر دہلی سے بس پر بیٹھ کر لدھیانہ گیا اور سائیکل رکشا چلانے والے ایک پرانے سکھ کی مدد سے مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کا گھر تلاش کر کے وہاں پہنچ گیا۔ کسی پیشگی تعارف اور اطلاع کے بغیر ایسا کرنا بہت بڑا رسک تھا لیکن علماء لدھیانہ کی محبت میں یہ رسک میں نے لے لیا تھا، اللہ تعالٰی کی مدد شامل حال ہوئی کہ بیل دینے پر مکان کا دروازہ کھولنے والے بزرگ مولانا محمد عمر لدھیانوی تھے جو حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کے بھتیجے تھے اور اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمد یحیٰی لدھیانوی کے ساتھ دیوبند کے جلسے سے واپس آئے تھے۔ مولانا محمد عمر لدھیانوی جمعیۃ علماء اسلام (پاکستان) کے سرگرم راہنماؤں میں سے تھے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں قیام پذیر تھے۔ میں نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں دو روز قیام کیا اور حضرت مولانا محمد احمد اور حضرت مولانا سعید الرحمان کی مجالس اور مہمان نوازی سے خوب مستفید ہوا بلکہ واپسی پر مولانا سعید الرحمان مجھے امرتسر تک پہنچانے کے لیے خود ساتھ آئے اور واہگہ بارڈر سے مجھے رخصت کیا۔

حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کا شمار تحریک آزادی کے نامور راہنماؤں میں ہوتا ہے۔ آل انڈیا تحریک خلافت کے بکھر جانے کے بعد جب پنجاب کی تحریک خلافت کے راہنماؤں نے نئے نام کے ساتھ سیاسی جدوجہد جاری رکھے کا فیصلہ کیا تو ’’مجلس احرار اسلام ہند‘‘ کی تشکیل اور پیشرفت میں چودھری افضل حق مرحوم اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی معیت میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ نے کلیدی کردار ادا کیا اور آزادیٔ وطن تک تحریک آزادی میں ان کا قائدانہ کردار جاری رہا۔

۱۹۳۰ء سے ۱۹۴۷ء تک تحریک آزادی اور اس کے بعد کم و بیش ایک عشرہ تک ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کی خبرگیری، بحالی اور دوبارہ آبادکاری میں جن اکابر علماء کرام نے اہم کردار ادا کیا اور مسلمانان ہند کی ڈھارس بنے، ان میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ سرفہرست تھے اور لدھیانہ حاضری کے موقع پر میں نے اس کے اثرات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ یہ دور مسلمانان ہند کے لیے ہنگامہ خیز اور صبر آزما دور تھا اور اس دوران مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور دیگر قومی راہنماؤں کے علاوہ اپنے معاصر علماء کرام اور غیر مسلم دانشوروں کے ساتھ رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کی یہ خط و کتابت اس دور کی سیاسی، دینی اور فکری صورتحال اور ماحول کی عکاسی کرتی ہے اور بہت سی تاریخی پیچیدگیوں اور الجھنوں کو حل کرتی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ لدھیانہ اور فیصل آباد میں رئیس الاحرار کے خانوادہ کے جو اہل علم اپنے خاندان کے ماضی کو کرید کرید کر تاریخ کے اس اہم باب کی تکمیل کا سامان فراہم کر رہے ہیں ان میں رئیس الاحرار ہی کے ہم نام ان کے دو پوتے مولانا حبیب الرحمان ثانی اور ’’مکاتیب رئیس الاحرار‘‘ کے مرتب مولانا حبیب الرحمان پیش پیش ہیں۔ اللہ تعالٰی ان کی کاوشوں کو قبول فرمائیں اور نئی نسل کو علماء لدھیانہ کی دینی و علمی جدوجہد اور خدمات سے استفادہ کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔