بیت اللحم میں ایک سوگوار کرسمس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۳ء

روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ دسمبر ۲۰۰۲ء کی ایک خبر کے مطابق اس سال ۲۵ دسمبر کو کرسمس کے موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے شہر بیت اللحم میں ان کی یاد میں جو ایک دو تقریبات منائی جا سکیں ان میں دعائے نیم شب تھی جس میں چند سو عبادت گزاروں نے حصہ لیا، شہر میں خوشیوں کی بجائے سوگ کا سا ماحول رہا، میونسپل کمیٹی کے عہدیداروں نے اسرائیلی فوج کی موجودگی کی وجہ سے سب تقریبات منسوخ کردی تھیں اور صرف دعائیہ تقریبات رہنے دیں۔ اسرائیلیوں نے بعد میں اپنی فوج شہر کے وسط سے دو دن کے لیے ہٹا لی۔ بی بی سی کے مطابق شہر کو دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ یہ کرسمس کی شام ہے، نہ کرسمس کا درخت سجایا گیا ہے، نہ روشنیاں ہیں اور نہ زائرین ۔

۲۵ دسمبر کا دن ہر سال دنیا بھر کے عیسائی حضرت عیسٰیؑ کے یوم ولادت کے طور پر مناتے ہیں اور پوری دنیا کی مسیحی آبادیوں میں اس روز جشن اور عید کا سماں ہوتا ہے۔ بیت المقدس کے قریب بیت اللحم کو حضرت عیسٰیؑ کی جائے ولادت سمجھا جاتا ہے اور وہاں کرسمس کی تقریبات زیادہ جوش و خروش کے ساتھ منائی جاتی ہیں، لیکن اسرائیلی فوج نے کچھ عرصہ سے مظلوم اور نہتے فلسطینیوں کو کچلنے کے لیے فلسطینی شہروں میں اندھا دھند گھس جانے اور بے تحاشہ قتل عام کرنے کا جو وطیرہ اختیار کر رکھا ہے اس سے بیت اللحم بھی بری طرح متاثر ہوا ہے جس کا ہلکا سا اندازہ مذکورہ بالا اخباری رپورٹ سے کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں مسیحیوں سے ہمدردی ہے کہ وہ حضرت عیسٰیؑ کا یوم ولادت ان کی ولادت کے شہر میں روایتی جوش و خروش کے ساتھ نہیں منا سکے لیکن مسیحی مذہبی قیادت سے بصد ادب یہ بھی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس میں کسی اور کا قصور نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ خود مغرب کے مسیحی راہنماؤں کا کیا دھرا ہے جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ’’سانپ‘‘ کو دودھ پلا پلا کر اس قدر طاقتور کردیا ہے کہ اب اسے اپنے محسنوں کے جذبات اور مذہبی روایات کا بھی کچھ پاس نہیں رہا اور فلسطین میں اپنی فوج کشی اور جبر و تشدد کے دائرے میں مسلمانوں کے ساتھ مسیحیوں کو بھی شریک رکھے ہوئے ہے، اس لیے ہم ان سے یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ ’’اے باد صبا ایں ہم آوردۂ تست‘‘۔

درجہ بندی: