لابنگ اور ذہن سازی کی محنت کی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ نومبر ۲۰۱۲ء

پشاور اور مردان سے واپسی پر ۸ نومبر کو اسلام آباد کے چند سرکردہ علماء کرام کے ساتھ ایک مشاورت میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی ناظم حافظ سید علی محی الدین نے جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ہمک میں کیا تھا، مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی اس میں شریک ہوئے بلکہ یہ مشاورتی اجلاس انہی کی زیر صدارت ہوا۔ مشاورت کا اہم نکتہ یہ تھا کہ قومی اسمبلی میں ملکی قوانین میں موت کی سزا کو ختم کر دینے کا جو بل پیش ہوا تھا اس سلسلہ میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟

اس موقع پر میں نے عرض کیا کہ بات صرف ایک بل کی نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ میں اس قسم کے بل پیش ہوتے رہتے ہیں اور عالمی سیکولر لابیوں کی سرپرستی میں ملکی سیکولر حلقوں کا ایجنڈا ہی یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً اس طرح کے قانونی مسودات پارلیمنٹ میں لا کر ملک کے قانونی نظام میں موجود اسلامی قوانین کو رفتہ رفتہ غیر مؤثر بنا دیا جائے۔ حدود آرڈیننس کو اسی طرح سبوتاژ کیا گیا تھا اور سزائے موت کو ختم کرنے کی اس مہم کا مقصد بھی یہی دکھائی دیتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کی آڑ میں موت کی سزا کو ملکی قوانین میں ختم کر کے وہ مقصد بالواسطہ طور پر حاصل کر لیا جائے جو توہین رسالت پر موت کی سزا کو ختم کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کے مسلسل دباؤ کا اصل ہدف ہے۔ کیونکہ جب موت کی سزا ہی سرے سے موقوف ہو جائے گی تو توہین رسالت کے قانون میں اس ترمیم کی ضرورت باقی نہیں رہے گی جس کے لیے ایک عرصہ سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں اسلام آباد کے علماء کرام کو اس کے بارے میں ایک مستقل اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے کیونکہ اس حوالہ سے اسلام آباد کے علماء کرام ہی سب سے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اجلاس میں شریک علماء کرام سے میں نے گزارش کی کہ وہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے اکابر علماء کے ساتھ مل کر انہیں اس بات کے لیے تیار کریں کہ ایک بھرپور مشاورتی اجتماع کا اہتمام کر کے ارکان اسمبلی کے ساتھ مسلسل اور مستقل رابطوں کا کوئی نظام بنائیں، تاکہ جب بھی کوئی ایسا مسئلہ سامنے آئے پارلیمنٹ کے ارکان کے ساتھ ملاقات کر کے ان کی بریفنگ اور لابنگ کی کوئی عملی صورت اختیار کی جا سکے۔ میرا خیال ہے کہ پارلیمنٹ میں نفاذ شریعت کے سلسلہ میں پیش کیے جانے والے کسی بھی مثبت یا منفی بل پر اسلام آباد کے چند سرکردہ علماء کرام پارلیمنٹ کے چیدہ چیدہ ارکان کے ساتھ صرف ’’علماء اسلام آباد‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ ملاقات کریں اور انہیں متعلقہ مسئلہ کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر اور قومی تناظر میں اس کے نفع و نقصان کے حوالہ سے بریف کر کے ضروری معلومات فراہم کر دیں تو بہت سی غلط باتوں کو روکا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں ہمارے مضبوط نمائندے موجود ہیں جو منطق و استدلال کی پوری قوت کے ساتھ اپنی بات پیش کر سکتے ہیں اور منوا بھی سکتے ہیں، جیسا کہ دستور پاکستان پر نظر ثانی کے موقع پر چند سال قبل مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق کی جدوجہد کی صورت میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ سیکولر حلقے اپنا پورا زور صرف کرنے کے باوجود دستور پاکستان کی اسلامی شقوں کو ترامیم کی زد میں لانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ لیکن صرف پارلیمانی قوت پر قناعت کر لینا درست نہیں ہے بلکہ اس کی پشت پر عوامی رائے کے دباؤ اور اس کے ساتھ ساتھ لابنگ کی قوت کو منظم کرنا بھی اہم ترین ضرورت ہے۔ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ ہم اگر اپنی پارلیمانی قوت کو اسٹریٹ پاور اور لابنگ کی پشت پناہی فراہم کر سکیں تو نہ صرف یہ کہ ہم نفاذ اسلام کی جدوجہد کو آگے بڑھا سکتے ہیں بلکہ قومی خودمختاری اور ملکی وحدت و سلامتی کے حوالہ سے بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

میں نے اسلام آباد کے علماء سے گزارش کی کہ وہ سزائے موت کے خاتمہ کے قانونی مسودہ کو سامنے رکھ کر ایک تجرباتی مہم کا اہتمام کر کے دیکھ لیں، اگر اس تجربہ میں انہیں کوئی فائدہ نظر آئے تو پھر اس کام کو مستقل بنیادوں پر اپنے پروگراموں کا حصہ بنا لیں۔ کام کوئی لمبا چوڑا نہیں ہے صرف اتنا ہے کہ چند سرکردہ علماء کرام وفد کی صورت میں پارلیمنٹ کے بیس پچیس اہم ارکان سے ملاقات کر کے انہیں موت کی سزا کی شرعی پوزیشن سے آگاہ کر دیں اور ان سے گزارش کریں کہ وہ اس سلسلہ میں قرآن و سنت کی تعلیمات اور ملکی و قومی مفاد کو سامنے رکھ کر پارلیمنٹ کے اندر کردار ادا کریں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام آباد کے علماء کرام جمعۃ المبارک کے خطبات اور جلسوں کے عمومی بیانات میں اس مسئلہ کو موضوع بحث بنائیں اور میڈیا کے ذریعے اپنا موقف سامنے لا کر رائے عامہ کی راہنمائی کریں۔

شرکائے اجلاس نے ان گزارشات سے اتفاق کیا اور یہ طے کیا کہ مولانا مفتی سیف الدین گلگتی، مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا شبیر احمد کشمیری، حافظ سید علی محی الدین، مولانا محمد رمضان علوی اور دیگر علماء کرام پر مشتمل وفد اس مقصد کے لیے مذکورہ دائروں میں محنت کرے گا اور اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء کرام کو اس جدوجہد کے لیے تیار کرے گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔

اس پس منظر میں ملک بھر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نفاذ اسلام کے حوالہ سے ہم اس وقت دفاعی لائن میں کھڑے ہیں اور ہمارا سب سے بڑا ہدف اور کامیابی اب یہ نظر آتی ہے کہ نفاذ اسلام کے سلسلہ میں ان اقدامات کو کسی نہ کسی طرح بچا لیں جو ہمارے بزرگوں کی محنت سے ملک کے دستور و قانون کا حصہ بنے ہیں اور جن کو دستور و قانون سے کھرچ ڈالنے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سیکولر حلقے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ آنے والے انتخابات اس سلسلہ میں فیصلہ کن مرحلہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اگر ہم ان انتخابات میں نفاذ اسلام کے خواہاں ووٹ بینک کو تقسیم ہونے سے بچا سکیں اور تمام تر شکایات و تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیکولر ووٹوں کے مقابلہ میں اسلامی ووٹوں کو متحد رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو الیکشن کے بعد ہم دستور و قانون کی نظریاتی اور اسلامی بنیادوں کے بارے میں ازسرنو دکھائی دینے والی متوقع عالمی مہم کا مقابلہ کر سکیں گے، اور اگر خدانخواستہ انتخابات کے موقع پر سیکولر قوتوں کے مقابلہ میں صحیح صف بندی نہ ہو سکی تو اس کے تلخ نتائج و ثمرات کا تصور ہی ایک شعوری اور نظریاتی کارکن کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔

اس کے ساتھ یہ گزارش کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ انتخابات اور ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پارلیمانی قوت حاصل کرنے کی محنت نفاذ اسلام کی جدوجہد کا صرف ایک شعبہ ہے جو بلاشبہ انتہائی ضروری ہے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ یہ ضروری ہے کہ پر امن عوامی قوت کو منظم کرنے اور پوری ذہن سازی کے ساتھ اسٹریٹ پاور کو پر امن طور پر متحرک کرنے کے راستے اختیار کیے جائیں کیونکہ رائے عامہ کی متحرک پشت پناہی کے بغیر محض پارلیمانی قوت اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گی۔ اسی طرح لابنگ کی قوت کو منظم کرنا بھی جدوجہد کا ناگزیر تقاضا ہے، ملک بھر میں رولنگ کلاس کے متعلقہ ذمہ دار افراد تک شخصی رسائی اور ان کی بریفنگ و ذہن سازی کے لیے ہر علاقہ اور ہر شہر کے علماء کرام کو توجہ دینا ہوگی۔ لابنگ اور ذہن سازی کی قوت بہت بڑی قوت ہے، اس کی اثر اندازی کا مشاہدہ کرنا ہو تو حضرت مجدد الف ثانیؒ کی زندگی اور کارناموں کا مطالعہ کیجئے جنہوں نے اکبر بادشاہ کے ’’دین الٰہی‘‘ کا مقابلہ اسی لابنگ، بریفنگ اور ذہن سازی کی قوت کے ساتھ کیا تھا اور ’’دین الٰہی‘‘ کے فروغ کی راہ میں سدّ سکندری بن گئے تھے۔ آج ہمیں اسی طرز کے ایک نئے ’’دین الٰہی‘‘ کا سامنا ہے جو چند ظاہری اسلامی اقدار و روایات کے ساتھ مغربی فلسفہ و ثقافت کے بے جوڑ ملغوبہ سے عبارت ہے۔ اس کا سامنا کرنے کے لیے ہمیں حضرت مجدد الف ثانیؒ کی طرز اور محنت کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا کیونکہ اسی صورت میں ہم آج کے حالات کے تناظر میں اپنا دینی و قومی فریضہ صحیح طور پر سرانجام دے سکیں گے۔