فلسطینی ریاست کا قیام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۰۴ء

روزنامہ اسلام لاہور نے ۱۷ نومبر ۲۰۰۴ء کی اشاعت میں اے این این کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ ترج رؤٹد لارسن نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ ۲۰۰۸ء سے قبل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے سب سے اہم چیز فلسطینی ریاست کا قیام ہے، چاہے یہ ۲۰۰۵ء میں قائم ہو یا ۲۰۰۸ء میں وجود میں آئے۔ لارسن نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ امن روڈ میپ کو خطے میں اسرائیلی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بلیو پرنٹ کی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔

فلسطینی ریاست کے قیام کا حق اقوام متحدہ نے اصولی طور پر اسی وقت تسلیم کر لیا تھا جب برطانوی انتداب کے دور میں دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں بسانے کے بعد فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور ایک حصہ اسرائیل کے قیام کے لیے یہودیوں کے حوالہ کر دینے کے بعد دوسرے حصے میں فلسطینیوں کے آزاد قومی وطن کے قیام کا حق تسلیم کر لیا گیا تھا۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ اسرائیل تو قیام ہوگیا اور اسے عالمی سرپرستی بھی حاصل ہوگئی حتیٰ کہ اسے مضبوط سے مضبوط تر کرنے کے لیے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے اس کی مکمل پشت پناہی کی جو اب بھی جا رہے، لیکن فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کی فائل اقوام متحدہ، اسرائیل، امریکہ اور عرب حکومتوں کے دارالحکومتوں کے درمیان فٹ بال بنی رہی۔ فلسطینی عوام اور بہت سے عرب ممالک نے فلسطین کی تقسیم کو قبول کرنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا جسے بہانہ بنا کر اقوام متحدہ اور مغربی ممالک نے فلسطینیوں کے آزاد وطن کے حق سے آنکھیں پھیر لیں اور خود اپنے فیصلے اور وعدے پر عملدرآمد کا اہتمام کرنے کی بجائے اسرائیل کو مستحکم کرنے میں لگے رہے۔ مگر یہ بہانہ اس وقت دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا جب بعض عرب ممالک اور یاسر عرفات مرحوم کی قیادت میں تحریک آزادی فلسطین نے فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کو وجود کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطین کے باقی ماندہ حصے پر آزاد فلسطین ریاست کے قیام کا حق مانگا تو اس وقت امریکہ اور اقوام متحدہ کی منافقت کھل کر سامنے آگئی اور خود اقوام متحدہ کی طرف دیے گئے اس حق کو بھی انہوں نے مسلسل ٹالنا شروع کر دیا ۔

چنانچہ اب فلسطین کی تقسیم کے لیے اقوام متحدہ کے نصف صدی قبل کے فیصلے پر عملدرآمد کی بجائے ایک چوتھائی سے بھی کم رقبے پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کی جا رہی ہے اور اس کی راہ میں بھی مسلسل روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ تحریک آزادی فلسطین نے بعض عرب ممالک کے ہمراہ آج سے کم و بیش دس سال قبل جب فلسطین کی تقسیم کے بارہ میں اقوام متحدہ کے فارمولے کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس کے صحیح یا غلط ہونے سے قطع نظر اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ کسی تاخیر کے بغیر اس پر عملدرآمد کا اہتمام کرتیں لیکن مختلف حیلوں بہانوں سے آزاد فلسطینی ریاست کی سرحدوں کو مزید سکیڑا جا رہا ہے، کوشش کی جا رہی ہے کہ فلسطین میں اپنی مرضی کی قیادت کو سامنے لایا جائے اور اسرائیل کی بالادستی کے لیے علاقے میں کوئی چیلنج باقی نہ رہے۔

فلسطینیوں کے ساتھ گزشتہ پون صدی سے جو مسلسل ظلم ہو رہا ہے اور ان کے جائز حقوق جس بے دردی سے پامال کے لیے جا رہے ہیں وہ عالمی ضمیر کے لیے امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں مگر جب خود عربوں اور مسلمانوں کا ضمیر ہی سویا ہوا ہے تو عالمی ضمیر کو جگانے کا کام کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔

درجہ بندی: