مولانا عبد السلامؒ اور دیگر مرحومین

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ اگست ۲۰۱۲ء

عید الفطر کے بعد بدھ اور جمعرات کے دو روز تعزیتوں میں گزرے۔ پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد کے امیر اور جی الیون کی جامع مسجد صدیق اکبرؓ کے خطیب مولانا مفتی سیف الدین گلگتی گزشتہ دنوں تہرے صدمہ سے دوچار ہوئے، پہلے ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا، پھر کچھ دنوں کے بعد ان کے بہنوئی فوت ہوئے اور ۲۴ رمضان المبارک کو مفتی صاحب کے والد گرامی حاجی محمد نذیر صاحب انتقال کر گئے۔ میں بدھ کو اسلام آباد پہنچا، مفتی صاحب ابھی گلگت سے واپس نہیں آئے تھے، ٹیلی فون پر ان سے تعزیت کی اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی، اللہ تعالٰی سب مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دیں، آمین۔

جامعہ رحمانیہ (ماڈل ٹاؤن، ہمک، اسلام آباد) میں مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا سید علی محی الدین اور دیگر علماء کرام سے مختلف امور بالخصوص گلگت بلتستان کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال ہوا اور حسن اتفاق سے تحریک خدام اہل سنت پاکستان کے امیر حضرت مولانا قاضی ظہور الحسن سے بھی وہیں ملاقات ہوگئی۔ قاضی صاحب محترم حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ کے فرزند ارجمند اور ان کی جگہ تحریک خدام اہل سنت پاکستان کے امیر ہیں، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے پرانے فضلاء میں سے ہیں اور میرے بزرگ دوست ہیں۔ بدھ کو رات ٹیکسلا میں محترم صلاح الدین فاروقی کے ہاں رکا، ان کے نوجوان بیٹے حافظ محمد نعمان چند ماہ قبل انتقال کر گئے تھے اور علاقائی روایت کے مطابق عید کے موقع پر ان کے ہاں ان کے احباب تعزیت کے لیے آرہے تھے۔

جمعرات کو فجر کی نماز گڑھی افغاناں کی مرکزی جامع مسجد میں ادا کی اور درس دیا، وہاں جامعہ نصرۃ العلوم کے فیض یافتہ مولانا صالح محمد خطیب ہیں۔ میری حاضری کا اصل مقصد جامعہ اشاعۃ القرآن حضرو کے مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد السلامؒ کی وفات پر ان کے اہل خاندان سے تعزیت تھا۔ حضرت مولانا عبد السلامؒ بزرگ عالم دین تھے جو ساری زندگی علاقہ میں توحید و سنت کی اشاعت اور مختلف دینی تحریکات میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں، ان کے شاگرد ہزاروں کی تعداد میں ملک کے مختلف علاقوں میں تعلیمی و تدریسی خدمات میں مصروف ہیں، ان کا تعلق جمعیۃ اشاعۃ التوحید والسنۃ سے تھا اور وہ جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ نفاذ اسلام اور قادیانیت کے تعاقب کی جدوجہد میں مسلسل شریک کار رہتے تھے، حضرت مولانا قاری سعید الرحمانؒ کے سرگرم ساتھیوں اور معاونین میں سے تھے۔

کچھ عرصہ قبل انہوں نے یہ تحریک کی کہ مسئلہ حیات النبیؐ کے بارے میں ۱۹۶۲ء کے دوران حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ نے جو مصالحتی کوشش فرمائی تھی اور فریقین کے مابین قدر مشترک کے طور پر ایک متفقہ عبارت تحریر کر کے دونوں طرف کے اکابر سے دستخط کرائے تھے مگر بعد میں بعض حضرات کے انکار کے باعث معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا تھا، مولانا عبد السلامؒ نے کوشش کی کہ اسی عبارت پر دستخط کرا کے اس تنازعہ کو نمٹا دیا جائے، ان کے ساتھ بہت سے دیگر علماء کرام نے بھی اس پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس دوران مولانا قاری سعید الرحمانؒ نے مجھ سے رائے طلب کی کہ اگر اشاعۃ التوحید کے علماء اس عبارت پر دستخط کر دیں تو کیا اختلاف ختم ہو جائے گا؟ میں نے عرض کیا کہ میری ذاتی رائے میں تو اختلاف ختم ہو جانا چاہیے لیکن حتمی بات والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے گفتگو کر کے بتاؤں گا۔ میں نے حضرت والد محترمؒ سے یہ صورتحال عرض کی تو انہوں فرمایا کہ جو حضرات حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کی تحریر کردہ عبارت پر دستخط کر دیں گے ان کے ساتھ اس مسئلہ پر ہمارا اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ میں نے یہ بات مولانا قاری سعید الرحمانؒ کو بتائی تو وہ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ اب ہم مزید اطمینان کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھائیں گے۔

مولانا عبد السلامؒ کے ساتھ میرا ذاتی تعلق و رابطہ بھی تھا، گزشتہ رجب کے دوران جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر میں ختم بخاری شریف کے موقع پر ان سے آخری ملاقات ہوئی، اس موقع پر انہوں نے رمضان المبارک کے بعد حضرو آنے کی دعوت دی تو میں نے عرض کیا کہ حاضر ہو جاؤں گا، مگر موت نے مہلت نہ دی اور وہ رمضان المبارک کے دوران ہی داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ان کے فرزند گرامی مولانا ضیاء الاسلام اور دیگر برادران و رفقاء سے تعزیت کی اور مرکزی جامع مسجد گڑھی افغاناں میں ان کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔

جمعرات کو ہی ظہر کے بعد ملہو والی ضلع اٹک میں ’’علماء کونسل‘‘ کے زیر اہتمام علماء کرام کے ایک بھرپور علاقائی اجتماع میں مولانا احمد الرحمان اور مولانا تنویر علوی کے ہمراہ شرکت کا موقع ملا اور موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان پر کچھ معروضات پیش کیں۔ ملہو والی اس علاقہ کا مشہور قصبہ ہے جس کا ذکر دینی جدوجہد کی تاریخ میں حضرت مولانا گل شیر شہیدؒ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا نور محمد کے حوالہ سے ہوتا ہے۔ مجلس احرار اسلام ہند کے سرگرم راہنماؤں میں مولانا گل شیر شہیدؒ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خصوصی رفیق کار شمار ہوتے تھے۔ آزادیٔ ہند کے ساتھ ساتھ نوابوں اور جاگیرداروں کے خلاف ان کی آواز انتہائی کاٹ دار تھی اور اسی وجہ سے انہیں شہید کر دیا گیا۔ ان کے داماد مولانا عطاء اللہؒ درویش صفت عالم دین تھے اور میرے ذاتی دوستوں میں سے تھے جبکہ ان کے فرزندان مولانا مفتی ہارون مطیع اللہ اور ان کے بھائی اپنے والد اور نانا کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے دینی محنت میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں حضرت مولانا گل شیر شہیدؒ کی دختر اور مولانا عطاء اللہؒ کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا تھا جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ خاتون تھیں انہوں نے مردوں جیسے حوصلہ کے ساتھ اپنے خاندان اور علاقہ کے لوگوں کی دینی راہنمائی کی اور اپنے بیٹوں کی دینی تعلیم و تربیت کی۔ تعزیت کے لیے ان کے گھر حاضری ہوئی اور مولانا گل شیر شہیدؒ، مولانا نور محمدؒ اور مولانا حافظ محمد یوسفؒ کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی سعادت حاصل کی۔ مختلف حوالوں سے ان حضرات کی دینی خدمات کا تذکرہ ہوتا رہا، اللہ تعالٰی ان کے درجات جنت الفردوس میں بلند فرمائیں۔

’’علماء کونسل ملہو والی‘‘ علاقہ کے نوجوان علماء کرام کا ایک فورم ہے جو دیوبندی مسلک کی مختلف جماعتوں اور حلقوں کے درمیان مفاہمت و رابطہ کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اسی مقصد کے لیے جامع مسجد ملہو والی میں یہ اجتماع رکھا گیا تھا۔ مولانا عبد الجلیل نے جب میرے خطاب سے پہلے علماء کونسل کے مقاصد اور پروگرام کا تعارف کرایا تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے گزارش کی کہ نفاذ اسلام، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس صحابہ، توحید و سنت کے فروغ، دعوت و تبلیغ، جہاد، تعلیم و تدریس، اصلاح و سلوک اور دیگر شعبوں میں سے جس شعبہ میں آپ کا ذوق اور مناسبت ہو اسی میں کام کریں، لیکن دیگر شعبوں میں کام کی نفی نہ کریں اور کام کرنے والوں کی تحقیر نہ کریں۔ بلکہ ان کا احترام کریں، ان کی جدوجہد کو تسلیم کریں، جہاں ممکن ہو ان سے تعاون کریں اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو کم از کم خاموشی اختیار کریں کہ ’’اضعف الایمان‘‘ کا درجہ یہی ہے۔