چناب نگر کی مسجد کا تنازعہ۔ وزیر اعلیٰ نوٹس لیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۴ء

قادیانی ہیڈ کوارٹر چناب نگر میں مسجد کے تنازعہ پر قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، اس سلسلہ میں ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ کی طرف سے موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ ہے کہ:

چناب نگر کی مرکزی سڑک پر پولیس چوکی کافی عرصہ سے موجود تھی جس میں مسلمانوں کی ایک پختہ مسجد بھی بنائی گئی تھی، قادیانیوں کی کوشش رہی ہے کہ وہ پولیس چوکی اور مسجد قادیانیوں کی تحویل میں دے دی جائے جسے مسمار کرکے وہ اسے جامعہ احمدیہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ اس کے لیے انہوں نے چند سال قبل کوشش کی تھی۔ معاملہ آئی جی پنجاب کے پاس پہنچا، انہوں نے ایس ایس پی جھنگ جناب اسلم ترین کے ذمہ تحقیق لگائی جنہوں نے رپورٹ دی کہ موجودہ جگہ پر ہی پولیس چوکی بہتر ہے کہ یہاں سائلین آسانی سے پہنچ سکتے ہیں اور مسجد کا تحفظ اسی میں ہے۔ چنانچہ معاملہ دب گیا اب گزشتہ دنوں ڈی پی او جھنگ، ڈی پی او فیصل آباد، ڈی آئی جی پولیس فیصل آباد اور قادیانیوں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں طے ہوا کہ پولیس چوکی کے انچارج اپنا دفتر قادیانیوں کی طرف سے فراہم کردہ نئی جگہ میں لگائیں گے اور پرانی جگہ واپس قادیانیوں کو دے دی جائے گی۔ چنیوٹ اور چناب نگر کے علماء کو جب پتہ چلا تو مولانا محمد الیاس چنیوٹی کی سربراہی میں وفد نے ڈی ایس پی چناب نگر سے تین ملاقاتیں کیں، آخر ڈی ایس پی نے کہا کہ ہم نئی جگہ پر ایس ایچ او کا دفتر بنا دیں گے اور پرانی جگہ پولیس کی رہائش کے طور پر استعمال ہوگی، پولیس چوکی اور مسجد قادیانیوں کے حوالے نہیں کی جائے گی۔ واقعات کی اطلاع ڈی پی او جھنگ، ڈی آئی جی فیصل آباد، آئی جی پنجاب، ہوم سیکرٹری پنجاب، ضلع ناظم جھنگ کو بذریعہ ڈاک فون پر فیکس ٹیلی گرام کر دی گئی ، علماء نے واضح طور پر اپنا موقف پیش کیا کہ مسلمان کسی صورت میں مسجد کو قادیانیوں کی تحویل میں نہیں جانے دیں گے، چاہے اس کے لیے جانوں کے نذرانے دینے پڑ جائیں اور مسجد کا تحفظ اسی صورت ممکن ہے کہ پولیس چوکی پرانی جگہ پر باقی رہے۔ دوسرا یہ کہ موجودہ جگہ پر ہی پولیس چوکی موزوں ہے کیونکہ یہ جگہ شہر کے بالکل وسط میں اور مین روڈ پر واقع ہے جبکہ قادیانیوں کی طرف سے مہیا کردہ نئی جگہ بالکل قادیانیوں کے گھروں کے درمیان ہے، راستہ بھی کچا ہے ، کسی مسلمان کا وہاں پہنچنا بھی ناممکن ہے، وفد نے ناظم ضلع جھنگ اور ڈی پی او جنگ سے ملاقات کی ، ڈی پی او جھنگ نے وعدہ کیا کہ نئی جگہ پولیس کے قبضہ میں رہے گی اور پرانی جگہ بھی قادیانیوں کے حوالے نہیں کی جائے گی۔ وفد نے ڈی پی او جھنگ سے کہا کہ آپ خود موقع ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ جس جگہ پولیس چوکی موزوں ہے، نیز جب ایک مرتبہ ایس ایس پی جھنگ اسلم ترین صاحب نے فیصلہ کر دیا تو آخر کیا وجہ ہے کہ صرف قادیانیوں کو خوش کرنے کے لئے مسلمانوں کی مسجد قادیانیوں کے حوالے کی جا رہی ہے۔ ڈی پی او جھنگ نے وعدہ کیا کہ وہ چناب نگر کا دورہ کریں گے لیکن ان کے عمرہ پر چلے جانے کی وجہ سے نہ وہ خود موقع پر آئے اور نہ ہی ایڈیشنل ایس پی جھنگ نے موقع ملاحظہ کیا بلکہ ڈی ایس پی جناب نگر بھی پانچ دن کی رخصت پر چلے گئے۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ پولیس چوکی کی جگہ پر قادیانیوں نے قبضہ کر لیا ہے اور مسجد کے کچھ حصے بلڈوزر کے ذریعہ مسمار کر دیے گئے ہیں جس کے خلاف مسلمانوں کا شدید احتجاج جاری ہے۔

ہم وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سے گزارش کریں گے کہ وہ اس معاملہ میں خود دلچسپی لیں اور مداخلت کرکے مسئلہ کو حل کرائیں ورنہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ ۱۹۷۴ء میں اسی طرح کا ایک واقعہ ملک گیر تحریک ختم نبوت کا باعث بنا تھا، اس لیے حکومت کو اس سلسلہ میں لاپرواہی سے کام نہیں لینا چاہیے اور علاقہ کے مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے فوری طور پر مسئلہ حل کرنا چاہیے۔