ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ

   
مجلہ: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۳ء

عالم اسلام کے ممتاز محقق، دانش ور اور مؤرخ ڈاکٹر محمد حمید اللہ گزشتہ دنوں فلوریڈا (امریکہ) میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن سے تھا اور وہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ کے معتمد تلامذہ اور رفقاء میں شمار ہوتے تھے، انہوں نے سیرت نبویؐ کے سیاسی پہلوؤں اور اسلام کے اجتماعی نظام کے حوالہ سے نمایاں علمی خدمات سرانجام دیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی اور دور نبویؐ کے سیاسی وثائق کے حوالہ سے ان کا عملی کام اہل علم کے لیے گراں قدر تحفہ ہے، جبکہ انہوں نے ’’صحیفہ ہمام بن منبہ‘‘ کی تلاش و تحقیق اور طباعت کا اہتمام کرکے منکرین حدیث کے اس اعتراض کا عملی جواب دیا کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں احادیث کی جمع و ترتیب کا کام نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے پاکستان میں اسلامی قوانین کی ترتیب و تدوین کے حوالہ سے بھی مختلف اوقات میں خدمات سرانجام دیں۔

ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم نے زندگی کا ایک بڑا حصہ پیرس میں گزارا اور فرانسیسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کے علاوہ دعوت اسلام کی مسلسل خدمات سرانجام دیں جس کے نتیجے میں بہت سے فرانسیسی حضرات نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ بنیادی طور پر علم و تحقیق اور مطالعہ کی دنیا کے آدمی تھے، قناعت پسند اور درویش طبع بزرگ تھے اور دور حاضر میں اسلام کی دعوت، اسلامی تعلیمات کا فروغ اور اسلام کے پیغام کی صحیح تفہیم ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن تھا جس کے لیے انہوں نے زندگی بھر بے لوث جدوجہد کی۔ وفات کے وقت ان کی عمر ۹۰ برس کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور زندگی کے آخری چند سال انہوں نے علالت، معذوری اور ضعف کی حالت میں گزارے جو یقیناً ان کے لیے کفارۂ سیئآت ہوں گے۔

ڈاکٹر حمید اللہؒ کی وفات بلاشبہ پورے عالم اسلام کے لیے صدمہ کا باعث ہے اور علمی دنیا کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، اللہ تعالیٰ ان کے علمی و دینی خدمات کو قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔